شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

26 جولائ 2019

ای میل

میزائل تجربات جنوبی کوریا کو وارننگ دینے کے لئے ہیں تاکہ وہ غیر ملکی اسلحہ کی درآمد سے باز رہے، پیانگ یانگ — فائل فوٹو/رائٹرز
میزائل تجربات جنوبی کوریا کو وارننگ دینے کے لئے ہیں تاکہ وہ غیر ملکی اسلحہ کی درآمد سے باز رہے، پیانگ یانگ — فائل فوٹو/رائٹرز

شمالی کوریا نے عسکری طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اور شارٹ رینج میزائل کا تجربہ کردیا۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دوسری ملاقات کے فوری بعد کوریا کی حکومت نے ایک شارٹ رینج میزائل کا تجربہ کیا تھا جو اس بات کا ثبوت تھا کہ مذاکرات کی ناکامی کے باوجود شمالی کوریا کا دفاعی نظام کمزور نہیں۔

پیانگ یانگ کا کہنا تھا کہ حالیہ میزائل تجربات جنوبی کوریا کو وارننگ دینے کے لیے کیے گئے ہیں تاکہ وہ غیر ملکی اسلحہ کی درآمد اور مشترکہ فوجی مشقوں سے باز رہے۔

مزید پڑھیں: 'شمالی کوریا کے لیڈر کا مقتول بھائی سی آئی اے کا مخبر تھا’

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان، جنہوں نے میزائل تجربات کا مشاہدہ کیا تھا، نے کہا کہ 'ہمیں اپنے ملک کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے سپر پاور میزائلوں کی تیاری کرنی ہے'۔

قبل ازین پیانگ یانگ نے جنوبی کوریا کو متعدد مرتبہ آگاہ کیا تھا کہ وہ وعدے کے مطابق اقتصادی تعاون اور امن معاہدوں پر عمل درآمد نہیں کر رہا اور امریکا سے جدید ایف 35 اسٹیلتھ طیاروں کی خریداری کے علاوہ اس کے ساتھ فوجی مشقیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

خیال رہے کہ امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو اور شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یونگ ہو کی آئندہ ہفتے بینگ کاک میں جنوبی ایشیائی سیکیورٹی فورم میں ملاقات متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی کوریا کا روسی دراندازی کے خلاف جوابی کارروائی کا دعویٰ

تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے اپنا یہ دورہ منسوخ کردیا۔

وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے معاملے پر فوری طور پر رد عمل نہیں دیا۔

دوسری جانب جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے کا کہنا تھا کہ میزائل تجربے کا جاپان کی سیکیورٹی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ میں میزائل تجربے پر شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان 'جلد از جلد' مذاکرات بحال کرنے پر زور دیا۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 26 جولائی 2019 کو شائع ہوئی