کوٹ لکھپت جیل میں قید نواز شریف کو دل کی تکلیف

اپ ڈیٹ 05 مارچ 2019

ای میل

ان کےاہلِ خانہ ان کی صحت کے حوالے سے سخت پریشانی میں مبتلا ہیں —فوٹو: ڈان نیوز
ان کےاہلِ خانہ ان کی صحت کے حوالے سے سخت پریشانی میں مبتلا ہیں —فوٹو: ڈان نیوز

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید ان کے والد کو دل کی تکیلف ہوئی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹس میں انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کو گزشتہ ہفتے کے دوران بھی اس قسم کے 4 اٹیک ہوئے تھے لیکن اس بابت انہوں نے کسی کو آگاہ نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب انہیں علاج کے لیے ہسپتال میں رکھا گیا تھا اس وقت بھی ان کا کوئی علاج نہیں کیا گیا، اس لیے وہ محض جیل کی قید سے دور رہنے کے لیے ہسپتال میں نہیں جانا چاہتے۔

یہ بھی دیکھیں: نواز شریف کی جیل منتقلی پر ہسپتال میں موجود مریم نواز روپڑیں

مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں اور نواز شریف کے ذاتی معالج ان سے ملاقات کے لیے کوٹ لکھپت جیل میں موجود تھے جس دوران انہیں دل میں تکلیف ہوئی اور انہوں نے اپنا نائٹریٹ اسپرے طلب کیا۔

مریم نواز نے بتایا کہ وہ اور ان کےاہلِ خانہ ان کی صحت کے حوالے سے سخت پریشانی میں مبتلا ہیں جس سے ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 3 مرتبہ وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف کی صحت کے بارے میں حکومت کا سنگ دلانہ اور بے حس رویہ تشویشناک ہے۔

ایک دوسرے پیغام میں انہوں نے کہا کہ طب کے مطابق انجائنا کا ہر حملہ دل کی تکیلف میں اضافہ کر کے دل کو مزید نقصان پہنچاتا ہے۔

انہوں نے اپنے والد کی صحت پر سخت تحفضات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر خدانخواستہ انہیں کچھ ہوگیا تو میں کسے الزام دوں یا ذمہ دار ٹھہراؤں۔

اپنے بیان میں ایک مرتبہ پھر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا سنگ دلانہ رویہ حیران کن ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کو جیل سے جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا

خیال رہے کہ نواز شریف نے اسلام باد ہائی کورٹ سے طبی بنیادوں پر ضمانت کی استدعا کی تھی جو 25 فروری کو مسترد کردی گئی جس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا تھا۔

اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت کا معائنہ کرنے کے لیے تشکیل دیے جانے والے سروسز ہسپتال کے میڈیکل بورڈ نے انہیں قلب کی تکلیف میں مبتلا ہونے کے باعث امراضِ قلب کے طبی مرکز منتقل کرنے کی تجویز دی تھی۔

بورڈ کی تشخیص کے مطابق، نوازشریف کے دل کی شریانوں میں خون کے بہاؤ میں کچھ مسائل ہیں جنہیں لازمی معالجِ قلب کو دکھانا ضروری ہے۔

اس پر محکمہ داخلہ پنجاب نے ایک مراسلہ جاری کرتے ہوئے ’کم سے کم وقت میں علاج کی غرض سے نیب کے سزا یافتہ ہائی پروفائل قیدی نواز شریف کو سینٹرل جیل سے جناح ہسپتال لاہور منتقل‘ کرنے کی اجازت دی تھی جہاں دیگر علاج کے ساتھ امراضِ قلب کے علاج کی سہولت موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میڈیکل بورڈ کی نوازشریف کو امراضِ قلب کے ہسپتال منتقل کرنے کی تجویز

نوازشریف کی صحت کا معائنہ کرنے کے لیے تشکیل دیے جانے والے چوتھے میڈیکل بورڈ نے کہا تھا کہ سابق وزیراعظم کو ماہرین کی نگرانی میں مسلسل امراضِ قلب کے حوالے سے دیکھ بھال کی ضرورت ہے جہاں 24 گھنٹے انہیں اس سلسلے میں دیگر سہولیات بھی دستیاب ہوں۔

یاد رہے کہ نواز شریف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور انہیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا ہے۔