ای میل

نوراتری: 9 جگمگاتی راتوں کا خوبصورت تہوار

اختر حفیظ

زندگی کے رنگ کیا ہیں اور روشنی کیسے زندگی کی علامت بن کر آپ کے ساتھ سفر کرنے لگتی ہے یہ احساس نوراتری کے تہوار پر ہوتا ہے۔ جب سر اور سنگیت کا تال میل ہوتا ہے تو یہ محفل اور بھی رنگین ہونے لگتی ہے۔

چند روز قبل ہی دنیا کے دیگر ہندوؤں کی طرح ہمارے ہاں آباد ہندو برادری نے بھی نوراتری کا تہوار منایا ہے جو کہ روشنیوں، رقص اور مستی کا تہوار ہے۔ نوراتری دراصل 9 راتوں پر مشتمل تہوار ہے۔ ہندو کیلنڈر وکرم سنپت کے مطابق ساتویں مہینے میں اسو کا چاند نظر آتے ہی نو راتری کا تہوار شروع ہوجاتا ہے جس میں درگا دیوی، جنہیں درگا ماتا بھی کہا جاتا ہے، کی پوجا کی جاتی ہے۔

میں نے چند دن قبل حیدرآباد کے قریبی شہر کوٹری میں نوراتری کی ایک تقریب میں شرکت کی۔— اختر حفیظ
میں نے چند دن قبل حیدرآباد کے قریبی شہر کوٹری میں نوراتری کی ایک تقریب میں شرکت کی۔— اختر حفیظ

نوراتری کے موقع پر درگا دیوی کی پوجا کی جاتی ہے جنہیں درگا ماتا یا شیراں والی ماتا بھی کہا جاتا ہے۔— اختر حفیظ
نوراتری کے موقع پر درگا دیوی کی پوجا کی جاتی ہے جنہیں درگا ماتا یا شیراں والی ماتا بھی کہا جاتا ہے۔— اختر حفیظ

ہندو مت میں درگا ایک مقدس دیوی ہے اور ان کا ایک روپ جنگجو والا بھی ہے۔ درگا سنسکرت لفظ ہے جس کے معنی قلعہ یا کوئی ایسی جگہ ہے جسے فتح کرنا بہت مشکل ہو۔ اس کے علاوہ درگا کی ایک اور معنی درگاتناشنی بھی ہے، جس کا مطلب ہے دکھ یا مصیبت دور کرنے والی۔ ہندوؤں کا ماننا ہے کہ یہ دیوی ان کی تمام تر تکالیف دور کرتی ہے، انہیں ہر مصیبت سے بچاتی ہے اور ان کے من کی مرادیں پوری کرتی ہے۔

درگا 8 ہاتھوں والی دیوی ہے۔ یہ محض 8 ہاتھ نہیں ہیں بلکہ 8 راستے یا 8 رخ ہیں، جس کا یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ درگا اپنے عقیدت مندوں کی ہر رخ سے حفاظت کرتی ہے۔ انہیں 3 آنکھوں والی دیوی بھی کہا جاتا ہے، جس میں ایک آنکھ چاند کی علامت ہے، دوسری آنکھ سورج سمجھی جاتی ہے جبکہ تیسری آنکھ کا مطلب آگ کی روشنی ہے، جسے شعور کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔

درگا دیوی کو شیر پر بیٹھا دکھایا جاتا ہے جو کہ اختیار، طاقت اور پختہ عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ درگا دیوی نے کالکا یا کالی ماتا کا روپ دھار کر مہیشورا کو شکست دی تھی۔ کالی ماتا اس دیوی کا جلالی روپ کہلاتا ہے۔

نوراتری محض ایک کھیل کود یا پھر رقص کا تہوار نہیں ہے بلکہ اس تہوار کے لیے ورت (روزے) بھی رکھے جاتے ہیں۔ اس لیے عقیدت مند 9 دنوں تک روزے بھی رکھتے ہیں۔

پڑھیے: حاجی نوشاد کی بگھی پر ہندوؤں کی رتھ یاترا

نوراتری کی ابتدا دیئے جلا کر کی جاتی ہے۔ ان تمام دیئوں کو جلاکر درگا دیوی کی آرتی اتاری جاتی ہے، بھجن گائے جاتے ہیں اور دیوی کی پوجا کی جاتی ہے۔ اس عمل کے دوران باری باری اس تہوار میں شرکت کرنے والے خواتین و حضرات کی جانب سے درگا دیوی کی پوجا، پوجا کے لیے خاص تیار کی گئی تھالی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ جس کے بعد ڈانڈیا ڈانس جسے گربا بھی کہا جاتا ہے، وہ کیا جاتا ہے۔ جس میں بچے، بچیاں اور نوجوان لڑکے شرکت کرتے ہیں۔

