’پاکستان کی سرکاری اراضی غیر استعمال شدہ سرمائے کا ڈھیر ہیں ‘

10 ستمبر 2018

ای میل

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سرکاری اراضی پر تعمیر شدہ اربوں روپے کے ریسٹ ہاؤسز ، سرکاری رہائش گاہیں ملکی سرمائے کا غیر استعمال شدہ وہ ڈھیر ہیں جس سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر خیبر پختوںخوا،پنجاب اور وفاق میں موجود 90 فیصد سرکاری اراضی اور اس پر تعمیر کی گئیں عمارتوں سے متعلق موصول شدہ ریکارڈ شیئر کیا۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اعداد وشمار کے مطابق 34 ہزار 4 سو 59 کینال کی سرکاری اراضی دیہی اور 17 ہزار 35 کنال اراضی شہری علاقوں میں موجود ہے۔

عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’ صرف شہری علاقوں میں سرکاری اراضی پر تعمیر کی گئیں عمارات کی مالیت 3 سو ارب روپے سے زائد ہے۔‘

اس رقم کو عوامی مفاد میں استعمال کرنے کی تجویز دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ' وہ ملک جسے اپنے قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے بھی قرض لینا پڑتا ہے، اس کے پاس سرکاری اراضی پر تعمیر شدہ عمارتوں کی صورت میں بے کار سرمایہ موجود ہے۔‘

انہوں نے اپنے ٹوئیٹ میں مزید کہا کہ ملک اپنی آئندہ نسلوں پر بوجھ ڈالتے ہوئے قرض کا سہارا لے رہا ہے، قرض کے یومیہ سود کی ادائیگی 5 ارب روپے سے زائد ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا یہ بیان پاکستان تحریک انصاف حکومت کی جانب سے سادگی مہم کے تناظر میں آیا ہے، اس مہم کا مقصد اخراجات کو کم کرکے ملک کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرنا ہے۔

مزید پڑھیں : ’مہنگی کاروں،موبائل فونز کی درآمد پر پابندی آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بچاسکتی ہے‘

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے نو منتخب اقتصادی مشاورتی کونسل (ای اے سی) کے پہلے اجلاس ملک کے بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو روکنے کے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

اجلاس میں اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن اشفاق حسن خان نے بتایا تھا کہ غیر ملکی چیز، کاریں، موبائل فونز اور پھلوں پر ایک سال کی طویل پابندی لگانے سے ہم 4 سے 5 ارب ڈالر تک بچا سکتے ہیں ، اس طرح ہماری برآمدات کو بھی 2 ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