سر، دستار اور جبّے کی جیب
سن 2007 یا 2008 کی بات ہے کہ مجھے ایک تحقیقی مقالہ کے لیے کچھ انٹرویو کرنے اور لٹریچر کی تلاش میں ضلع جھنگ کے ایک مدرسے میں جانے کا اتفاق ہوا۔
میرا ارادہ مختلف شناختوں کے درمیان باہمی تعلق پر تحقیق کرنے کا تھا اور میں نے مذہبی شناخت اور قومی شناخت کے باہمی تعلق کو اپنے موضوع کے طور پر چنا تھا۔ میں اس تعلق کو (ایک مخصوص مذہبی) دیو بندی مکتب فکر کے دینی مدارس میں پڑھنے والے نوجوانوں میں دیکھنا چاہتا تھا۔
کیونکہ براہ راست کسی مدرسے تو کیا کسی کالج میں بھی تحقیق کے لیے جانے کا مطلب بہت شکریہ کے ساتھ، 'یہ ممکن نہیں ہے' سننا ہوتا ہے اس لیے میں نے اس مدرسے میں جانے کے لیے اسے دل کھول کے اور آنکھیں بند کرکے چندہ دینے والے ایک صنعت کار کی مدد حاصل کی۔
کہتے ہیں کہ جس چیز کو روپیۓ کا پہیہ لگ جائے اسے روکنا آسان نہیں ہوتا اس لیے میں مدرسے تک پہنچ تو گیا لیکن وہاں پہنچنے کے چند دن بعد ہی صورتحال کچھ ایسی بنی کہ مجھے وہاں سے بصد عزت و احترام نکال دیا گیا۔
تب تک مجھے خود بھی اندازہ ہو چکا تھا کہ پی ایچ ڈی کی ڈگری لیتے ہوئے تصویر کھنچوانے اور اسے فیس بک پر لگانے کے چکر میں یو ٹیوب پر اپنے ذبح ہونے کی وڈیو اپ لوڈ کروا لینا کوئی بہت منافع کا سودا نہیں ہے۔
وہ تحقیق تو جیسا کہ آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی لیکن نکالے جانے سے پہلے جو چند دن میں نے وہاں گزارے ان میں میں نے ایک چیز ایسی دیکھی جو مجھے ملالہ کو لکھےجانے والے عدنان رشید کے خط میں سرسید کے لیے فری میسنری کا تمغہ دیکھ کے یاد آ گئی۔
اس مدرسے میں رہنے والے بچے مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ روایتی تعلیم بھی حاصل کر رہے تھے۔ ہمارے یہاں روایتی تعلیم سے مذہب اور مذہبی تعلیم سے روایت کو الگ کرنے کی کوشش کی جائے تو وہی کچھ بچتا ہے جو ان دونوں کو ملا کر امیر المومنین بننے والے کا جہاز حادثے کے بعد بچا تھا۔
امیر المومنین نے مذہب کو تو روایتی تعلیم میں رچا بسا دیا لیکن وقت نے اتنی مہلت نہیں دی کہ وہ شریعت کی چھلنی لے کے روایتی تعلیم میں سے سائنس انگریزی اور حساب جیسی لارڈ میکالے کی سازشوں کو چھان دیتے۔
مجبوری کا نام صبر، مدرسے کے بچوں کو انگریزی سائنس اور حساب جیسے کافرانہ مضامین پڑھانے کو علیحدہ سے جز وقتی استادوں کا انتظام کیا گیا تھا۔
عربی، اسلامیات تو ان بچوں نے آگے چل کر لوگوں کو پڑھانی تھی اس لیے انہیں پڑھانے کی جرات کون کر سکتا تھا۔ رہی اردو تو جو مولوی صاحب انہیں پند نامہ اور گلستان بوستان جیسی دقیق کتابیں پڑھایا کرتے تھے ان کے سامنے 'رب کا شکر ادا کر بھائی' جیسی نظمیں کیا معنی رکھتی ہیں۔
اس روایتی تعلیم کے دوران وہ بچے پانچویں، آٹھویں اور میٹرک کے امتحان میں آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لیا کرتے تھا اور عام طور پر پاس ہو جایا کرتے تھے۔
بچوں کے کھانے پینے رہنے سہنے سے لے کر پڑھنے لکھنے تک مکمل ذمہ داری مدرسے کی انتظامیہ نے اٹھا رکھی تھی. باقی انتظام کے ساتھ ساتھ وہاں ایک بک بینک بھی تھا جہاں سے بچوں کو سال کے سال کتابیں ایشو کر دی جاتی تھیں اور وہ امتحان دے کر انہیں واپس جمع کروا دیتے تھے۔
اسی بک بینک میں اردو کی کتابیں بھی تھیں اور ہر کلاس کی اردو کی کتاب میں ایک دو روایتی سے سبق تحریک پاکستان اور اہم قومی رہنماؤں کے کارناموں کے بارے میں بھی تھے۔
