• KHI: Zuhr 12:34pm Asr 5:17pm
  • LHR: Zuhr 12:05pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:10pm Asr 5:11pm
  • KHI: Zuhr 12:34pm Asr 5:17pm
  • LHR: Zuhr 12:05pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:10pm Asr 5:11pm
شائع August 2, 2019 اپ ڈیٹ August 8, 2020

کراچی اور بارش: برسہا برس سے برسا برس

عبیداللہ کیہر

بحیرہ عرب کے ساحل پر آباد کراچی، تقریباً 300 سال پرانا شہر ہے۔ 3 صدیاں قبل ٹھٹہ کی دریائی بندرگاہوں اور لسبیلہ کی سمندری بندرگاہوں کے ناکارہ ہوجانے کے بعد کراچی سندھ کی واحد بین الاقوامی سمندری بندرگاہ کے طور پر ابھرا۔ پھر اس ننھے سے قصبے نے بڑی تیزی سے ترقی کی اور بہت جلد خود کو دنیا کے اہم شہروں میں شامل کرلیا۔

1851ء میں کراچی کا ایک ساحل
1851ء میں کراچی کا ایک ساحل

20ویں صدی کے وسط میں جب برِصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں دنیا کے نقشے پر ’پاکستان‘ کے نام سے ایک نئی اسلامی مملکت ابھری، تو یہی شہر کراچی اس نوزائیدہ ملک کا دارالحکومت بن گیا۔

ہندو مسلم دو قومی نظریے کے تحت ہونے والی اس تقسیم کے نتیجے میں بھارتی حدود میں رہنے والے لاکھوں مسلمانوں کو پاکستان کی طرف ہجرت کرنا پڑی جو تاریخِ انسانی کی سب سے بڑی ہجرت سمجھی جاتی ہے۔

اس وقت دارالحکومت چونکہ کراچی تھا اس لیے مہاجرین کی بڑی تعداد نے اپنا رخ کراچی ہی کی طرف کیا، اور پھر اس وقت کراچی نہ صرف یہ کہ ایک بین الاقوامی بندرگاہ تھا، بلکہ وفاقی دارالحکومت ہونے کی وجہ سے سرکاری و غیر سرکاری ملازمتوں کے سب سے زیادہ مواقع بھی اسی شہر میں تھے۔

قیامِ پاکستان کے وقت کراچی کی آبادی ساڑھے چار لاکھ تھی اور اس وقت یہ برِصغیر کا سب سے زیادہ صاف ستھرا شہر کہلاتا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد جب بھارت سے آنے والے مسلمان مہاجرین کی بڑی تعداد نے کراچی کو اپنے رہنے کے لیے منتخب کیا تو 1951ء تک صرف 3 سال کے عرصے میں اس شہر کی آبادی 11 لاکھ تک پہنچ گئی۔

اپنی غریب پرور صفات اور روزگار کی بہتات کے باعث یہ شہر نہ صرف مہاجرین، بلکہ ملک بھر کے دیگر لوگوں کو بھی اپنی جانب کھینچتا رہا اور آج ’منی پاکستان‘ کہلائے جانے والے اس شہر کی آبادی 2 کروڑ سے بھی زائد بتائی جاتی ہے۔

میری پیدائش سندھ کے شہر خیرپور کی ہے۔ 1972ء میں جب ہمارا خاندان خیرپور سے کراچی منتقل ہوا تو میری عمر صرف 6 سال تھی۔ کراچی میں لالو کھیت اور بڑا بورڈ کے علاقوں میں چند ماہ گزار کر ہم پہلے ہی سال شہر کی مضافاتی آبادی قائد آباد آگئے اور پھر ہمارے اگلے کئی سال یہیں گزرے۔ جہاں کراچی کے اس دور کی عیدیں، تفریحات اور رسوم و رواج میرے لیے یادگار ہیں، وہیں اس دور کی بارشیں بھی بڑی سہانی ہوا کرتی تھیں۔

اس زمانے میں اکثر گھر کھلے صحن والے اور ایک منزلہ ہوا کرتے تھے۔ کمروں کی چھتیں بھی کنکریٹ کی بجائے نالی دار جستی چادروں کی ہوتی تھیں اور ان کی ڈھال صحن کی جانب رکھی جاتی تھی تاکہ بارش کا پانی چھت پر رُکے بغیر سیدھا صحن کی طرف آکر بہہ جائے۔

ان جستی چادروں کی چھتوں کی وجہ سے اس بات کا تو امکان ہی نہیں تھا کہ بارش کا پہلا قطرہ مکان کی چھت پر گرے اور مکینوں کو پتہ نہ چلے۔ بادلوں سے زمین کی طرف لپکنے والے ابتدائی قطروں سے ہی جستی چادروں کی چھتوں پر جلترنگ بجنا شروع ہوجاتے اور لوگ خوشی سے جھومتے ہوئے کمروں سے نکل کر کھلی جگہوں کی طرف لپکتے۔ بچے زور زور سے تالیاں بجاتے شور مچاتے دروازوں سے باہر نکل کر گلیوں اور میدانوں کی طرف دوڑ لگا دیتے۔

