پانچویں صوبے کی بات آج کی نہیں بہت پرانی ہے!

اپ ڈیٹ 27 جون 2018

ای میل

ہمارے ایک دوست سہیل انور ایک این جی او میں ہمارے ساتھ رفیق کار تھے۔ گفتگو کے دوران ان کا تکیہ کلام ہوتا تھا کہ ’بابا جی تُسی بڑے مزاقیہ ہو‘۔ فاروق ستار کی تقاریر اور تبصرے سُن کر میرا بھی یہ دل کرتا ہے کہ اگر کسی دن وہ خوشگوار موڈ میں ہوں تو میں انہیں کہوں کہ ’بابا جی تُسی بڑے مزاقیہ ہو‘۔

پانچواں صوبہ نہ ہوا، نہ جانے کیا آفت ہوگئی ہے۔ ہر دوسرے دن بہادر آباد اور پی آئی بی سے یہ آواز اُٹھتی ہے۔ اُس کے بعد پیپلز پارٹی، قوم پرست جماعتوں اور متحدہ کے پانچوں دھڑوں کے درمیان لفظوں کی جنگ شروع ہوجاتی ہے۔ گوکہ یہ الفاظ ایک فرانسیسی لفظ ’کلیشے‘ بن جاتے ہیں۔

کلیشے سے مراد وہ الفاظ جو اپنی معنویت کھوچکے ہوں۔ ویسے تو ہمارے سماج میں بے شمار لفظ اب کلیشے بن گئے ہیں، مثلاً

  • مجرموں کے خلاف آہنی ہاتھ استعمال کیا جائے گا،
  • لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گی،
  • ہر شہری کو دروازے پر انصاف مہیا ہوگا،
  • کشکول توڑ دیں گے،
  • پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، وغیرہ وغیرہ۔

ایسے بے شمار الفاظ آپ اخبارات میں روز ہی پڑھتے ہوں گے۔ اگر کرکٹ کا موسم ہو تو شاہین شیروں پر جھپٹنے کو تیار، پاکستان کی بیٹنگ ریت کی دیوار ثابت ہوئی، بالکل اسی طرح پانچواں صوبہ بھی اب ایک کلیشے بن چُکا ہے۔

مہاجر حقوق یا مہاجر صوبے کا نعرہ آج کی پیداوار نہیں، اس کا آغاز تقسیمِ ہند کے فوراً بعد ہی ہوگیا تھا۔ محقق وزیرہ فضیلہ یعقوب علی زمیندار اپنی کتاب The Long Partition, and the Making of Modern South Asia REFUGEES, BOUNDARIES, HISTORIES میں رقم طراز ہیں کہ

روزنامہ جنگ کے مطابق یہ تاثر کہ حکومت مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی مربوط کام نہیں کررہی، اس پر زیادہ شور اُس وقت مچا جب حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی مہاجر کمیٹی نے اس بات پر استعفیٰ دیا کہ وہ مہاجرین کو مناسب رہائش فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بعد ازاں یہ مسئلہ وزیراعلیٰ کے سامنے پیش کیا گیا لیکن اُس پر بھی کوئی کان نہیں دھرا گیا۔ رینٹ کلکٹر کا دفتر رشوت خوری کا گڑھ بن گیا تھا اور مہاجرین سے رشوت طلب کی جاتی تھی، حتیٰ کہ ایک مہاجر کو رینٹ کلکٹر نے مشتعل ہوکر تھپڑ بھی دے مارا۔ حکومت پر یہ الزامات بھی لگائے گئے کہ اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سندھی ہندوؤں کو قائل کیا جائے کہ وہ سندھ سے نہ جائیں۔

روزنامہ جنگ کے مطابق کراچی کے ہندوؤں نے 3 بار کوشش کی کہ جیکب لائن کے پانی کے ٹینک میں زہر ملادیا جائے۔

