کیا اسکول وین مالکان بچوں کی حفاظت کے لیے ’یہ‘ اقدامات اٹھائیں گے؟

اپ ڈیٹ 19 فروری 2019

ای میل

جنوری کی ایک کہر آلود صبح عام دنوں کی طرح ایک چھوٹی ہائی روف اسکول وین اورنگی ٹاؤن میں ایک سے دوسرے گھر جا کر اسکول جانے والے بچوں کو اٹھا رہی تھی۔

اسکول کے لیے دیر ہو رہی تھی اس لیے ٹریفک سے بچنے کی خاطر تھوڑی جلد بازی میں وین سڑک سے ذرا سے نیچے اتر گئی اور اس کے پہیے کیچڑ میں پھنس گئے۔ ڈرائیور ایکسی لیٹر دبا کر گاڑی کو باہر نکالنے کی جتنی زیادہ کوشش کرتا اتنی ہی زیادہ گاڑی زمین میں دھنستی چلی جاتی۔ ڈرائیور وین سے اترا اور گاڑی کے پچھلے حصے کا جائزہ لینے لگا۔ پہلے تو کچھ بچے گاڑی کا وزن کم کرنے کی غرض سے وین سے نیچے اترے لیکن پھر جب دیکھا کہ ڈائیور گاڑی کو دھکا دے رہا ہے تو انہوں نے بھی وین پر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے پوری قوت کے ساتھ گاڑی کو دھکا دینا شروع کردیا۔

اتنے میں اچانک وین کو آگ لگ گئی۔

گاڑی کو آگ لگ جانے کی وجہ سے کُل 14 سوار بچوں میں سے 8 کے قریب زخمی ہوگئے۔ ہسپتال میں طبی امداد لیتے 7 سے 10 برس کی عمر کے چھوٹے بچوں کی سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصاویر نے ہر کسی کی توجہ حاصل کرلی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ وین میں نصب ایل پی جی سلنڈر پھٹ جانے کی وجہ سے پیش آیا۔ بعدازاں اس دعوے کو مسترد کردیا گیا۔ واقعے کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی تھی۔

پولیس نے زخمی ہونے والے بچوں میں سے ایک بچے کے والد کی مدعیت میں وین کے ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ شہری سطح پر اسکول وین میں سی این جی سلنڈر استعمال کرنے پر پابندی عائد ہے، لیکن اس کے باجود یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس وین میں ایک کے بجائے، 2 سلنڈرز نصب تھے، جن میں سے ایک ایل پی جی سلنڈر ڈرائیونگ سیٹ کے قریب نصب تھا جبکہ دوسرا سی این جی سلنڈر گاڑی کے پچھلے حصے میں نصب تھا۔ حادثے کے دوران دونوں سلنڈرز گاڑی میں نصب تھے، لیکن خوش قسمتی سے وہ نہیں پھٹے، اگر اس آگ میں یہ دونوں سلنڈرز بھی پھٹ جاتے تو ایک بڑے سانحے کی شکل اختیار کرلیتے۔

اگرچہ گاڑی کو آگ ایل پی جی یا سی این جی سلنڈرز دونوں کے باعث نہیں لگی تھی مگر ایک حقیقت اپنی موجود ہے کہ گاڑیوں میں سلنڈر کی اس طرح تنصیب بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔ وین میں عام طور پر سلنڈر گاڑی کی پچھلی سیٹ کے نیچے نصب ہوتا ہے، اب اگر گاڑی کو پیچھے سے ٹکر لگ جائے تو بھی ایک بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔

گاڑیوں کے ساتھ چلتے پھرتے ایل پی جی سلنڈرز ویسے بھی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ کچن کے لیے استعمال ہونے والے سلنڈرز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے والے پک اپ ٹرک بھی احتیاطی تدابیر کا خاص خیال رکھتے ہیں، جیسے انہیں عمودی سمت میں سیدھا رکھنا اور یہ یقینی بنانا کہ کوئی سلنڈر بھی لیک نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے پریسٹ او لائٹ (prest-o-lite) پی او ایل والوز پر پلگز کا استعمال کیا جاتا ہے، اس طرح سیفٹی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔

ہماری ناہموار سڑکوں پر ایسی گاڑیوں کو چلانا بالکل بھی معقول عمل نہیں جن میں یہ سلنڈر ڈرائیور کی سیٹ کے قریب یا گاڑی میں کہیں بھی نصب ہو۔

وین میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وین میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مسز اشعر کہتی ہیں کہ، ’جب میں نے اس آگ کے شعلوں میں بڑھکتی وین کے بارے میں سنا جس میں بچے سوار تھے تو میرا دل جیسے ڈوب گیا۔ میں سوچتی تھی کہ اسکول وین ایک محفوظ آپشن ہے لیکن اب ایسے واقعات سننے کو مل رہے ہیں۔‘

ان کے دونوں بچے اسکول وین استعمال کرتے ہیں۔ ان کے شوہر کے پاس موٹر سائیکل تو ہے مگر وہ کہتی ہیں کہ انہیں بھاری بستوں کے ساتھ بیٹے اور بیٹی کی موٹر سائیکل پر سواری فکر میں مبتلا کردیتی ہے۔

مسز اشعر مزید کہتی ہیں کہ، ’جب میں نے اورنگی واقعے کے بارے میں سنا اور لوگوں کی منہ سے یہ بات سنی کہ سلنڈرز ٹھیک بم کی طرح خطرناک ثابت ہوسکتا ہے تو میں نے سوچا کہ اب سے میں اپنے بچوں کو اسکول وین استعمال نہیں کرنے دوں گی۔ ایک ہفتے تک، میں نے انہیں خود رکشے پر اسکول چھوڑنے کی کوشش کی لیکن صبح صبح رکشہ تلاش کرنے میں بہت دشواری پیش آتی، پھر میں نے اوبر اور کریم استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کبھی بھی وقت پر ہمارے گھر پر پہنچ ہی نہیں پاتے اور بچوں کو اسکول کے لیے دیر ہوجاتی۔ اس ایک ہفتے کے دوران وہ صرف 3 دن ہی اسکول جا پائے جبکہ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث 2 دن اسکول نہیں گئے۔

’اسکول نہ جا پانے کی وجہ سے میری بیٹی کے چہرے پر رنج کے آثار میں کبھی بھول ہی نہیں سکتی۔ وہ ایک اچھی طالبہ ہے اور اس کے آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ لہٰذا میں اپنے اندر ہمت پیدا کی کوشش کر رہی ہوں اور انہیں پھر سے اسکول وین استعمال کرنے دے رہی ہوں۔ زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ میری خداوند پاک سے دعا ہے کہ میرے بچے ہمیشہ سلامت رہیں۔‘

تباہ شدہ وین۔
تباہ شدہ وین۔

چند لوگ یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ جب گاڑی کو خالی سی این جی اور ایل پی جی سلنڈرز سے پیٹرول پر منتقل کیا جاتا ہے تو اس وقت پیٹرول انجنز میں چنگاریاں اٹھنے لگتی ہیں اور اسی کے باعث ایسی گاڑیوں میں آگ بڑھک اٹھتی ہے۔ لیکن یہ ایک خام خیال ہی ہے۔

ای او ایس نے جن میکینکس، الیکٹریشنز اور آٹو موٹیو انجینئرز سے اس حوالے سے روشنی ڈالنے کو کہا تو ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایل پی جی پیٹرول انجنز کے لیے خراب ہے لیکن یہ چنگریاں پیدا نہیں کرتے۔

آٹو موٹیو انجینئر کا کہنا تھا کہ ایل پی جی سلفر فیومز خارج کرتی ہے جو پیٹرول انجن کے الومینیم پسٹنز کو خراب کردیتے ہیں، اور کچھ نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ کوئی بھی اضافی چنگاریاں کہیں بھی نہیں اٹھتیں۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں کہ سی این جی یا ایل پی جی کے خالی سلنڈر میں چنگاریوں سے آگ نہیں بڑھک سکتی البتہ پیٹرول کی خالی ٹینک میں ضرور بڑھک سکتی ہے، چاہے پھر وہ کئی دنوں سے خالی کیوں نہ ہو۔ موٹر انجنز میں وائرنگ کی خرابی کے باعث شارٹ سرکٹ ہوسکتا ہے لیکن ایل پی جی یا سی این جی کی وجہ سے نہیں۔‘