’اللہ میاں پانی دے، سو برس کی نانی دے‘

’آرَم پارَم چھما چھم، گیٹ سے نکلے جیسے ہم‘

بارشیں برستیں اور خوب برستیں۔ کئی کئی دن تک جھڑی لگی رہتی اور جل تھل ایک ہوجاتا۔

تب بارشیں خوب برستیں تھیں اور کئی دن تک جھڑی لگی رہتی اور جل تھل ایک ہوجاتا
تب بارشیں خوب برستیں تھیں اور کئی دن تک جھڑی لگی رہتی اور جل تھل ایک ہوجاتا

نہ جانے مجھے کیوں یہ لگتا ہے کہ اس زمانے کے گلی کوچوں میں کچرا آج کے مقابلے میں بہت کم پایا جاتا تھا۔ پولی تھین کے شاپنگ بیگ تو خیر اس وقت ہوتے ہی نہیں تھے۔ چپس، چھالیہ، شیمپو، مصالحے وغيره کے ’ساشے‘ کا بھی کوئی وجود نہیں تھا۔

گھر کا سودا سلف لانے کے لیے تنکوں کی ٹوکری یا کینوس کا تھیلا ہوتا تھا۔ دودھ کا ڈول، گھی کا مرتبان، دہی کا پیالہ، تیل کی بوتل، آٹے کا ڈبا، چینی کی برنی اور اس طرح کی کئی چیزیں ہم گھر سے ساتھ لے کر جاتے اور دکاندار سے سودا ڈلوا کر لاتے تھے۔

دیگر سودا بھی پلاسٹک کی تھیلیوں کی بجائے خاکی کاغذ کے لفافوں میں ملتا تھا۔ پیکنگ میٹیریل اور پروڈکٹ پریزنٹیشن کا کوئی وبال نہیں تھا۔ اس لیے معاشرے میں کچرا بہت کم ہوتا تھا۔ جا بجا کچرے کے ڈھیر نہیں ہوتے تھے۔ اس لیے جب بارش ہوتی تو ڈھلوانوں میدانوں میں بارش کا جو پانی جمع ہوجاتا وہ صاف ستھرا اور کچرے سے پاک ہوتا تھا، بلکہ لوگ ان برساتی تالابوں میں بلا تردد نہا بھی لیا کرتے تھے۔

مجھے یہ لگتا ہے کہ اس زمانے کے گلی کوچوں میں کچرا آج کے مقابلے میں بہت کم پایا جاتا تھا
مجھے یہ لگتا ہے کہ اس زمانے کے گلی کوچوں میں کچرا آج کے مقابلے میں بہت کم پایا جاتا تھا

بچے زور زور سے تالیاں بجاتے شور مچاتے دروازوں سے باہر نکل آتے
بچے زور زور سے تالیاں بجاتے شور مچاتے دروازوں سے باہر نکل آتے

مجھے یاد ہے کہ قائدآباد پر ہمارے گھر کے برابر میں ایک کنکریٹ کا پکا نالا تھا جو ریڈیو پاکستان کالونی کے برساتی پانی کی ملیر ندی تک نکاسی کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ برسات کے دوران یہ نالا پہاڑی نالوں کی طرح گرجتا برستا شور مچاتا بہتا تھا اور محلے کے بچے اس کے اندر خوب اودھم مچایا کرتے تھے۔

برسات کے ختم ہونے پر کہیں کوئی تعفن نہیں اٹھتا تھا۔ کچرا کنڈیوں کی سڑاند کا کوئی تصور نہیں تھا۔ گٹر اور برساتی پانی کے ملغوبے کا کئی کئی دن تک بدبو پھلانے جیسا کوئی عذاب نہیں ہوتا تھا۔ برسات کے بعد بچے کھیل کود اور سیر و تفریح کے لیے دُور دُور جاتے۔ بارش کے بعد ہلکی سی دھوپ نکلتے ہی ہم میدانوں میں بیربہوٹیاں پکڑنے نکل جاتے۔ زمین پر نگاہیں جمائے بچے بار بار صدا بلند کرتے:

’بلبوٹی بلبوٹی پنجے کھول تیرا ماموں آیا‘

سرخ رنگ کی مخملی بیر بہوٹی یہ سنتے ہی شرما کر اپنے کھلے پنجے بھی بند کرلیتی۔ تھوڑی ہی تگ و دو کے بعد ہر بچہ اپنے پاس موجود ماچس کی ڈبیوں میں کئی بیر بہوٹیاں پکڑ کر اپنے گھر لے آتا تھا اور سب کو فخر سے اپنا یہ مخملیں شکار دکھاتا۔

