اسنوکر میں ہم سا ہو تو سامنے آئے

21 جولائ 2019

ای میل

دوحہ میں منعقدہ ایشیئن ٹیم چیمپئن شپ کے فائنل کے بعد بابر مسیح (بائیں) اور ذوالفقار اے قادر اے سی بی ایس کے افسر سے چیمپیئن شپ ٹرافی وصول کر رہے ہیں، جبکہ پیچھے رنر آنے والی بھارتی ٹیم موجود ہے۔
دوحہ میں منعقدہ ایشیئن ٹیم چیمپئن شپ کے فائنل کے بعد بابر مسیح (بائیں) اور ذوالفقار اے قادر اے سی بی ایس کے افسر سے چیمپیئن شپ ٹرافی وصول کر رہے ہیں، جبکہ پیچھے رنر آنے والی بھارتی ٹیم موجود ہے۔

یہ کچھ دنوں پہلے ہی کی تو بات ہے کہ جب پورا پاکستان اس فکر میں مبتلا تھا کہ قومی ٹیم انگلینڈ اور ویلز میں منعقدہ آئی سی سی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچ پائی گی یا نہیں، اسی دوران ایک دوسرے کھیل میں پاکستان نے غیر معمولی فتح اپنے نام کی جس کے بارے میں زیادہ تر پاکستانی بے خبر رہے۔

قومی اسنوکر کھلاڑیوں نے دوحہ میں یکے بعد دیگرے 4 اسنوکر مقابلوں میں حصہ لے کر 16 تمغوں میں سے نصف درجن تمغے جیت کر ہمارا سر فخر سے بلند کیا، ان میں سے 2 طلائی، ایک چاندی اور 3 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔ ان میں سے طلائی تمغے خاص اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ روایتی حریف بھارت کو ہرا کر حاصل کیے گئے ہیں۔

غیر اولمپیائی کھیل اسنوکر کو ملک میں کافی ابھار مل رہا ہے۔ انفرااسٹریچکر کی محرومیوں کے باوجود پاکستان کے اسنوکر کھلاڑیوں کے پاس وقت کی کمی نہیں اور انہوں نے عالمی مقابلوں میں اعزازات جیت کر ایک بار پھر اپنا لوہا منوایا ہے۔

چاہے جونیئرز ہو یا مینز ورلڈ ٹائٹلز، ایشین ہو یا ماسٹرز ٹائٹلز، 6 ریڈز ہو یا 15 ریڈز یا پھر دنیا کے کسی حصے میں منعقد ہونے والا کوئی اسنوکر مقابلہ ہو، پاکستانی کھلاڑیوں نے ہر مقابلے میں اعلیٰ مقام حاصل کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کا کوئی ثانی نہیں۔

باکسنگ کی طرح اسنوکر کے مقابلوں میں انٹرنیشنل بلیئرڈز اینڈ اسنوکر فیڈریشن (آئی بی ایس ایف) اور ایشین کنفیڈریشن آف بلیئرڈز اسپورٹس (اے سی بی ایس) کی جانب سے سیمی فائنل میں ہارنے والے کھلاڑیوں کو کانسی کے تمغے دیے جاتے ہیں۔

اس بار اسجد اقبال، بابر مسیح اور پہلی بار کسی مقابلے میں حصہ لینے والے ذوالفقار اے قادر نے قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ ذوالفقار کے سوائے باقی تین کھلاڑی کافی تجربہ رکھتے ہیں، یہ تین کھلاڑی بین الاقوامی میدان میں بھی یادگار کامیابیاں حاصل کرچکے ہیں۔ پاکستان فیڈریشن کے محدود مالی وسائل کی وجہ سے کھلاڑیوں نے غیر ملکی دورے کے اخراجات میں خود بھی حصہ ڈالا۔

