موجودہ نظامِ تعلیم یا ہوم اسکولنگ؟

18 جنوری 2019

ای میل

یہ اسکولوں اور کالجوں میں داخلے کا موسم ہے۔ اس وقت تمام والدین اس کشمکش کا شکار ہیں کہ اپنے بچوں کے لیے بہتر سے بہتر درسگاہ کا انتخاب کس طرح کیا جائے۔ جس پلیٹ فارم یا محفل میں دیکھیں، یہی موضوع زیرِ بحث ہے اور اسی کشمکش کے چرچے ہیں۔

ایک طرف نجی اسکولوں کی بڑھتی، ہوش ربا فیسیں اور کیمبرج و انٹرنیشنل نظامِ تعلیم سے ناواقفیت کا رونا ہے تو دوسری طرف سرکاری اور نجی دونوں سطح پر گرتے معیارِ تعلیم کا شکوہ ہے۔ ایسے میں والدین کے لیے یہ فیصلہ کرنا بے حد مشکل ہے کہ اپنے بچوں کے لیے کون سا اسکول اور کالج صحیح رہے گا۔

اس بارے میں والدین کا کہنا ہے کہ نجی سطح پر قائم اسکول ایک لگے بندھے نظریہ تعلیم کا شکار نظر آتے ہیں۔ ان درسگاہوں کے طلبا کی زندگی کا واحد مقصد امتحانات میں کامیابی اور اعلیٰ گریڈز کا حصول ہے۔ یہ وہ محدود نکتہ نظر ہے جو ان اسکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کو زندگی کے گراں قدر تجربات سے محروم کردیتا ہے اور ان کی زندگی محض اسکول، ٹیوشن، کلاس ورک، ہوم ورک اور امتحان کی تیاری کے لیے وقف ہوجاتی ہے۔

اس رویے سے جو چیز سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے وہ بالخصوص بچوں، نوجوانوں اور بالعموم گھرانوں کا طرزِ زندگی ہے۔ ذرا سوچیے اچھے گریڈز کی قیمت یہ ہو کہ نہ تو بچے اپنی نیند پوری کرپائیں، نہ باقاعدگی سے کھیلیں کودیں اور نہ ہی بھرپور طریقے سے زندگی کا لطف اٹھا پائیں۔

زندگی کی لطافتوں سے محروم یہ بچے مختلف نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں کا بھی شکار نظر آتے ہیں۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد پہلے امتحانات میں اعلیٰ نتائج اور پھر حسبِ منشا ملازمت کا حصول ہوتا ہے۔ تاہم آج کی سیماب صفت دنیا میں جہاں پیشہ ورانہ تقاضے اور معیشت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے وہیں محض اسکول اور کالج کی روایتی نصابی تعلیم، پیشہ ورانہ مسابقت کی دوڑ میں کامیابی کی ضمانت نہیں۔ ضرورت ہے تو انفرادی و تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا دینے کی اور جذباتی و نفسیاتی طور پر ایسے مضبوط اور فعال افراد کو تیار کرنے کی جو معاشرے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں۔

آج کا دور متقاضی ہے ایسے افراد کا جو بہادر ہوں، مضبوط قوتِ فیصلہ اور قوتِ ارادی کے حامل، باصلاحیت اور زمہ دار بھی ہوں۔

اس بارے میں سلمان آصف صدیقی، ڈائریکٹر ریسورس ڈیولپمینٹ سینٹر کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں ہم نے علمی اور خاندانی لگاؤ کو گریڈ اور امتحانی لگاوٹ سے تبدیل کردیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج کا بچہ اور نوجوان ہمہ وقت ایک دوڑ میں مصروف نظرآتا ہے۔ وقت اور زندگی کے مقاصد سے محروم، اکثر ملک کے مستقبل کے یہ معمار، خود ساختہ تنہائی، بے چینی اور مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں۔

