’تھکیں جو پاؤں، تو چل سر کے بل'

اپ ڈیٹ 03 دسمبر 2018

ای میل

میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں۔ جب میں 15 سال کی تھی تو میری پھپھو کا انتقال ہوگیا۔ پھوپھا جان دوسری شادی کرنا چاہتے تھے، لہٰذا ابو نے اپنے بھانجے فراز کی ذمہ داری اٹھالی اور وہ ہمارے گھر شفٹ ہوگیا۔

میٹرک کرنے کے بعد میں نے امی کے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا شروع کردیا لیکن ابو کی خواہش تھی کہ میں مزید پڑھوں۔ کالج کی دنیا بڑی ہی رنگین تھی۔ شوخ چنچل لڑکیاں اور ان کی شرارتیں، ادائیں اور قہقہے۔ میں تو بہت خاموش طبع تھی۔ پڑھائی میں بھی درمیانے درجے کی طالبہ تھی۔ کم گوئی کی وجہ سے میری کوئی کلوز فرینڈ نہ بن سکی، لیکن تمام کلاس فیلوز سے میرے اچھے تعلقات تھے۔

پڑھائی کے علاوہ دیگر ایشوز پر زیادہ باتیں ہوتی تھیں۔ فلمیں، ڈرامے، فیشن، میک اپ اور کزنز سے عشق۔ ہر لڑکی کا اپنے کسی نہ کسی کزن سے معاشقہ چل رہا تھا۔ عشقیہ اشعار، محبت نامے، سرخ گلابوں اور تحفوں کا تبادلہ۔ میں ہر کسی کی بات حسرت سے سنا کرتی تھی کیونکہ پوری کلاس میں شاید میں واحد لڑکی تھی جس کا کوئی کزن اس میں انوالو نہیں تھا۔

فراز، پھپھو کا بیٹا، امی ابو کا لاڈلا، جسے صرف اپنی کتابوں سے عشق تھا۔ ایک گھر میں رہنے کے باوجود میری اس کے ساتھ بہت کم گفتگو ہوتی۔ وہ مجھے بہت نظر انداز کرتا، میرے ساتھ بات کرتے ہوئے اس کے لہجے میں ہمیشہ سختی ہوتی تھی۔ میں F.A میں تھی جب اس نے اپنی تعلیم مکمل کرکے میڈیسن کی ایک کمپنی میں نوکری شروع کردی۔

امی، ابو اسے ہمیشہ سراہتے تھے کیونکہ انہیں فراز کا مستقبل بے حد روشن نظر آتا تھا۔ B.A کرنے کے بعد میں نے آگے پڑھنے سے صاف انکار کردیا۔ اس شام میں بہت روئی جب ابو نے فراز کے ساتھ میری شادی طے کردی۔ ایک ایسے شخص کے ساتھ ساری زندگی گزارنا جسے آپ سے کوئی دلچسپی نہ ہو، کتنا مشکل ہوتا ہے، یہ صرف محسوس کیا جاسکتاہے، بیان کرنا میرے بس میں نہیں۔

لیکن مشرقی لڑکیوں کو بھلا کہاں فیصلوں کا اختیار ہوتا ہے۔ میرے میکے اور سسرال کے درمیان صرف ایک صحن اور کمرے کا فاصلہ تھا جسے میں نے لمحوں میں طے کرلیا۔

’میری پہلی اور آخری محبت صرف تم ہو۔’ فراز نے میری انگلی میں انگوٹھی پہناتے ہوئے کہا۔

’آپ نے کبھی بتایا ہی نہیں؟‘ اس کی آنکھوں میں میرے لیے پیار کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔

’پہلے میں اپنے قدموں پر کھڑا ہونا چاہتا تھا اور پھر چاہتا تھا کہ تمہارے اور میرے درمیان مضبوط اور پائیدار رشتہ قائم ہوجائے۔‘ اس نے میری کلائی تھامی اور میری چوڑیاں کھنک گئیں۔

اس کی خاموش محبت بولنے لگی تھی۔ مجھے پھولوں، جگنوؤں اور چاندنی راتوں سے عشق تھا اور فراز کو مجھ سے۔ میں اس کے پیار کی پھوار میں بھیکتی چلی گئی۔

