پاکستان کو 'ایف اے ٹی ایف' بلیک لسٹ میں ڈالنے کی بھارتی سازش ناکام،خطرہ برقرار

اپ ڈیٹ 21 جون 2019

ای میل

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ترکی، چین اور ملائیشیا کی حمایت حاصل ہوگئی ہے — فائل فوٹو/ڈان
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ترکی، چین اور ملائیشیا کی حمایت حاصل ہوگئی ہے — فائل فوٹو/ڈان

پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے 3 اہم رکن ممالک کی حمایت حاصل کرلی ہے، تاہم خطرات اب بھی برقرار ہیں۔

اسلام آباد، عالمی منی لانڈرنگ کے نگراں ادارے کی نظر میں جون 2018 سے ہے جب ملک کے مالی نظام اور سیکیورٹی میکانزم کی تشخیص کے بعد دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ خدشات کی بنا پر اسے 'گرے لسٹ' میں ڈالا گیا تھا۔

امریکا، برطانیہ اور پاکستان کے حریف بھارت کی جانب سے کیے گئے اس اقدام کی صرف ترکی نے مخالفت کی تھی جبکہ پاکستان کے دیرینہ اتحادی چین نے بھی اس معاملے سے علیحدگی اختیار کی تھی۔

ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسفک گروپ کا مشترکہ شریک چیئرمین، نئی دہلی چاہتا ہے کہ اسلام آباد کو پیرس میں مقیم ادارے کی بلیک لسٹ ممالک میں شامل کیا جائے، جو مالیاتی جرائم سے لڑنے میں عالمی معیار پر پورا اترنے میں ناکام ممالک کی فہرست ہے۔

تاہم اسلام آباد نے سفارتکاری کے ذریعے ترکی، چین اور ملائیشیا کی حمایت حاصل کرلی ہے۔

36 ملکوں کے 'ایف اے ٹی ایف چارٹر' کے مطابق بلیک لسٹ میں نام ڈالنے کے لیے کم از کم 3 رکن ممالک کی حمایت ضروری ہے۔

ترک خبر رساں ادارے 'انادولو' کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارے کے پلینری اینڈ ورکنگ گروپ کے 5 روزہ اجلاس کے بعد اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ 'خطرہ اب بھی ختم نہیں ہوا'۔

گروپ کی جانب سے اسلام آباد کو بلیک لسٹ میں ڈالنے یا نہ ڈالنے کا باضابطہ اعلان پیرس میں 13 سے 18 اکتوبر تک ہونے والے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔

حکام نے معاملہ حساس ہونے کی وجہ سے عوامی سطح پر بیان جاری کرنے کی اجازت نہ ہونے پر نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'یہ انتہائی مثبت پیش رفت ہے، ترکی، چین اور ملائیشیا کی حمایت کے بعد ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں جانے کا خدشہ کم ہوگیا ہے'۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے اخراج کیلئے پاکستان کو سفارتی حمایت درکار

تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دیگر مالیاتی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی ڈیڈلائن پر پورا اترنا ہوگا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اس پیش رفت پر رائے دینے سے انکار کردیا۔

رواں سال فروری میں ایف اے ٹی ایف کا کہنا تھا کہ جنوری 2019 تک ایکشن پلان پر عمل کرنے کی مدت کے بعد بھی ایف اے ٹی ایف پاکستان پر زور دیتا ہے کہ وہ شرائط کو پورا کرے، بالخصوص وہ جنہیں مئی 2019 میں پورا ہونا ہے۔

عالمی ادارے نے تصدیق کی کہ اسلام آباد نے پاکستان اور ایف اے ٹی ایف کے درمیان مذاکرات کے بعد طے کیے گئے عملی اقدامات کیے ہیں، تاہم اب بھی مزید کام کرنا باقی ہے۔

گزشتہ ماہ چین کے صوبے گوانگزو میں ملاقات کے دوران اسلام آباد کو ایکشن پلان میں بتائے گئے 27 میں سے 18 انڈیکیٹرز پر غیر مطمئن اقدامات کرنے پر 'مزید کام' کرنے کا کہا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سیاسی بنیاد پر ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ کبھی نہیں کریں گے، برطانوی وزیر خارجہ

پاکستان نے حالیہ مہینوں میں ایکشن پلان کے تحت کئی بڑے اقدامات کیے ہیں جن میں قومی ٹیکس نمبر کے بغیر غیر ملکی کرنسی کی ٹرانزیکشنز کو روکنا، قومی شناختی کارڈ کی کاپی کے بغیر اوپن کرنسی میں 500 ڈالر سے زائد رقم کو تبدیل کرنے پر پابندی وغیرہ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان نے متعدد تنظیموں کو کالعدم قرار دے کر ان کے اثاثے منجمد کیے ہیں جن میں جماعت الدعوۃ، جیش محمد بھی شامل ہیں۔

سفارتکاری کی کامیابی

وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان، ترکی سمیت دیگر دوست ممالک سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ان کی مدد سے اسلام آباد کو گرے لسٹ سے باہر نکالا جاسکے۔

پاکستان کو اس سے قبل 2011 میں ایسی ہی صورتحال کا سامنا تھا جب اسے گرے لسٹ میں شامل کرلیا گیا تھا تاہم 2015 میں پاکستان کی جانب سے ایکشن پلان پر کامیابی سے عمل درآمد کے بعد اسے فہرست سے باہر نکال دیا گیا تھا۔

اسلام آباد کو نگراں ادارے کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے 36 میں سے 15 ووٹ درکار ہوں گے جس کی وجہ سے تقریباً 10 ارب ڈالر سالانہ نقصان ہو رہا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جو فی الوقت برطانیہ کے سرکاری دورے پر موجود ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ لندن نے بھی اسلام آباد کی حمایت پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

سیاسی اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں: ’ایف اے ٹی ایف تجاویز پر عمل نہ کیا گیا تو معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا‘

سابق سفیر علی سرور نقوی کا کہنا ہے کہ 'یہ اچھی خبر ہے مگر خطرات اب بھی منڈلا رہے ہیں، یہ صرف وقتی ریلیف ہے جس سے ہمیں مزید حمایت حاصل کرنے کا موقع ملا ہے تاکہ ہم اس خطرے سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کرسکیں۔

ان کا ماننا ہے کہ پاکستان کو اب بھی گرے لسٹ سے باہر آنے اور بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی چند اہم شرائط پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

علی سرور نقوی جنہوں نے اردن، بیلجیئم اور آسٹریا میں 1970 سے 2006 تک پاکستانی سفیر کے طور پر اپنی خدمات دی ہیں، کا کہنا تھا کہ دوست ممالک کی مدد سے اور موثر سفارتکاری کے ذریعے اسلام آباد پر سے ایف اے ٹی ایف کی توجہ ہٹے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جہاں تک مجھے معلوم ہے، وزارت خارجہ ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسفک گروپ سمیت دیگر دوست ممالک سے رابطے میں ہے اور انہیں دہشت گردوں کی مالی معاونت سے لڑنے اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے اپنے حالیہ اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دے رہا ہے'۔

ایف اے ٹی ایف میں امریکا کی جانب سے پاکستان کی مخالفت پر ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان، امریکا کو اپنی حمایت میں لانے کے لیے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا، حقیقت یہ ہے کہ امریکی مخالفت ایف اے ٹی ایف کے چارٹر پر نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر ہے، بالخصوص افغانستان میں مفادات کا تصادم، اسلام آباد کا چین سے بڑھتا ہوا رابطہ شامل ہے'۔