پاناما، پیراڈائز پیپرز اسکینڈلز کی تحقیقات میں پہلی وصولی ہوگئی

اپ ڈیٹ 09 ستمبر 2018

ای میل

اسلام آباد: پاناما پیپرز اور پیراڈائز پیپرز کے اسکینڈلز منظر عام پر آنے کے بعد ان کی تحقیقات کرنے والے حکام نے بتایا ہے کہ تقریباً 2 برس بعد ان اسکینڈلز میں ملوث افراد سے ٹیکس وصولیاں کرلی گئیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فیڈل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے موصول ہونے والے اعداد و شمار میں یہ ظاہر ہے کہ کراچی اور اسلام آباد کے لارج ٹیکس پیئر یونٹ (ایل ٹی یو) نے مذکورہ افراد کے خلاف مشق کے آغاز کے بعد سے اب تک پہلی مرتبہ ٹیکس وصولی کی ہے۔

ایف بی آر نے 15 کیسز میں سے 6 ارب 20 کروڑ روپے کی رقم وصول کی ہے جبکہ 4 ارب 64 کروڑ روپے کی ریکوری باقی ہے۔

مزید پڑھیں: قانونی سقم کے باعث ایف بی آر منی لانڈرنگ اختیارات سے محروم

اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد کے ایک بڑے کاروباری خاندان کو 6 نوٹسز جاری کیے گئے تھے جن میں ان سے 4 ارب 60 کروڑ روپے ادا کرنے کا کہا گیا تھا تاہم ان سے اب تک صرف ایک کروڑ 50 لاکھ روپے ہی وصول ہوسکے ہیں۔

کراچی کی ایک کاروباری شخصیت سے 3 ارب 16 کروڑ 40 لاکھ روپے ٹیکس کا مطالبہ کیا گیا تھا اور کراچی کے ایل ٹی یو نے یہ پورا ٹیکس وصول کیا۔

اس کے علاوہ کراچی کی ہی ایک اور کاروباری شخصیت سے 2 ارب 69 کروڑ 10 لاکھ روپے ٹیکس کا مطالبہ کیا گیا تھا جو بھی کراچی کے ایل ٹی یو نے پورا وصول کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر آف شور سرمایہ کاری کی تحقیقات میں ہچکچاہٹ کا شکار

دیگر پیش رفت میں کراچی کے ایل ٹی یو نے شہرِ قائد کی ایک اور کاروباری شخصیت سے 35 کروڑ روپے ٹیکس وصول کیا۔

واضح رہے کہ پاناما پیپرز اسیکنڈل منظر عام پر آنے کے بعد ایف بی آر کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ نے آف شور کمپنیوں کے مالکان کو کُل 4 سو 44 نوٹسز جاری کیے تھے۔

ڈان کو موصول ہونے والے دستاویزات کے مطابق 151 پاکستانیوں کو 73 کیسز میں ارسال کیے جانے والے نوٹسز موصول نہیں ہوئے تھے، جس کی وجہ غلط یا نامکمل پتہ بتائی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: پاناما لیکس: ایف بی آر کا تحقیقات کا فیصلہ

اس کے ساتھ ساتھ 78 کیسز پاکستانیوں کے کوائف مکمل نہ ہونے کی وجہ سے انہیں موصول نہیں ہوسکے تھے، جبکہ 17 کیسز دیگر وجوہات کی وجہ سے رجسٹرڈ نہیں کیے گئے تھے۔

نتیجتاً صرف 276 کیسز میں کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ان افراد کو نوٹس جاری کیا گیا تھا جن کے کوائف اور گھر کے پتے مکمل تھے اور ان کے بارے میں یہ بھی تصدیق ہوچکی تھی کہ ان کی آف شور کمپنیاں موجود ہیں۔

دوسری جانب پیراڈائز پیپرز لیکس میں 38 افراد کی نشاندہی کی گئی تھی جنہوں نے بیرونِ ملک جائیداد خریدیں، تاہم ایف بی آر کی جانب سے ان تمام افراد کو نوٹسز جاری کیا گیا جن کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