شادی کے 6 ماہ بعد میرے وجود میں ایک اور وجود پلنے لگا۔ اس رات فراز بہت خوش تھا۔ وہ اپنے بچے کو دنیا کے تمام سکھ دینا چاہتا تھا۔ اس کی خوشی اس کی آنکھوں، باتوں اور چہرے سے جھلک رہی تھی۔ اس رات کے بعد میں پھر کبھی فراز کو اتنا خوش نہ دیکھ سکی، کیونکہ اگلے دن ایک روڈ حادثے میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہمیں چھوڑ گیا۔

مجھے جب ہوش آیا تو اسے دفن ہوئے 15 دن گزر چکے تھے۔ میرے خوابوں کا محل آن کی آن میں مسمار ہوگیا تھا۔ میں اپنی سونی کلائیوں کو دیکھنے لگی۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں صحرا میں بھٹک رہی ہوں اور دُور تک کوئی نخلستان نہیں۔ مرنے والے مرجاتے ہیں اور زندہ رہنے والے چلتی پھرتی لاشیں بن جاتے ہیں۔

موہوم کشیدہ ہے

تصویر قیامت کی

شاید نہ سُنا پائیں

تفصیل مسافت کی

شیراز کی پیدائش کے بعد میں نے بیوٹیشن کے کورس کے لیے ایک انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لے لیا۔ شیراز بہت صحت مند اور خوش مزاج بچہ تھا۔ گل گوتھنا، قلقاریاں مارتا ہوا۔ امی، ابو اس کی وجہ سے بہت مصروف رہنے لگے۔ ابو کے مشورے سے میں نے گھر میں ہی بیوٹی پارلر کھول لیا۔ پہلے 2 سال مجھے خاص منافع نہ ہوا لیکن پھر میری محنت رنگ لانے لگی۔ میرا سارا دن بیوٹی پارلر اور شیراز کے کاموں میں گزر جاتا لیکن رات کی تنہائیوں میں مجھے فراز یاد آجاتا۔ کبھی بستر پر لیٹے ہوئے، کبھی صوفے پر اور کبھی ڈریسنگ ٹیبل کے آگے بال بناتا ہوا، پرفیوم اسپرے کرتا ہوا۔ میں اپنے ہونٹوں، بالوں اور آنکھوں پر اس کے لمس کو محسوس کرتی۔ اب تو رو رو کر میرے آنسو بھی خشک ہوچکے تھے۔

کب دشت کی تنہائی

آنکھوں میں اتر آئی

کب وہم سماعت تھی

کب کھوگئی گویائی

4 سال کی عمر میں شیراز کو قریبی اسکول میں داخل کرادیا۔ وہ اپنے نانا ابو کی انگلی تھامے اسکول جانے لگا۔ دوڑتا، بھاگتا، جھولے لیتا، سائیکل چلاتا، کرکٹ کھیلتا، اس میں ہم تینوں کی جان تھی۔

پھر معلوم نہیں کیا ہوا۔ شیراز چلتے چلتے گرنے لگ گیا۔ دس پندرہ قدموں کے بعد وہ اچانک لڑھک جاتا۔ ابو اسے سہارا دیتے، سنبھالتے پھر اُس کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگتے لیکن وہ سنبھل نہ پاتا۔ کبھی وہ سائیکل سے گر جاتا، کبھی بیڈ سے اور کبھی باتھ روم میں گر جاتا۔ سڑک پر گرنے سے اکثر اس کے گھٹنے زخمی ہوجاتے۔ اس کی ٹانگیں یکدم کمزور ہوگئی تھی۔ ہم نے اسے بے شمار ڈاکٹروں کو دکھایا، اس کے کئی چیک اپ ہوئے، امی کا خیال تھا کہ اسے نظر لگ گئی ہے۔ امی ہر نماز کے بعد قرآنی آیات پڑھ کر اس پر پھونکتی۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ نہ میں زمین میں ہوں، نہ آسمان میں، بلکہ کہیں خلا میں معلق ہوگئی ہوں۔