اس سلسلے میں جنوری 1948ء میں ایک کارٹون شائع کیا گیا جس کے اوپر عبارت ’کیا خوشامد ہو رہی تھی دل کے لے لینے سے قبل، کیسی آنکھیں پھیر لیں مطلب نکل جانے کے بعد‘ درج تھی۔ کارٹون میں دائیں جانب باکس میں درج ہے ’پاکستان حاصل کرنے سے پہلے ترکی ٹوپی اور شیروانی پہنے ہوئے دہلی، یوپی کے ایک مسلمان کو ایک سندھی گلے لگاتے ہوئے کہہ رہا ہے، ’آپ آئیں، مہاجرین مدینہ کی یاد تازہ ہوجائے گی۔ بائیں جانب باکس میں درج ہے ’پاکستان حاصل کرنے کے بعد‘ اور نیچے کارٹون میں ایک سندھی دہلی یوپی کے مفلوک الحال مسلمانوں سے کہہ رہا ہے ’سندھ صرف سندھیوں کے لیے ہے، تم باہر جاؤ۔‘ کارٹون کے آخر میں مولانا شبیر احمد عثمانی کے ایک بیان کا ایک حصہ دیا گیا ہے جس میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے کہا کہ قیامِ پاکستان سے قبل مسلمانوں سے کہا جاتا تھا کہ ان کی نئی حکومت 10 کروڑ مسلمانوں کو محفوظ کردے گی لیکن اب بدقسمت مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ پاکستان میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

ایک اور کارٹون میں عنوان دیا گیا ہے ’یہاں گدھوں سے کام لیا جاتا ہے‘۔ کارٹون کے درمیان میں دو گدھا گاڑی بان گدھا گاڑی چلا رہے ہیں اور ان کے دائیں اور بائیں جانب لوگ مختلف پلے کارڈ اٹھائے چل رہے ہیں۔ دائیں جانب کے پلے کارڈز پر تحریر ہے ’بی ایس سی (لندن) ڈاکٹر آف لٹریچر (جرمنی) بی اے (علیگ) شاعر ادیب، آرٹسٹ، بی اے‘ جبکہ بائیں جانب کے بینرز پر درج ہے کہ ’بی اے (آکسٹن) بار ایٹ لا۔ بی ای ایل ایل بی۔ ڈبل ایم اے‘۔

روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے ایک دوسرے کارٹون میں ایک باکس میں درج ہے دہلی میں مسلمان اور ہندو فوجی کو مسلمان کے سینے پر بندوق تانے دکھایا گیا ہے، جبکہ دوسرے باکس میں درج ہے دہلی میں ہندو پولیس والے کو مسلمان کی پیٹھ پر بندوق مارتے دکھایا گیا ہے۔ اگلے باکس میں ہندو کرائے دار مسلمان مالک مکان کو کان سے پکڑ کر ڈنڈے مارتے ہوئے نکالتے دکھایا گیا ہے۔ اسی طرح نیچے دیے گئے ایک اور باکس میں درج ہے کہ ’پاکستان آئے تو مالک مکان نے سنایا‘ اور مالک مکان کو مسلمان کو کہتے دکھایا گیا ہے کہ ’نکل جاؤ ورنہ پولیس کو دے دوں گا‘۔ جبکہ اگلے باکس میں مسلمان کنٹرولر اور ہندو ملازم کو دکھایا گیا ہے جس میں کنٹرولر کہہ رہا ہے کہ ’اس وقت 12 بجے ہیں آخر اس طرح کیسے کام چلے گا‘ جبکہ دوسری طرف کہا جارہا ہے کہ ’ہم ایسے ہی کام کرتے ہیں‘ جبکہ باکس کے نیچے درج ہے کہ دفتر کے ہندو ملازمین کام میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ کارٹون کے آخری باکس میں ایک مسلمان کو دکھایا گیا ہے جس کے سر کے اوپر سوالیہ نشان چھاپا گیا ہے اور اس کے نیچے درج ہے کہ ’اب مسلمان یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ پاکستانی ہیں کہ نہیں۔‘

یہ تمام کارٹون دسمبر 1947ء اور جنوری 1948ء کے دوران جنگ اخبار میں شائع ہوئے تھے۔ یہ کارٹون قیامِ پاکستان کے 4 ماہ بعد شائع ہوئے تھے۔ گویا یہ کہ اس بات کا آغاز قیامِ پاکستان سے ہی ہوگیا تھا کہ مہاجروں سے ظلم اور زیادتیاں ہورہی ہیں۔ دوسری جانب جب مہاجرین ہندوستان کے مختلف علاقوں سے ہجرت کرکے کراچی پہنچے تو اس شہر میں اس وقت ہندوستان کے منافرت بھرے ماحول کے بالمقابل شہر کی فضا پُرامن تھی۔ تاہم یہاں بھی فسادات کی چنگاری سلگانے کی کوشش کی گئی لیکن اس وقت قائد اعظم محمد علی جناح اور سندھ کے وزیرِ اعلیٰ ایوب کھوڑو کے بروقت اقدامات نے اس چنگاری کو کسی الاؤ میں بدلنے سے روک دیا۔