گریڈز اور نمبروں کی دوڑ میں پورا دن ہلکان ہوتے، مسابقت کا شکار یہ بچے اور ان کے والدین، اپنی توانائیاں، سرمایہ اور وقت کا ایک بہت گراں قدر حصہ، ٹیوشن سینٹروں اور اسکول و کالج کے حوالے کردیتے ہیں۔ جس کا مقصد تو بہرحال بہتر نتائج کا حصول ہے، تاہم اس کے بدلے میں وہ متوازن فکر، صحتمند مشاغل، سیر و تفریح اور کھیل کود کو یکسر نظر انداز کردیتے ہیں۔ قدرت کی رعنائیوں اور انسانی رشتوں سے دُور وہ اس کی ودیعت کردہ صلاحیتوں کو جِلا دینے میں بھی یکسر ناکام رہتے ہیں۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے؟

موجودہ ڈیجیٹل دور میں جہاں تقریباً ہر مضمون کے لیے، چاہے وہ سائنس ہو، آرٹس یا کامرس ہر قسم کا مواد، سوال، ویڈیو اور آن لائن کلاسیں باآسانی یوٹیوب اور خان اکیڈمی جیسی اَن گنت ویب سائٹس پر موجود ہیں اور تو اور دنیا کی چوٹی کی جامعات نے سیکڑوں آن لائن کورس مفت یا معمولی فیس میں کروانا شروع کردیے ہیں، ایسے میں اسکول، کالج اور ٹیوشن سینٹروں میں روایتی طرزِ تعلیم کا غلام بننا حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟

یہی وجہ ہے کہ دورِ حاضر میں والدین کی ایک بڑی تعداد ہوم اسکولنگ اور خود مختار طرزِ تعلیم کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے کئی والدین اور طلبا نے اپنے واٹس ایپ گروپس اور آن لائن پلیٹ فارم تشکیل دیے ہیں۔ گو ان کا دائرہ کار پاکستان میں ہنوز محدود ہے، تاہم اسے ایک مثبت تبدیلی کی ابتدا کہا جاسکتا ہے۔

دورِ حاضر میں والدین کی ایک بڑی تعداد ہوم اسکولنگ اور خود مختار طرزِ تعلیم کی طرف مائل ہو رہی ہے—تصویر شٹر اسٹاک
دورِ حاضر میں والدین کی ایک بڑی تعداد ہوم اسکولنگ اور خود مختار طرزِ تعلیم کی طرف مائل ہو رہی ہے—تصویر شٹر اسٹاک

آزادانہ، کسٹمائزڈ نظامِ تعلیم کے حامی یہ لوگ، نامیاتی خوراک، قدرتی ماحول اور فطری طرزِ زندگی کے داعی ہیں۔ ان کے بقول گھر سے بہتر کوئی درسگاہ نہیں۔ روایتی کلاسوں کے بجائے قدرتی ماحول اور امتحانات کی جگہ پراجیکٹ پر مبنی تجرباتی تعلیم (ایکسپیریمنٹل لرننگ) میں ہی مستقبل چھپا ہے۔

اس حوالے سے کراچی میں تقریباً 2 اسکول ایسے ہیں جنہوں نے پراجیکٹ پر مبنی غیر روایتی طرزِ تعلیم کی بنیاد رکھی ہے اور بچوں کو روایتی مضامین، فرسودہ طرزِ تعلیم اور کلاسوں میں محدود کرنے کے بجائے، زندگی کا سبق پڑھنے کے لیے فطری طرزِ تعلیم کا نظریہ پیش کیا ہے۔