بارش کے بعد ہلکی سی دھوپ نکلتے ہی ہم میدانوں میں بیربہوٹیاں پکڑنے نکل جاتے
بارش کے بعد ہلکی سی دھوپ نکلتے ہی ہم میدانوں میں بیربہوٹیاں پکڑنے نکل جاتے

گیلی اور نرم ریتیلی زمین پر بچے ایک اور مزے کا کھیل بھی کھیلتے تھے۔ اس میں ایک بچہ ہاتھ میں چھری یا پیچ کس پکڑ کر ایک ایک قدم کے فاصلے پر اسے اچھالتے ہوئے بار بار زمین میں گھونپتا جاتا اور آگے بڑھتا جاتا، حتیٰ کہ چھری گر جاتی اور دوسرے بچے کی باری آجاتی۔

قائد آباد اور ملیر دونوں علاقے ملیر ندی کے اطراف میں آباد ہیں۔ ملیر ندی ہر سال برساتی پانی کے ریلوں سے بھر جاتی اور یہ بپھرا دریا کئی کئی روز بہتا رہتا تھا۔ لوگ دُور دُور سے قافلے بنا کر ملیر ندی کے کناروں پر پہنچتے اور ملیر ندی میں بہتے پُرزور و پُرشور پانی کا ہیبت ناک نظارہ کرتے۔

کچھ من چلے اپنی تیراکی پر بھروسہ کرتے ہوئے اس خطرناک پانی میں بھی چھلانگ لگا دیتے اور اپنی تیراکی کے جوہر دکھانے کی کوشش کرتے۔ اس خطرناک حرکت کے نتیجے میں کچھ تو اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے تھے۔

آج ہم کراچی کی ان موسلادھار، شاندار اور یادگار بارشوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو لگتا ہے کہ وہ بارشیں آج کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوا کرتی تھیں۔ ہفتے بھر کی جھڑی لگنا کوئی انوکھی بات نہیں سمجھی جاتی تھی۔ خاص طور پر جمعے کے دن بارش شروع ہونے کا مطلب ہی یہی لیا جاتا تھا کہ اب یہ بارش لازماً اگلے جمعے تک چلے گی۔

کراچی میں ملیر ندی کے علاوہ کئی اور بھی ندی نالے ہوا کرتے تھے جو بڑی سے بڑی برسات کے پانی کو آناً فاناً سمندر تک پہنچا دیتے تھے۔ لیاری ندی، تھدو ندی، جھڈو نالا، گجر نالا اور یہ سب ندی نالے بڑے وسیع، کچرے سے پاک اور خودرو پودوں یا عارضی باغبانی و کھیتی باڑی کا مرکز ہوتے تھے۔

کراچی کے نکاسی آب کے لیے یہی ندی نالے استعمال ہوتے تھے اور اس وقت ان کی وسعت کی وجہ سے ان کے اندر بہنے والے برساتی پانی کو سمندر تک پہنچنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی تھی۔ ان نالوں کے اندر نہ کوئی کچرا پھینکتا تھا اور نہ ہی ان میں قبضہ کرکے مکانات بنانے کی اجازت تھی۔

بارشیں عام طور سے گرمیوں میں ہی ہوتی تھیں اور یہ آموں کا بھی موسم ہوتا تھا۔ درختوں پر جگہ جگہ کوئل کوکتی سنائی دیتی تھی۔ آم تو خیر بارش سے پہلے ہی بازار میں آجاتے تھے لیکن لوگ زیادہ رغبت سے اس وقت کھاتے تھے جب ان پر ایک برسات گزر جائے۔ اس وقت لوگوں کا خیال یہ ہوتا تھا کہ بارش کے بعد آنے والے آم زیادہ میٹھے ہوتے ہیں۔ چنانچہ بارش ہوتے ہی آموں کے ٹھیلوں پر خریداروں کی یلغار ہوجاتی تھی۔

آموں کے ساتھ کالے کالے جامن بھی کھائے جاتے تھے۔ آم کھانے کے بعد اس کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے دودھ کی کچی لسی ضرور پی جاتی تھی۔ ہر گھر کے صحن میں کم از کم ایک درخت ضرور ہوتا تھا جس میں بارش ہوتے ہی رسی کا جھولا بندھ جاتا۔ گھر کی بچیاں برسات کا مزا لینے کے لیے ان جھولوں پر خوب زور زور سے جھولتیں اور ساتھ ہی بارش کے گیت بھی گاتی جاتیں:

’جھولا ڈالو ری، سکھی ساون آیو‘

’ساون کے دن آئے بالم، جھولا کون جھلائے‘

’اماں میرے ماموں کو بھیجو ری کہ ساون آیا‘

مرد، بچے اور بچیاں تو بارش کے مزے لینے میں مگن ہوجاتے اور عورتیں چولہوں کی طرف متوجہ ہوتیں۔ اب پکوڑے تلے جا رہے ہیں، سوجی کا حلوہ پک رہا ہے، پوریاں بن رہی ہیں، کڑکڑاتے تیل سے کچوریاں اتر رہی ہیں، نرم گندھے ہوئے میدے سے میٹھا مال پُڑا تیار ہو رہا ہے، میٹھی اور بیسنی روٹیاں بن رہی ہیں اور ہر گھر سے اشتہا انگیز خوشبوئیں اٹھ رہی ہیں۔ بچوں کو بازار دوڑایا جا رہا ہے کہ وہ جلدی سے جاکر گرما گرم جلیبیاں اور سموسے لے کر آئیں۔