درگا پوجا کے موقع پر اگربتیوں اور پھولوں سے تھالی سجائی جاتی ہے۔— اختر حفیظ
درگا پوجا کے موقع پر اگربتیوں اور پھولوں سے تھالی سجائی جاتی ہے۔— اختر حفیظ

درگا پوجا کے موقع پر سجائی گئی تھالی جس سے درگا ماتا کی آرتی اتاری جاتی ہے۔— اختر حفیظ
درگا پوجا کے موقع پر سجائی گئی تھالی جس سے درگا ماتا کی آرتی اتاری جاتی ہے۔— اختر حفیظ

کہا جاتا ہے کہ درگا نے چنڈ منڈ کا خاتمہ کیا تھا اس لیے اسے چامونڈا یا چنڈیکا بھی پکارا جاتا ہے۔ ہندو عقیدے کے مطابق درگا نے کئی راکشسوں کا خاتمہ کیا ہے، جس کی وجہ سے ظلم اور ناانصافی کا بھی خاتمہ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بہت سارے نام رکھے گئے ہیں۔

اس دیوی کے 9 روپ ہیں۔ ان میں سے ہر ایک روپ کی الگ الگ انفرادیت ہے۔ ان 9 راتوں کے دوران درگا دیوی کے 9 روپوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ 9 راتوں کی آخری رات کو کنواری لڑکیاں پوجا کرتی ہیں، نئے کپڑے پہنتی ہیں اور دیوی کی خوشی کے لیے مٹھائی بانٹتی ہیں، جس کے بعد دسویں دن دسہرا منایا جاتا ہے۔ یہ راون کو رام کے ہاتھوں شکست کی یاد میں منایا جانے والا تہوار ہے جب اس کی لنکا کو رام نے ڈھیر کر دیا تھا۔

چند دن قبل مجھے بھی حیدرآباد کے قریبی شہر کوٹری میں اس کی تقریبات میں مدعو کیا گیا تھا۔ حیدرآباد شہر کی کشادہ سڑکوں سے ہوتا ہوا میں کوٹری کے علاقے کی تنگ گلیوں میں داخل ہوگیا، جہاں اندھیرا دیواروں سے لپٹا ہوا تھا۔ مگر پھر ایک گلی ایسی بھی آئی جہاں پر روشنی ہی روشنی تھی اور وہاں پر ہی اس تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔

— اختر حفیظ
— اختر حفیظ

— اختر حفیظ
— اختر حفیظ

میں جب تقریب کا اہتمام کرنے والے دوست ہرجی لال کے گھر پہنچا تو ان کے گھر کا آنگن کافی روشن لگ رہا تھا۔ ہر جانب ٹمٹماتے بلب روشنی پھیلا رہے تھے۔ بچے اور نوجوان لڑکے لڑکیاں زرق برق لباس میں ملبوس تھے اور موسیقی پر موج مستی کر رہے تھے۔

یہاں ابھی اور بھی روشنی میں اضافہ ہونا باقی تھا۔ کیونکہ ابھی درگا دیوی کی پوجا کے لیے رکھی گئی تھالی میں دیے نہیں جلے تھے۔ یہ تھالی ریکھا تیار کر رہی تھی، جس کے چہرے پر خوشی نمایاں تھی۔ پھر ریکھا نے تھالی میں رکھے ہوئے دیئوں میں تیل انڈیلا اور دیئوں کی لو جلا کر ماحول میں مزید روشنی بکھیر دی۔

آنگن میں جلائے گئے دیئوں کی روشنی کا عکس ہر اس چہرے پر نظر آرہا تھا، جو اس تقریب کا مزا لینے آیا تھا۔ اس رات ہر چہرا روشن تھا، ہر چہرے پر لامحدود خوشی اور مسکراہٹ تھی۔ نوجوان لڑکیوں نے اپنے ڈانڈیے سنبھالے کیوں کہ انہیں ڈانڈیا رقص کرنا تھا۔ جیسے ہی پوجا کی تھالی دیئوں سے روشن ہوئی تو درگا دیوی کی آرتی اتارنے کے لیے ہر کوئی اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔

مزید پڑھیے: صدر کراچی: بین المذاہب ہم آہنگی کی عمدہ مثال

وہ آنگن ایک ایسی چھوٹی سی دنیا لگ رہا تھا جہاں سب اپنی تکلیفوں کو بھلا کر درگا دیوی کو خوش کرنے آئے تھے اور دیوی کی خوشی میں ہی اپنی خوشی تلاش کر رہے تھے۔ بچوں سے لے کر نوجوان لڑکیوں اور عورتوں تک سبھی کو رقص کا مزا لینا تھا۔ سال میں ایک بار آنے والے اس تہوار کی تیاری 8 راتوں کے بعد اور بھی بھرپور ہوجاتی ہے کیوں کہ یہ وہ رات ہے جب درگا دیوی کی خاص پوجا کی جاتی ہے۔

