ترکی کے شام میں حملے: عمران خان کی طیب اردوان کو پاکستان کی حمایت کی یقین دہانی

اپ ڈیٹ 11 اکتوبر 2019

ای میل

پاکستان، ترکی کی دہشت گردی سے متعلق تشویش کو پوری طرح سے سمجھتا ہے، عمران خان — اے ایف پی/ فائل فوٹو
پاکستان، ترکی کی دہشت گردی سے متعلق تشویش کو پوری طرح سے سمجھتا ہے، عمران خان — اے ایف پی/ فائل فوٹو

شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف ترکی کے آپریشن پر عالمی سطح پر تنقید سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو ٹیلی فون کر کے پوری حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر اعظم اور ترک صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس دوران گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ 'پاکستان، ترکی کی دہشت گردی سے متعلق تشویش کو پوری طرح سے سمجھتا ہے۔'

یہ بھی پڑھیں: شام: ترکی کے کرد ٹھکانوں پر حملے، 8 جنگجوؤں سمیت 15 افراد ہلاک

ان کا کہنا تھا کہ 'دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانیں ضائع کرنے اور دہائیوں سے 30 لاکھ پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھانے والے ملک ہونے کے ناطے پاکستان، ترکی کو درپیش خطرات اور چیلنجز سے پوری طرح آگاہ ہے’۔

انہوں نے کہا کہ 'ہماری دعا ہے کہ ترکی کی سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے، خطے میں امن و استحکام لانے کے لیے کوششیں کامیاب ہوں'۔

ترکی، شام کے سرحدی علاقے میں اپنے ملک میں موجود شامی پناہ گزینوں کو آباد کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے ترکی نے رواں ہفتے شمالی شام میں کرد ٹھکانوں پر حملے کا آغاز کیا تھا جس پر کئی ممالک نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انقرہ سے آپریشن روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: ترکی نے شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کردیا

ٹیلی فونک رابطے کے دوران وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت اور پاکستان کی عوام رواں ماہ کے اختتام میں ترک صدر کا پاکستان میں استقبال کرنے کے منتظر ہیں۔