کیا کاروبار کرنا واقعی اتنا ہی آسان ہے؟

19 ستمبر 2019

ای میل

ہمارے یہاں یہی سکھایا جاتا ہےکہ پڑھ لکھ کر اپنا کام کرنے سے بہتر ہے کہ نوکری ڈھونڈو، صبح گھر سے نکلو، شام تک واپس آجاؤ—فوٹو: ارورا
ہمارے یہاں یہی سکھایا جاتا ہےکہ پڑھ لکھ کر اپنا کام کرنے سے بہتر ہے کہ نوکری ڈھونڈو، صبح گھر سے نکلو، شام تک واپس آجاؤ—فوٹو: ارورا

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کاروبار کو مشکل ہی نہیں بلکہ مشکل ترین کام بنادیا گیا ہے۔ اپنے بچپن سے ہی یہ سنتے آئے ہیں کہ کاروبار کرنا شریف لوگوں کا کام نہیں، اس میں دو نمبریاں ہوتی ہیں، پھر نفع نقصان کا بھی کچھ معلوم نہیں ہوتا، اور جس کی پہنچ نہ ہو، وہ تو کبھی کامیاب ہو ہی نہیں سکتا، اس لیے ملازمت کرنا ہی بہتر ہے، کم از کم ملازمت کرنے والے کو یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ مہینے کے آخر میں پیسے مل جاتے ہیں۔

یہ سال 2013ء کی بات ہے، ہم ایک اخبار میں کام کرتے تھے۔ شادی کو تقریباً ساڑھے 4 ماہ ہی ہوئے تھے۔ یہاں واضح کرتے چلیں کہ دیگر کاروباری اداروں کے برعکس میڈیا اداروں میں ہفتہ وار صرف ایک دن کی ہی تعطیل ہوتی ہے۔ ہم بھی اپنی ہفتہ وار چھٹی گزار کر اپنے دفتر پہنچے تو ہمیں اندر جانے کی اجازت ہی نہ ملی اور باہر سے ہی یہ خبر سنا دی گئی کہ آپ کا اب اس ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔

خیر ہم افسوس و ملال کے احساس کے ساتھ یہ سوچتے ہوئے گھر لوٹ آئے کہ یقیناً اس میں اللہ کی کچھ نہ کچھ بہتری ہوگی، وہی بہترین کارساز ہے۔

اگلے 6 ماہ تک میں بیروزگار رہا اور اس عرصے میں بار بار خیال آیا کہ کوئی ’اپنا‘ کام شروع کرتے ہیں، کب تک نوکری کی صورت میں غلامی کرتے رہیں گے؟ لیکن جب جب یار دوستوں سے اس بارے میں بات کرتے وہ یہی مشورہ دیتے کہ بھئی جس کام کا تجربہ ہے اسی کام میں ہاتھ ڈالو (مختصر یہ کہ نوکری ہی ڈھونڈو)، جس چیز کا پتہ نہ ہو اس میں نقصان کا بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

لہٰذا، ہم فارغ بیٹھے رہے اور نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے۔ لیکن دل کے کسی کونے میں اپنا کام شروع کرنے کا خواب دیکھنا بند نہیں کیا، کیونکہ اس کام کے لیے جن لوگوں کی ہمت کی ضرورت تھی، وہ مستقل ڈراتے ہی رہے۔

ہمارے معاشرے میں یہ عام ہے کہ اکثریت کو یہی سکھایا جاتا ہے کہ نوکری میں زیادہ اطمینان ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پڑھ لکھ کر کام شروع کرنے سے بہتر ہے کہ آرام سے نوکری ڈھونڈو، صبح گھر سے نکلو اور شام تک واپس آجاؤ۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ کاروبار کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں کیونکہ کاروبار کرنے کے لیے ہمت ہونے کے ساتھ ساتھ رسک لینے کا حوصلہ بھی درکار ہوتا ہے۔

