آئندہ اسمبلی میں عورت کی آواز کو غور سے سننا اور سمجھنا

پارلیمنٹ میں خواتین کی زیادہ نمائندگی سماجی بہبود میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے۔
شائع جولائ 25, 2018 08:35am

آج کے دن پاکستان کے عوام ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے، اس عمل کے بعد ایک نئی اسمبلی وجود میں آئے گی، کچھ اراکینِ اسمبلی حکومتی بینچوں پر بیٹھیں گے تو کچھ حزبِ اختلاف کی کرسیوں پر براجمان ہوں گے، یہی ریت ہے، چلتی آئی ہے اور چلتی رہے گی۔ پھر اگلے 5 سال تک اسمبلی میں مباحثے ہوں گے، سیاسی نعرے ہوں گے، تُو تُو، میں میں ہوگی، ممکنہ طور پر بجٹ کاپیاں پھاڑی جائیں گی اور کبھی کبھار آپس میں دست و گریباں ہوا جائے گا۔

مقدس ایوان جہاں عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے غور و فکر ہونا چاہیے وہیں زیادہ تر سیاسی نشتر برستے اور دشنام طرازی کی بوچھاڑ دیکھنے کو ملتی ہے۔ مگر یہاں ان مسائل پر بات کرنا مقصد نہیں، بلکہ یہاں جس موضوع پر توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں وہ ہے خواتین کا انتخابی عمل میں حصہ پارلیمنٹ میں ان کی کارکردگی اور سب سے بڑھ کر خواتین کے مسائل پر آواز۔

چلیے انتخابی عمل سے شروع کرتے ہیں۔ بدقسمتی کے ساتھ پاکستان میں پولنگ ڈے پر خواتین کی ایک بڑی تعداد اپنی رائے نہیں دے پاتی۔ ڈان اخبار کی ایک خبر کے مطابق 2013ء میں ثقافتی رکاوٹوں کی وجہ سے صرف کراچی کے ضلع مغربی کے 26 پولنگ اسٹینشنوں پر خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ صفر رہا۔ جی ہاں یہ ملک کے سب سے بڑے شہر کے اعداد و شمار ہیں، اب ذرا تصور کریں کہ ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں میں کیا صورتحال ہوگی۔ چلیے وہ بھی ہم ہی بتائے دیتے ہیں۔

سندھ کمیشن اسٹیٹس آف وومین کے مطابق سندھ کے ضلع ٹھٹہ میں 50 ہزار خواتین ووٹ نہیں ڈال پائیں، وجہ یہ تھی کہ ان کے مردوں نے انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی!

تاہم حالیہ برسوں میں خواتین کے حق رائے دہی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ مثلاً، اب ہمارے ہاں الیکشن کمیشن اس انتخاب کو تسلیم ہی نہیں کرے گی جہاں 10 فیصد سے کم خواتین نے ووٹ ڈالیں ہوں۔ الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت ہر سیاسی جماعت کو 5 فیصد جرنل نشستوں کے ٹکٹ خواتین کو جاری لازم قرار دیا گیا ہے، اس کے علاوہ عورتوں کو پولنگ ڈے پر تحفظ اور سہولیات دینے کے لیے اقدامات کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق حالیہ رجسٹریشن مہم کے دوران 38 لاکھ خواتین کا انتخابی فہرستوں میں اندراج کیا گیا۔

پڑھیے: ملک میں پہلی مرتبہ خواتین کی ریکارڈ تعداد جنرل نشستوں کی امیدوار

گزشتہ اسمبلی کی بات کریں تو فافن کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ قومی اسمبلی میں 70 نشستیں خواتین نے سنبھالی ہوئی تھیں، جن میں سے 60 اراکینِ اسمبلی، خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کی وجہ سے اسمبلی تک پہنچی تھیں جبکہ 9 جرنل نشستوں اور ایک اقلیتی نشست پر منتخب ہوکر آئی تھیں۔ مطلب یہ کہ 342 اراکین پر مشتمل قومی اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی صرف 20.46 فیصد رہی۔

