قومی ٹیم کی دور اندیشی کو داد دیجیے

اپ ڈیٹ 15 جنوری 2019

ای میل

حیرانی اور پریشانی کا ایک اصول ہے۔ یہ دونوں صرف اسی وقت دستک دیتی ہیں جب کچھ عجب یا غیر معمولی ہوتا دیکھتی ہیں۔ لیکن جب ان کی آمد اس وقت ہوجائے جب سب کچھ معمول کے مطابق ہو رہا ہو تو یہ بن بلائے مہمان جیسی لگتی ہیں۔

یہ تمہید باندھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ کل سے ایک ہی خبر مسلسل گھوم پھر کر سامنے آرہی ہے کہ قومی ٹیم کو جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 0-3 سے بدترین شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

اب آپ خود بتائیے کہ بھلا اس خبر میں ایسا کیا نیا ہے جس پر حیران اور پریشان ہوا جائے؟ لیکن اس کے باوجود یہ حیرانی اور پریشانی بن بلائے مہمان کی طرح مسلسل شائقین کرکٹ کو تنگ کیے جارہی ہیں۔

اگر جنوبی افریقہ میں قومی ٹیم کی کارکردگی سے کچھ لوگ اب بھی بے خبر ہیں تو ان کے لیے عرض ہے کہ قومی ٹیم اس سیریز سے پہلے 5 مرتبہ بطور مہمان وہاں گئی اور 3 مرتبہ اسی طرح کلین سوئپ کا سامنا کرنا پڑا۔

1995ء میں واحد ٹیسٹ پر مبنی ٹیسٹ سیریز ہو، 2002ء میں 2 ٹیسٹ میچ کی سیریز یا پھر 2013ء میں 3 ٹیسٹ میچ کی ٹیسٹ سیریز، ہر بار ہمیں کلین سوئپ کا ہی سامنا کرنا پڑا۔ اگر ان شکستوں میں 2019ء کا بھی اضافہ ہوگیا تو کونسی نئی بات اور حیران و پریشان ہونے والی بات ہوگئی۔

لیکن میں ان اعداد و شمار پر اپنا اور آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا جس پر بات کرنے سے کسی کو کچھ فائدہ نہیں، بلکہ میں تو ان ’مثبت ‘ پہلووں پر بات کرنا چاہتا ہوں جن پر بات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں افریقی باؤلرز کا راج

اس شکست کے ذریعے قومی ٹیم نے نہ صرف ورلڈ کپ 2019ء کے لیے اچھی پریکٹس کرلی ہے بلکہ ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی کے لیے بھی اپنے طور پر بہت اہم کام کیا ہے۔ یہ سب کیسے ہوا؟ آئیے آپ کو بتاتے ہیں۔

ورلڈ کپ 2019ء کے لیے تیاری

مجھے یقین ہے پڑھنے والے اب بھی حیران ہوں گے کہ بھلا ٹیسٹ کرکٹ میں بدترین شکست سے ورلڈ کپ 2019ء کی تیاری کا پہلو کس طرح نکالا جاسکتا ہے لیکن پریشان نہ ہوں، یہ وہ اہم پہلو ہے جس کے بارے میں کم ہی لوگوں نے سوچا ہوگا۔

دیکھیے جب بھی ہماری ٹیم 50 اوورز کی کرکٹ کھیلتی ہے تو کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ بلے باز پورے اوورز کھیل سکیں۔ جس کے بعد یہی طعنہ سننے کو ملتا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کھیل کھیل کر حال یہ ہوگیا ہے کہ ہم سے اب 50 اوورز بھی نہیں کھیلے جارہے۔ لیکن اس ٹیسٹ سیریز پر اگر آپ نظر ڈالیں تو ہم نے مسلسل 50 اوورز کھیلنے کی بھرپور پریکٹس کرلی ہے۔ اب بھی یقین نہیں آرہا تو نیچے کے اعداد و شمار دیے جارہے ہیں جس میں بتایا جارہا ہے کہ قومی ٹیم نے کس ٹیسٹ کی کس اننگ میں کتنی بلے بازی کی۔

پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز: 47 اوورز

پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز: 56 اوورز


دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز: 51.1 اوورز

دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز: 70.4 اوورز


تیسرے ٹیسٹ کی پہلے اننگز: 49.4 اوورز

تیسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز: 65.4 اوورز


یہ ریکارڈ دیکھ کر اکثر شائقینِ کرکٹ کو یہ لگ رہا ہوگا جیسے قومی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا ہی بھول گئی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ٹیم نے دور اندیشی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب دیکھیے نا اس سال ٹیسٹ سیریز جیتنا زیادہ اہم ہے یا میگا ایونٹ کرکٹ ورلڈ کپ؟ اگر ہماری ٹیم بھی تنگ نظر ہوتی اور دور اندیشی کی خوبی اس کے پاس نہ ہوتی تو یہ بھی روک روک اور آرام آرام سے کھیل کر سیریز جیت جاتی لیکن ورلڈ کپ کی تیاری بہت زیادہ متاثر ہوتی۔ پھر ورلڈ کپ کو بھی چھوڑیے، 3 ٹیسٹ میچ کی سیریز کے بعد 5 ایک روزہ میچوں کی سیریز بھی کھیلی جانی ہے۔ اب بتائیے، 3 کا ہندسہ بڑا ہے یا 5 کا؟ ظاہر ہے 5 کا اور اسی سوچ کے ساتھ جنوبی افریقہ کو جھانسہ دے کر قومی ٹیم نے خاموشی کے ساتھ اپنی تیاری مکمل کرلی اور جنوبی افریقہ کی ٹیم یہی سوچ کر خوش ہورہی ہے کہ اس نے ہمیں شکست دے دی ہے۔ ہیں نا ہمارے میزبان بے وقوف؟

ٹیسٹ کرکٹ اتنی بورنگ کرکٹ بھی نہیں

جب سے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ نے انٹری ماری ہے اور پھر ٹی ٹوئنٹی کے بعد ٹی ٹین کی آوازیں آرہی ہیں، تب سے مسلسل یہ شور مچایا جارہا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور یہ ایک بورنگ کھیل بنتا جارہا ہے جس میں 5، 5 دن بیٹھ کر کرکٹ دیکھنی پڑتی ہے۔ اب آج کی تیز دنیا میں بھلا کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ اتنے دن صرف کھیل پر ضائع کردے، لیکن قومی ٹیم نے شکست کا کڑوا گھونٹ پی کر اس عظیم کھیل کی کم ہوتی اہمیت کو بڑھانے کا فیصلہ کیا اور کسی بھی میچ کو پانچوے دن تک نہ لے جانے کے لیے ہر ہر طرح کی قربانی دی۔

پاکستان تین دن میں سنچورین ٹیسٹ ہار گیا

کونسا ٹیسٹ کتنے دن میں ختم ہوا؟

  • پہلا ٹیسٹ میچ سمجھیے پونے 3 دن میں ہی ختم ہوگیا۔
  • دوسرا ٹیسٹ میچ چوتھے دن تک گیا لیکن اس میں قصور جنوبی افریقی ٹیم کا ہے۔ اس نے اپنی پہلی ہی اننگ میں 124.1 اوورز کھیلے جبکہ قومی ٹیم کا کمال دیکھیے کہ اس نے دونوں اننگ میں ملا کر بھی اتنے اوور نہیں کھیلے اور پورے میچ میں صرف 121.5 اوورز کھیلے۔
  • تیسرے میچ کی بات کی جائے تو یہ بھی چوتھے دن ہی ختم ہوگیا۔ یہ میچ بھی تیسرے دن ختم ہوسکتا تھا لیکن جنوبی افریقی ٹیم کی انا نے ایسا نہ ہونے دیا۔ اس میچ میں میزبان ٹیم نے 158.1 اوورز بیٹنگ کی تو قومی ٹیم نے بڑا پن دکھاتے ہوئے صرف 115.2 اوورز ہی بیٹنگ کی، تاکہ شائقین کرکٹ ٹیسٹ کرکٹ سے بور نہ ہوجائیں۔