لیکن اگر ان تمام لوگوں کے مشوروں کو ایک طرف رکھ کر یہ فیصلہ کرلیا جائے کہ نہیں، اب کچھ ہوجائے، مجھے تو اب کاروبار ہی کرنا ہے تو ایک نئی آزمائش اس وقت کھڑی ہوجاتی ہے کہ کیا کاروبار کیا جائے؟ یہاں ذہن الجھ جاتا ہے کیونکہ بہت سارے خیالات اور آئیڈیاز آنے لگتے ہیں اور ذہن منتشر ہونے لگتا ہے۔ اس طرح اپنے کام کا ارادہ کمزور پڑنے لگتا ہے اور پھر لامحالہ یہ سوچ حاوی ہوجاتی ہے کہ بھیا آپ جہاں ملازمت کررہے ہو، وہی ٹھیک ہے۔

لیکن کبھی کبھی انسان کی زندگی میں چند ایسے لمحات آجاتے ہیں جو سوچنے اور سمجھنے کے سارے زاویوں کو تبدیل کرکے رکھ دیتے ہیں۔ ایسا ہی گزشتہ دنوں اس وقت ہوا جب میرا ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام انڈسٹری کی سب سے بڑی نمائش کی بریفنگ میں جانا ہوا۔ اس تقریب میں نمائش کی منتظم کمپنی ای کامرس گیٹ وے پاکستان کے صدر 64 سالہ ڈاکٹر خورشید نظام نے حاضرین کو اپنا کام شروع کرنے کے حوالے سے دلچسپ معلومات فراہم کیں۔

پہلی بات تو یہ سمجھ آئی کہ اکیلے کام کرنے کے بجائے کم از کم 2 افراد مل کر کمپنی بنالیں۔ دنیا بھر میں لوگ افراد کو نہیں بلکہ کمپنی کو سنجیدہ لیتے ہیں، لہٰذا ہمیں بھی چائیے کہ 2، 3 یا 4 افراد مل کر کمپنی بنالیں اور کام کی شروعات کرکے پہلے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے ادارے کی پہچان بنائیں۔ اسی طرح ڈیجیٹل میدان کی اہمیت کو کبھی نہ بھولیے، کیونکہ اس میدان میں اپنی موجودگی ظاہر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

شراکت داری کا کاروبار آج کل بڑی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے لوگ بڑے بڑے کاروبار میں قدم رکھ رہے ہیں۔ موجودہ ماحول میں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر کا کاروبار شراکت داری کی وجہ سے ہی پھل پھول رہا ہے۔

اس تقریب میں شرکت سے اندازہ ہوا کہ چھوٹے اور کامیاب آئیڈیاز ہمارے ارد گرد بکھرے رہتے ہیں، مگر چونکہ ہماری توجہ اس طرف نہیں ہوتی، اس لیے ہم ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

پاکستان میں اس وقت خراب معاشی صورتحال کے باوجود ترقی کے بھرپور مواقع ہیں۔ ایک عام سی مسواک جسے ہم بالکل اہمیت نہیں دیتے، وہ اس وقت امریکا میں ساڑھے 4 ڈالر میں فروخت ہورہی ہے۔ اسی طرح شیرمال اور نان کی امریکا سمیت مختلف ممالک میں طلب ہے اور لوگ یہاں سے نان اور شیرمال بھی برآمد کرتے ہیں۔ آپ شاید جان کر حیران رہ جائیں کہ حد تو یہ ہے کہ شٹل کاک برقع جسے ہمارے ہاں محدود طبقے میں پہنا جاتا ہے، وہاں یورپ میں ساحل سمندر پر یہ بطور عارضی 'چینجنگ روم' کے استعمال ہورہا ہے۔

ہمیں بتایا گیا کہ امریکا کے ساحلوں پر چونکہ خواتین عام طور پر محض 2 کپڑوں میں ہوتی ہیں، لہٰذا انہیں کپڑے تبدیل کرنے کے لیے 'چینجنگ روم' کا سہارا لینا پڑتا ہے، لیکن وہاں لوگ زیادہ اور رومز کم ہوتے ہیں اور یوں کئی کئی منٹ انتظار میں لگ جاتے ہیں۔ اس لیے اس موقع کو موقع غنیمت جانا اور وہاں شٹل کاک کی صورت لوگوں کو اپنا 'چینجنگ روم' فراہم کردیا گیا۔ اب خواتین وہی شٹل کاک پہنتی ہیں اور اسی کے اندر رہتے ہوئے باآسانی کپڑے تبدیل کرکے چند ہی منٹوں میں اپنے گھر کے لیے روانہ ہوجاتی ہیں۔

