اقتدار میں آنے سے لے کر اب تک عمران خان اور ان کی ٹیم نے بار بار پاکستان کے سامنے موجود خارجہ پالیسی کے گوناگوں مسائل کا اعتراف کیا ہے۔ مگر جہاں ٹوئیٹس اور بیانات میں ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی پر توجہ دی جا رہی ہے، وہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج دوسری سرحد کے پار سے ہے، یعنی ہمارے دوست، نہ کہ دشمن چین کی جانب سے۔

بعد از انتخابات 2 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ سے دھوکہ نہ کھائیں۔ یہ بروقت مداخلت درحقیقت اشارہ ہے کہ چین جانتا ہے کہ عمران خان اپنی عوامیت پسند سیاست اور بیجنگ کے ساتھ حالیہ تعلقات کو ہم آہنگ کرنے میں مشکلات کا شکار ہوں گے۔ واقعتاً چین کی عمران خان کے دور میں پاک چین تعلقات پر پریشانی اس بات سے عیاں ہوئی کہ جیسے ہی عمران خان کی فتح واضح ہوئی تو چینی میڈیا نے عمران خان کو دوطرفہ تعلقات کی مغربی میڈیا کوریج سے خبردار کرنا شروع کر دیا تھا۔

مسئلہ یہ نہیں ہے کہ آیا سی پیک 'نئے پاکستان' میں رواں دواں رہے گا۔ یہ تو لازم ہے۔ سرمایہ کاری راہداری کے لیے فوج اور بین الفریقین حمایت موجود ہے اور صاف بات ہے کہ پاکستان کے پاس دیگر آپشن کم ہی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ آیا سی پیک پر پیش رفت سے وزیرِ اعظم خان کی عوامیت پسندی کے محض بیان بازی ہونے کا پردہ تو نہیں کھل جائے گا؟

وزیرِ اعظم عمران خان کی عوامیت پسند سیاست لازمی طور پر انہیں بیجنگ کے دروازے تک کی پتھریلی سڑک پر لے جائے گی۔ وہ شفافیت کی بات کیسے کریں گے جب ان کا سامنا سی پیک کے پوشیدہ مالی معاملات سے ہوگا؟ وزیرِ خزانہ اسد عمر نے پہلے ہی سی پیک معاہدوں کو عوام میں لانے کا وعدہ کیا ہے۔ مگر کیا عوام ان شرائط کو ہضم کر پائیں گے؟

پڑھیے: عمران خان بھی وفاداروں کو نوازیں گے، یہ امید ہرگز نہیں تھی

پھر عمران خان سی پیک منصوبوں کی جانچ پڑتال کروائے بغیر کس طرح نواز شریف، مسلم لیگ (ن) کی کرپشن اور اقتصادی بدانتظامی کے خلاف مہم جاری رکھ پائیں گے؟ وزیرِ ریلوے شیخ رشید نے کسی زمانے میں سی پیک کے تحت بننے والے ایک بجلی گھر کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جس میں ان کے نزدیک کرپشن ہوئی تھی۔

پھر ملازمتیں پیدا کرنے کا معاملہ ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان کے پہلے 100 دن میں ایک کروڑ ملازمتیں پیدا کرنے کے وعدے کو سب سے زیادہ پذیرائی ملی ہے۔ مگر ان کے دور میں سی پیک منصوبوں پر کام کرنے کے لیے بڑی تعداد میں چینی ورکر آئیں گے، جبکہ غیر ہنر یافتہ پاکستانی مزدوروں کو کنارے سے لگا دیا جاتا ہے۔ پاکستانیوں کو تعلیم اور ہنر دینے کی عمران خان کی جذباتی تقاریر سنیں، یہ سب بالکل درست ہوں گی مگر افرادی قوت کی ترقی و تربیت راتوں رات نہیں ہو سکتی، اور مقامی مزدوروں کا استعمال چین کا طریقہءِ کار نہیں ہے۔

ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے عمران خان کے منصوبے بھی سی پیک سے ٹکرائیں گے۔ مثال کے طور پر بجلی کے ریگولیٹری ادارے نیپرا نے پچھلے سال سی پیک کے تحت بننے والے 19 بجلی گھروں کے ایک فیصد اخراجات کو صارفین تک ٹیرف میں اضافے کے ذریعے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ جزوی طور پر سیکیورٹی کی فراہمی کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ یا یہ حقیقت کہ سی پیک میں مزید شفافیت سے یہ واضح ہو جائے گا کہ پاکستان کو قرضے دیے گئے ہیں، گرانٹس نہیں، جنہیں ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے واپس کیا جائے گا۔ کیا پاکستانی یہ سوال نہیں پوچھیں گے کہ ان کی ادائیگیاں اور ان کے ٹیکس چینی فائدے کے لیے کیوں استعمال ہو رہے ہیں؟

ایک تیز طرار اپوزیشن اس طرز پر بھی تنقید کرسکتی ہے جس طرز سے وزیرِ اعظم کی حکومت چین اور امریکا کے ساتھ تعلقات متوازن کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر پی ٹی آئی حکومت آئی ایم ایف پیکج حاصل کرنے کا فیصلہ کرتی بھی ہے تو بیل آؤٹ، سی پیک واجبات کی ادائیگیاں اور از سرِ نو متعلقہ مذاکرات، سب ایک ہی وقت میں ہوں گے۔ اپوزیشن یہ دلیل پیش کرسکتی ہے کہ سی پیک میں زیادہ شفافیت یا چین کے ساتھ دوبارہ مذاکرات آئی ایم ایف (یعنی امریکا) کی ایماء پر ہو رہے ہیں، اور اس طرح عمران خان کا واشنگٹن کے ساتھ تعلقات متوازن کرنے کے وعدے کو بھی نیچا دکھایا جائے گا۔

پڑھیے: ’خارجہ پالیسی جلد سے جلد اپنے ہاتھ میں لینی ہوگی‘

حالیہ سالوں میں وزیرِ اعظم کا سی پیک پر مؤقف سخت اور اکثر اصول پسند رہا ہے۔ وہ ان کچھ سیاسی رہنماؤں میں سے تھے جو منصوبوں پر سوال اٹھا اور تنقید کر رہے تھے، اور چینی سخاوت کی نسبتاً زیادہ منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کی جماعت نے سی پیک منصوبوں کی پارلیمنٹ سے منظوری کا مطالبہ کیا۔ حکومتِ خیبر پختونخوا نے پشاور میٹرو کو سی پیک میں لانے کی چینی پیشکش مسترد کرتے ہوئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے مدد لی اور کون یہ بات بھول سکتا ہے کہ عمران خان کے 2014ء کے دھرنے کی وجہ سے ژی جن پنگ کو اپنا دورہ پاکستان ملتوی کرنا پڑا جس سے سی پیک کی باقاعدہ لانچ میں ایک سال کی تاخیر ہوئی؟

یہ ٹریک ریکارڈ عندیہ دیتا ہے کہ نئی حکومت وہ مضبوط مذاکرات کار ہوسکتی ہے جس کی پاکستان کو ضرورت ہے تاکہ سی پیک کو پاکستان میں پاکستان کے فائدے کے لیے ایک حقیقی سرمایہ کاری کے اندر بدلا جاسکے۔

مگر بعد از انتخابات وزیرِ اعظم کے چین کے لیے تعریفی کلمات، چینی زبان میں ٹوئیٹس، (بغیر کسی ثبوت کے) سی پیک کو ملازمتیں پیدا کرنے اور انسانی ترقی کو فروغ دینے والا منصوبہ بنا کر پیش کرنا، یہ اس شخص کے اقدامات ہیں جو اب سیدھے راستے پر آ رہا ہے۔

واقعتاً چین کے کرپشن مخالف اور غربت مٹاؤ مہمات کی تعریف کرکے وزیرِ اعظم عمران خان ہمارے گزشتہ رہنماؤں سے ایک قدم آگے بڑھے ہیں، جو چینی گورننس اور اقدار کے بجائے صرف چین کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد کی اہمیت پر ہی زور دیتے رہے۔

ایسا لگتا ہے کہ چین کو 'نئے پاکستان' سے وہ مل جائے گا جو اسے چاہیے، مگر وزیرِ اعظم عمران خان کے لیے اس کی قیمت ٹوٹے ہوئے وعدے اور اصول ہوں گے۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 27 اگست 2018 کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