تحریک انصاف کی طاقتور حکومت نتائج کیوں نہیں دے پارہی؟

اپ ڈیٹ 03 اپريل 2019

ای میل

گزشتہ برس، جب یومِ آزادی منایا جارہا تھا تو یہ موقع نہ صرف ملک کے عوام کے لیے اہم تھا بلکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے بھی باعث جشن تھا، کیونکہ ان کی پارٹی عام انتخابات میں بڑی جماعت کے طور پر سامنے آچکی تھی۔ صرف رہنما اور کارکن ہی نہیں، بلکہ وہ تمام لوگ بھی بہت زیادہ خوش تھے، جو کہتے تھے کہ عمران خان کو بھی ایک موقع ضرور ملنا چاہیئے!

عمران خان نے وزیرِاعظم بننے سے پہلے ملک کا اقتدار حاصل کرنے کے لیے انتھک جدوجہد کی۔ 2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا اور مرحلہ وار تحریک شروع کی۔ اپنی اس تحریک میں انہوں نے مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور جے یو آئی (ف) کو شدید ہدف تنقید بنایا۔ پھر اس پورے معاملے میں میڈیا اور ریاست کے اہم ادارے خان صاحب کے ساتھ کھڑے رہے، نتیجے میں انہوں نے وہ منزل حاصل کرلی، جس کے لیے 22 سال پہلے انہوں نے جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک کامیاب کرکٹر ایک کامیاب سیاستدان کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ انتخابی مہم کے دوران ان کا نعرہ تھا کہ وہ پاکستان سے لوٹی گئی 200 ارب ڈالر کی رقم کو سوئیٹزر لینڈ سے واپس لے آئیں گے، ملک کے بڑے چوروں کو گرفتار کرکے ان کا احتساب کریں گے، بدعنوانی کا مکمل خاتمہ کردیا جائے گا کیونکہ معاشرے اس وقت تباہ ہوجاتے ہیں جب ان میں انصاف نہ رہے۔ وہ کہتے تھے کہ جب بھی اس طرح کی سماجی بیماریاں ختم ہوں گی تو پاکستان دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوشحال ملک بن جائے گا۔

عام انتخابات سے پہلے یہ تاثر بہت حد تک واضح ہوچکا تھا کہ 2018ء میں حکومت تحریک انصاف کو مل رہی ہے، کیونکہ نواز شریف نااہل ہوچکے تھے اور ان کی جماعت حکومت میں ہونے کے باوجود شدید دباؤ میں تھی۔ خود تحریک انصاف کے لیڈران بار بار یہ دعوٰی کررہے تھے کہ وہ حکومت بنانے جارہے ہیں اور حکومت میں آنے کے بعد کیا کچھ کرنا ہے، اس حوالے سے ہوم ورک مکمل ہوچکا ہے۔

اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت مخالف تحریک چلانے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ تحریک انصاف سمجھتی تھی کہ گزشتہ حکومتوں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا ہے، معیشت تباہ کردی گئی ہے۔ لیکن حکومت ملنے کے بعد جس طرح حکومت وزرا کے ہاتھ پیر پھولے اسے دیکھ کر شدید حیرانی ہوئی۔ معیشت کے حوالے سے کہا جانے لگا کہ یہ تو تباہ حال ہے جسے سنبھالنے میں وقت لگے گا، لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ راز ان پر حکومت میں آنے کے بعد کھلا؟ کیا حکومت میں آنے سے پہلے وہ یہ سوچ رہے تھے کہ سب بہتر ہے، اور انہیں معیشت کے میدان میں اتنی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا؟ یہ تو دھوکے والی بات ہوئی نا۔ آپ ایک طرف لوگوں کو ووٹ کے حصول کے لیے ڈراتے ہیں کہ سب تباہ ہے، لیکن اس کے لیے کچھ تیاری بھی نہیں کرتے۔

خیر عمران خان نے وزیرِاعظم بننے کے بعد وہ کام کرنے شروع کیے، جن کی توقع ان کے کارکنان کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیرِاعظم ہاؤس کو ایک اعلیٰ قسم کی یونیورسٹی میں تبدیل کریں گے۔ اگرچہ یہ اعلان تو ہوچکا، مگر اب بھی اس حوالے سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاسکا۔

