آج کے حکمرانوں کے لیے بابر کی تربیت ضروری ہے

05 اکتوبر 2019

ای میل

بھارت میں اس وقت جاری قوم پرستانہ بیانیے کی 2 بڑی وجوہات سمجھی جارہی ہیں۔ پہلی وجہ ہندتوا نظریے کی مقبولیت اور دوسری وجہ اس مباحثے میں مغلوں کو ولن کے طور پر پیش کیا جانا ہے۔

اگر بھارتی تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو مغلیہ سلطنت نے ملک کی فنِ تعمیرات، انتظامیہ اور فنون میں اپنا کچھ خاص حصہ نہیں ڈالا۔ بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ شہنشاہ بابر اور ان کی اولادوں نے یہاں کچھ زیادہ کارنامے انجام نہیں دیے ہوں لیکن انہوں نے ہندو مندر نہیں توڑے اور غیر مسلموں کو ظالمانہ انداز میں محکوم بھی نہیں بنایا۔

مغلوں کی خام اور سفید و سیاہ میں تصویر کشی دراصل مودی کی دائیں بازو والی بی جے پی حکومت کے اقتدار میں بھارتی مسلمانوں سے روا رکھے جانے سلوک کو درست ٹھہرانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔

گزشتہ کئی برسوں سے تعلیمی نصاب اور عوامی شعور سے مغلوں کی ہندوستان کے لیے پیش کی گئی خدمات کو مسخ کیا جارہا ہے۔ تاہم مبالغہ آرائی اور ہیجان کی کیفیت سے بھرپور موجودہ وقت میں بابر کی جانب سے اپنے بیٹے ہمایوں کو 11 جنوری 1592 کو لکھے گئے خط کو پڑھنا کافی مفید رہے گا۔

’میرے بیٹے! ہندوستان گوناگوں عقائد کا مرکز ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ جس نے یہ سلطنت عطا کی۔ تمہیں اپنے دل کو ہر قسم کے مذہبی تعصب سے پاک رکھتے ہوئے ہر ایک برادری کے عقائد کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہوگا اور گائے کی قربانی سے خود کو خاص طور پر باز رکھنا ہوگا کیونکہ اسی طرح تم ہندوستان کے لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرسکتے ہو اور شاہی حمایت کی بدولت سلطنت کی رعایا خود کو تمہیں وقف کردے گی۔

’تمہیں سلطنت کی حدود میں موجود ہر برادری کے مندروں اور عبادت گاہوں کو نقصان نہیں پہنچانا۔ انصاف کی فراہمی یقینی بناؤ تاکہ حکمران رعایا سے خوش رہ سکے اور اسی طرح رعایا حکمران سے خوش رہ سکے۔ اسلام کی ترقی کے لیے ظلم کی تلوار کے بجائے ہمدردی کی شمشیر کا انتخاب بہتر ہے۔

’شیعہ سنی تنازعات کو نظرانداز کرنا کیونکہ یہ تنازعات ہی اسلام کو کمزور کرتے ہیں۔۔۔‘

یہ خط بھارت اور اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر پاکستان کے لیے سبق آموز ہے۔ بلاشبہ، اگر ہم بابر کے الفاظ پر صدقِ دل کے ساتھ عمل کریں تو پوری مسلم دنیا موجودہ حالت سے کہیں زیادہ بہتر مقام حاصل کرلے گی۔ اگرچہ برداشت کا یہ پیغام پورے عالم کے لیے ہے لیکن آج اسے بڑی حد تک نظر انداز کیا جاتا ہے۔

تاہم دنیا میں صرف مسلمان ہی عدم برداشت کا مظاہرہ نہیں کرتے: امریکا کے ٹرمپ سے لے کر برطانیہ کے بریگزٹ تک، ہر موضوع پر عوامی بیانیے میں سخت مزاجی اتر آئی ہے۔ دوسرے کی رائے سننے کے بجائے ہم اپنے خیالات مسلط کرنے کی کوشش کرنے کے لیے شور مچاتے ہیں۔ حال ہی میں برطانوی پارلیمنٹ کے اسپیکر کو ایوان کے فلور پر کھڑے ہوکر زہریلی زبان استعمال کرنے پر ممبران کو ڈانٹ پلانا پڑگئی تھی۔

اپنے وطن میں اقلیتوں کے ساتھ ہمارا رویہ مسلسل ظالمانہ رہا ہے۔ ہندو، مسیحی اور احمدی خوف کے سائے میں رہتے ہیں اور یہی حالت شیعہ افراد کی ہے۔ ہندو مندروں اور مقدس نقاشی کو مسخ کیا جاتا رہا ہے۔ مسیحی افراد پر آئے دن توہین کا الزام عائد کیا جاتا ہے جس کی سزا موت ہے۔

