کیا عمران خان بھٹو بن سکتے ہیں؟

06 اگست 2018

کیا پاکستانی سیاست کے سب سے سحر انگیز سیاستدان ذوالفقار علی بھٹو کا تحریکِ انصاف کے سربراہ محترم عمران خان سے ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے موازنہ کیا جاسکتا ہے؟

ایک عرصے تک ہمارے خان صاحب بھٹو صاحب کی عوامی سیاست کو سراہتے رہے مگر انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھٹو صاحب کا مقام کبھی نہیں بخشا بلکہ حالیہ دنوں میں اُن کے شوہر آصف علی زرداری اور اُن کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کا تذکرہ بڑے ہی تضحیک آمیز انداز میں کرتے رہے۔

وزارتِ عظمیٰ کا تاج سر پر رکھنے کے بعد کیا وہ اُن کا اندازِ سیاست اپنائیں گے اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد پاکستانی سیاست کے اس دوسرے بڑے رہنما کو کیا کوئی مقام دیں گے؟ اس پر گفتگو ذرا بعد میں۔

تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ دونوں کو ہی اپنی نوجوانی میں اپنے اپنے شعبوں کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت ملی اور ہاں پاکستانی سیاست میں 2 ہی ایسے بڑے سیاستدان ہیں جن پر Ladies Man کا جملہ سجتا ہے۔

5 جنوری 1928ء کو پیدا ہونے والے ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ کے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جس کی زمین تقسیم سے پہلے ہی کوسوں میل پر پھیلی ہوئی تھی، مگر ایک فیوڈل شہزادہ ہونے کے باوجود انہوں نے مغرب کی شہرت یافتہ یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور وطن واپسی پر ایک وکیل کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔

50ء کی دہائی کا کراچی نائٹ کلبوں اور ریس کورسوں کا شہر کہلاتا تھا۔ اسکندر مرزا کراچی میں ایوانِ صدر میں براجمان ہوچکے تھے جن کی ایرانی نژاد بیگم ناہید مرزا ایوانِ صدر میں ’ایرانین نائٹس‘ سجاتی تھیں۔ بھٹو صاحب ان محفلوں کی جان ہوتے تھے، پس اُن کی ملاقات نصرت سے ہوئی جو اُن کی بعد میں دوسری بیگم بنیں۔

پڑھیے: اتاترک سے دشمنی، جناح سے دوستی بھی؟

اسکندر مرزا کے بعد صدر ایوب خان کی کابینہ میں نوجوان بھٹو نے اپنی علمیت اور انگریز دانی سے جلد ہی منفرد مقام بنالیا۔ پہلے پانی اور بجلی کے وزیر اور پھر صرف 36 سال کی عمر میں وزارتِ خارجہ کا منصب سنبھالا۔ بھٹو صاحب کو 1965ء کی جنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے کہ انہوں نے آپریشن ’جبرالٹر‘ پلان کیا جس کے سبب بھارت کو پاکستان پر حملے کا موقع ملا۔

65ء کی جنگ میں روسی مداخلت سے دونوں روایتی دشمن برابر جھٹ گئے مگر بھٹو صاحب کو تاشقند میں ہونے والا معاہدہ قبول نہ تھا۔ تاشقند ڈکلیریشن کی مخالفت اور سلامتی کونسل میں اُن کی تقریروں نے راتوں رات انہیں پاکستانی عوام کا ہیرو تو بنا ہی دیا تھا بلکہ اس کے ساتھ ساری دنیا میں بھی اُن کی شہرت کا ڈنکا بجنے لگا۔

ایوب خان کی حکومت سے علیحدگی اُن کی سیاسی زندگی کا پہلا بڑا امتحان تھا جس پر وہ پورے اترے۔ نومبر1967ء میں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور محض 3 سال بعد ہی صرف 44 سال کی عمر میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔ اُن کا 5 سالہ دورِ اقتدار اور پھر جولائی 1977ء میں اقتدار سے علیحدگی اور اپریل 1979ء میں پھانسی پانے کے بعد آج بھی وہ اپنی قبر سے کروڑوں عوام کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔

دوسری طرف تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان سیاست نہیں بلکہ کرکٹ کے میدان کے کھلاڑی تھے مگر دیگر پاکستانی کھلاڑیوں سے مختلف۔ آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ، لندن کی ایسٹ سوسائٹی میں Play Boy اور پھر پاکستانی کرکٹ ٹیم کو پہلی بار ورلڈ کپ دلا کر عمران خان بھی بھٹو صاحب کی طرح پاکستان کے کروڑوں عوام کے ہیرو بن گئے۔

پڑھیے: عمران خان کے اقتدار کو خطرہ ’کب‘ اور ’کیوں‘ ہوسکتا ہے؟

شوکت خانم ہسپتال نے اُن کی شہرت کو چار چاند لگائے مگر سیاست اُن کا میدان نہ تھا۔ پہلی بار 1997ء میں عملی سیاست میں آئے تو وہ 12ویں کھلاڑی تھے۔ 2002ء کی انتخابی شکست کے بعد کوئی اور ہوتا تو لندن میں جا کر پناہ لے لیتا مگر اُن کے اندر کا کھلاڑی ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی چین سے نہیں بیٹھا۔ 2008ء میں انتخابی بائیکاٹ کے بعد 2013ء میں خیبرپختونخوا میں شاندار کامیابی اُن کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے پہلی سیڑھی بنی اور پھر 25 جولائی 2018ء کو اُنہیں 23 سال کی سیاست کا ثمر ملا اور اب یہی وہ دن اور وقت ہے جہاں سے اُن کے سیاسی امتحان کا آغاز ہوتا ہے۔

بھٹو صاحب محض ایک سیاستدان نہیں اسٹیٹمین تھے، اس حیثیت میں انہوں نے اپنا لوہا ساری دنیا میں منوایا جبکہ عمران خان کے اندر کا کھلاڑی ابھی تک اُن کے اندر سے نہیں نکلا۔ اُن کے اردگرد نو آموز سیاسی کھلاڑیوں یا پھر مقامی روایتی سیاستدانوں کا ایک گروپ ہے جو اُن کو ایک مزید عظیم سیاسی رہنما بننے سے روکے ہوئے ہے۔

بھٹو صاحب کو تاریخ کا ادراک تھا، کتب بینی کے بے انتہا شوقین تھے، اپنی علمیت، قابلیت کا لوہا منوانا جانتے تھے۔ ڈاکٹر ہنری کسنجر جیسے شاطر وزیرِ خارجہ نے مشہور صحافی اوریانا فلاسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دنیا میں جن چند شخصیات سے متاثر ہیں، بھٹو اُن میں سے ایک ہیں۔

لیکن دونوں کے ماضی اور حال کو دیکھنے کے بعد معذرت کے ساتھ کہنے دیجیے کہ عمران خان کو وزیرِ اعظم بننے کے باوجود بھٹو صاحب کے گرد تک پنہچنے کے لیے بھی ایک طویل عرصہ درکار ہے اور بدقسمتی یہ کہ عمر کے اس حصے میں شاید وہ وہاں تک پنہچ نہ پائیں۔

