بڑھتا ہوا درجہ حرارت دنیا کو کہاں لے جائے گا؟

22 جون 2019

ای میل

پاکستان کا درجۂ حرارت گذشتہ کچھ سال سے انتہائی بڑھ چکا ہے—فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کا درجۂ حرارت گذشتہ کچھ سال سے انتہائی بڑھ چکا ہے—فوٹو: اے ایف پی

دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے ہولناک درجۂ حرارت نے عام افراد سے لے کر سائنسداانوں تک کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اگر درجۂ حرارت اسی طرح بڑھتا رہا تو اگلے 5 سے 10 برس میں موسم گرما میں گرمی سے ہونے والی شرح اموات میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے اور ایک اندازے کے ممطابق اس صدی کے اختتام تک شاید یہ تناسب 2 ہزار فیصد تک بڑھ جائے۔

کسی بھی علاقے میں اچانک یا متواتر درجۂ حرارت میں اضافے سے سب سے پہلے موسمیاتی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، مثلا بارشوں کی قلت یا حد سے زیادہ بارشیں جو عموما اچانک اور بے موسم ہوتی ہیں اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سبب بنتی ہیں اس کے علاوہ دنیا کے بیشتر خطوں میں گلوبل وارمنگ کی بدولت طویل المدت خشک سالی بھی ایک معمول بنتی جا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی جھیلوں، نہر وں اور دریاؤں میں پانی کی سطح میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران نمایاں کمی ہوئی ہے اور کئی نایاب جھیلیں اور نہریں تباہی کے آخری دہانے پر ہیں۔

دوسری جانب عالمی درجۂ حرارت میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے منجمد بر اعظم انٹارکٹیکا کے گلیشئرز تیزی کے ساتھ پگھل رہے ہیں، خاص طور پر ایشین روس کے علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی شرح کافی زیادہ ہے اور روس کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایرو اسپیس کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق 21 ویں صدی کے وسط تک انسان ان علاقوں میں باآسانی رہائش اختیار کر سکے گا کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یہاں کے سرد ترین درجۂ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

عام طور پر گلوبل وارمنگ اور کلائیمیٹ چینج کو ایک ہی معنی میں لیا جاتا ہے مگر درحقیقت یہ دو بلکل علیحدہ عوامل ہیں۔

گلوبل وارمنگ کا تعلق عالمی درجۂ حرارت میں اضافے سے ہے جبکہ اس اضافے سے زمین کے ماحول پر جو منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ان کا تعلق کلائیمیٹ چینج سے ہے، انہی منفی اثرات میں سے ایک دنیا بھر میں سمندروں کی بڑھتی ہوئی سطح ہے، نیشنل جیوگرافک کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ہر برس سمندر کی سطح میں 33 ملی میٹر اضافہ ہورہا ہے۔

روس کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایرو اسپیس کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ ایشین روس کہ یہ علاقے جہاں ابھی آبادی سرد ترین موسم کے باعث نہ ہونے کے برابر ہے کیا مستقبل میں یہاں آبادی کے بڑھنے کے امکانات ہیں اور اگر ایسا ہوگا تو آبادی کے تیزی سے بڑھنے اور پھیلنے سے ان علاقوں کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ انٹارکٹیکا کے گلیشئرز پگھلنے کے باعث سمندروں میں پانی کی سطح بتدریج بلند ہو رہی ہے اور فی الوقت یورپ و بر اعظم آسٹریلیا کے متعدد گنجان آباد شہروں کے جلد غرق آب ہوجانے کی تلوار ہنوز سر پر منڈلا رہی ہے اور محققین ایک عرصے سے ایسے علاقوں کی کھوج میں ہیں جہاں ابھی زیادہ آبادی نہیں ہے اور مستقبل میں یہاں بڑے پیمانے پر رہائش اختیار کی جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: اگلے 4 برسوں میں درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافے کا امکان

ایشین روس کا رقبہ تقریبا ایک کروڑ 30 لاکھ مربع کلومیٹر ہے جو مشرق میں یورلز سے لیکر بحرالکاہل تک پھیلا ہوا ہے اور یہ روس کے کل رقبے کا 77فیصد حصہ ہے مگر اتنے زیادہ رقبے پر روس کی کل آبادی کا محض 27 فیصد آباد ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ان علاقوں کا سرد ترین موسم ہے اور طویل مو سم سرما میں ہر شے منجمد ہو جانے کے باعث جانور بھی ان علاقوں سے ہجرت کر جاتے ہیں۔