’شیراز کے مسلز کمزور ہو رہے ہیں، چلو بیٹا کھڑے ہوکر دکھاؤ اور میری طرف قدم بڑھاؤ۔‘ ڈاکٹر فرحان، مشہور آرتھو پیڈک اسپیشلسٹ تھے، انہوں نے شیراز کا مکمل چیک اپ کیا۔

’آپ کے بچے کی معذوری muscular dytrophy ہے۔ اس بیماری میں جسم میں موجود خلیوں میں پروٹین کی قدرتی طور پر کمی ہونا شروع ہوجاتی ہے جس سے جسم کے پٹھے کمزور ہوجاتے ہیں۔ یہ disability عام طور پر کزن میرج کا نتیجہ ہوتی ہے۔‘ انہوں نے تفصیلاً بتایا۔

’اس کا علاج۔۔۔‘ میری آواز میں نمی گھل رہی تھی۔

’میڈیکل ہسٹری میں اس disability کا کوئی علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا، لیکن تحقیق جاری ہے۔ ہوسکتا ہے آئندہ سالوں میں امید کی کرن نظر آجائے، لیکن فی الحال آپ اس کی باقاعدہ فزیوتھراپی کرواتی رہیں۔ میں کچھ میڈیسن بھی لکھ کردیتا ہوں۔ آپ بہت حوصلہ مند خاتون ہیں۔ میں ایسے بہت سے disabled persons کو جانتا ہوں جنہوں نے صحت مند انسانوں کے برعکس زندگی میں زیادہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے زندگی کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا۔ کوشش کیجیے کہ اپنے بچے کی زندگی کو اس کی disability کے ساتھ manage کریں۔‘ ڈاکٹر فرحان نے مجھے تسلی دی۔

گھر آکر میں امی کے گلے لگ کر بہت روئی۔ ہر آزمائش، ہر تکلیف صرف میرے ہی لیے کیوں؟

’اللہ صرف انہی انسانوں کو آزماتا ہے جو آزمائشوں پر پورے اترنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، جو اس کے بے حد نزدیک ہوں۔ دعا کیا کرو کہ اللہ تمہیں صبر دے اور استقامت بخشے۔‘ امی نے میرے دونوں ہاتھ تھام کر مجھے سمجھایا۔

شیراز پھر سے اسکول جانے لگا۔ ابو اسے گود میں اٹھا کر اسکول لے جاتے اور کلاس روم میں بٹھا دیتے۔ میں اسے گود میں اٹھا کر باتھ روم لے جاتی، اس کو نہلاتی، کپڑے بدلتی، پیشاب وغیرہ کرواتی۔ لیکن پھر میرے لیے اس کو اٹھانا مشکل ہونے لگا۔ میری اپنی کمر میں درد شروع ہوگیا کیونکہ اس کا وزن بڑھ رہا تھا۔ وہ بہت چڑ چڑا بھی ہوگیا تھا۔ ہر بات پر ضد شروع کردیتا۔ وہ جب اپنی سائیکل اور بیٹ بال کو حسرت سے دیکھتا تو میرا دل ڈوبنے لگتا۔ ابو اپنے دوست کے مشورے پر اس کے لیے وہیل چئیر لے آئے۔ اب وہ وہیل چئیر پر اسکول جانے لگا، لیکن ایک دن مجھے اس کی پرنسپل نے بلوایا۔

’مسز فراز مجھے معلوم ہے کہ آپ کو میری بات سے بے حد تکلیف پہنچے گی۔ شیراز بہت ذہین بچہ ہے لیکن اپنی بیماری کی وجہ سے وہ بہت ضدی ہوگیا ہے۔ وہیل چئیر پر بیٹھنے کی وجہ سے اس کے کلاس فیلوز اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور وہ ان سے لڑتا جھگڑتا ہے۔ سبق تو وہ صحیح یاد کرلیتا ہے مگر لکھتے ہوئے اسے بہت دقت ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ لکھتا ہے۔ ٹیچرز کو تمام اسٹوڈنٹس کا کلاس ورک چیک کرنا ہوتا ہے، لیکن شیراز کی وجہ سے باقی اسٹوڈنٹس کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ میرے کہنے کا مطلب صرف یہ ہے آپ اسے معذور بچوں کے اسکول میں داخل کروا دیں۔‘ پرنسپل نے لفظوں کے ہیر پھیر میں اپنے فیصلے سے آگاہ کردیا۔

