قبائلی علاقوں میں انتظامی افسران کے عدالتی اختیارات غیر آئینی قرار

اپ ڈیٹ 13 نومبر 2018

ای میل

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

پشاور ہائیکورٹ نے 25ویں آئینی ترمیم کے بعد قبائلی علاقوں میں انتظامی افسران کی جانب سے کسی بھی عدالتی اختیارات کے استعمال کو غیر آئینی قرار دے دیا۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ اس طرح اختیارات کا استعمال عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ کرنے کے اصول کے خلاف ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیتھ اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل بینچ نے فیصلہ دیا کہ 20 اکتوبر کو دیے گئے فیصلے کے ایک ماہ بعد قانون کے مطابق سول یا فوجداری نوعیت کا کوئی بھی فیصلہ کالعدم ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں: صدر مملکت کے دستخط سے قبائلی علاقے، خیبرپختونخوا کا حصہ بن گئے

خیال رہے کہ 20 اکتوبر کو 2 رکنی بینچ نے فاٹا انٹرم گورننس ریگولیشن (ایف آئی جی آر) 2018 کی مختلف دفعات کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ ’آئینی تقاضے اور آزاد عدلیہ انتظامیہ سے علیحدہ ہے، لہٰذا کوئی بھی ایسے اختیارات کا استعمال جو عدلیہ/ججز کے دائرہ کار میں آتا ہے وہ بھی قانون کی نظر میں کالعدم ہوگا‘۔

عدالت کے بینچ نے یہ مشاہدہ کیا کہ 25ویں آئینی ترمیمی ایکٹ کے پاس ہونے کے بعد حکومت نے عدلیہ اور انتظامیہ کی علیحدگی کے لیے کوئی فارمولا تشکیل نہ دینے پر اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے ایف آئی جی آر نافذ کیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ’جب 25 ویں آئینی ترمیم (2018 کے ایکٹ نمبر 37) کو متعارف کرایا گیا تو بتایا گیا کہ سول اور فوجداری تنازع میں فیصلے ایک جج کی جانب سے دیے جائیں گے نہ کہ انتظامیہ کی جانب سے اور جیسا کہ نافذ شدہ قوانین 2018 میں کیا گیا ہے‘۔

واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے درخواست گزار وکیل عظیم آفریدی کی درخواست پر مختصر فیصلہ دیا گیا تھا۔

جس میں درخواست گزار نے ایف آئی جی آر کو چیلینج کیا تھا اور عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ اسے خاص طور پر قبائلی علاقوں میں انتظامی افسران کی جانب سے عدالتی اختیارات کو استعمال کرنے کو غیر آئینی قرار دے۔

یہ بھی پڑھیں: قبائلی علاقوں میں تحصیل اور اضلاع متعارف

انہوں نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ عمل آئین کے آرٹیکل 175 کی خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں صدر مملک کی جانب سے سامراجی دور کے فرنٹئر کرائمز ریگولیشن کو منسوخ کرتے ہوئے ایف آئی جی آر کو نافذ کیا گیا تھا۔

تاہم عدالتی اختیارات کو انتظامی افسران جن میں سیاسی ایجنٹس (اب ڈپٹی کمشنرز) اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹس (اب اسسٹنٹ کمشنر) کو تفویض کیا گیا تھا۔