ایوب کھوڑو کی صاحبزادی حمیدہ کھوڑو جو ماہرِ تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ سندھ میں کئی انتظامی و سیاسی عہدوں پر بھی فائز رہیں وہ اپنے والد کے حالات زندگی پر لکھی گئی کتاب "Mohammad Ayub Khoro: A Life of Courage in Politics" میں کچھ اس طرح کرتی ہیں،

’یہ 6 جنوری سنہ 1948ء کا دن تھا جب مجھے اطلاع ملی کہ کراچی کے گرومندر کے علاقے میں فسادات پھوٹ پڑے ہیں اور سکھوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ میں نے ڈی آئی جی پولیس کلیم رضا کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن جب وہ نہ ملے تو وہ خود ہی اپنے ایک گن مین اور ڈرائیور کے ساتھ متاثرہ علاقے میں جا پہنچے۔ میں نے گرومندر پہنچ کر گن مین سے بندوق لی اور فسادیوں کی جانب گن تان کر فائر کردیا۔ فسادیوں کے لیے وزیرِاعلیٰ کی جھلک ہی کافی تھی اور اس پر ان کی جانب سے فائرنگ کے بعد وہ منتشر ہوگئے۔ یہاں سے فارغ ہونے کے بعد میں گھر پہنچا اور کھانا کھانے کے بعد قائدِ اعظم کے پاس پہنچا۔ میں نے قائدِ اعظم کو ساری صورت حال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اب حالات قابو میں ہیں۔ قائدِ اعظم نے جواباً کہا ’شاباش تمہارے بروقت اقدام نے اس فساد کو بڑھنے سے روک دیا۔ فسادات کو ہر صورت میں روکو۔ ان مہاجرین نے مجھے روسیاہ کردیا۔

فسادات کے تدارک کے بعد جب میں لیاقت علی خان سے ملنے ایک دو روز بعد ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھ سے کہا، ’تم کیسے مسلمان ہو تم نے ہندوؤں کو بچایا جبکہ ان کے ہم مذہب ہندوستان میں مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں۔ کیا تمہیں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوئے شرم نہیں آرہی۔‘ میرے لیے لیاقت علی خان کا ردِعمل بہت حیران کن تھا لیکن میں نے جواب دیا کہ میرا سب سے اولین فرض امن و امان کو بحال رکھنا ہے۔ شہریوں کی جان کا تحفظ کرنا ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں‘۔

جب مئی 1948ء میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا تو اُس پر سندھ میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ سندھ مسلم لیگ کی کونسل نے 11جون 1948ء میں حکومتی فیصلے کے خلاف ایک قرارداد منظور کی جس کے ذریعے سندھ سے وابستہ وزیروں کو یہ ہدایت دی گئی کہ وہ اس معاملے کی حمایت نہ کریں اور اس کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی نشستوں سے استعفیٰ دے کر دوبارہ انتخابات میں حصہ لیں اور یہ بھی طے کیا گیا کہ اس دن کو قومی ماتم کے طور پر منایا جائے۔ قرارداد کی توثیق سندھ مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے بھی کردی۔ سندھ سے شائع ہونے والے اخبارات نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اداریے بھی لکھے۔

معروف محقق محمد موسیٰ بھٹو اپنی کتاب ’سندھ کے حالات کی سچی تصویر‘ میں لکھتے ہیں کہ

’مولانا دین محمد وفائی مرحوم جو سندھ کے معروف عالم دین اور 150 سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں اور جن کا شمار سنجیدہ اہلِ قلم میں ہوتا ہے، کراچی کی علیحدگی کے مسئلہ پر وہ بھی بہت زیادہ جذباتی ہوگئے اور انہوں نے اپنے ماہانہ رسالے ’توحید‘ کے 8 جنوری 1948ء کے شمارے میں ایک ادارتی نوٹ لکھا، جس کے چند اقتباسات ہم قارئین کے سامنے اس لیے پیش کر رہے ہیں تاکہ وہ محسوس کرسکیں کہ کراچی کی علیحدگی کے مسئلے نے منافرت پیدا کرنے میں کتنا بھرپور کردار ادا کیا۔ وہ لکھتے ہیں:

’حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کا دارالحکومت کراچی کو بنایا جائے گا اور کراچی کو سندھ سے الگ کرکے مرکزی حکومت کی ملکیت میں دیا جائے گا اور سندھی وزیروں اور امیروں کو بوریا بستر باندھ کر اسٹیشن روانہ کیا جائے گا۔ مسٹر محمد علی جناح اپنے مؤقف پر سختی سے کاربند رہنے والی طبیعت کے مالک ہیں، اس لیے وہ اس فیصلے سے کبھی باز آنے والے نہیں، سوائے اس کے کہ سندھ بالکل علیحدگی کا اعلان کرکے ایک مستقل اسٹیٹ کی صورت میں اپنے بچاؤ کی کوشش کرے، باقی موجودہ صورت میں جب تک مسلم لیگ کے کرتا دھرتا قائداعظم ہوں گے، تب تک یہ ممکن ہی نہیں کہ اہلِ سندھ اپنی تحریک میں کامیاب ہوسکیں، کیونکہ جب ہم قائد اعظم کو واجب الاطاعت امیر تسلیم کرتے ہیں تو ہمیں کیا حق حاصل ہے کہ اس کے کسی حکم یا ارشاد سے انحراف یا انکار کرسکیں۔ پنجاب شروع سے قائداعظم کے کسی بھی حکم کی تعمیل پر آمادہ نہیں ہوا۔ پنجاب کی طرح اگر سندھ بھی خودداری کا مظاہرہ کرتا تو کراچی کسی بھی حالت میں مرکز کے حوالے نہیں ہوسکتا تھا اور نہ ہی ہمیں وہ دن دیکھنے پڑتے کہ ’الوحید‘ جو برسہا برس تک مسلمانوں کو قائد اعظم کی اطاعت کی تبلیغ کرتا رہا، آج وہ اخبار بھی آل پاکستان مسلم لیگ اور مرکز پاکستان کے خلاف اس انداز سے لکھ رہا ہے کہ کوئی کافر اخبار بھی اس طرح نہ لکھتا ہوگا۔‘

مولانا دین محمد صاحب مزید لکھتے ہیں کہ،

’آج کراچی میں پورے ہندوستان سے کھینچ کر لوگ جمع ہوگئے ہیں۔ مظلوم اور غریب لوگ کم، سرمایہ دار اور تجارت پیشہ افراد زیادہ آباد ہوئے ہیں۔ ان دولت مندوں نے کراچی کو خرید لیا ہے‘۔

ان اقتباسات کا تند و تیز لہجہ آپ نے ملاحظہ فرمایا، اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کراچی کی علیحدگی کے مسئلے نے منافرت پھیلانے میں کتنا بڑا کردار ادا کیا ہے۔ ایک جانب تو حالت یہ تھی کہ روزنامہ جنگ اور دیگر مہاجر اکابرین اس بات کا ڈنڈھورا پیٹ رہے تھے کہ ہندوستان سے آنے والے مہاجرین کو مناسب سہولتیں فراہم نہیں کی جارہیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد لوگوں نے اپنی جائیدادوں کے بارے میں کلیم (Claim)جمع کرانا شروع کردیے لیکن تلخ حقیقت یہ کہ ان کلیموں میں جھوٹے کلیموں کی ایک بہت بڑی تعداد تھی۔

روزنامہ کاروان کی 18 دسمبر 1958ء میں شائع ایک خبر کے مطابق حیدرآباد اور خیرپور کے اسپیشل آباد کاری کمشنر مسٹر انور عادل نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ حیدآباد اور خیرپور ڈویژن میں 3 ماہ کے اندر 8 ہزار 650 مہاجر دعویداروں کو 2 لاکھ ایکڑ زمین الاٹ کی گئی ہے۔ مسٹر انور عادل نے مزید بتایا کہ گزشتہ 11 سالوں میں مہاجریں کو 4 لاکھ ایکڑ متروکہ زمین دی گئی ہے۔ وزارتِ آبادکاری کی طرف سے ایک پریس نوٹ جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس امر سے پوری طرح باخبر ہے کہ کئی افراد کے پاس جھوٹے کلیموں کی الاٹمنٹ ہیں، جس کا نتیجہ یہ ظاہر ہوا ہے کہ دعویداروں کو دعوے سے بھی زیادہ زمینیں الاٹ کی گئی ہیں‘۔