لیکن اس دورے اور اس میں کامیابی سے اسنوکر کھلاڑیوں کی قسمت ضرور جاگ اٹھی۔ ذوالفقار کے علاوہ مقابلے میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں نے تقریباً 10، 10 لاکھ جبکہ ذوالفقار نے تقریباً 5 لاکھ روپے کا انعام حاصل کیا۔

گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ٹاپ کھلاڑیوں کی مالی حیثیت میں اچھی خاصی بہتری آئی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر نے مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے اپنے آبائی شہروں میں اسنوکر کلبس کھولے ہوئے ہیں۔ سابق عالمی چیمپئن محمد آصف، سابق عالمی نمبر 2 محمد سجاد، 5 مرتبہ نیشنل بینک آف پاکستان کپ چیمپئن اسجد اقبال، ہونہار کھلاڑی محمد ماجد علی، سابق انڈر 18 چیمپئن محمد نسیم اختر اور ٹیلنٹ سے بھرپور حارث طاہر کو نیشنل بینک آف پاکستان نے ملازمت فراہم کی ہوئی ہے، یہاں پر یہ واحد مالیاتی ادارہ ہے جو اسنوکر کے کھلاڑیوں کی ضروریات کو پورا کر رہا ہے۔

تاہم، یہاں ایسے بھی کئی اچھے اسنوکر کھلاڑی ہیں جنہیں محدود وسائل کے باعث ایک ساتھ اپنے اہل خانہ کی دیکھ بھال اور کھیل پر توجہ دینے میں کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور کئی ایسے بھی ہیں جنہیں نوکری کی ضرورت ہے۔ ایسے زیادہ تر کھلاڑیوں کا تعلق نچلے اور متوسط طبقے سے ہے۔

تقریباً ایک دہائی قبل پاکستان بلیئرڈز اینڈ اسنوکر فیڈریشن (پی بی ایس ایف) نے ایک اچھا قدم یہ اٹھایا تھا کہ ٹاپ 8 کھلاڑیوں اور 4 جونیئر کھلاڑیوں کو ماہانہ معاوضہ دینے کے لیے 1 لاکھ روپے کی رقم مختص کردی تھی۔ اس نظام کے تحت ٹاپ رینک رکھنے والے کھلاڑی کو 12 ہزار جبکہ دوسرا رینک رکھنے والے کو 10 ہزار روپے دیے جاتے تھے۔ 3 سے 8 کی رینکنگ میں شامل کھلاڑیوں کو 7، 7 ہزار جبکہ ٹاپ چار جونیئر کھلاڑیوں کو بھی 7، 7 ہزار روپے دیے جاتے تھے۔

پی بی ایس ایف سال میں 3 مرتبہ یعنی نیشنل اسنوکر چیمپئن شپ، نیشنل بینک آف پاکستان اور جوبلی انشورنس کپ کے مقابلوں کے رینکنگز کا اعلان کرتی ہے۔ چوتھی رینکنگ کے لیے مقابلہ ایک عرصے سے منعقد نہیں ہو رہا ہے۔

کامیابیوں کی تاریخ

ملک میں اسنوکر کو اس وقت عروج ملا جب مایہ ناز کھلاڑی محمد یوسف 1994ء میں جوہانس برگ میں منعقدہ عالمی اعزاز کے فائنل میں نئی بلندیاں چھوتے ہوئے آئس لینڈ کے جاہینز آر جوہانسن کو 9-11 فریمز سے شکست دے کر اعزاز اپنے نام کیا، اس وقت ان کی عمر 67 برس ہے۔

یہ وہ آخری سال تھا کہ جس میں 4 عالمی اعزازات (اسنوکر، ہاکی، اسکوائش اور کرکٹ) پاکستان کے نام تھے۔

اسی طرح فیصل آباد کے محمد آصف نے بھی 2012ء میں بلغاریہ کے شہر صوفیہ میں منعقد فائنل میں انگلینڈ کے گیری ولسن کو 8-10 فریمز سے شکست دی تھی۔