مرد، بچے اور بچیاں تو بارش کے مزے لینے میں مگن ہوجاتے اور عورتیں چولہوں کی طرف متوجہ ہوتیں
مرد، بچے اور بچیاں تو بارش کے مزے لینے میں مگن ہوجاتے اور عورتیں چولہوں کی طرف متوجہ ہوتیں

بارش میں بچوں کو دوڑایا جاتا کہ وہ جلدی سے جاکر گرما گرم جلیبیاں
بارش میں بچوں کو دوڑایا جاتا کہ وہ جلدی سے جاکر گرما گرم جلیبیاں

اب پوریوں کچوریوں سے نمٹ کر لوگ شام کی چائے پی رہے ہیں۔ شام ہوتے ہی اس بات کا خدشہ سر اٹھانے لگتا کہ بلب کی روشنی پر خوب پتنگے آئیں گے اور جینا حرام کریں گے۔ چنانچہ ہر بلب کے اوپر مومی لفافہ چڑھایا جاتا، تاکہ روشنی کی تیزی کم ہوجائے اور پتنگے نہ آئیں۔

برسات کئی کئی دن جاری رہتی، حتیٰ کہ بچے نہا نہا کر اور بڑے چھتریاں اٹھائے اٹھائے تھک جاتے۔ بالآخر ساون بیت جاتا اور بارشیں ختم ہوتیں۔ برسات کے چند ہی دن بعد کراچی کی سرزمین سر سبز ہوجاتی۔ کھلے میدان، سڑکوں کے کنارے، ریلوے لائنوں کے اطراف اور سارے خالی پلاٹ ہری بھری نرم گھاس سے ڈھک جاتے۔ شہر کے مضافات میں ملیر اور گڈاپ کے ویرانے اور نشیب و فراز سوات اور کاغان کی وادیوں کا منظر پیش کرنے لگتے اور اس سرسبزی و شادابی کو دیکھ کر اہلیانِ کراچی کا دل بھی باغ باغ ہو جاتا۔

ملیر ندی کے اطرف اور کراچی کے مضافات میں بے شمار کنویں ہوا کرتے تھے جن کے میٹھے پانی سے کھیتی باڑی اور باغبانی ہوا کرتی تھی۔ ان کنووں میں پانی ہونے کادار و مدار انہی بارشوں پر ہوتا تھا۔ ندی نالوں میں سال میں کم از کم ایک مرتبہ برساتی پانی کا بھر کر بہنا ان کنووں میں پانی ہونے کے لیے ضروری ہوتا تھا۔ چنانچہ بارشیں بھی خوب ہوتی تھیں اور کنویں بھی سارا سال ٹھنڈے میٹھے پانی سے بھرے رہتے تھے۔ کون سا پھل اور کونسی ایسی سبزی تھی جو کراچی کے باغات میں پیدا نہ ہوتی ہو۔

پھلوں میں آم، کیلا، پپیتا، امرود، شریفہ، ناریل، شہتوت، جامن، کھجور، چیکو، تربوز، خربوزہ، انگور، بادام، لسوڑا، جنگل جلیبی، املی، آملہ، بیر، انار، کٹھل، ککروندا، بیلگری، پیٹھا، لیموں اور دیگر۔

اسی طرح سبزیوں میں بھنڈی، توری، ٹماٹر، ہری مرچ، پالک، دھنیا، پودینہ، پیاز، گوبھی، کدو، شلجم، گاجر، مولی، کھیرا، ککڑی، کریلا، ٹنڈے، گوار پھلی، شملہ مرچ، بینگن، لہسن، سیم کی پھلی، سلاد کے پتے اور پھر طرح طرح کے پھول، گلاب، چنبیلی، گیندا، رات رانی، دن کا راجہ، بوگن ولیا، سدابہار، نازبو، سورج مکھی، گل داؤدی اور اس ساری باغبانی اور کھیتی باڑی کا انحصار انہی بارشوں پر ہوتا تھا۔

کونسی سبزی تھی جو کراچی میں نہیں اگتی تھی؟
کونسی سبزی تھی جو کراچی میں نہیں اگتی تھی؟

طرح طرح کے پھول بھی کراچی میں دیکھنے کو ملتے تھے—فوٹو شٹر اسٹاک
طرح طرح کے پھول بھی کراچی میں دیکھنے کو ملتے تھے—فوٹو شٹر اسٹاک