نئے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی ذمہ داری

عام طور پر ٹیمیں بہت ہی ظالم ہوا کرتی ہیں۔ یہ صرف اپنا سوچتی ہیں، خاص طور پر جب سامنے کوئی کمزور یعنی اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والا کھلاڑی مل جائے۔ لیکن پاکستان کا ریکارڈ اس حوالے سے بہت ہی حوصلہ افزا ہے۔ ویسے تو یہ فہرست بہت طویل ہے لیکن ہم کچھ حالیہ سیریز کا ریکارڈ ہی آپ کے سامنے پیش کریں گے۔

کائل ایبٹ (2013)

یہ 2013ء کی بات ہے جب قومی ٹیم جنوبی افریقہ کا دورہ کررہی ہے۔ اب جبکہ 3 میچوں کی سیریز میں پاکستان کو 0-2 سے شکست ہوچکی ہے، کوشش تو یہ کرنی چاہیے تھی کہ مزید محنت کرکے ایک میچ تو جیت ہی لیا جائے، لیکن

اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں

ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

کے فلسفے کو اپناتے ہوئے قومی ٹیم نے اپنا پہلا ہی میچ کھیلنے والے کائل ایبٹ کا سوچا اور میچ میں 9 وکٹیں تھما کر میچ میں ایک اننگ اور 18 رنز کی شکست کو گلے لگالیا۔

کائل ایبٹ وکٹ لینے کے بعد خوشی کا اظہار کررہے ہیں
کائل ایبٹ وکٹ لینے کے بعد خوشی کا اظہار کررہے ہیں

کولن ڈی گرینڈ ہوم

اب 2016ء میں قومی ٹیم پہنچی نیوزی لینڈ جہاں اسے 2 ٹیسٹ میچ کی سیریز میں 0-2 سے شکست ہوئی، لیکن یہاں بھی ایک نئے ستارے کا کیرئیر عروج پر پہنچانا ہماری ٹیم ہرگز نہیں بھولی۔ کرائسٹ چرچ میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے کولن ڈی گرینڈ ہوم کو 7 وکٹیں اور 29 رنز بنانے کی سہولت فراہم کی، یوں نہ صرف میزبان کو 8 وکٹوں سے جیت کا موقع بھی دیا بلکہ کولن ڈی گرینڈ ہوم کو مین آف دی میچ کا ایوارڈ جیت کر یہ حوصلہ بھی دیا کہ وہ بہت آگے جائیں گے۔

پاکستان کے خلاف شاندار گیند بازی کے بعد کولن ڈی گرینڈ ہوم شائقین کی داد کا جواب دے رہے ہیں
پاکستان کے خلاف شاندار گیند بازی کے بعد کولن ڈی گرینڈ ہوم شائقین کی داد کا جواب دے رہے ہیں

اعجاز پٹیل

یہ نسبتاً تازہ یعنی 2018ء کے آخر کا واقعہ ہے۔ نیوزی لینڈ کو ابھی تک متحدہ عرب امارات میں سیریز جیتنے کا موقع نہیں ملا تھا، لیکن چونکہ اس بار نیوزی لینڈ ایک نئے کھلاڑی کے ساتھ میدان میں اتری تھی اور نئے کھلاڑیوں کو دیکھ کر ہمارے کھلاڑیوں کے دل پگھل جاتے ہیں، اس لیے ابوظہبی میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں اعجاز پٹیل نامی اسپنر کو کھل کر باؤلنگ کرنے کا موقع دیا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے میچ میں 7 وکٹیں لیں اور یوں پہلا ہی ٹیسٹ میچ مہمان ٹیم 4 رنز سے جیتنے میں کامیاب ہوگئی۔

اعجاز پٹیل نے اظہر علی کو آؤٹ کر کے میچ کی آخری وکٹ حاصل کی اور نیوزی لینڈ کو فتح سے ہمکنار کرایا— فوٹو: اے ایف پی
اعجاز پٹیل نے اظہر علی کو آؤٹ کر کے میچ کی آخری وکٹ حاصل کی اور نیوزی لینڈ کو فتح سے ہمکنار کرایا— فوٹو: اے ایف پی