ایک لڑکی پوجا کے لیے دیے روشن کر رہی ہے۔— اختر حفیظ
ایک لڑکی پوجا کے لیے دیے روشن کر رہی ہے۔— اختر حفیظ

درگا ماتا کی پوجا کی جا رہی ہے۔— اختر حفیظ
درگا ماتا کی پوجا کی جا رہی ہے۔— اختر حفیظ

ہرجی لال صحافی اور سماجی کارکن ہیں۔ ہر سال آنے والے اس تہوار میں وہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور کوٹری میں اس تہوار کا اہتمام وہ ہر سال کرتے ہیں، جہاں سارے شہر سے لوگ آکر اس تہوار کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اس بار بھی انہوں نے اس تہوار کے لیے تمام تر اہتمام کیا اور شہر کی ہندو برادری سمیت عیسائی اور مسلم آبادی نے بھی اس میں شرکت کی جو کہ سندھ میں مذہبی رواداری کی ایک مثال ہے۔

ہرجی لال کا کہنا ہے کہ "یہ ایک مذہبی تہوار سے زیادہ سماجی تہوار بن چکا ہے۔ یہ ایک رنگ برنگی تہوار ہے جس میں شیراں والی ماتا کی پوجا کی جاتی ہے، ہم یہ تہوار بچپن سے منا رہے ہیں۔ ہمارا خاندان گجراتی ہے اور ان دنوں میں گجرات کی ہر ایک گلی میں آپ کو اس تہوار کے رنگ نظر آئیں گے، جہاں پر ڈانڈیا ڈانس کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے بہت لطف اٹھاتے ہیں۔"

پوجا کے ساتھ ساتھ اس موقع پر ڈانڈیا رقص بھی کیا جاتا ہے۔— اختر حفیظ
پوجا کے ساتھ ساتھ اس موقع پر ڈانڈیا رقص بھی کیا جاتا ہے۔— اختر حفیظ

رقص میں بچوں کے ساتھ بڑے بھی شرکت کرتے ہیں۔— اختر حفیظ
رقص میں بچوں کے ساتھ بڑے بھی شرکت کرتے ہیں۔— اختر حفیظ

"مگر اس تہوار کا اہتمام کرنا صرف درگا ماتا کو خوش کرنا نہیں ہے بلکہ سماجی طور لوگوں میں خوشیاں باٹنا اور انہیں اس بات کا احساس دلانا بھی ہے کہ ہم سب انسان ایک سے ہیں، چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں مگر ان تہواروں پر ہم ایک ہوسکتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہر سال ہونے والے اس تہوار میں ہندو برادری کے علاوہ عیسائی اور مسلم بھی شریک ہوتے ہیں، جوکہ ڈانڈیا رقص بھی کرتے ہیں اور اس سے ہمارے تہوار کی خوشی دوبالا ہو جاتی ہے۔"

پڑھیے: سمن سرکار کا میلہ: جس کا عقیدت مند رام بھی ہے رحیم بھی

میں نے محسوس کیا کہ یہ رات محض روشنی والی رات نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا لمحہ بھی ہے جس میں ہر کوئی اپنی دل کی گہرائی سے تقریب میں شرکت کے لیے آنے والے ہر انسان کو مسکرا کر خوش آمدید کہتا ہے، خواہ اس کا تعلق ہندو مت سے نہ بھی ہو۔

ڈانڈیا رقص اس تقریب کا لازمی جزو ہے۔— اختر حفیظ
ڈانڈیا رقص اس تقریب کا لازمی جزو ہے۔— اختر حفیظ

پوجا کے بعد بچے ڈانڈیا کھیل رہے ہیں۔— اختر حفیظ
پوجا کے بعد بچے ڈانڈیا کھیل رہے ہیں۔— اختر حفیظ

ان 9 راتوں میں گھروں، بازاروں اور گلیوں میں دیئے روشن کیے جاتے ہیں۔ اور ایک خاص مٹکی کو بھی خوب سجایا جاتا ہے جو کہ درگا دیوی کے لیے خراج ہوتا ہے۔ جبکہ 9 راتوں کے بعد آنے والی صبح کو اس مٹکی کو گربا ڈانس کرتے ہوئے تمام تر علاقے کے لوگ دریا کی لہروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اس طرح روشنیوں، رنگوں، رقص اور ہنسی خوشی کا یہ تہوار اختتام کو پہنچتا ہے۔


اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں، اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر ریے ہیں۔ ان سے ان کے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