اہم بات ان کتابوں میں یہ تھی کے پاکستان سے متعلق اسباق کے بیچ جہاں جہاں 'سر سید احمد خان' کا نام تھا وہاں وہاں اسے پین یا پنسل سے کاٹ کے اس کی جگہ کسی جانور کا نام یا کوئی ایسا لفظ لکھا ہوا تھا جس سے مدرسے کے استاد عام طور پر بچوں کو پکارتے تھے۔ ایک آدھ گالی تو ایسی بھی پڑھنے کو ملی جس سے مجھے یقین ہو گیا کہ فصاحت اور بلاغت کا جو معیار گلستان اور بوستان پڑھا کے قائم کیا جا سکتا ہے اس کے بارے میں 'چنو منو دو چوزے تھے' پڑھنے والے سوچ بھی نہیں سکتے۔
کتابوں کے جائزے تک تو کام ٹھیک چل رہا تھا لیکن جب نوبت انٹرویو اور سوال پوچھنے تک آئی تو مدرسہ انتظامیہ نے چند ہی سوالوں کے بعد مجھے کھانا کھلا کر (اسی دوران میری گاڑی اور سامان کی تلاشی لے کر) عزت اور احترام کے ساتھ وہاں سے نکال دیا۔
جن چند سوالوں کے بعد مجھے کھانے کی دعوت دی گئی ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ سرسید پہ اس خصوصی عنایت کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اگر ایک آدھ کتاب پہ یہ صورت ہوتی تو میں اسے کسی شیطان بچے کی کارستانی سمجھ کے ٹال دیتا لیکن وہاں تو تقریبا ہر کتاب پہ سرسید کو دیے گئے تمام غیر سرکاری خطاب بہت خوش خط لکھے گئے تھے۔
مولانا سیف اللہ خالد نے، جو اس مدرسے کے منتظم اور نکالے جانے سے پہلےمیرے کیس کے تفتیشی افسر تھے، مجھے سرسید سے اس خصوصی عقیدت کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی لیکن جو اندازہ میں لگا سکا ہوں اس کے مطابق سرسید سے اس محبت کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔
ایک تو یہ کہ اہل مدرسہ نے جو بہادر شاہ ظفر میں عالمگیر ثانی ڈھونڈ رہے تھے جب رنگون سے پلٹ کر دیکھا تو انہی میں سے ایک سید احمد خان سفید جھنڈا لہرا کہ قلعےکی چابی کمپنی بہادر کو تھما چکے تھے۔
جو لوگ سرسید کی "اسباب بغاوت ہند" سے پہلے کی تصانیف سے واقف ہیں وہ نہ صرف یہ جانتے ہیں کہ سرسید کی کایا پلٹ لندن جانے سے پہلے ہو چکی تھی بلکہ یہ بھی کہ اس ذہنی انقلاب سے پہلے سرسید اسی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے جس نے کوئی ڈیڑھ سو سال بعد مولانا سیف اللہ خالد فاتح ربوہ ٹائپ کے لوگوں کو جنم دیا۔
سرسید کا دوسرا، اور سفید جھنڈا لہرانے سے بھی بڑا جرم اس نظام تعلیم کو متعارف کروانا تھا جس نے گلستان اور بوستان کے حافظوں کے سر سے دستارِفضیلت اتار کے اسے پی ایچ ڈی کے ہڈ میں بدل دیا۔
ظلم تو یہ کہ اس نظام تعلیم نے صرف دستار فضیلت ہی نہیں اتاری، جبّے کی جیب بھی کاٹ لی۔ جبّے کی جیب نے تو چلو سو سال بعد ہی سہی لیکن چندے کے اس ڈبے کی شکل اختیار کرلی جس کے اوپر پہلے ڈالر اور اب سعودی ریال کے سائز کا سوراخ ہوتا ہے لیکن دستارِ فضیلت بہت کوشش کے باوجود اپنی شکل میں واپس نہیں آ سکی۔
سرسید کی اس حرکت نے دو مسئلے پیدا کر دیے؛
ایک یہ کہ صدر ضیا کی تمام تر کوشش کے باوجود لارڈ میکالے نے کوئی ایسی پینٹ بنا کے نہیں دی جو پی ایچ ڈی کے ہڈ کے ساتھ بھی چل سکے اور جسے پہن کے مولانا سیف اللہ خالد ربوہ بھی فتح کر لیں۔
دوسرا یہ کہ بڑے بھائی کی قمیض اور چھوٹے بھائی کی شلوار کے ساتھ پی ایچ ڈی کا ہڈ پہن کے کھنچوائی جانے والی تصویر نہ فیس بک پہ لگانے کے قابل ہوتی ہے نا ہی جلسے کے پوسٹر پر چھپوانے جیسی۔
اب آپ خود بتائیں، ان حالات میں مولانا 'سر سید' کو فری میسن نہ کہیں تو کیا رحمت اللہ لکھیں!
شاعری اور تھیٹر کو اپنی ذات کا حصّہ سمجھنے والے سلمان حیدر راولپنڈی کی ایک یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں














لائیو ٹی وی
تبصرے (8) بند ہیں