محمد موسیٰ بھٹو اپنی کتاب ’سندھ کے حالات کی سچی تصویر‘ میں جھوٹے کلیموں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ

’موجودہ ضلع عمر کوٹ میں ایک شخص نے عجیب و غریب کلیم داخل کیا جسے تسلیم کرنا حکومت کے لیے بہت مشکل تھا۔ کلیم کچھ یوں تھا۔ عمر کوٹ میں مراد خان قائم خانی نامی ایک صاحب نے کلیم داخل کیا کہ مہاراجہ جے پور کا محل میرا اپنا ذاتی محل تھا، میں نے مہاراجہ کو کرایہ پر دے رکھا تھا، حالانکہ یہ صاحب ریاستی فوج میں دفعدار (نائب) کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔

1972ء میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے نواب مظفر نے جو اس سے قبل اسلام اور نظریہ پاکستان کے بہت بڑے حامی تھے انہوں نے سندھ دشمنی کی بنیاد پر مہاجر، پٹھان، پنجابی، متحدہ محاذ کے نام سے ایک جماعت تشکیل دی۔ اُن کا مؤقف یہ تھا کہ، سندھی قوم پرستوں نے قومیت کی بنیاد پر جئے سندھ محاذ قائم کیا ہے، اس لیے اس کے مدنظر ہم نے اس تنظیم کی تشکیل کی ہے۔ مہاجروں کے حقوق کی پاسداری کے لیے ہمارے پاس واحد یہی ایک راستہ ہے۔

مولانا سید ابو الحسن علی نقوی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ نواب مظفر کے مطابق پاکستان میں 4 قومیتوں کا نعرہ بلند ہوتا ہے تو ہم پانچویں قومیت (مہاجر) کا نعرہ لے کر کھڑے ہوں گے اور اس کو تسلیم کر واکر دم لیں گے۔ یہ ہے وہ مقصد جو نواب صاحب اپنی تنظیم کے قیام کا بتارہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا میں اسلامی قومیت کی برتری حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی خاطر جانیں دیں اور قربانیوں کی ایک روشن مثال قائم کی ان افراد کو صرف اس لیے مہاجر قومیت کی بنیاد پر جمع کرنا کہ دوسری طرف سے بھی یہی نعرہ بلند کیا جارہا ہے، یہ مہاجر بھائیوں سے دشمنی نہیں تو اور کیا ہے؟ انتہاپسندی کا علاج انتہا پسندی نہیں ہوتا'۔

نواب مظفر صاحب کے گزشتہ 7 سے 8 سال کے کردار کا اگر تجزیہ کیا جائے تو نظر آتا ہے کہ نواب صاحب یہی کردار ادا کررہے ہیں۔ ایک مہاجروں کو اپنے حقوق چھینے جانے کا خوف دلانا اور دوسرے منافرت پیدا کرنا۔ ہمیں اس بات کا اعتراف ہے کہ دوسری طرف سے قومیت کا جاہل نعرہ بلند کرنے کے بعد ہی نواب صاحب نے یہ جاہل نعرہ لگایا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک قومیت کے جاہل نعرے کے مقابلے میں مہاجروں کو اسلامی قومیت کی بنیاد پر جمع نہیں کیا جاسکتا تھا۔ حالانکہ سندھ میں ایسے سنجیدہ اور سلجھے ہوئے سندھی افراد خاصی تعداد میں موجود ہیں جو اسلامی قومیت کے نعرے کے گرد جمع ہوسکتے ہیں۔

اس کے باوجود جاہلی قومیت کے نعرے لگانے سے آخر نواب صاحب کا کیا مقصد ہے؟ سندھی قومیت کا نعرہ بلند کرنے سے جی ایم سیّد اور ان کے ساتھیوں کا مقصد تو یہ ہے کہ سندھو دیش کے لیے فضا ہموار کی جائے لیکن سوال یہ ہے کہ نواب صاحب کا کیا مقصد ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ نواب صاحب اپنی شخصیت کا امیج بنانے اور لیڈر بننے کے خواہش مند ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اسمبلی کا ممبر منتخب ہوتے رہیں، اس مقصد کے لیے ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں اور وہ مہاجروں کے حقوق کا نعرہ لے کر کھڑے ہوئے۔

