دماغ کو ہمیشہ جوان رکھنا چاہتے ہیں؟

20 اپريل 2019

ای میل

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو

اپنے دماغ کو ہمیشہ جوان رکھنا چاہتے ہیں؟ تو بس خود کو جسمانی طور پر کسی حد تک متحرک رکھنا عادت بنالیں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

بوسٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ورزش کرنا صرف جسمانی فٹنس ہی بہتر نہیں بناتا بلکہ ذہن کو بھی ہمیشہ فٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے جبکہ دماغی تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ جسمانی طور پر زیادہ متحرک ہوتے ہیں، چاہے سخت ورزش کی بجائے چہل قدمی ہی کیوں نہیں کرتے، ان کی دماغی عمر بڑھنے کا عمل سست ہوجاتا ہے جس سے ڈیمینشیا کا امکان کم ہوتا ہے۔

اور اچھی بات یہ ہے کہ اس کے لیے آپ کو گھنٹوں چہل قدمی کی بھی ضرورت نہیں، درحقیقت ہفتہ بھر میں چند گھنٹے چہل قدمی بھی دماغ کو صحت مند بنانے کے لیے کافی ہے۔

مگر اس وقت میں اضافی گھنٹے کا اضافہ دماغی عمر کو مزید کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق میں ورزش کے فوائد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور دریافت کیا گیا کہ ایک ہفتے میں جسمانی سرگرمی کا ہر اضافی گھنٹہ دماغی عمر کو 1.1 سال کم کردیتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہر ہفتے اگر کوئی فرد 3 گھنٹے ورزش یا چہل قدمی کرتا ہے تو عمر بڑھنے کے باوجود دماغ کی اوسط عمر 3 سال کی کمی آتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سائنس نے اب جسمانی سرگرمی اور دماغی صحت کے درمیان تعلق کو دریافت کرنا شروع کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمیاں بھی دماغ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔

تحقیق میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دماغی صحت کے لیے کتنی ورزش کافی ثابت ہوسکتی ہے مگر انہوں نے مشورہ دیا کہ کم از کم 250 منٹ کی جسمانی سرگرمی اس حوالے سے ضروری ہے۔

تحقیق کے مطابق ورزش سے دماغ کے لیے دوران خون اور نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔

ماضی میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ دماغ کا سیکھنے اور جذبات کو کنٹرول کرنے والا حصہ جبکہ سوچنے اور یاداشت کے افعال والا حصہ فٹ افراد میں زیادہ بڑے ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئے۔