25 جولائی کو ہونے والا الیکشن اپنے سربستہ رازوں اور پولنگ ایجنٹس کے ماتم کے بعد نو منتخب امیدواروں کی بارات لے کر ایوان زیریں میں اترنے والا ہے۔ کپتان عمران خان کب سے مسند پر بیٹھنے کے منتظر ہیں۔ مرکز کے بعد سب سے بڑا معرکہ پنجاب میں ہوگا۔ عمران خان نے اس معرکے کو پانی پت سے تشبیہہ دے کر اس کی اہمیت بتانے کی سعی کی ہے۔

پانی پت کا علاقہ تو جنگوں کی وجہ سے زمانہ قدیم سے مشہور ہے۔ قبل از مسیح دور میں کورو اور پانڈو قبائل میں لڑی جانے والی تاریخی لڑائی بھی کوروکشیتر میں ہوئی تھی جو پانی پت کے بازو میں ہے۔ صدیوں سے پانی پت کا علاقہ پنجاب ہی کا ایک مقام تھا اور تقسیمِ پنجاب 1947ء کے بعد بھارتی صوبہ مشرقی پنجاب کا حصہ بنا۔ تاہم 1966ء میں جب بھارتی حکومت نے پنجاب کو 3 حصوں میں منقسم کیا تو پانی پت نئے صوبہ ہریانہ شامل ہوگیا۔

کورووں اور پانڈوؤں کی لڑائی کو مشہور کلاسک ’مہا بھارت‘ میں محفوظ کیا گیا ہے۔ ہندو مذہب میں پنجاب میں لڑی جانے والی اس لڑائی کو مقامِ خاص حاصل ہے۔ یقیناً عمران خان نے اس کا حوالہ تو نہیں دیا ہوگا۔ پانی پت کی جن 3 جنگوں کو ماضی قریب کی تاریخ میں اہم مقام حاصل ہے ان میں پہلی اور تیسری جنگ کی شہرتیں زیادہ ہیں جبکہ 1556ء کی دوسری جنگ کے بارے میں زیادہ بات نہیں ہوتی جس میں مغل بادشاہ اکبر نے راجپوتوں کو رام کیا تھا۔

پڑھیے: مولانا سندھی: اک وکھری ٹائپ کا مولوی

پانی پت کی پہلی جنگ 2 مسلمان حکمرانوں کے درمیان تھی جس میں ظہیرالدین بابر کا مقابلہ ابراہیم لودھی سے تھا۔ 1526ء میں ہونے والی اس جنگ کو مغلیہ یا تیموریہ سلطنت کی بنیاد کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نئی بادشاہت شروع کرنے کی بنیاد تھی جو 236 سال تک قابض رہی اور اسے پہلا بڑا دھچکا پانی پت کی تیسری لڑائی میں لگا۔

بابر کی اپنی سوانح اس بات کا ثبوت ہے کہ مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھنے سے قبل اپنے چچا شبانی خان بیگ سے بچتا ہوا بابر کابل آیا تھا اور موجودہ فاٹا اور بنوں میں مقامی بغاوتوں کو کچلتے ہوئے اس نے انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنوا کر اپنی دھاک بٹھائی تھی۔

کیا عمران خان بھی کسی نئی بادشاہت کی داغ بیل ڈالنے جا رہے ہیں؟ کیونکہ اس جنگ میں کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کرنے والوں کو فتح ہوئی تھی اس لیے خیال یہی ہے کہ عمران خان کے دماغ میں پانی پت کی جنگ کے استعارے سے مراد پانی پت کی تیسری جنگ ہی ہوگی جو 1761ء میں پٹھانوں اور مرہٹوں کے درمیان لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں بظاہر احمد شاہ ابدالی کی فوجوں کو فتح ملی تھی مگر چند ہی سالوں میں مقامی طاقتیں اس حد تک کمزور ہوگئیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ایک بڑے علاقے کا کنٹرول 1765ء تک حاصل کرلیا۔

اگلے عشرے میں پٹھان کابل تک محدود ہوگئے اور آج تک محدود ہی ہیں۔ اپنے مولانا عبیداللہ سندھی ایک باکمال رہنما تھے انہوں نے اس جنگ کو انگریزوں کی حکومت بننے کا نکتہ آغاز قرار دیا ہے۔ افغان اور مرہٹے دونوں کا شمار ان ابھرتی ہوئی لاتعداد مقامی طاقتوں میں ہوتا تھا جنہوں نے آخری مغل بادشاہ اورنگزیب کے بعد تیزی سے بکھرتی مغل سلطنت کی کوکھ سے جنم لیا تھا۔