پھر وزیراعظم ہاؤس کی قیمتی گاڑیاں اور اعلیٰ نسل کی بھینسیں نیلام کردی گئیں، اور بتایا گیا کہ اس سے معیشت کو کس قدر فائدہ ہوگا۔ اسی طرح وزیرِاعظم ہاؤس اور ایوان صدر سمیت اہم حکومتی اداروں میں شاہانہ کھانے کی روایت کو ختم کرکے اس کی جگہ پانی یا اگر زیادہ ہی دریا دلی کرنی ہو تو چائے اور چند بسکٹ مہمانوں کی تواضح کے لیے رکھے جانے لگے۔ سرکاری سطح پر تحفے تحائف کے کلچر پر پابندی عائد کردی گئی اور اس ملک کے لوگوں کو پہلی بار پتہ چلا کہ ہیلی کاپٹر کا فی کلومیٹر خرچہ اب صرف 55 روپے ہوتا ہے۔

عام آدمی کے لیے یہ تمام خبریں باعث تسکین تھیں اور انہیں لگا کہ اب ان کے حالات بدلنے والے ہیں۔ خاص کر اس ملک کے ان صحافیوں کو تو اس بات پر حد درجہ یقین تھا جنہوں نے نہ دن دیکھا نہ رات، دھرنے ہوں یا بنی گالا، کڑاکے کی سردی ہو یا جھلسا دینے والی گرمی، ہر طرح کی بھوک پیاس برداشت کرکے وہ تحریک انصاف کی کوریج کرتے کرتے اس حد تک چلے گئے تھے کہ اگر کبھی انہیں دوسری جماعت کی کوریج کے لیے بھیجا جاتا تو انہیں احساس ہوتا کہ وہ تو تحریک انصاف کے کارکن بن چکے ہیں۔

ہمارے ساتھی اس انتظار میں رہے کہ ایک دن آئے گا جب خوشحالی ان کی ساری تھکن اتار دے گی، لیکن تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد جوں جوں دن گزرتے گئے معاملہ الٹ ہوتا چلا گیا۔ عمران خان کے وزیر اعظم بنتے ہی جس طبقے نے سب سے پہلے مصائب کا سامنا کیا وہ میڈیا ورکر ہی تھے، ملک بھر سے میڈیا کے اداروں سے کارکنوں کو برطرف کرنا شروع کردیا گیا، جو باقی بچ گئے ان کی تنخواہوں میں 20 سے 50 فیصد تک کٹوتی کردی گئی۔ کہیں کوئی فریاد نہیں سنی گئی، الٹا یہ کہا گیا کہ میڈیا کو چلانا ہمارا کام نہیں!

دوسری طرف تجاوزات کے نام پر ملک کے بڑے شہروں میں غیر قانونی رہائش گاہوں اور مارکیٹس کو مسمار کرنے کا کام شروع ہوا، پتھارے والے بھی نہ بچ سکے۔ اگرچہ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی سے تو کوئی بھی اختلاف نہیں کرسکتا، لیکن جن جگہوں سے خود بلدیاتی ادارے کرائے لیا کرتے تھے، وہاں کے لوگوں کو اچانک بے دخل کرنا اور پھر ان کو متبادل نہ دینا، یہ بڑی زیادتی والا کام ہے۔ پھر جن افسران نے رشوت لے کر یا اپنے فرائض سے غفلت کرتے ہوئے ان تجاوزات کو بننے کی اجازت دی، ان کے خلاف تو کسی بھی قسم کی کوئی بھی کارروائی اب تک نہیں کی جاسکی۔

نئی حکومت نے آتے ہی (ن) لیگ کے پیش کیے گئے فنانس بل میں 2 بار ترامیم کیں۔ اس دوران ادویات، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ جبکہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہوتی رہی، جس کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات اور پریشانیوں میں کمی ہونے کے بجائے مزید اضافہ ہوگیا۔ ایک طرف مہنگائی بڑھ گئی تو دوسری طرف مزدوری کی اجرت کم ہوگئی۔

