کون چاہتا ہے کہ ایوب خان اور ضیاء الحق کا دور لوٹ آئے؟

ای میل

چند طاقتور عناصر کی جانب سے پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام متعارف کیے جانے کا مطالبہ دراصل 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کی جانب سے شروع کردہ ایسی ہی ایک مہم کا تسلسل کہا جاسکتا ہے۔

جنرل ضیاء نظام کو تو باضابطہ طور پر بدل نہ سکے البتہ انہوں نے آئین میں اتنی زیادہ تبدیلیاں کیں کہ صدارتی طرز کا نظام وجود میں آگیا۔

صدارتی نظام کے حق میں دلیل دیتے ہوئے ضیاء نے دعوی کیا کہ قائد اعظم صدارتی نظام حکومت چاہتے تھے جس کا ذکر ان کی ڈائری میں ملتا ہے۔ تاہم ڈائری کو کبھی عوام کے سامنے نہیں لایا گیا البتہ صرف ایک صفحہ میڈیا کو جاری کیا تھا، جبکہ لوگ قائد اعظم سے منسوب اس بات کا سیاق وسباق کا جائزہ نہ لے سکے۔ یہی نہیں جنرل اپنے بیان میں قائداعظم کے نام کا حوالہ دے کر مطمئن محسوس نہیں کر رہے تھے، کیونکہ ان کا مذہبیت پر مبنی مقاصد قائد کی سیاسی سوچ، بالخصوص عام شہریت پر مبنی ایک پاکستانی قوم کی تعمیر کے تصور کے متضاد تھے۔

چونکہ ضیاء کے ہاتھ رنگے ہوئے تھے اس لیے انہوں نے ایک عرصے تک قائد کی ڈائری کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے ایک آئینی حکام کا تختہ الٹا کیا تھا، جو ایک ایسا جرم تھا جس کی سزا آزادی سے قبل قائداعظم نے سزائے موت تجویز کی تھی۔ انڈین نیشنل آرمی کے افسران کو حکومت کی جانب سے سنائی گئی سزا پر بات کرتے ہوئے قائد اعظم نے انڈین نیشنل اسمبلی میں کہا تھا کہ، ’....جب وقت آن پڑا تو پاکستان میں میری فوج بلاشبہ اپنے ہر ایک فریضہ انجام دے گی اور وفاداری کا مظاہرہ کرے گی، اور اگر کسی نے ایسا نہ کیا تو پھر چاہے وہ سپاہی ہو، افسر ہو یا پھر سویلین اس کا انجام بھی ویسا ہوگا جیسا ویلیم جوائس اور جان امیری کا ہوا۔‘ (یہ 2 افراد انگلش اشرافیہ کے ممبران تھے، جبکہ جان امیری سیکریٹری اسٹیٹ برائے ہندوستان کے بیٹے تھے، ان دونوں کو دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر کی حمایت پر پھانسی دی گئی تھی۔)

چونکہ حکومت کے پاس پارلیمنٹ کے اندر مطلوبہ قوت نہیں ہے اس لیے قانون کے وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ موجودہ نظام کو صدارتی نظام سے بدلنے کے لیے ریفرینڈم ایک جمہوری طریقہ کار رہے گا۔ مگر نظام حکومت پر ریفرینڈم کے لیے بھی آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ ماضی میں ضیا اور مشرف نے جس طرح ریفرینڈم کروائے اور اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کیے اسے دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ لوگ ریفرینڈم کے ذریعے کسی تبدیلی کو قبول کریں گے۔

حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ صدارتی نظام لانے کا کہا تو جا رہا ہے لیکن یہ نہیں بتایا جا رہا ہے دنیا میں رائج صدارتی نظاموں میں کس طرز کے نظام کو پاکستان کے لیے منتخب کیا جا رہا ہے۔ جب تک تبدیلی کی وکالت کرنے والے میز پر اپنے سارے پتے نہیں پھینکتے تب تک اس پر ایک باقاعدہ مباحثہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

تاہم پاکستان پہلے ہی صدارتی نظام کے تجربے کر کرکے تھک چکا ہے اور اس کے تباہ کن نتائج بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

حقیقتاً ایوب خان ایک ایسے صدارتی نظام پر یقین رکھتے تھے جس میں پارلیمنٹ کے اندر کوئی سیاسی جماعت نہ ہو، وزرا نہ تو قانون ساز ایوانوں کے ارکان ہوں اور نہ ہی اداروں کے آگے جوابدہ ہوں۔ انہوں نے اپنا مرتب کردہ آئین کو نافذ کیا، ریاست کا نام تبدیل کیا اور بنیادی قانون میں سے بنیادی حقوق کے باب کو نکال دیا۔ انہیں پیچھے تو ہٹنا پڑا تھا مگر انہوں نے کبھی بھی کسی جمہوری ادارے کے آگے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ انہوں نے آپریشن جبرالٹر سے قبل قومی اسمبلی سے مشاورت نہیں کی اور پھر یہی آپریشن 1965ء میں ہندوستان کے ساتھ تنازع کی وجہ بنا، جبکہ انہوں نے تاشفند معاہدے کے بارے اس وقت اطلاع دی جب وہ اس پر اپنے دستخط کرچکے تھے۔ انہوں نے ترقی کے نام پر رشوتوں کے ذریعے ملک کے مشرقی حصے کی وفاداری خریدنے اور مونیم خان جیسے تابعدار متنازع اشخاص کی مدد سے نظم و نسق بحال رکھنے کی کوشش کی۔ استحکام اور ترقی کی ایک دہائی کے بعد ملک دو لخت ہوگیا۔

