فلپائن کے مسلمانوں نے ریفرنڈم میں خودمختار خطے کی منظوری دے دی

اپ ڈیٹ 26 جنوری 2019

ای میل

قریبی صوبے میں خودمختار صوبے میں شمولیت کے حوالے سے 6 فروری کو ریفرنڈم ہوگا—فوٹو:بشکریہ اسٹریٹس ٹائمز
قریبی صوبے میں خودمختار صوبے میں شمولیت کے حوالے سے 6 فروری کو ریفرنڈم ہوگا—فوٹو:بشکریہ اسٹریٹس ٹائمز

فلپائن کے جنوبی علاقے میں مسلمانوں نے نصف صدی سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی امید کے ساتھ خود مختار خطے کے قیام کے لیے ہونے والے ریفرنڈم میں بھاری اکثریت سے منظوری دے دی۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے پی' کے مطابق فلپائن کے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ ریفرنڈم میں مسلم منڈاناؤ میں بینگسامورو خودمختار خطے کی منظوری دی گئی، جہاں 15 لاکھ افراد نے حق میں ووٹ دیا۔

بینگسامورو خود مختار خطے کی جگہ لے گا جو غربت میں جکڑا ہوا ہے، تاہم خود مختاری سے یہ خطہ نہ صرف مستحکم ہوگا بلکہ بڑے پیمانے پر فنڈنگ بھی ہوگی۔

یاد رہے کہ 2014 میں مسلم علیحدگی گروپ 'مورو اسلامک لبریشن فرنٹ' اور حکومت کے درمیان مذاکرات دارالحکومت منیلا میں ہوئے تھے، جہاں ایک معاہدے کو حتمی شکل دی گئی تھی لیکن فلپائن کی کانگریس نے اس کی منظوری نہیں دی تھی تاہم گزشتہ برس اس کی منظوری دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:فلپائن کو اپنی تاریخ کے ایک اور بدترین طوفان کا سامنا

دوسری جانب دہشت گرد تنظیم 'داعش' سے منسلک دہشت گردوں کی ماروائی شہر سمیت دیگر علاقوں میں خون ریزی، بمباری اور جنوبی علاقوں میں حملوں کے پیش نظر اس معاہدے کے خاتمے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔

بینگسامورو ٹرانزیشن کے کمشنر سوسانا عنایتین کا کہنا تھا کہ خودمختار قانون کی توثیق ‘نئی حکومت اور امن کی طرف سفر کی علامت ہے’۔

معاہدے کے مطابق علیحدگی پسند تنظیم خود مختار خطے کے بدلے عیسائی اکثریتی علاقے میں علیحدہ ریاست کے مطالبے سے دست بردار ہوئی ہے، اگرچہ وہ مزید اختیارات کے ساتھ وفاق کی اکائی کے طور پر قائم رہنا چاہتے تھے لیکن اب ان کے 30 ہزار سے 40 ہزار جنگجو اپنی جدوجہد ختم کریں گے۔

خود مختاری کے بعد اب خطے کی پارلیمنٹ روز مرہ کے امور کی ذمہ دار ہوگی۔

مسلم علیحدگی پسند گروپ کے چیئرمین الحاج مراد ابراہیم نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ ان کے گروپ کو دہائیوں سے جاری ایشیا کی طویل ترین علیحدگی کی تحریک ختم کرکے واپسی کے عمل میں تعاون کے لیے فنڈ فراہم کریں۔

مزید پڑھیں:فلپائن:طوفان سے 4460 افراد ہلاک ہوئے، اقوام متحدہ

مغربی حکومتوں نے بھی خودمختاری کے معاہدے کو خوش آمدید کہا ہے تاہم ان کی جانب سے پریشانی کا اظہار کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا سے داعش سے منسلک دہشت گردوں کا ایک چھوٹا سا گروہ فلپائن کے علیحدگی پسند گروپ کے معاہدے کو سبوتاژ کرسکتا ہے اور جنوبی علاقے کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ جگہ بنا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ ریفرنڈم کے حق میں تمام مسلم اکثریتی علاقوں سے ووٹ نہیں پڑا، سولو صوبے میں جہاں حریف علیحدگی پسند گروپ کا مرکز ہے، وہاں اس کو مسترد کردیا گیا۔

فلپائن کے صوبے لیناؤ ڈیل نورٹے اور مسلم اکثریتی نارتھ کوٹابیٹاؤ کے سات قصبوں میں 6 فروری کو دوسرا ریفرنڈم ہوگا جس میں نئے خطے میں شمولیت کے حوالے سے رائے شماری ہوگی۔

یاد رہے کہ 2017 میں فلپائن کی فوج نے امریکا اور آسٹریلیا کے طیاروں کی مدد سے ماروائی صوبے پر 5 ماہ سے قابض دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی تھی، جہاں 12 ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے جس میں اکثریت داعش کے دہشت گردوں کی تھی جبکہ مساجد کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

جنوبی علاقے میں کئی دہائیوں سے جاری اس کشیدگی کے دوران مجموعی طور پر ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے جبکہ وسائل سے مالا مال اس خطے میں ترقیاتی کام کی نوعیت صفر تھی اور ملک کا غریب ترین جنوبی خطہ کہلاتا تھا۔