اس واقعے کے بعد ایل این جی اور سی این جی سلنڈرز سے لیس اسکول وینز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہوا۔ اس موقعے پر وین مالکان اور ڈرائیوروں نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ انہیں گاڑیوں میں گیس سلنڈرز لگانے کی اجازت دی جائے۔

ایک وین ڈرائیور کا کہنا ہے کہ پیٹرول کافی مہنگا ہے اور اگر جس دن سی این جی بند ہو تو ہم ایل پی جی پر بھی اپنی گاڑی منتقل نہیں کرسکتے، ایسی صورتحال میں ہم سے آپ کیا توقع رکھتے ہیں؟ ہمیں بچوں کو بھی اسکول لے جانا ہوتا ہے۔‘

ایک دوسرے وین مالک کہتے ہیں کہ وہ اپنی وین سے سلنڈر نکال سکتے ہیں اور صرف پیٹرول پر ہی چلا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے انہیں وین کا کرایہ بڑھانا ہوگا جس پر والدین ان سے ہمیشہ بحث کرتے ہیں کیونکہ ان پر پہلے ہی اسکول کی بھاری فیسوں کا بوجھ ہوتا ہے۔ دوسری طرف جن دنوں میں ڈرائیور اور مالکان نے احتجاج اور ہڑتالیں کیں، ان دنوں میں بچے اسکول جانے سے محروم رہے۔

قبضے میں لیے گئے سلنڈرز
قبضے میں لیے گئے سلنڈرز

پھر اس معاملے نے ایک دوسرے واقع کا پس منظر پیدا کیا۔ 25 جنوری کو کورنگی میں ایک اسکول وین میں آتش زدگی کا واقعہ پیش آیا۔ انجن میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے اچانک سے آگ بڑھک اٹھی تھی۔ تاہم وہ وین نہ تو سی این جی اور نہ ہی ایل پی جی پر چل رہی تھی۔ وین کے قریب کھڑی موبائی میں بیٹھے پولیس اہلکاروں نے بروقت کیچڑ پھینک کر آگ کو بجھادیا جس کے باعث وین میں موجود تمام بچے محفوظ رہے۔ ڈرائیور اور ایک چھوٹی بچی کو معمولی زخم پہنچے جبکہ باقی تمام بچوں کو کوئی چوٹ نہیں آئی۔

آل کراچی اسکول اینڈ کالج ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے وسیم جعفری نے ای او ایس کو بتایا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ہر کوئی اسکول وین کے پیچھے کیوں پڑا ہوا ہے؟ وہ سوال کرتے ہیں کہ ’کب سے گاڑیوں میں سی این جی کا استعمال خطرناک ہوگیا ہے؟ اگر یہ اتنا ہی (ٹائم) بم کی طرح نقصاندہ ہے تو اسے پبلک ٹرانسپورٹ بالخصوص بسوں میں استعمال کرنے کی اجازت کیوں ہے، جن میں وین میں سفر کرنے والے بچوں سے کہیں زیادہ لوگ سفر کرتے ہیں۔ سی این جی صرف اسکول وین کے لیے ہی بم کیوں ہے؟‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر بچے اپنے والدین کی گاڑیوں میں اسکول جا رہے ہوتے تو بھی انہیں محفوظ کس طرح تصور کیا جاتا، کیونکہ ان کے والدین کی زیادہ تر گاڑیاں بھی تو سی این جی پر چلتی ہیں۔ کیا یہ وہی سی این جی نہیں جسے مضرِ صحت گیس کے مقابلے میں ماحول دوست ایندھن کے طور پر متعارف کروایا گیا تھا؟

