فیصل آباد: 8 سالہ بچی کا ریپ، قتل کرنے والے ملزم کو سزائے موت

اپ ڈیٹ 19 مارچ 2019

ای میل

عدالت میں عبدالرزاق پر تینوں جرم ثابت ہوئے — ڈان/ فائل فوٹو
عدالت میں عبدالرزاق پر تینوں جرم ثابت ہوئے — ڈان/ فائل فوٹو

فیصل آباد کی سیشن عدالت نے 8 سالہ بچی کا ریپ اور قتل کرنے والے مجرم کو سزائے موت سنادی۔

عبدالرزاق نامی ملزم کو 2 جولائی 2018 کو 8 سالہ بچی کو اغوا کرنے، ریپ کرنے اور قتل کے بعد اس کی لاش فیصل آباد کے قریبی علاقے رضا آباد میں پھینکنے کا مجرم ٹھہرایا گیا۔

پولیس نے مجرم کو لاہور ایئرپورٹ پر ملک سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

مزید پڑھیں: نوشہرہ میں 9 سالہ بچی ریپ کے بعد قتل

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انعام الہٰی نے عبدالرزاق کو تینوں الزامات ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی اور 35 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔

کیس کا ٹرائل 8 ماہ تک جاری رہا تھا۔

مقتول بچی کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مجرم اس سے قبل بھی کم عمر بچیوں کا ریپ کرنے میں ملوث رہا ہے۔

بچوں پر تشدد کے کیسز میں اضافہ

غیر سرکاری تنظیم ساحل کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال اگست کے مہینے میں انکشاف کیا تھا کہ 2018 کے پہلے 6 ماہ میں گزشتہ سال کے اس ہی دورانیے کے مقابلے میں بچوں پر تشدد کے کیسز میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ چاروں صوبوں سمیت اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مجموعی طور پر 2 ہزار 322 اخبارات میں رپورٹ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی خان: کم عمر لڑکی کے ریپ، قتل میں ملوث مجرم کو سزائے موت

اس کے مقابلے میں 2017 میں جنوری سے جون کے مہینے تک 1 ہزار 764 ایسے واقعات رپورٹ کیے گئے تھے۔

رپورٹ کے مصنف ممتاز گوہر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ زینب ریپ اور قتل کیس کے بعد بچوں پر تشدد کے کیسز میں کمی سامنے آنی چاہیے تھی تاہم بدقسمتی سے اس میں اضافہ سامنے آیا تھا۔