ملک ریاض سے کہیں اس ملک سے لیا گیا کچھ واپس بھی کردیں، چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 03 جنوری 2019

ای میل

چیف جسٹس نے بحریہ ٹاؤن کی متفرق درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی—فائل فوٹو
چیف جسٹس نے بحریہ ٹاؤن کی متفرق درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی—فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اکاؤنٹس بحال کرنے کی متفرق درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اکاؤنٹس بحال کرنے کی متفرق درخواست کی قابل سماعت ہونے سے متعلق سماعت کی، اس دوران وکیل اعتزاز احسن بحریہ ٹاؤن کی جانب سے پیش ہوئے۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس کا سیاستدانوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے فیصلے پر نظرثانی کا حکم

سماعت کے دوران اعتزاز احسن نے کہا کہ عدالت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو ہدایت دی تھی کہ تمام جعلی اکاؤنٹس کی زیر نگرانی کرے لیکن بحریہ ٹاؤن کے تمام اکاؤنٹس منجمد کردیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے تمام جاری شدہ چیکس واپس ہورے ہیں اور بحریہ ٹاؤن تنخواہیں دینے سے قاصر ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ درخواست پر نمبر لگوا کر جمع کرائیں۔

اس دوران اعتزاز احسن نے منجمد اکاؤنٹس بحال کرنے کی استدعا کی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک ریاض کو کہیں جو کچھ اس ملک سے لیا گیا اس میں سے کچھ واپس بھی کردیں، عدالتی حکم کا جائزہ لے کر ہی فیصلہ کریں گے، نگرانی کا مطلب اکاؤنٹس منجمد کرنا نہیں ہوتا۔

بعد ازاں عدالت نے بحریہ ٹاؤن کی درخواست کو جمعہ (4 جنوری) کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں جعلی اکاؤنٹس کیس زیر سماعت ہے جبکہ اس کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں 172 افراد کے نام ظاہر کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک ریاض سے 1000ارب زیادہ نہیں مانگا تھا،میرے سامنے وہ عام آدمی ہیں،چیف جسٹس

ان افراد میں سابق صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، فریال تالپور اور چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت اہم شخصیات شامل تھیں۔

اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد 28 دسمبر کو وفاقی کابینہ نے ان تمام 172 افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کردیے تھے، تاہم اس معاملے پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور حکومت کو ان ناموں پر نظرثانی کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں 02 جنوری کو وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں ایک نظرثانی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جو ان تمام 172 افراد سے متعلق کیسز کا جائزہ لے کر ان افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے یا برقرار رکھنے کا فیصلہ کرے گی۔