وہ مزید کہتے ہیں کہ، ’اسکول وین کے خلاف مہم نئی نہیں ہے۔ بلکہ اس کا آغاز 4 برس قبل اس وقت ہوا تھا جب اس وقت کے ڈی آئی جی ٹریفک ڈاکٹر عامر شیخ نے تمام وینوں کو سی این جی کا آپشن ختم کرنے اور ان پر پیلا رنگ کرنے کے احکامات دیے تھے۔ مگر اس طرح اسکول کی وینز نمایاں ہوجاتیں جو آرمی پبلک اسکول سانحے کے بعد ایک معقول بات معلوم نہیں ہوتی۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہم نے ان تمام باتوں کے ساتھ عدالت کا رخ کیا اور وہاں سے نیا حکم نامہ بھی حاصل کیا کہ وین میں صرف غیر معیاری سلنڈرز کی اجازت نہیں ہوگی۔ چونکہ ہم ہائیڈرو کاربن ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پاکستان سے اپنی گاڑیوں کا باقاعدگی کے ساتھ معائنہ کروانے پر راضی ہوئے اس لیے وین پر پیلا رنگ کروانے کی شرط میں چھوٹ دی گئی۔‘

لیکن جنوری میں پیش آنے والے 2 واقعات کے بعد معاملات یکسر تبدیل ہوگئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میڈیا نے معاملے کو اس قدر بڑھاوا دیا کہ جب کسی نجی گاڑی کو آگ لگتی تو بھی اسے اس وقت تک اسکول وین ہی کہا جاتا جب تک خود مالک آکر اس بات کی تردید نہ کردے کہ ان کی ہائی روف گاڑی کبھی بھی اسکول وین نہیں رہی اور یہ ان کے ذاتی استعمال میں ہے۔‘

قانون کے مطابق اسکول وین کو کسی بھی قسم کی گیس پر چلانے یا اس میں گیس سلنڈرز استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ گاڑیوں میں آتشزدگی کے بعد ٹرانسپورٹ کے صوبائی وزیر اویس قدیر نے تمام اسکول وینز کی فٹنس چیکنگ کا حکم دیا۔ جس کے مطابق جو وینز ان فٹ پائی جائیں ان کے ٹرانسپورٹ پرمٹ منسوخ کردیے جائیں۔ وین مالکان اور ڈرائیوروں نے ہڑتال اور اسے غیر منصفانہ عمل قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے۔ بعدازاں سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے کہا کہ چونکہ ان کے پاس اسکول وینز کو گیس سلنڈرز سے پاک بنانے کے ضابطے پر عمل کروانے کے لیے افرادی قوت کی کمی ہے اس لیے والدین کو چاہیے وہ اپنے بچوں کو ان کرایے کی گاڑیوں پر اسکول بھیجنا بند کردیں۔

ہائیکورٹ میں مقدمہ دائر کیا گیا جس کے بعد چیف سیکرٹری سندھ کے ساتھ ٹرانسپورٹ سیکرٹری، انسپیکٹر جنرل آف پولیس اور اے آئی جی ٹریفک کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا جہاں پبلک انٹرسٹ لیٹیگیشن کونسل اور رکن انسانی حقوق پاکستان طارق منصور کی جانب سے دائر کردہ پٹیشن پر 2 رکنی بینچ نے سماعت کی تھی۔ پٹیشن دائر کرنے والے اس وقت برہم ہوئے جب صوبائی وزارت ٹرانسپورٹ کی جانب سے والدین کو وینز کے ذریعے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے منع کیا گیا۔

اسکول کے بچے خطرناک سی این جی سلنڈرز کے اوپر بیٹھے ہیں—تصویر بشکریہ لکھاری
اسکول کے بچے خطرناک سی این جی سلنڈرز کے اوپر بیٹھے ہیں—تصویر بشکریہ لکھاری

انہوں نے ای او ایس کو بتایا کہ ’سیکرٹری ماس ٹرانزٹ نے 2014 میں ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے اس سب کے بارے میں ایک اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) جاری کیا تھا۔ نوٹیفیکشن میں ہدایات تھیں کہ تمام کانٹریکٹ گاڑیوں کو پیلا رنگ کیا جائے تاکہ سڑک پر ہر کوئی انہیں پہنچان سکے، ٹھیک اسی طرح جیسے ایمبولینس اور فائر ٹرکس جیسی ایمرجنسی گاڑیوں کو سڑک پر پہنچان لیا جاتا ہے۔‘ اس کے علاوہ ان کے پاس مناسب روٹ پرمٹ ہونے چاہئیں، غیر معیاری سی این جی یا ایل پی جی سلنڈرز نصب نہ ہوں، سیگریٹ نوشی کی ممانعت پر عمل ہونا چاہیے، گاڑی آگ بجھانے والے آلات سے لیس ہونی چاہیے اور حد سے زیادہ وزن اٹھانے سے گریز کیا جائے۔