میں نہیں چاہتی تھی کہ شیراز کی تعلیم میں کوئی رکاوٹ آئے۔ اس لیے میں اسے معذور بچوں کے اسکول میں داخل کروانے لے گئی۔ یہاں آکر مجھے آگاہی ہوئی کہ پاکستان میں ہر 10واں فرد کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہے۔ کتنے پھول سے بچے تھے جو وہیل چئیر پر بیٹھے تھے۔ کسی کو پولیو تھا، کسی کو CP اور کتنے خاندان ایسے تھے جن کے گھر میں 2 یا 3 بچوں کو muscular dystrophy تھی۔

جانے کتنے بچے تھے جو اندھے پن، گونگے پن، بہرے پن کا شکار تھے اور بے شمار افراد ایسے تھے جو شدید معذوری کا شکار تھے اور گھروں میں بند تھے۔ سالہا سال سے انہوں نے سورج کی روشنی بھی نہیں دیکھی تھی۔ ہماری بے حس حکومت کو بالکل احساس نہیں تھا کہ معذوری سے متعلق آگاہی اور شعور کو بلند کرنے کے لیے فوری طور پر پروگرام اور پالیسیاں تشکیل دینی چاہئیں۔

میں شیراز کو اسکول میں داخل نہ کروا سکی کیونکہ اسکول کی بس نے اس کو مین روڈ پر اتارنا تھا اور مین روڈ سے گھر تک فاصلہ زیادہ تھا اور اس درمیانی فاصلے کو طے کرنے کے لیے ایسی کوئی ٹرانسپورٹ نہیں تھی جس پر شیراز وہیل چئیر کے ساتھ سفر کرسکتا۔

میرے بیوٹی پالر میں ایک کرسچن اسکول کی پرنسپل اپنے ہئیر ٹریٹمنٹ کے لیے آتی تھی۔ میں نے شیراز کا مسئلہ ان سے ڈسکس کیا۔ انہوں نے میری بات بہت توجہ سے سنی اور شیراز کو اپنے اسکول میں داخل کرلیا۔ اسکول کی بلڈنگ گراؤنڈ فلور پر تھی، اس لیے وہیل چئیر آسانی سے موو کی جاسکتی تھی۔ پرنسپل کے آرڈر پر شیراز کی ٹیچرز اس پر بہت توجہ دیتی تھیں۔ اسکول میں اچھا ماحول ملنے سے اس کی خود اعتمادی میں دن بدن اضافہ ہو رہا تھا۔ وہ بہت ذہین اسٹوڈنٹ تھا۔انگلش اور ریاضی (Math) جیسے مشکل مضامین میں اس کے 100 فیصد نمبرز آتے تھے۔ ہر کلاس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن لیتا تھا۔ اس نے اپنی disability کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا تھا۔ میں، امی اور ابو زندگی کی اس کڑی مسافت میں آبلہ پا تھے اور میرا معذور بیٹا اس تیرگی میں ہمارے لیے روشنی کا استعارہ ثابت ہوا۔

لب بستہ رہیں شاید

وہ دن جو گزارے ہیں

یا زخم کی سرگوشی

یا پیر ہمارے ہیں

اس سال شیراز نے میٹرک کا امتحان دینا ہے۔ میرے اور فراز کے مزاج کے برعکس وہ بہت ہنس مکھ اور باتونی ہے۔ فراز کو کتابوں سے عشق تھا اور شیراز کو کمپیوٹر سے۔ وہ مجھے زندگی کی طرف کھینچ کر لاتا ہے۔ میں جب بھی حالات سے گھبرا جاتی ہوں تو وہ مجھے کہتا ہے،

’ماما! کیوں پریشان ہیں میں ہوں نا۔‘

کبھی کبھار مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ اس وہیل چئیر پر بیٹھ کر دنیا فتح کرلے گا۔ آپ کا کیا خیال ہے؟


یہ حقیقی کہانی نہیں ہے، بلکہ لکھاری نے خود تخلیق کی ہے۔