پاکستان میں سخت گرمی کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے—فوٹو: پی پی آئی
پاکستان میں سخت گرمی کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے—فوٹو: پی پی آئی

اگرچہ ماضی میں انسان ان علاقوں میں رہائش کو ترجیح دیتا تھا جہاں اسے سازگار موسم ، ضروریات زندگی اور مناسب روزگار با آسانی حاصل ہوسکے، مگر ٹیکنالوجی میں روز افزوں اضافے اور بہتر ذرائع کی بدولت اب کسی مخصوص علاقے کی جانب ہجرت کا رجحان بہت حد تک کم ہوگیا ہے اور لوگ کہیں بھی رہائش کے لیے اس علاقے کے ماحول پر انحصار نہیں کرتے بلکہ بہتر ٹیکنالوجی کی بدولت اسے قابل رہائش بنا لیتے ہیں۔

لہذا روس کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایرو اسپیس نے تقریبا 20 ماڈلز کو استعمال کرتے ہوئے ایشین روس کے ان علاقوں میں عالمی درجۂ حرارت میں اضافے سے ہو نے والی موسمیاتی تبدیلیوں پر تحقیق کا آغاز کرتے ہوئے شدید سردی والے مہینے جنوری اور شدید گرم جولائی میں 3 بنیادی موسمیاتی عوامل جن میں زمین اور ایکو سسٹم پر درجۂ حرارت کے اثرات، سردی کی شدت اور اشیاء کے منجمد ہونے کے تناسب شامل ہیں کا جائزہ لیا۔

مزید پڑھیں: ہر سال پچھلے سال سے گرم کیوں؟

واضح رہے کہ کسی سرد ترین علاقے میں انسان کی رہائش کا انحصار ان تین بنیادی عوامل پر ہوتا ہے، تحقیق کے دوران نوٹ کیا گیا کہ درجۂ حرارت میں اضافے سے ایکو سسٹم میں تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں اور وسط موسم سرما میں درجۂ حرارت میں تقریبا 6 ڈگری سینٹی گریڈ کا سالانہ اضافہ ہورہا ہےجبکہ وسط موسم گرما میں یہ اضافہ تقریبا 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہے جبکہ ہوا کی نمی میں 60 ملی میٹر سے 140 ملی میٹر تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

عالمی سطح پر بھی گرمی میں اضافہ ہوا ہے—فوٹو: اکیو ویدر
عالمی سطح پر بھی گرمی میں اضافہ ہوا ہے—فوٹو: اکیو ویدر

ان اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنسدانوں اور محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ 2080 تک ایشین روس کے ان علاقوں میں شدد سرد موسم رخصت ہو چکا ہوگا اور اشیا کے منجمد ہونے کی شرح تقریبا 65 سے 40 فیصد تک کم ہوچکی ہوگی جس کے باعث انسان کی ان علاقوں میں رہائش بہت حد تک ممکن ہوچکی ہوگی اور آج کی نسبت ان علاقوں میں اس وقت کم سے کم 15 فیصد رقبے پر آبادی ہوگی، چونکہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی ایسی ٹیکنالوجی پر ریسرچ میں تیزی آگئی ہے جس کے ذریعے کسی علاقے کے انتہائی گرم یا سرد درجۂ حرارت میں بھی رہائش اختیار کی جاسکے، جن میں انفراسٹرکچر کا بہتر نظام، جدیدذراعت کی تکنیک کے ذریعے مقامی طور پر خوراک کا حصول اور بہتر رہائشی سہولیات شامل ہیں، لہذا عین ممکن ہے کہ ان علاقوں میں انسانی آبادی سائنسدانوں کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہو۔


صادقہ خان نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے اپلائیڈ فزکس میں ماسٹرز کیا ہے، وہ پاکستان کی کئی سائنس سوسائٹیز کی فعال رکن ہیں۔ ڈان نیوز پر سائنس اور اسپیس بیسڈ ایسٹرا نامی کے آرٹیکلز/بلاگز لکھتی ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں [email protected]


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