ان ساری نعمتوں کا انحصار انہی بارشوں پر ہوتا تھا
ان ساری نعمتوں کا انحصار انہی بارشوں پر ہوتا تھا

برسات کے دنوں میں اکثر ہم دوستوں کے ساتھ مل کر ان باغات کا رخ کرتے۔ باغات میں پھل درختوں سے توڑ کر کھاتے، باغ کے ٹیوب ویل پر ٹھنڈے اور تیز رفتار پانی سے خوب نہاتے اور گھر واپس آتے ہوئے باغ کے بلوچ رکھوالے سے گھر کے لیے بلا معاوضہ سبزی بھی لیتے۔

پھر اللہ جانے ان سب چیزوں کو، اس شہر کو، کس کی نظر لگ گئی۔ آبادی میں نہ جانے کیسے بے تحاشہ اضافہ ہوتا گیا۔ افراتفری اور نفسا نفسی بڑھتی چلی گئی۔ شہر کی سیاست پر عدم برداشت اور تشدد غالب آتا چلا گیا۔

جن گلیوں پر پہلے بارش کی پھواریں برستی تھیں، ان گلیوں میں بے تحاشا خون بہنے لگا۔ شہر کی سیاسی قیادت اب زبان، رنگ و نسل اور فرقہ پرستی کے ایوانوں سے گزر کر برسرِ اقتدار آنے لگی۔

شہر کے ترقیاتی کام تشدد اور قتل و غارت میں کھو کر رہ گئے۔ سب سے اہم چیز اپنی جان کی حفاظت قرار پائی۔ گھروں کی دیواریں اونچی سے اونچی ہوتی چلی گئیں۔ آہنی گرل اور تالے کا کاروبار تیزی سے پھلنے پھولنے لگا۔ ندی نالوں پر لوگوں نے قبضے کرلیے۔ ہر جگہ اینگے بینگے ٹیڑھے میڑھے مکان تعمیر ہوتے چلے گئے۔

سڑکیں وہی کی وہی رہیں مگر ٹریفک بے تحاشا بڑھتا چلا گیا۔ لاکھوں موٹر سائیکلیں، گاڑیاں، کاریں، بسیں اور ٹرک اپنے شور اور دھویں کے ساتھ شہر پر قابض ہوتے چلے گئے۔ خوبصورت، پائیدار اور مہنگی جاپانی موٹر سائیکلوں کی جگہ بھدی، نا پائیدار اور سستی چینی موٹر سائیکلوں نے لے لی۔ موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں معمولی قسطوں پر ملنے لگیں اور شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا اژدہام دن دونی رات چوگنی بڑھتا رہا۔ موٹر سائیکل والے سائلنسر نکال کر ایک بلند و بیہودہ آواز کے ساتھ راہگیروں کے کان پھاڑتے ہوئے موٹر سائکل دوڑانے میں فخر محسوس کرنے لگے۔

ندی نالوں پر لوگوں نے قبضے کرلیے۔ ہر جگہ اینگے بینگے ٹیڑھے میڑھے مکان تعمیر ہوتے چلے گئے
ندی نالوں پر لوگوں نے قبضے کرلیے۔ ہر جگہ اینگے بینگے ٹیڑھے میڑھے مکان تعمیر ہوتے چلے گئے

سڑکیں وہی کی وہی رہیں مگر ٹریفک بے تحاشا بڑھتا چلا گیا
سڑکیں وہی کی وہی رہیں مگر ٹریفک بے تحاشا بڑھتا چلا گیا

دوسری طرف کاغذ کے لفافوں کی جگہ کالے نیلے پیلے شاپنگ بیگز نے لے لی۔ یہ پلاسٹک کی تھیلیاں نہ گلتی ہیں نہ مٹی میں معدوم ہوتی ہیں۔ ان تھیلیوں کے معمولی حجم مگر بے ہنگم پھیلاؤ نے پورے معاشرے کو اپنی غلیظ گرفت میں لے لیا۔

پھر رہی سہی کسر پلاسٹک کی بوتلوں نے پوری کی۔ کولڈ ڈرنک، جوس، تیل، شربت، پانی، کیمیکل غرض ہر چیز ان پلاسٹک کی بوتلوں میں آگئی۔ دنیا بھر میں پلاسٹک کے اس طوفان کے آگے بند باندھنے کی کامیاب کوششیں کی گئیں مگر یہاں اربابِ اختیار تھیلیاں اور بوتلیں بنانے والوں کے شریکِ کار ہوگئے۔

ان تھیلیوں کے معمولی حجم مگر بے ہنگم پھیلاؤ نے پورے معاشرے کو اپنی غلیظ گرفت میں لے لیا
ان تھیلیوں کے معمولی حجم مگر بے ہنگم پھیلاؤ نے پورے معاشرے کو اپنی غلیظ گرفت میں لے لیا