بنگال و اودھ سے پنجاب و کابل تک جنوبی ایشیا میں بہت سی نئی خودمختار جتھے بندیاں کھڑی ہوئیں تھیں جن کی بنیاد جغرافیے پر تھی مگر یہی وہ وقت تھا جب فرانسیسی اور انگریز ایسٹ انڈیا کمپنیاں اپنے اپنے مفادات کے تحت ہمارے ہاں برسرپیکار تھے۔ کرناٹک کی جنگوں (1740ء سے 1748ء) اور 4 سال قبل پلاسی کی جنگ (1757ء) کے بعد نوشتہ دیوار لکھا جاچکا تھا۔

اگر مقامی حکمران اپنی خودمختاریوں کے ساتھ ساتھ ایسٹ انڈیا کمپنیوں کا مقابلہ کرنے کی سعی کرتے تو آج جنوبی ایشیا کی تقدیر کچھ اور ہوتی، مگر نہ وہ بصیرت تھی نہ ہی مستقبل پر نظر البتہ آج 257 سال گزرنے کے باوجود اگر ہم اس جنگ کو پٹھان یا مرہٹہ تفاخر سے دیکھتے ہیں تو پھر حیرت ہی ہوتی ہے۔

پانی پت کی اس تیسری جنگ کے بعد مختلف خودمختار ریاستوں نے اپنے تئیں انگریزوں کو روکنے کی کوششیں کیں مگر نہ تو انہیں بکسر کی لڑائی (1764ء) میں روکا جاسکا نہ حیدر علی و ٹیپو سلطان انہیں روک سکے۔ یوں 1803ء میں دلی پر قبضہ کے بعد انگریز راج ایک بڑے حصہ پر آگیا۔

پڑھیے: جب انگریز آزاد پنجاب پر قابض ہوا

دوسری طرف پنجاب میں سہہ حاکمان لاہور کا راج آیا اور 1767ء کے بعد احمد شاہ ابدالی کابل تک محدود ہوا۔ اس کے بیٹے تیمور شاہ کو بھی بھنگی مثل والوں نے ملتان سے واپس قندہار جانے پر مجبور کردیا۔ 1799ء سے 1849ء تک مہاراجہ رنجیت سنگھ کی بنائی ’لاہور دربار‘ کی حکومت 50 سال تک انگریزی راج کو روکتی رہی مگر 1849ء میں یعنی پانی پت کی تیسری لڑائی کے 88 سال بعد پورا خطہ انگریزوں کا غلام بن چکا تھا۔ یوں وسط اگست 1947ء تک ہم انگریزوں کی محض ایک کالونی رہے۔

تاریخ سے سبق ضرور سیکھنا چاہیے مگر تعصب و تفاخر کو تج کر ہی اس سبق کو سمجھا جاسکتا ہے۔ اس دوسرے جمہوری تسلسل تک ہم روتے پیٹتے پہنچ ہی چکے ہیں کہ 17ویں صدی کے وسط کی مانند وطن ایک دو راہے پر ہے۔ یہ سوال ہنوز توجہ طلب ہے کہ عمران خان مسند اقتدار پر بیٹھ کرکیا فیصلے کریں گے؟ کون سی پالیسیاں چلائیں گے؟ اس وقت ملک کو جس اتفاق کی اشد ضرورت ہے اس پر سوالیہ نشان 25 جولائی کو لگ چکا ہے۔

عمران خان کو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی اپوزیشن ہی کا سامنا نہیں بلکہ ایوان بالا تو مکمل طور پر اپوزیشن کے پاس ہے۔ یہی نہیں بلکہ ان کے اتحادیوں میں ایم کیو ایم پاکستان اور اختر مینگل بھی موجود ہیں جن کے گلے حکومت سے کم اور ریاست سے زیادہ ہیں۔ ایسے میں انہیں ’پانی پت‘ کی نہیں بلکہ ’نئے جمہوری میثاق‘ کی ضرورت ہے۔

خطے کی صورتحال بھی نازک ہے لہٰذا افغانستان اور ایران سے مثالی تعلقات کڑے امتحان سے کم نہیں۔ معیشت اور دہشت گردی سے جڑے چیلنجز سے نمٹتے ہوئے ہی اس پلِ صراط سے گزرنا ہے۔

کوئی ایک جماعت یا ادارہ تنِ تنہا اس دشت کو پار نہیں کرواسکتا کہ سب کو ایک جگہ بٹھانے کے لیے سب کی بات سننی ہوگی۔