ایک انگریز مفکر نے قومیت کے محرکات پر بحث کرتے ہوئے کتنی اچھی بات کہی ہے،

’جو لوگ کسی قوم پر کسی مقصد کے لیے حکمرانی کرنا چاہتے ہیں، وہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے جب تک اس کے لیے کوئی ایسی چیز تلاش نہ کرلیں جس سے وہ نفرت کرے اور اس کے لیے کوئی ایسی شخصیت یا قوم پیدا نہ کرلیں جس سے وہ ڈریں'۔

سچ بات یہ ہے کہ اگر نواب مظفر صاحب ایک قومیت کے مقابلے میں دوسری قومیت کا نعرہ لے کر کھڑے نہ ہوتے تو سندھی قومیت کے علمبرداروں کو سندھی نوجوانوں میں وہ کامیابی نصیب نہ ہوسکتی تھی جو آج انہیں حاصل ہوئی ہے۔ ایک قومیت کے مقابلے میں دوسری قومیت سامنے نہیں آتی تو وہ قومیت اپنی موت آپ مرجاتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ نواب مظفر کی تحریک نے سندھو دیش کے علمبردار کو بالواسطہ یا بلاواسطہ بہت زیادہ تقویت پہنچائی ہے اور مہاجروں کے ایک حلقے کے اندر بھی ایسی جذباتی فضا پیدا کردی ہے کہ افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کو سلجھانا دشوار ہوگیا ہے۔

سندھ میں نئے صوبے کے قیام کی بحث بہت پرانی ہے لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب سندھ میں بسنے والے دو بڑے لسانی گروہوں سندھیوں اور مہاجروں کے درمیان اتفاق اور یکجہتی کے امکانات پیدا ہوئے۔ مہاجروں کی نمائندہ مہاجر قومی موومنٹ جو بعد میں متحدہ قومی موومنٹ بنی، اس کے بانی و قائد اور جئے سندھ تحریک کے بانی سائیں جی ایم سید کے درمیان سندھ کے حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے پر اتفاق رائے پیدا ہوا۔ بانی متحدہ اور جی ایم سید کے درمیان ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں گلے شکوے دور کیے گئے تاہم یہ ملاقات کوئی دیرپا اثر نہیں چھوڑ سکی۔

کالم نگار اور تجزیہ نگار تنویر احمد کے مطابق سندھ کے جنوبی حصوں پر مشتمل ایک نئے وفاقی یونٹ کے قیام کا مطالبہ بنیادی طور پر ایک پولیٹیکل اسٹنٹ ہے جو ہر تھوڑے عرصہ کے بعد انتخابات سے کچھ عرصہ پہلے منظرِ عام پر آتا ہے۔ سندھ کے جنوبی حصوں پر ایک نیا صوبہ اس لیے بھی ناقابلِ عمل ہے کہ جو جماعت اس صوبے کی داعی ہے وہ اردو زبان بولنے والوں کی نمائندہ جماعت سمجھی جاتی ہے جسے دوسرے لسانی گروہوں کی تائید و حمایت کبھی بھی حاصل نہیں رہی۔ اگر پورے سندھ کی بات کی جائے تو اردو اسپیکنگ کمیونٹی جسے عرف عام میں مہاجر کمیونٹی کہا جاتا ہے وہ بالائی سندھ سے جنوبی سندھ تک ہر جگہ موجود ہے۔ اس کمیونٹی کے تجارتی مفادات پورے سندھ میں موجود ہیں اس لیے فقط جنوبی حصے پر مشتمل ایک صوبے کے قیام سے کیسے اور کیونکر بالائی سندھ کے مہاجروں کے مفادات کو تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے؟

اگر جنوب میں واقع کراچی کو ہی لے لیں تو کراچی کی آبادی میں نئی مردم شماری کے مطابق مہاجر کمیونٹی کے مقابلے میں نان مہاجر قومیتیں آبادی کے لحاظ سے اکثریت رکھتی ہیں۔ ان قومتیوں کی جانب سے کبھی سندھ میں نئے صوبے کے قیام کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ کراچی کے 6 اضلاع میں سے فقط ضلع وسطی ہی مہاجر اکثریتی ضلع ہے اب کیا نیا صوبہ فقط ایک ضلعے پر مشتمل ہوگا؟