نیب کی جانب سے حکومت کے سیاسی مخالفین کے خلاف جتنی بھی کارروائیاں ہورہی ہیں، حکومت اس وقت ان سے بہت خوش نظر آتی ہے، بلکہ نیب کی مسلسل وکالت بھی کی جارہی ہے۔ ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے اور اپوزیشن کے رہنماؤں پر جو کیسز ہیں وہ ان کے دور میں نہیں بنے، لیکن جب جب کسی بھی اپوزیشن کے رہنما کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو حکومت اس اقدام کی وکالت کررہی ہوتی ہے۔ حیران کن بات یہ کہ وفاقی وزرا اور پارٹی کے اہم رہنما اکثر اپوزیشن کے ان رہنماؤں کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دے دیتے ہیں جن کے بارے میں نیب کی جانب سے کوئی اعلان بھی نہیں کیا گیا ہوتا۔

اب ملک بھر میں اور خصوصاً پنجاب اور سندھ میں نیب کی کارروائیوں کے نتیجے میں سرکاری دفاتر میں کام کی رفتار سست ہوچکی ہے۔ وفاقی محکموں میں ایسے افسران کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جن کی وفاداریاں گزشتہ حکومت کے ساتھ تھیں، لہٰذا ایسے افسران اس لیے کام نہیں کررہے تاکہ حکومت کمزور ہوجائے، اس لیے نئی حکومت کو اس میدان میں بھی پریشانی کا سامنا ہے، اگر اس پر توجہ نہ دی تو صورتحال مزید کمزور ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب معاملہ سیاسی رویوں کا بھی ہے، پارلیمان وہ فورم ہے جہاں حکومتی رویوں کا واضح پتہ چلتا ہے، لیکن اگست 2018ء سے رواں ماہ اپریل تک دیکھا جائے تو قومی اسمبلی یا سینیٹ کے جب بھی اجلاس ہوئے تو حکومتی ذمہ داران نے خود ہی اپنے لیے مسائل پیدا کیے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ چونکہ ایوان بالا اور ایوان زیریں کو چلانے والے چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر ملک کے بڑے ایوان چلانے کا تجربہ نہیں رکھتے، اس لیے اکثر وہ حالات کو کنٹرول نہیں کرپاتے۔ گزشتہ ساڑھے سات ماہ کے دوران جتنی قانون سازی کی ضرورت تھی وہ نہیں ہوپائی۔ پارلیمان، جہاں عوامی مسائل پر بات ہونی ہوتی ہے، وہاں بس الزامات ہی لگ رہے ہوتے ہیں اور یوں اس اہم ترین فورم پر منتخب نمائندوں کو اتنی فرصت ملی ہی نہیں کہ وہ اپنا اصل کام کرسکیں۔

وزیرِاعظم عمران خان، جنہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ قومی اسمبلی میں دوران اجلاس ایک دن خود وقفہ سوالات میں ارکان کے جواب دیں گے، وہ یہ وعدہ بھی پورا نہ کرسکے۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ وزیرِاعظم ایوان میں اس لیے نہیں آتے کہ وہ اپوزیشن کے احتجاج سے خوف زدہ ہیں۔

اس بات سے تو انکار نہیں کہ نواز شریف کی نسبت عمران خان اپنے دفتر کو ان سے 3 گنا زیادہ وقت دیتے ہیں اور ہر ہفتے وفاقی کابینہ کے تواتر سے اجلاس بھی ہورہے ہیں، جس میں التوا میں پڑے ہوئے کام بھی نمٹائے جارہے ہیں، لیکن اہداف واضح نہ ہونے کی وجہ سے بہت ساری رکاوٹیں انہیں آگے بڑھنے نہیں دے رہیں۔

جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ حالات بہتر ہونے کے بجائے خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں۔ حکومت نے اگر اب بھی عام آدمی کے لیے کچھ نہیں کیا تو کرپشن کے خلاف سیاسی نعرہ بے فائدہ ہوجائے گا۔ لہٰذا وزیرِاعظم کو سنجیدہ ہونا ہوگا، حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی کابینہ اور مشینری کا تنقیدی جائزہ لینا ہوگا، کیونکہ ساڑھے سات ماہ ملکی سمت کا تعین کرنے کے لیے کافی مناسب وقت ہے، مگر اس عرصے میں زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ جتنی محنت کی جارہی ہے نتائج اس کے برعکس ہیں۔ عام آدمی زیادہ تنگ ہوچکا ہے، اور کرپشن کرپشن کا کھیل تب ہی چل سکتا ہے جب عام آدمی ماضی کی حکومتوں اور موجودہ حکومت کے درمیان فرق کرسکے۔ اگر وہ اس دور میں بھی مشکل زندگی گزار رہا ہے تو پھر اس کے لیے دونوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