بعدازاں 2017ء میں ہونہار کم عمر محمد نسیم اختر نے بیجنگ میں منعقدہ انڈر 18 کے عالمی مقابلے کے فائنل میں چین کے لیئی پیفیان کو 3-5 فریز سے ہرا کر عالمی انڈر 18 چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا۔ 2013ء میں آصف اور سجاد کی جوڑی نے بھی آئرلینڈ میں عالمی ٹیم کا اعزاز اپنے نام کرکے پاکستان کا نام روشن کیا، جبکہ 2017ء میں آصف نے بابر کو جوڑی دار بنا کر ایک بار پھر عالمی ٹیم کے مقابلے میں فتح حاصل کی۔

دوحہ میں آئی بی ایس ایف ورلڈ ٹیم کپ جیتنے کے بعد اسجد اقبال (بائیں) اور محمد بلال۔
دوحہ میں آئی بی ایس ایف ورلڈ ٹیم کپ جیتنے کے بعد اسجد اقبال (بائیں) اور محمد بلال۔

سابق قومی چیمپئن حمزہ اکبر نے اس وقت خبروں کی شہہ سرخیوں میں جگہ بنائی جب انہوں نے 2015ء میں کوالا لمپور میں منعقد مقابلے کے فائنل میں بھارت کے ماہر کھلاڑی پنکج آڈوانی کو 6-7 فریمز سے شکست سے دوچار کیا۔

آڈوانی کو عظیم اسنوکر کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے، وہ کئی عالمی بلیئرڈز اور اسنوکر اعزازات اپنے نام کرچکے ہیں۔ اس فتح نے حمزہ کو 2 برس کے لیے پروفیشنل سرکٹ کے لیے کوالیفائی کرنے میں مدد فراہم کی، بعدازاں ان کی کارکردگی کی بنیاد اس مدت میں مزید 2 سال کی توسیع بھی کی گئی۔

حمزہ سے پہلے ایک یوسف نامی کھلاڑی بھی تھے، انہوں نے بھی ایشئن اور ورلڈ ماسٹرز کے اعزازات اپنے نام کیے۔

1998ء میں انگلینڈ میں مقیم پاکستانی شوکت علی کا بینکاک میں منعقدہ ایشین گیمز میں طلائی تمغہ جیتنا بھی ہماری یادگار کامیابیوں میں سے ایک ہے، واضح رہے کہ یہ پہلا ایسا موقع تھا جب اسنوکر کو میڈل اسپورٹ کی حیثیت دی گئی۔

اس کے علاوہ دیگر مقابلوں میں اور علاقائی سطح پر اسنوکر کھلاڑی ڈھیروں کامیابیاں حاصل کرچکے ہیں۔ اس سب کے باوجود اسنوکر کھیلوں کے شائقین، میڈیا اور حکومت کی خاطر خواہ توجہ سے محروم ہی رہا ہے۔

پاکستان میں کرکٹ کے لیے حد سے زیادہ جنون نے ملک میں دیگر کھیلوں کو جیسے کنارے سے لگا دیا ہے اور اس جنون میں کمی لانا شاید ہی کسی کے بس کی بات ہو، لیکن اس کے علاوہ دیگر مسائل بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔

پی بی ایس ایف کے ساتھ مسئلہ

مسائل میں ایک حصہ ہمیشہ کی طرح خود کھیل کی اپنی انتظامیہ کا ہے۔ پاکستان بلیئرڈز اینڈ اسنوکر فیڈریشن (پی بی ایس ایف) پہلے پاکستان بلیئرڈز اینڈ اسنوکر ایسو سی ایشن (پی بی ایس اے) ہوا کرتی تھی، نام کی تبدیلی کے کم و بیش 7 برس بعد بھی کنٹرولنگ باڈی اپنے ہی اصولوں اور ضوابط کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔

2012ء میں پی بی ایس اے کے جنرل باڈی کے ایک غیر معمولی اجلاس میں ’قومی/بین الاقوامی مطلوبات‘ کی روشنی میں باڈی کو فیڈریشن میں تبدیل کردیا گیا اور عہدیداروں کی 2 سال کی مدت میں مزید 2 برس کی توسیع کی گئی، تاہم اس دن سے لے کر آج تک پی بی ایس ایف اپنے تمام تر خط و کتابت میں پرانے نام کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ فیڈریشن کھیل کے فروغ میں زیادہ دلچسپی ہی نہیں رکھتی۔ ایک قومی فیڈریشن ہونے کے باوجود پی بی ایس ایف نے ابھی تک اپنا دائرہ کار آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور قبائلی اضلاع تک نہیں پھیلایا جو اسے لازماً کرنا تھا۔

علاوہ ازیں، بلند و بالا دعوؤں کے باوجود بھی ملک میں ابھی تک ایک بھی اسنوکر اکیڈمی نظر نہیں آتی۔

جو کھلاڑی قومی منظر نامے پر آتے ہیں دراصل وہ اپنی مدد آپ کے تحت کمرشل اسنوکر پارلرز میں کھیلتے ہوئے یہاں تک پہنچتے ہیں اور صوبائی کپ کے مقابلے میں حصہ لینے کے بعد ان کی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں قومی سطح کے مقابلوں کے لیے چُنا جاتا ہے۔

لیکن صوبائی تنظیموں کا کردار سال میں ایک بار صوبائی کپ کے انعقاد تک ہی محدود ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے سال کے باقی 11 ماہ صوبائی تنظیم سوئی رہتی ہے۔

قومی فیڈریشن پر لازم ہوتا ہے کہ وہ ڈویژنل اور ضلعی سطح کی تنظیمیں تشکیل دے تاکہ ملک کے کونے کونے میں اس کھیل کو فروغ حاصل ہو، لیکن ایسا بھی نہ ہوسکا۔

چند افراد کو چھوڑ کر پی بی ایس ایف کی ایگزیکیٹو کمیٹی عمر رسیدہ افراد پر مشتمل ہے، ان میں سے زیادہ تر کی عمریں تو 60 سے بھی زیادہ ہیں۔ کمیٹی میں نوجوان خون کا شامل ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ موجودہ وقت میں پی بی ایس ایف کے فوکل پرسن نوید کپاڈیا انتظامیہ میں موجود واحد نوجوان فرد ہیں، جو کہ ایگزیکیٹو کمیٹی کے رکن تک نہیں۔

عہدیداروں نے ان نوجوانوں کی گرومنگ کرنے کی ذمہ داری پر بالکل بھی توجہ نہیں دی ہے جو اس کھیل کو آگے لے جاسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، ایگزیکیٹو کمیٹی میں کھلاڑیوں کے نمائندے کی موجودگی بھی ضروری ہے تا کہ سینٹرل معاہدوں پر دستخط کرنے سے پہلے ابھرنے والے اختلافات و دیگر اعتراضات کو دور کیا جاسکے۔

پی بی ایس ایف ہمیشہ مالی تنگی کی شکایت کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ پاکستان اسنوکر لیگ (پی ایس ایل) کے مشہور زمانہ منصوبے کو حقیقت کا روپ دینے میں ناکام بھی رہی ہے۔

اب جبکہ حکومت نے مختلف کھیلوں کی فیڈریشن کی مالی امداد میں کمی کچھ کی فنڈنگ کو تو روک ہی دیا ہے، ایسے میں پی بی ایس ایف کو چاہیے کہ وہ ایسے طریقے تلاش کرے جن سے فنڈنگ حاصل ہوتی رہے تاکہ اسنوکر کو فروغ ملتا رہے کیونکہ اس کھیل نے پاکستان کو ڈھیر سارے اعزازت سے نوازا ہے۔

یہ مضمون 21 جولائی 2019ء کو ڈان کے میگزین ای او ایس میں شائع ہوا۔