چند سیاسی طور پر نادان لوگ ایوب خان کی جانب سے سیاسی نظام پر چھوڑے گئے زخموں کو صدارتی لبادے میں اوڑھی ہوئی آمریت میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کے عوض معاف کردیتے ہیں۔ پھر وہ ان برٹش کے خلاف ہماری جدوجہد کیوں بھول جاتے ہیں جنہوں نے ہمارے لیے عدالتیں اور یونیورسٹیاں بنائیں، ریل پٹریاں بچھائیں اور دنیا کا سب سے بڑا آبپاشی نظام تعمیر کیا۔

ایوب خان کے بعد اقتدار سنبھالنے والے یحیٰ خان کو ایک آدمی ایک ووٹ کے اصول کی بحالی، ون یونٹ کے خاتمے اور ملک کے پہلے عام انتخابات کا انعقاد کروانے کا کسی حد تک سہرا دیا جاتا ہے، مگر انہوں نے انتخابات کے نتائج کو نہ مان کر اور ملک کو ٹوٹنے کی نہج پر لاکر رسوائی کا پیرہن پہن لیا۔ انہوں نے تمام کام، چاہے اچھے یا برے، کسی بھی نمائندہ مجلس سے مشاورت کے بغیر کیے تھے۔

جنرل ضیاء بھی ایک طاقتور صدر تھے۔ انہوں نے اپنے رفقاء سے مشاورت کا ڈھونگ تو رچایا مگر انہوں نے اپنی منشا کے مطابق تمام اقدامات اٹھائے اور وہ کسی ادارے کی نگرانی کے بھی تابع نہیں تھے۔ انہوں نے آئین کو اپنے خیالاتِ خام کے مطابق تبدیل کیا۔ سب سے بدترین کام تو یہ ہوا کہ انہوں نے پاکستان کو افغانستان تنازع کی طرف دھکیل دیا اور اسے بندوق اور منشیات کلچر کا شکار بنا دیا۔

چنانچہ پاکستان کے صدور نے جتنا غیر معمولی نقصان ریاست کو پہچایا ہے اتنا تو تمام پارلیمانی لیڈران نے مل کر بھی نہیں پہنچایا ہوگا۔

صدارتی اور پارلیمانی نظام میں سے ایک کا انتخاب اس بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ان میں سے کون سا نظام نظریاتی اعتبار سے دوسرے سے اعلیٰ ہے۔ ہوشمندی اور فہم عامہ ایک ایسے نظام کا تقاضا کرتا ہے کہ جس سے عوام آشنا ہو۔

ایوب خان اور ضیاء الحق دونوں نے ایک ایسے نظام کی حمایت کی جو بظاہر عوام کی اعلیٰ ذہانت یا نفسیات سے مطابقت رکھنے والا ہو۔ اگرچہ پاکستانی عوام نے ایک سے زائد بار آمریتی حکومتوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے، لیکن تاریخ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے کہ جو یہ ظاہر کرے کہ انہوں نے آزادی پر غلامی کو ترجیح دی۔ دوسری طرف انہوں نے اپنی جدوجہد اور قربانی سے ہر 9 یا پھر 10 سالہ طاقتور آمریت کو زیر کیا ہے۔

پاکستان مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ جمہوریت، سیاسی جماعتوں اور خود سیاست کو ظالمانہ ظاہر کرنے کی مہم زور و شور سے جاری ہے۔ بینادی آزادیوں اور معقول رائے عامہ کی آوازوں کے لیے تو جیسے کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔ لوگوں کے پاس اس بات سے ڈرنے کا درست سبب ہے کہ صدارتی نظام کی طرف لوٹنا نمائندہ گورننس کے ناپید ہونے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔

چونکہ سیاست ممکنات کے فن کا نام ہے اس لیے تمام جمہوری گرہوں پر پارلیمانی نظام کو مضبوط کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جس نظام کو عام شہریوں نے سمجھنا شروع کردیا ہے، اور وہ راہ نہیں لینی چاہیے جو ایک ایسے بہتر تصور کیے جانے والے نظام کو جاتی ہے کہ جسے سنبھالنے کے لیے ہمارے پاس مطلوبہ فرشتے ہی موجود نہیں ہیں۔

یہ مضمون 2 مئی 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