اسی طرح دنیا میں ہاتھ سے تیار سامان کی بڑی مانگ ہے اور پاکستان میں مختلف اقسام کی چیزیں ہاتھ سے تیار کرنے کے حوالے سے بھرپور مواقع موجود ہیں جنہیں چین سمیت مختلف ملکوں میں ڈالروں میں بیچا جاسکتا ہے۔

اس سے بھی بڑھ کر ایک اور حیران کن مثال پراٹھے اور سموسے کی ہے۔ ہمارے ہاں کم سے کم ایک پراٹھا 15 روپے سے 20 روپے میں مل جاتا ہے، جبکہ سموسہ بھی 10 روپے سے 12 میں ہر جگہ دستیاب ہوتا ہے۔ اب اپنے پڑوسی ملک چین چلتے ہیں۔ چین، جس کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ ان کی غذائیں ہماری غذاوں سے بالکل ہی مختلف ہیں، تو ایسے سوچنے والے تمام لوگوں کے لیے اطلاع عرض ہے کہ وہاں ان پراٹھوں اور سموسوں کی طلب اربوں تک پہنچ چکی ہے۔

جو پراٹھا ہمارے یہاں محض 20 روپے کا ملتا ہے، وہی پراٹھا چین میں 200 روپے سے زائد کا بک جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق چین ہر سال ایک ارب کچے پراٹھے درآمد کرتا ہے۔ لیکن یہاں سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ اتنی بڑی کھپت ہونے کے باوجود پاکستان، یعنی چین کا اسٹریٹجک پارٹنر اور دوست خالی ہاتھ ہے، جبکہ چین کا دشمن یعنی بھارت نے یہ پوری مارکیٹ اپنے ہاتھ میں لی ہوئی ہے۔ بھارت کے ساتھ ساتھ تھائی لینڈ، ملائیشیا اور دیگر ممالک بھی اس مارکیٹ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

یعنی یہ اتنا بڑا کام ہے کہ پاکستان میں رہتے ہوئے لاکھوں نہیں تو ہزاروں افراد خصوصاً خواتین کو ایک اچھا اور منافع بخش روزگار مل سکتا ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پاکستان اپنے دوست اور پارٹنر چین سے اس بارے میں بات کرے۔

میں اگر اپنی ذاتی معلومات کی بات کروں تو چین جانے والے ہر ایک دوست اور رشتہ دار کو اگر وہاں کسی چیز نے پریشان کیا ہے تو وہ وہاں حلال کھانے کی کمی نے پریشان کیا ہے۔

وہاں صرف پاکستانی ہی نہیں، بلکہ ہزاروں دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان بھی اسی ایک مسئلے کی وجہ سے پریشان ہے۔ اس لیے یہ کتنا ہی اچھا ہو کہ ہمارے یہاں سے لوگوں کو وہاں بھیجا جائے اور وہاں حلال کھانوں کے ایک پورے نظام کا آغاز ہوجائے۔ پھر وہاں ناکامی کا بھی کوئی امکان نہیں، کیونکہ ڈیمانڈ تو وہاں بہت زیادہ ہے، بس کمی ہے تو سپلائی کی۔

ہمارے پاس ہر طرح کے وسائل موجود ہیں، بس ہمیں ان وسائل کو منظم انداز سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ محض چند آئیڈیاز ہیں جس کا ہم نے سنا اور آپ کے سامنے ذکر کیا ہے۔ ایسے یقینی طور پر بے شمار دیگر خیالات ہوں گے جن پر اگر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو وہ کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

لہٰذا میں نے تو اس پر سوچنا شروع کردیا ہے، امید ہے آپ بھی سوچیں گے، اور ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ اب صرف سوچیں ہی نہیں، بلکہ عملی قدم بھی اٹھانا شروع کریں کہ اپنا کاروبار اپنا ہوتا ہے، پھر چاہے اس میں کتنی ہی مشکل آئے، خطرات کا سامنا ہو، اور کتنا ہی نقصان ہوجائے۔