تبصرے (15) بند ہیں

ZIA KHAN Aug 06, 2018 06:19pm
Bhutto came in to hunt power, an elite mindset. He climbed an old ladder and had no vision at all to upgrade the centuries old system. Underdevelopment is a major phenomenon of crude systems working for the powerful. Imran Khan is a different leader. His aim is to implement the tested system in place in most developed countries. How can you compare a Feudal Lord with a Pakistani Patriot who truly cares for underprivileged.
محمد احمد Aug 06, 2018 07:04pm
ایک عمدہ تحریر لیکن لکھاری بھٹو صاحب کی عقیدت میں ایسے ہی ڈوبے ہوئے ہیں جیسے گلاب جامن شیرے میں۔ دورِ حاضر میں خارجہ پالیسی پر عمران کی نظر دیگر سیاستدانوں سے بہتر ہے اور بطور کھلاڑی ان کے تعلقات خارجہ پالیسی میں مددگار بھی ہوں گے۔ "روٹی، کپڑا اور مکان" سے "نیا پاکستان" تک کا تقابل لازم تھا کہ دونوں نعرے ہی قوم کے لیے کسی حد تک انقلابی ہیں اور حقیقت سے آگے کی چھلانگ بھی۔ دونوں میں آکسفورڈ جیسا تعلیمی ادارہ مشترک ہے۔ ذوالفقار بھٹو تین جبکہ عمران خان سات کتابوں کے مصنف ہیں جبکہ بھٹو کے برخلاف عمران ملک بھر کی سیر کر چکے ہیں اور بلوچستان کے مسائل سے آگاہ بھی۔ سب سے مشترک قدر سماجی اصلاحات کی ہے۔ بھٹو صاحب اپنی پالیسیوں کے سبب کیمونزم، سوشلزم کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ دوسری طرف عمران خان کو اگرچہ ملکی سطح پر ابھی موقع ملا ہے لیکن اپنے نظریات میں وہ "ریاست مدینہ" جیسی اصلاحات کی مثال دیتے ہیں جو ان کے خیال میں اسلامی مگر بائیں بازو کے نظریات کی طرف تھی۔
Ather Aug 07, 2018 05:20am
It is true that IK is at a point in his lifecycle where he may not have enough time left to prove himself comparable to Bhutto, but the point is should he, or does he, care? The purpose of IK is not to prove himself if he is like any other person. His purpose, to my understanding, is to do something for the people of Pakistan who are sick and tired of corrupt politicians.
mustafa Aug 07, 2018 08:58am
Bhutto might have been intelligent and suave and charismatic and blah blah blah. But all of that worked only to entrench his own position. Let me ask you, how many hospitals and universities did Bhutto establish? What was his role in the disasters of 1965 and 1971? The author is living in 1970s. Time to wake up...
Ahmad Aug 07, 2018 11:34am
@mustafa Exactly He Did Nothing for the Sake of People of Pakistan.
Mirestan Aug 07, 2018 04:31pm
No way. Bhutto is responsible for destroying Pakistan. Please do not bring Bhutto in comparison to Amran Khan. You can't compare a fruderal lord to Imran Khan'.
asif Aug 07, 2018 05:04pm
excellent article
Isra Aug 07, 2018 06:04pm
@محمد احمد well said
Khursheed Aug 07, 2018 07:53pm
Bhutto did nothing for Pakistan. He had been excellent orator and was able to put up a good show people of Pakistan as did Altaf Hussain. PTI's manifesto is based on helping and up bringing lower class of people Pakistan in a responsible. Bhutto's policy did not account for merit in his policy, nepotism was prevalent in his tenure. Nutshell Bhutton and People's party put Pakistan 40 years back. Proof is in the pudding look at governance in Sindh.
G Janab Aug 07, 2018 08:37pm
The one with more Taqwa should be tbe criteria .
rashid khan Aug 08, 2018 02:32am
خدا نہ کرے ۔ ورنہ پاکستان کی تباہی یقینی ہے
M. Johri ---canada Aug 08, 2018 06:43am
Imran khan is better
Asim Aug 08, 2018 09:52am
Time to wake up and step out of the propaganda. Possibly one of the worst era's of Pakistan was during Bhutto's dirty rule. Why do Pakistani's not see the disasters he has caused - nationalization, East Pakistan disaster, etc. He stole the mandate of the people of East Pakistan and put the economy in Shambles. His govt forcefully acquired industries of private people yet his own family's wealth continues to multiply to this date. I cannot ever praise such a leader. A dark chapter in Pakistan's history. That is what Bhutto's rule was !! . Please wake up Pakistan
akhtaŕ hussain Aug 08, 2018 04:21pm
Mujahid sahib imran ko bhutto bunnay ki zaroorat naheen hai aur na yeh daur bhutto ka hai. Kam karnay wala silent leader chahiye
Munawar Kanday Aug 08, 2018 11:41pm
@ZIA KHAN Absolutely true