غربت دور کرنے کےفارمولے کا مذاق اڑانے والوں کو وزیر اعظم کا کرارا جواب

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2018

ای میل

وزیراعظم نے 100 روزہ کارکردگی بتانے کے دوران پولٹری کے منصوبے کا اعلان کیا تھا—فوٹو بشکریہ عمران خان آفیشل
وزیراعظم نے 100 روزہ کارکردگی بتانے کے دوران پولٹری کے منصوبے کا اعلان کیا تھا—فوٹو بشکریہ عمران خان آفیشل

وزیراعظم عمران خان نے غربت کے خاتمے کے لیے مرغی اور انڈے فراہم کرنے کے بیان کا مذاق اڑانے والے افراد کو زبردست جواب دے دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے طویل عرصے تک دنیا کے امیر ترین آدمی رہنے والے مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کے بیان کا حوالہ دیا۔

وزیر اعظم نے اپنے ناقدین کو جواب دیتےہوئے کہا کہ جب دیسی لوگ پولٹری سے غربت ختم کرنے کی بات کرتے ہیں تو غلامانہ سوچ رکھنے والے افراد ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔

لیکن جب ’ولایتی‘ افراد دیسی چکن سے غربت دور کرنے کا پروگرام پیش کرتے ہیں تو اس کو سراہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان نے بتایا امیر بننے کا نسخہ

وزیراعظم نے اس کا حوالہ بل گیٹس کے 2016 میں دیے گئے ایک بیان کو شیئر کرتے ہوئے دیا جس میں انہوں نے اپنی فاؤنڈیشن کا ہیفر انٹرنیشنل سے اشتراک کرنے کا اعلان کیا تھا جو دنیا بھر میں غریب خاندانوں کو لائیو اسٹاک بطور عطیہ دیتی ہے۔

بل گیٹس نے کہا تھا کہ دونوں تنظیمیں مل کر غریب ممالک میں مرغیاں فراہم کریں گے تا کہ ان کے شہری غربت و افلاس سے باہر آسکیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ابتدائی طور پر ایک لاکھ مرغیاں عطیہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یاد رہے کہ حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کے حوالے سے منعقد کی گئی تقریب میں وزیر اعظم عمران خان نے اس منصوبے کا اعلان کیا جس کے تحت مرغیوں کے ذریعے پاکستان میں غربت پر قابو پایا جائے گا۔

انہوں نے کہا تھا کہ دیہاتی خواتین کے لیے پیسے بنانے والا بہترین طریقہ ڈھونڈ لیا گیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان خواتین کو دیسی مرغیوں کے انڈے اور چوزے دیئے جائیں گے اور اس منصوبے کے لیے زیادہ سرمائے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا تجربہ ہوچکا ہے اور اس کے تحت جب ہم انجیکشن لگا کر خواتین کی مدد کریں گے تو ان کو زیادہ پروٹین بھی ملے گا جبکہ فروخت کرنے کے لیے مرغیاں اور انڈے بھی ہوں گے، ہماری ساری کوشش غریب عوام کو اوپر لانے کے لیے ہیں۔

مزید پڑھیں: 100 روزہ کارکردگی اور حکومت کا منفرد اشتہار

لگ بھگ یہی منصوبہ 2 سال قبل بل گیٹس نے بھی اپنے آفیشل بلاگ میں بھی پیش کیا تھا۔

انہوں نے لکھا تھا کہ اگر ان کی آمدنی بھی انتہائی غربت میں رہنے والے افراد جتنی ہوتی تو وہ مرغیوں کی پرورش کرکے سماجی حیثیت میں اضافے کی کوشش کرتے۔

انہوں نے اپنے آفیشل بلاگ پوسٹ میں کہتے ہوئے تخمینہ لگایا کہ مرغیوں کی لاگت بیشتر ترقی پذیر ممالک میں 5 ڈالرز کے لگ بھگ ہوتی ہے تو روزانہ کے دو ڈالرز کو خرچ کرکے وہ ایک ماہ میں 12 مرغیوں کو خرید لیتے۔

یہ بھی پڑھیں: لوٹی دولت واپس لانے کیلئے 26 ممالک سے معاہدے ہوچکے ہیں، وزیر اعظم

چند ماہ بعد ان کے پاس درجنوں مرغیاں ہوتیں جو کہ پیسہ کمانے کی مشین ثابت ہوتیں اور انہیں بہت زیادہ آمدنی کے ساتھ غربت کی لکیر سے باہر نکال کر درمیانے طبقے کا باسی بنادیتیں۔

بل گیٹس چاہتے تھے کہ کم آمدنی والے گھرانوں کو ایسا ہی کرنا چاہئے۔