پٹیشنر مزید کہتے ہیں کہ ’اس کے علاوہ، گاڑیوں میں ایک اضافی ایمرجنسی دروازہ ہو اور سلائڈنگ دروازے لگے ہوں۔ اسکول یا کالج کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طلبا کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والوں کا ذاتی حیثیت میں ریکارڈ محفوظ رکھیں۔

منصور کہتے ہیں کہ ان کی شکایت یہ ہے کہ یہ سب نہیں ہوا۔ اسکول اور کالج انتظامیہ نے بھی کہا کہ وہ کانٹریکٹ وینز کی ذمہ دار نہیں ہیں۔ اب تو حکومت بھی یہ کہہ رہی ہے کہ وہ ان ضابطوں پر عمل درآمد نہیں کروا سکتی۔ اس طرح حکومت خود پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 9 اور آرٹیکل 25 (اے) کی خلاف ورزی کررہی ہے۔‘

ایڈووکیٹ منصور اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ جو کوئی بھی کانٹریکٹ گاڑی یا اسکول وین ایس او پی کی پیروی نہیں کر رہی تھی انہیں لازمی سزا دینی چاہیے تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘ہم نے چند تجاویز اور سفارشات پیش کی تھیں، جیسے بچوں کو اسکول لانے اور لے جانے والی ہر گاڑی کے پیچھے اور آگے ‘اسکول بس‘ یا ’اسکول کی گاڑی‘ کا سائن لگایا جائے، ان کے ڈرائیورز کا یونیفارم ہلکے نیلے رنگ کا ہونا چاہیے، ہر گاڑی میں ابتدائی طبی امداد کی کٹ موجود ہونی چاہیے، بس کے دروازے پر لوور اسٹیپ 220 ملی میٹر سے زیادہ اونچا نہیں ہونا چاہیے، 35 سیٹوں والی بسوں کی کھڑیوں کے لیے ایسی گرلز کا استعمال کیا جائے کہ اگر کبھی آگ لگ جائے تو وہاں سے نکلنے میں آسانی ہو۔‘ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ گاڑیوں کو 40 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار پر چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

’ہماری مزید تجاویز یہ ہیں کہ بستوں کو نہ ہی گاڑی کے باہر لٹکانے کی اجازت ہو اور نہ ہی انہیں گاڑی کی چھت پر رکھا جائے۔‘

منصور چاہتے ہیں کہ، 35 یا اس سے زائد سیٹوں کی گنجائش والی بسوں میں کلوز سرکٹ ٹی وی اور جی پی ایس سسٹمز نصب ہو۔ کیمرے کی موجودگی سے بچوں پر ہونے والے استحصال کو روکنے میں مدد ملے گی۔ ان کیمروں میں 60 دنوں کا ڈیٹا محفوظ کرنے کی گنجائش موجود ہو تاکہ کسی قسم کی شکایت کی صورت میں ڈیٹا کو پولیس کے حوالے کیا جاسکے۔ ڈرائیورز کو بھی اسکول انتظامیہ کے پاس اپنے ڈیٹا کا اندراج کروانا چاہیے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں اسکول بھی مقدمے میں مدعی کے طور پر کارروائی کرسکے۔

’یہ سب کچھ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 9 اور آرٹیکل 25 (اے) پر عمل درآمد میں مددگار ثابت ہوں گے، جو تمام افراد کے تحفظ کا خیال رکھنے اور 5 سال سے 16 سال تک کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق دینے کے بارے میں ہیں۔‘


یہ مضمون 10 فروری 2019ء کو ڈان اخبار کے ای او ایس میگزین میں شائع ہوا۔