اس بارے میں جب ان اسکولوں میں سے ایک اسکول کی بانی اور ماہرِ تعلیم سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ انہیں اس اسکول کے قیام کا خیال اس وقت آیا جب ذاتی سطح پر اپنے بچوں کی تعلیم میں انہیں اسکولوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بقول بانی، ان کے گھر کا ماحول فکری آزادی کا قائل تھا اور بچوں کی تربیت اس انداز میں ہوئی تھی کہ بچے کو سوال کرنا اور اختلافِ رائے رکھنا سکھایا گیا تھا، ایسے میں روایتی اسکولوں میں جب ان کے بچوں کو سوال کرنے اور استاد سے مباحثے پر سرزنش کی گئی تو ان کے لیے یہ ضروری ہوگیا کہ اپنی تعلیم کو بروئے کار لاتے ہوئے ایل ٹو ایل پراجیکٹ کی بنیاد رکھی جائے۔ ان کے نزدیک بچے آزاد پیدا ہوئے ہیں اور وہ والدین و اساتذہ کے پاس اللہ تعالی کی امانت ہیں، لہٰذا ان کی اخلاقی، علمی اور انفرادی تربیت ایک آزاد، خود مختار اور باصلاحیت انسان کے طور پر ہونی چاہیے اور اس میں اولین ذمہ داری والدین اور خاندان کی ہے۔

ان کے اسکول میں اساتذہ اور والدین کی رہنمائی میں ہر بچے کو اپنے رجحان کے مطابق، مضامین چننے، کھیلنے کودنے، سوچنے اور تخلیقی صلاحیتوں کو اپنے انداز، معیار اور رفتار سے تکمیل کرنے کی پوری آزادی ہوتی ہے۔ مسابقت کے بجائے مفاہمت اور معاونت کی فضا کو فروغ دیتے ہوئے بچوں کو زندگی گزارنے کا ہنر سیکھنے، فیصلے کرنے اور مسائل کو حل کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ بحیثیت ایک معلم اور ماں میرے نزدیک تعلیم کا بنیادی مقصد متوازن اور بااعتماد نوجوان نسل کی تعمیر ہے۔ ایسے نوجوان جو بدلتے وقت اور حالات کے ساتھ خود کو ڈھالنے کا ہنر جانتے ہوں اور ایسے اساتذہ جو کتابی علم کو عملی زندگی کے تجربوں کی بھٹی میں پگھلا کر طلبا کے لیے مشعلِ راہ بن سکیں، آج تقریباً ناپید ہیں۔ روایتی میٹرک، انٹر اور مقامی نظامِ تعلیم کی کجی کو دیکھتے ہوئے جو درآمد شدہ کیمبرج اور انٹرنیشنل نظامِ تعلیم ہم نے رائج کیا تھا وہ ہمارے تعلیم کے معیار کو تو کیا سنوارتا، بنیادی تربیت اور علم و تدریس کی روح کو بھی لے ڈوبا۔

نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم ہر سطح پر اس تعلیم کی تباہ کاریاں دیکھ رہے ہیں جو انسان کو محض اپنی ذات، خواہشات، گریڈز اور نمبروں کا اسیر بنا کر زندگی کی رعنائیوں اور مقصدِ حیات سے دُور کردیتی ہے۔

درحقیقت ایسی تعلیم سوائے بوجھ کے کچھ بھی نہیں لیکن سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہم خائف ہیں، جی ہاں ہم نئے متبادل اندازِ تعلیم سے ڈرتے ہیں کہ جو والدین، کمیونٹی اور گھر کے کردار کو بچوں کی تعلیم و تربیت میں کلیدی قرار دیتا ہے اور ناکامی کو سیکھنے کی شرط اور ہار کو جیت سے اہم گردانتا ہے۔ تعلیم کا مقصد خود شناسی بتانا ہے نہ کہ محض ملازمت اور ڈگری کا حصول۔ اسی خوف کے زیرِاثر ہم نجی اسکولوں، کیمبرج بورڈز اور ٹیوشن سینٹروں کے ہاتھوں لُٹ رہے ہیں اور اس وقت تک لٹتے رہیں گے جب تک کہ ہم اپنی راہ اور اپنی سمت کا درست تعین نہیں کرلیتے۔