تصویر بشکریہ سید علی شاہ۔
تصویر بشکریہ سید علی شاہ۔

آئندہ انتخابات کے حوالے سے ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ اس بار کُل 171 خواتین امیدوار میدان میں ہیں، جن میں سے 105 پارٹی ٹکٹ پر جبکہ 66 آزاد امیداوار ہیں۔

اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی تعداد میں خواتین انتخابی اکھاڑے میں نہیں اتریں ہیں۔ 2013ء میں 135 خواتین نے الیکشن میں حصہ لیا تھا جن میں سے زیادہ تعداد، 74 آزاد امیدواروں کی تھی جبکہ 61 پارٹی ہولڈرز امیدوار تھیں۔ 2008ء کے انتخابات کی بات کی جائے تو خواتین امیدواروں کی تعداد محض 72 تھی جن میں سے 41 پارٹی ہولڈر جبکہ 31 آزاد خواتین امیدواروں نے حصہ لیا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا عورتوں کی اس قدر کم موجودگی کی صورت میں ان کے مسائل پر غور و فکر کیا جاسکتا ہے یا پھر کیا جاتا ہے؟ کیا عورتوں کے حقوق کی بات (سیاسی اسکورنگ کے علاوہ) اسمبلی میں کی جاتی ہے؟ اور اگر بات ہو بھی تو اس پر بحث و مباحثے کتنے ہوتے ہیں؟ اور اسے کتنا سنجیدہ لیا جاتا ہے؟

افسوس کی بات ہے کہ اکثر سیاسی پارٹیاں عورتوں کو صرف اپنی کرسیاں پُر کرنے کے لیے ممبر چنتی ہے، چند میڈیا رپورٹس کے مطابق خواتین کی مخصوص نشستوں پر اقرباء پروری غالب دیکھنے کو ملتی ہے، وہاں موجود سیاسی رہنماؤں اور دیگر مرد اراکین اسمبلی کو عورتوں کی آواز سننا زیادہ پسند ہی نہیں ہوتا۔

مگر دوش صرف سیاسی جماعتوں اور ان کے لیڈران کا بھی نہیں، زیادہ تر خواتین رکن اسمبلی آواز اٹھاتی بھی ہیں تو اپنے سیاسی قائد کے دفاع میں یا پھر اپنی سیاسی جماعت کے مفاد کے لیے، چند ایک ہی ایسی خواتین نظر آتی ہیں جو عورتوں کے حقوق، ان کے مسائل اور ان کے حل پر دھیان مرکوز کروانے کی کوشش کرتی ہیں۔

پڑھیے: پی ٹی آئی خواتین سے متعلق بیان: رانا ثناء اللہ کی پنجاب اسمبلی میں ’معذرت‘

کتنی حیرت کی بات ہے کہ گزشتہ پانچ پارلیمانی برسوں کے دوران قومی اسمبلی میں ایسے صرف 2 بل منظور ہوئے جن کا براہِ راست تعلق خواتین سے تھا۔

کیا پاکستان میں خواتین کے تمام مسائل حل ہوچکے ہیں، کیا ہم نے ان کی حالتِ زار کو ماضی میں بدل دیا ہے؟

اب کہنے والے کہیں گے کہ جی عورتیں پارلیمنٹ میں بیٹھی ہیں، اب تو ملکی تاریخ پہلی خاتون اسپیکر قومی اسمبلی، خاتون وزیرِ خزانہ، وزیرِ خارجہ بھی دیکھ چکی ہے اور اب کیا کیا جائے؟

افسوس کے ساتھ مسلم دنیا کو پہلی خاتون وزیر اعظم دینے والے اس ملک میں عورتوں کو لاحق مسائل یا ان کے حوالے سے قانون سازی پر یہ دلیل کیسے قائم ہوگئی؟ پہلی مسلمان اور پاکستانی خاتون، بے نظیر بھٹو اس وقت تک وزارتِ عظمیٰ کے عہدے تک نہیں پہنچی تھیں جب تک کہ خود مردوں نے انہیں منتخب نہیں کرلیا تھا۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عورتوں کے مسائل دراصل پورے معاشرے کے مسائل ہوتے ہیں، اس پر آواز اٹھانا ہر رکن اسمبلی پر فرض ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔

مرد اراکین پارلیمنٹ کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے ملک کی پوری آبادی کو کام کرنا پڑے گا لہٰذا نصف سے زائد آبادی پر مشتمل خواتین کی معاشرتی، سیاسی اور اصل نمائندگی میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے انہیں بھرپور کردار کرنا چاہیے۔ عورت اگر گھر کی گاڑی کا پہیہ ہوسکتی ہے تو وہ ملک کی گاڑی کا بھی پہیہ ہوسکتی ہے۔

معاشرے میں موجود صنفی تفریق اور عورتوں کو لاحق مسائل کے خاتمے اور حقوق نسواں کی پاسداری سے ہی عورتیں اپنی بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ ملک و معیشت کے ہر شعبے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں گی۔

البتہ ہم نے یہ ضرور دیکھا اور سنا ہے کہ چند مرد ارکان پارلیمنٹ نے خواتین ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ کس طرح کا لب و لہجہ روا رکھا۔ طنز، جگتیں اور خواتین مخالف اور توہین آمیز جملے کسے گئے۔

ایوان میں عورتوں کے مسائل کو اجاگر کیسے کیا جاتا ہے، اس کے لیے ہماری خواتین ارکان پارلیمنٹ کو پڑوسی ملک ہندوستان کی سماجوادی پارٹی کی نمائندہ رکنِ راجیہ سبھا اور اداکارہ جیا بچن سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

جیا بچن کو جب بھی ایوان میں خطاب کا موقع ملا تو انہوں نے ہمیشہ عورتوں کی اصل نمائندگی کی ہے۔ ہندوستان کےقومی اعزازات میں خواتین کو نظر انداز کرنے سے لے کر ریپ کی بڑھتی شرح تک انہوں نے ہر موقع پر خواتین کے مسائل اور ان کے لیے بہتر قانون سازی کی بات کی ہے۔ یہ جیا بچن ہی تھیں جنہوں نے بھرے ایوان میں، بی جے پی کے انتہا پسند اراکین اسمبلی کے سامنے یہ کہا تھا کہ یہاں خواتین پر ظلم ہو رہے ہیں اور حکومت گائے بچانے میں لگی ہے، جیا بچن نے بطور عورت، ہمیشہ خواتین کی اصل اور حقیقی ترجمانی کی۔

افسوس کے ساتھ ہمیں گزشتہ 5 سالوں کے دوران کوئی ایسی خاتون ممبر اسمبلی نظر آئیں جنہوں نے خواتین کی ایسی ترجمانی کی ہو۔

ہم نے کسی حد تک پاکستان اور دنیا کی مختلف اسمبلیوں میں خواتین کو اپنی بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ ملک کی دفاعی پالیسیوں سے لے کر ملکی اقتصادی امور پر سوال اٹھاتے دیکھا تو کبھی خود انہیں ان امور کا جوابدہ بھی پایا ہے۔ مگر یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ خواتین اراکین اسمبلی کی زیادہ تر توجہ صحت عامہ، انسانی حقوق اور اقلیتوں کے مسائل پر مرکوز ہوتی ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں خواتین کی زیادہ نمائندگی سماجی بہبود میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے۔

امید ہے کہ آج کے انتخاب کے نتیجے میں منتخب ہونے والی قومی اسمبلی کو ایسی خواتین اراکین اسمبلی ملیں گی جو جیا بچن کی طرح بار بار ایوان کو ملک کی نصف سے زائد آبادی کے مسائل بتائیں گی اور اپنی آواز میں اتنی گونج ضرور پیدا کریں گی کہ جس سے اقتداری گلیاروں سے دور واقع ایک چھوٹے سے مکان میں بیٹھی ایک عورت اپنے اندر خود کو بااختیار بنانے کا حوصلہ پیدا کرسکے۔


لکھاری ڈان ڈاٹ کام کے اسٹاف ممبر ہیں۔ ان سے ان کے ای میل ایڈریس پر رابطہ کریں: [email protected]


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