ڈوان اولیفیر

اب آتے ہیں جنوبی افریقہ کے حالیہ ٹور کی جانب۔ چونکہ قومی بلے بازوں کو اس مرتبہ کوئی ایسا گیند باز نہیں ملا جو اپنا پہلا میچ کھیل رہا ہو، تو انہوں نے تلاش شروع کی سب سے کم تجربے کار باؤلر کی اور یوں ان کی نظر پڑی ڈوان اولیفیر پر۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ کو یہ اخلاص کسی اور ٹیم کے قریب سے گزرتا ہوا بھی نظر نہیں آئے گا۔

پہلے ٹیسٹ میں ڈوان اولیویئر کو 11 وکٹیں لینے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا— فوٹو: اے ایف پی
پہلے ٹیسٹ میں ڈوان اولیویئر کو 11 وکٹیں لینے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا— فوٹو: اے ایف پی

اس بار دردِ دل کا ایسا شاندار مظاہرہ کیا گیا کہ دنیا حیران تھی۔ اولیفیر نے 3 ٹیسٹ میچوں میں 24 وکٹیں حاصل کیں، یوں وہ نہ صرف پہلے ٹیسٹ میچ بلکہ سیریز کے بھی بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے۔ اگرچہ اس کھلاڑی کے کیرئیر کا آغاز 2016ء میں ہوا تھا مگر کارکردگی اس قابل نہیں تھی کہ مسلسل ٹیم کے ساتھ انہیں رکھا جاتا، مگر اب آپ دیکھیے گا، یہ کھلاڑی ہمارے کھلاڑیوں کی خدمات کی بدولت ہر ہر ٹور میں افریقہ کے ساتھ ہوگا۔

حارث سہیل، جن پر قسمت کی دیوی رہی مہربان

کبھی کبھی حادثات اور چوٹیں کتنی مہربان ہوتی ہیں یہ کوئی حارث سہیل سے پوچھے۔ دورہ جنوبی افریقہ میں قومی ٹیم کے ساتھ ہونے کے باوجود حارث سہیل وہ واحد بیٹسمین ہیں جن کے بارے میں آپ اب بھی یقین کے ساتھ دعوٰی کرسکتے ہیں کہ اگر وہ ٹیم کو میسر ہوتے تو سیریز کا نتیجہ کچھ اور ہوتا۔

میں یہ تو نہیں جانتا کہ وہ پاکستان سے کتنی دعائیں کرکے افریقہ پہنچے تھے، کہ دعا من و عن قبول ہوئی، لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ یہ دعائیں انتہائی خلوص دل کے ساتھ کی گئیں ہوں گی۔ ایسی انجری ملی کہ نہ سیریز سے باہر ہوئے اور نہ میدان کے اندر جانے کا رسک لینا پڑا، اسے قسمت کی دیوی کی مہربانی نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے؟

ایک محمد حفیظ بھی ہیں، جو اپنے تجربے کی وجہ سے پہلے ہی سمجھ گئے تھے کہ جنوبی افریقہ میں دال گلنے والی نہیں ہے، لہٰذا وہاں جانے سے پہلے ہی ٹیسٹ کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا، لیکن حارث سہیل نے ہمت کی اور اپنی قسمت پر مکمل یقین کے ساتھ گئے جیسے ان کو پیغام مل گیا تھا کہ ’بھائی بنداس جائیے‘ ، وہاں گھمیں پھریں کہ میچ آپ کو ایک بھی نہیں کھیلنا پڑے گا۔

امید ہے آپ کو سمجھ آگیا ہوگا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ہماری ٹیم نے جیتنے کے بجائے ہارنے کو فوقیت کیوں دی تھی۔ اب چلیے سب کم از کم ایک مرتبہ ٹیم کی نظر اتارلیجیے کیونکہ آپ ایسی دور اندیشی، نئے کھلاڑیوں کے لیے دردِ دل اور ٹیسٹ کرکٹ سے محبت اور کسی ٹیم میں نہیں پائیں گے۔