احمدیوں کو مسلمانوں کی طرح سلام کرنے کے ’جرم‘ میں قید میں ڈالا جاسکتا ہے۔ ہر دوسرے تیسرے دن ہندو لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے اور جبراً اسلام قبول کروا کر ان کی شادی طاقتور جاگیرداروں سے کروادی جاتی ہے۔

اگر آج بابر ہوتا تو وہ ہمارے ان رویوں کا کیا مطلب نکالتا؟ ہم خود کو مغلوں کا وارث تو قرار دیتے ہیں لیکن ہمارا برتاؤ وحشیوں سا ہے۔ ماضئ قریب میں ایک ایسا بھی وقت تھا، جسے گزرے زیادہ عرصہ نہیں ہوا، جب بھارت نے جمہوریت اور سیکولرازم میں مثال قائم کی تھی، افسوس کہ وہ وقت بیت چکا۔ موجودہ وقت کی ستم ظریفی کا عالم تو دیکھیے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آوازیں اب بھارت کو اس کے سیکولر آئین کی یاد دہانی کروا رہی ہیں۔

پوری دنیا سے ہی برداشت کا خاتمہ ہو رہا ہے، حالانکہ یہی برداشت جمہوریت کی بنیاد ہے۔ ایک ملک جو باہر سے تو تمام جمہوری خصوصیات کا حامل نظر آسکتا ہے لیکن اس کا دنیا میں سب سے زیادہ آزادی پسند آئین اس طاقتور ایگزیکیٹو کے آگے تار تار ہوجائے گا جو قانونی نزاکتوں کو ذرا بھی خاطر میں لانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

امریکی باشندوں کو 1787ء میں ان کے ملک کے بانیان کی جانب سے مرتب کردہ اپنی نوعیت کے پہلے آئین پر فخر کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ آئین میں چیک اینڈ بیلنس کے مختلف طریقہ کار وضح کرتے ہوئے اس دستاویز کے ذریعے صدر کے اختیارات کو محدود کرنے کی خاطر صدر اور عدلیہ و قانون ساز ادارے کے اختیارات کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کی گئی۔

تاہم، جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا عملی مظاہرہ کرکے دکھا دیا ہے کہ یہ چیک اینڈ بیلنس صرف اسی وقت کارگر ثابت ہوتے ہیں جب صدر ان کا احترام کرتا ہے۔ کئی ملکوں کے آئین میں عام طور پر کوئی بھی صدر صرف 2 مدتوں تک صدارت کے عہدے پر فائر رہ سکتے ہیں۔ تاہم آمرانہ رجحانات کے حامل طاقتور صدور نے یا تو ترامیم کے ذریعے حد ختم کروادی جس کی مدد سے وہ ہمیشہ کے لیے صدر بن کر بیٹھ گئے یا پھر حکومتی مدت میں توسیع کی خاطر اپنے وزرائے اعظم سے عہدہ بدل لیتے ہیں جبکہ اقتدار کی حقیقی لغام اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے ہوتے ہیں۔

قصہ مختصر یہ ہے کہ برداشت کے بغیر آئین اور جمہوریت کی تمام تر باگوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر بھارت کو ایک حقیقی سیکولر ریاست بنانے کے لیے عزم ہی نہیں ہوگا تو پھر چاہے آئین میں کتنی ہی شقیں کیوں نہ متعارف کروالی جائیں ان سے یہ ملک سیکولر نہیں بن سکے گا۔ اسی طرح جب پاکستانی ریاست مشتعل ہجوم کے آگے جھک جائے تو پھر پاکستانی اقلیتوں کو چاہے کتنا ہی آئینی تحفظ حاصل کیوں نہ ہو اس کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔

جب ہندوستان پر بابر کی حکمرانی تھی تب جمہوری نظام کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ مگر بطورِ منتظم، وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ اس بڑے اور تکثیری ملک میں سماجی ہم آہنگی صرف اس وقت ہی ممکن ہے جب ہر ایک برادری کو یکساں حیثیت میں عدل و انصاف فراہم ہوگا۔ ایک چھوٹی مسلم اکثریت اپنے سے ہندوؤں کی کئی گُنا بڑی آبادی سے لڑائی مول لے کر حکمرانی نہیں کرسکتی تھی۔

پاکستان اور بھارت بلکہ دنیا کے کئی ملکوں میں ’دوسرے‘ پر شک ہی ظلمت اور خوف کی راہ ہموار کرتا ہے اور ہم سے ہماری انسانیت چھین لیتا ہے۔


یہ مضمون 5 اکتوبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