یہ پلاسٹک کی تھیلیاں نہ گلتی ہیں نہ مٹی میں معدوم ہوتی ہیں
یہ پلاسٹک کی تھیلیاں نہ گلتی ہیں نہ مٹی میں معدوم ہوتی ہیں

سڑکیں ناپائیدار، صفائی ناقص و نایاب، آلودگی بے تحاشہ، نکاسی آب کے راستے مسدود اور سیاست تعصب اور کرپشن کا شکار۔ حالات دن بدن دگرگوں ہوتے چلے گئے۔ پھر تو فطرت نے بھی اس شہر سے منہ موڑا۔ مہربان بارشوں نے اس شہر کا رخ کرنا چھوڑا اور اب جو بھی ابر و باراں اس شہر کی طرف آتے ہیں، بربادی و بے سرو سامانی ہی کا باعث بنتے ہیں۔

کراچی کی وہ مہینوں مہینوں جاری رہنے والی بوندا باندی اور بارشیں تو خواب ہوئیں۔ سال میں بس ایک یا دو دن کی موسلادھار دھار بارش ہی اس شہر کے سارے سرکاری انتظامات کی قلعی کھول دینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

کراچی کے وہی باسی جو کسی دور میں بارش ہونے کے لیے دعائیں کرتے تھے، اب بارش کی پہلی بوند سے ہی گھبرا جاتے ہیں۔ والدین بچوں کو اسکول بھیجنے سے کتراتے ہیں اور کام کرنے والے اپنے کام پر جانے سے گھبراتے ہیں۔ کہیں بارش نہ ہوجائے اور ہم واپسی میں سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے شام کو گھر ہی نہ پہنچ پائیں۔

کراچی کے وہی باسی جو ماضی میں بارش کی دعائیں کرتے تھے، اب پہلی بوند سے ہی گھبرا جاتے ہیں—فوٹو اے ایف پی
کراچی کے وہی باسی جو ماضی میں بارش کی دعائیں کرتے تھے، اب پہلی بوند سے ہی گھبرا جاتے ہیں—فوٹو اے ایف پی

ہماری طالبعلمی کا دور ختم ہوا اور پیشہ ورانی زندگی کا آغاز کیا تو مجھے یاد ہے کہ ہم برسات کے خدشے سے ڈیوٹی پر جانے سے گھبراتے تھے۔ کئی دفعہ یہی ہوا کہ ہم آفس میں بیٹھے ہیں اور باہر طوفانی بارش ہوگئی۔ آفس سے نکل کر تھوڑا ہی آگے آئے ہوں گے کہ پانی میں ڈوب کر گاڑی یا موٹر سائیکل بند ہوگئی۔

اب گاڑی والے تو گاڑی کو دھکا دے کر کہیں آگے پیچھے، فٹ پاتھ پر یا کسی پیٹرول پمپ پر کھڑی کرکے اللہ سے گاڑی کی خیریت کی دعائیں مانگتے ہوئے پیدل گھر کی طرف چل دیتے، مگر موٹر سائیکل والوں کے لیے دوہرا عذاب ہوتا۔ وہ بیچارے برساتی اور گٹر کے پانی میں خود کو بھی کھینچتے اور موٹر سائیکلوں کو بھی گھسیٹتے ہوئے کئی کئی گھنٹوں میں گھر پہنچ پاتے اور پھر اگلے کئی دن بخار میں مبتلا رہتے۔ میں خود ایک مرتبہ اسی طرح کی بارش کے بعد اپنے ویسٹ وہارف والے آفس سے ملیر میں گھر تک پورے 9 گھنٹے پیدل چل کر پہنچا۔

آفس سے نکل کر تھوڑا ہی آگے آئے ہوں گے کہ پانی میں ڈوب کر گاڑی یا موٹر سائیکل بند ہوگئی
آفس سے نکل کر تھوڑا ہی آگے آئے ہوں گے کہ پانی میں ڈوب کر گاڑی یا موٹر سائیکل بند ہوگئی

لہٰذا ان حالات میں کراچی والوں کے لیے بس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ بارش نہ ہونے کی دعا کیا کریں۔


عبیداللہ کیہر پیشے کے لحاظ سے میکینیکل انجینیئر، مگر ساتھ ہی سیاح، سفرنامہ نگار، پروفیشنل فوٹوگرافر اور ڈاکومنٹری فلم میکر ہیں۔ آپ کی اب تک 7 کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ آبائی تعلق سندھ کے شہر جیکب آباد سے ہے۔ عمر کا غالب حصہ کراچی میں گزارا اور اب اسلام آباد میں رہتے ہیں.

