اسلام آباد پر راج کرنے کیلئے تختِ لاہور کا سہارا ناگزیر

01 اگست 2018

ای میل

قیامِ پاکستان کے بعد سقوط ڈھاکہ تو ایک بڑا المیہ وطنِ عزیز کے لیے تھا ہی مگر اس کے بعد بچے کھچے پاکستان میں جو سیاسی انتخابی اور آبادی کے اعتبار سے پنجاب کو بالادستی حاصل ہوئی اُس نے مستقبل کے سیاسی منظرنامے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ طے کردیا کہ اسلام آباد کا تخت اُسی کا ہوگا جو تختِ لاہور پر بیٹھے گا۔

اب اس تفصیل میں جانے کا وقت نہیں کہ 1965ء کی جنگ اور پھر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی بی ڈی سسٹم (بنیادی جمہوریتوں کے نظام) کے تحت ہونے والے انتخابات میں شکست کے بعد ہی اسلام آباد کی سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے ’مشرقی بازو‘ سے جان چھڑوانے کی حکمتِ عملی پر کام شروع کردیا تھا۔

بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہونے والے پہلے آزادانہ انتخابات میں عوامی لیگ کی جیت کو تسلیم نہ کرنا اسی سوچ کا منظر تھا۔ بدقسمتی سے اس وقت کے مقبول ترین سیاسی رہنما ذوالفقار علی بھٹو نے اسلام آباد کی سویلین، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا اس میں ہاتھ بٹایا۔

مغربی بازو میں سب سے بڑی قوت کی حیثیت حاصل کرنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے کہ وہ عوامی قوت کے ساتھ ساتھ ’جی ایچ کیو‘ کے جن کو بھی بوتل میں بند کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

پڑھیے: پنجاب انگڑائی لے رہا ہے

سقوطِ ڈھاکہ کے بعد افواج کا جو مورال گرا تھا اور جس طرح اُس کے بڑے بڑے جغادری جنرل سر جھکاتے، سر بستہ اُن کے سامنے کھڑے ہوتے تھے، اُس نے بھی اُن کی خوش فہمی کو جِلا دی۔ مگر مارچ ’1977ء‘ کے آتے آتے صوبہ پنجاب میں ایک ایسی سیاسی قوت اُبھر کر سامنے آنے لگی تھی جسے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بھی پشت پناہی حاصل تھی اور جو بھٹو صاحب کی غیر معمولی قابلیت، ذہانت اور مقبولیت سے خوفزدہ تھی۔

5 جولائی کو بھٹو صاحب کی حکومت کی برطرفی اور 4 اپریل کو اُن کا تابوت لاڑکانہ میں آنا اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ ایک بار پھر پنجاب کی سولین، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا محبوب ہی اسلام آباد کے تخت پر بیٹھے گا اور لازمی طور پر اُس کا تعلق سب سے بڑے صوبے ہی سے ہوگا۔

جنرل ضیاء الحق نے 10 سال حکومت اسی بل بوتے پر کی۔ ایم آر ڈی (تحریکِ بحالی جمہوریت) کی تحریک کی ناکامی کا سبب ہی یہ تھا کہ اُس کا سارا زور سندھ میں تھا۔ جبکہ طاقتور بلوچ، پختون قوم پرست پہلے ہی بھٹو دشمنی میں پنجاب کی سیاسی قیادت کے پیچھے جا کھڑے ہوئے تھے اور پھر 1988ء کے الیکشن نے یہ ثابت بھی کردیا کہ 10 سال کی طویل جدوجہد اور قربانیوں کے باوجود بھی بے نظیر بھٹو اقتدار میں آئیں تو پنجاب سے اکثریت حاصل نہیں کرسکیں۔

قومی اسمبلی کے انتخابات کے 3 دن بعد جب پنجاب اسمبلی کے انتخابات ہوئے تو میاں محمد نواز شریف کا ’جاگ پنجابی جاگ‘ کا نعرہ ایک آندھی بن کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی مقبولیت کو لے اُڑا۔

پڑھیے: پنجاب میں برادری کی سیاست، اور چیمہ چٹھہ تنازع

30 سال تک پنجاب کی سیاسی قوت کی بنیاد پر ہی جاتی امراء کے شریف وطنِ عزیز پر راج کرتے رہے۔ سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کا دور ایک ’مختصر وقفہ‘ تھا۔ 2013ء کے آتے آتے ملک کی سب سے بڑی پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی سندھ تک محصور ہوکر رہ گئی تھی۔

تیسری سیاسی قوت کی حیثیت سے تحریکِ انصاف سامنے تو آئی مگر پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141 میں سے محض 6 نشستیں اُسے مل سکیں۔ شریف خاندان پر یہ مشکل وقت کیوں آیا، اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں خود محترم میاں نواز شریف ہی ہیں کہ تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کا تاج سر پر سجانے کے بعد وہ اس خوش فہمی کا شکار ہوگئے کہ مکمل اختیار کے لیے، ’ساڈا جج تے ساڈا صدر‘ کافی نہیں ’ساڈا جنرل‘ بھی ضروری ہے۔ اب ’بم‘ کو لات مارنے کا یہ نتیجہ تو نکلنا ہی تھا۔ 2018ء کے الیکشن سے بہت پہلے میاں صاحب ’ڈارک ہارس‘ اور محترم عمران خان ’لکی ون‘ بن چکے تھے۔

اسٹیبلشمنٹ اس بات سے بہ خوبی آگاہ تھی کہ شریف خاندان کو پنجاب میں شکست دیے جانے کے بعد ہی عمران خان کو کُھلا میدان مل سکے گا۔ یہ سطور لکھے جانے تک اسلام آباد کے بعد پنجاب کی پِچ بھی خان صاحب کے لیے تیار ہوچکی ہے۔ سیاست میں یقین سے دعوے نہیں کرنے چاہیے مگر الیکشن 2018ء کے نتائج نے مستقبل کے سارے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے لیے دوسری، تیسری پوزیشن لکھ دی ہے۔