عبیداللہ کیہر

عبیداللہ کیہر پیشے کے لحاظ سے میکینیکل انجینیئر، مگر ساتھ ہی سیاح، سفرنامہ نگار، پروفیشنل فوٹوگرافر اور ڈاکومنٹری فلم میکر ہیں۔ آپ کی اب تک 15 کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ آبائی تعلق سندھ کے شہر جیکب آباد سے ہیں۔ عمر کا غالب حصہ کراچی میں گزارا اور اب اسلام آباد میں رہتے ہیں ۔

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔
ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے (31) بند ہیں

CanadianT Aug 02, 2019 07:09pm
Truly captured the city's deterioration. I left Khi years ago but my heart still goes on with this city and pray that Allah help us all to respect the space we have properly. Not to pollute and look at Government to clean the mess. Here in Canada there is no sweeper no machine but we follow laws by keeping garbage ourselves in bins which are weekly collected by city.
Jawed Akjter Aug 02, 2019 07:48pm
بہت اچھمعلماتی مضموم پے ماشا اللہ ،ہم شیرکریں گے، ا میرے بارے میں @DisabilityBarrier
Mishkat Aug 02, 2019 08:01pm
Beautifully written
Syed Abdullah Aug 02, 2019 10:16pm
اس شہر کو آگ لگا دی ناھنجار باسیوں نے۔ نا کوئی اصول نہ ضابطہ اور نہ ہی کوئی سوک سینس
fabiha nadeem Aug 02, 2019 10:17pm
maazrat kay sath urdu keyboard na honay ki wja sai roman main type karna par raha hai. Hamari ijtimai koshishain shayad is sheher ko theek karnay main madad karen. magar awam ki behisi is cheez ki ijazat nahi deti. Koi esi mohim ka agaz kia jaye jis sai is sheher ki roshni aur saaaf suthri sarzameen hamain wapis mil jaye. Ye gor o fikar karnay ka makaam hai hamain is masnooi mahool nay laal jhandi dikha di hai. Is haftay ki barishon nay Karachi ka jo haal kia hai us par dil khoon kay anson ro raha hai. Is article ko parh kar boht khush gawar laga Khuda karay k is sheher par hukumat dihan day!!!!!!!
mansoor Aug 02, 2019 10:47pm
I really enjoyed reading
kHUrram Aug 02, 2019 11:02pm
Zabardast Article
Waqas Janjua Aug 03, 2019 02:13am
Khuda us qoum ki halat ni badalta.....
تاج شیخ Aug 03, 2019 11:08am
کراچی کے بارے میں دلچسپ تحریر. پڑھنے میں اچھا لگا. گئے دنوں کی یاد تازہ کردی جب کراچی میں صفائی ستھرائی غالب تھی.
SkyHawk Aug 03, 2019 12:28pm
It was a good decision to leave Karachi forever. Thanks for a good article. Corrupt PPP destroyed Karachi and Sindh.
Ajamal Aug 03, 2019 02:08pm
@CanadianT آمین
Murad Aug 03, 2019 03:37pm
Plastic bags should be banned before its too late. Businesses manufacturing them and those failing to discontinue their use should be sealed. All neighbouhood needs to participate in cleaning the garbage dumps and muncipal units need to start collecting garbade on a weekly basis. All major drains need to be cleaned and illegal buildings in waterway easements should be demolished. Hard steps on a few thousand people but a necessity now to make life 'liveable' for millions.
M.B.A.SHAKIR Aug 03, 2019 04:11pm
HAFIZA CHEEN LAY MUJH SAY MERA YAD E MAZI AZAB HAY YARAB
M.B.A.SHAKIR Aug 03, 2019 04:13pm
MAIN KIS KAY HATH PEY APNA LAHOO TLASH KEROON KEH SAREY SHAHER NAY PEHAN RKEHAY HAIN DESTANEY
Imran Wajid Aug 03, 2019 04:30pm
enjoyed very much....Writer took us to our childhood ... very informative...keep it up..
بہاؤالدین ملکیار Aug 03, 2019 04:55pm
بهترین مضمون ہے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
بہاؤالدین ملکیار Aug 03, 2019 04:57pm
بہترین مضمون ہے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
Parvez iqbal Aug 03, 2019 05:34pm
Mheve e hair at houn Dunia Kia say Kia ho Gaye.. Na sir Napier na sir Frere zinda ho saktay hn na es city ko zindigi mil sakti hy.. Yeh shayad ek haqiqat ka khuwab Banna hy.. Es city ko kisi nay own nahi Kia.. Jo 10 rupees lay kr apnay villages say Karachi aa kr yahan say kama kr crore ya Arab Pati bun kr bhi es city k own na kr sakay tu aam admi say Kia shikwa..
white noise Aug 04, 2019 07:08am
bad urban planning and no effort to change anything..
ahmed Aug 04, 2019 09:46am
bete dino k yadon ko kse mn bula doon
قمر احمد Aug 04, 2019 10:37am
بہت ھی اچھا مضمون ھے۔ بچپن کی یادیں تازہ ھو گی۔ کراچی کی بری حالت کے ذمہ دار صرف ادارے ہی نہیں ہیں بلکہ عوام بھی اس میں برابر کی شریک ہے ہے کیونکہ کچرا نالوں میں اور پلاسٹک بیگ بنانے والے لے اس میں برابر کے شریک ھیں۔ اگر حکومتی اھلکار اوپر کی آ مدنی سے پرھیز کریں اور پلاسٹک کی تھیلیاں بنانے والے بند کردیں تو کافی حد تک بہتری آ سکتی ھے۔
Aban Usmani Aug 04, 2019 02:27pm
بہت خوبصورت یادیں ہیں مجھے بہت تفصیل تو یاد نہیں مگر ہر گرمیوں میں تایا کے پاس کراچی جانا ہماری اصل چھٹی ہوتی تھی پلے لینڈ کی باؤلنگ ایلی ،ڈاجم کار وغیرہ کے مزے کون جانتا ہے۔ بندر روڈ سے کیماڑی چلی ری میری گھوڑا گاڑی جو ٹم ٹم ٹانگا چلا کرتا تھا۔ کراچی کی ٹرام جس میں ڈرائیور ایک کونے سے اٹھ کر دوسرے میں جاکر ٹرام الٹی طرف چلانی شروع کردیتا تھا کیسا ہمیں حیران کرتی تھی میرے تایا پیر الٰہی بخش کالونی میں رہتے تھے اور ایک بارش میں پانی کس ایسا ریلا ہماری گلیوں بہنے لگا تھا کہ ہم اس میں نہ صرف جگجیت کی کاغذ کشتیاں چلا رہے تھے بلکہ سوئمنگ کی کوشش بھی کر رہے تھے اور اس دوران اپنی چپلیں گنا بیٹھے تھے
Khurshid Aug 04, 2019 05:35pm
Cleanliness must be taught from home and schools. It is a pity what Karachi has become, a big garbage dump. It was a beautiful clean city, there was civic sense. Now everyone thinks cleanliness is someone else's business. Every individual is responsible.
KHAN Aug 04, 2019 08:37pm
آپ نے بجلی کے بارے میں کچھ نہیں لکھا، اس وقت شاید قاتل الیکٹرک نہیں تھی۔
Asim Aug 08, 2020 01:46pm
Jee, jab taleem or Mulazmato my Karachi ko rook dia gaya to yah ibteda the is sahar ko tabah karny ke. Phir aagay khud he maamlaat automatically multiply hoty rahy.
kamal Aug 08, 2020 03:44pm
. Really enjoyed and started rewinding my childhood memories
یمین الاسلام زبیری Aug 08, 2020 11:37pm
بہت عمدہ مضمون ہے۔ بہیر بوٹی کی تصویر دینے کا شکریہ۔ میں اپنی یاد سے بتاتا ہوں کہ ہم ۱۹۶۹ میں ناظم آباد سے شمالی ناظم آباد منتقل ہو گئے تھے۔ ہم شپ اونرز کے بالکل سامنے اسے دیکھتے ہوئے رہتے تھے۔ اکثر پہاڑ پر بھی چڑھ جاتے تھے، اور اس کے پیچھے جا کر منگھوپیر تک پیدل سیر کیا کرتے تھے۔ سارے میں میدان ہوا کرتے تھے جن میں بارش کے بعد جوہڑ بن جایا کرتے تھے اور اونچی اونجی گھانس بھی نکل آتی تھی۔ پارش سے پہلے اور بعد منظر بالکل بدلا ہوا ہوتا تھا۔ اب اس جگہ کچی آبادیاں آباد ہیں اور گندگی کے ڈھیر ہیں۔ ایک بات اور کہ کراچی میں ہر سال بارش نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ ایک دو سال کے بعد ہوا کرتی تھی اور تیز ہوتی تھی۔
sYED MOHIUDDIN Aug 09, 2020 12:01am
yes, I fully agree with UBAIDULLAH KHAIR......All the articles Published are true and I witness them KARACHI was really one of the beautiful cities of the world up to 1990.......??????? we always enjoy RAIN the highest RAIN was recorded in the year 1967 when the entire KORANGI INDUSTRIAL AREA SINK into the Rainwater along with PECHS Block-6 near Chanacer goat Rainwater came up to Defence Phase-4 because till that time no other Phases were developed.
Polaris Aug 09, 2020 01:45am
Very good coverage. Karachi was once a nice city with towering KMC building. Looks like people have accepted the ugly bad situation. The KMC must be empowered again. I wonder why Muslims have forgotten that "SAFAI IS NISF EEMAN".
fareed Aug 09, 2020 06:53am
The standard of the city droped sharply after partition. Example of Lawrance road was a beautiful scene with lyari river and khirthar mountain range in the back drop and then we saw. Then due to influx of people we saw cheap heavy commercialization such as using old rubber thongs as fuel severly damaged air quality, irregular shanty towns, people started living over sewer nalas. And now after so many years plastic bags are our national symbol, ignorance at its best.
ali Aug 09, 2020 11:12am
Nostalgic. Having spent my childhood in Alfalah, Malir Halt (other side of Malir Nadi) there is so much to relate to.