ہزاروں بھارتی خواتین کا شادی کے نام پر جنسی و جذباتی استحصال

تقریبا 5 ہزار بھارتی خواتین سے شادیاں کرکے ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے والے افراد بیرون ملک فرار ہوگئے، حکومتی رپورٹ
اپ ڈیٹ دسمبر 12, 2019 08:27pm

بھارتی حکومت نے شادی کے نام پر جنسی، جذباتی و مالی استحصال کا نشانہ بنائی گئی خواتین کی تعداد 5 ہزار تک پہنچ جانے کا اعتراف کیا ہے۔

حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس جون تک بھارت بھر کی 4 ہزار 698 خواتین ایسی تھیں جنہوں نے دوسرے ممالک میں رہنے والے اپنے شوہروں سے علیحدگی سے متعلق شکایات درج کروائی تھیں۔

بھارت کی وزارت داخلہ کے مطابق شکایت درج کروانے والی خواتین نے دوسرے ممالک میں رہنے والے اپنے بھارتی شوہروں کی جانب سے نظر انداز کیے جانے اور استحصال کا نشانہ بنائے جانے کے بعد ان کے خلاف درخواستیں دائر کیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق دوسرے ممالک میں عیاشی کی زندگی گزارنے والے بھارتی افراد کے خلاف شکایتیں کرنے والی خواتین کی تعداد اب بڑھ کر 5 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

بھارتی ریاست پنجاب کی نیلم کے شوہر بھی کئی سال قبل انہیں چھوڑ کر بیرون ملک فرار ہوگئے تھے—فوٹو: رائٹرز
بھارتی ریاست پنجاب کی نیلم کے شوہر بھی کئی سال قبل انہیں چھوڑ کر بیرون ملک فرار ہوگئے تھے—فوٹو: رائٹرز

حکومت میں شکایات درج کروانے والی خواتین کے مطابق دوسرے ممالک میں عیاشی کی زندگی گزارنے والے افراد نے ان سے شادیاں کرنے کے بعد انہیں بھلا دیا اور انہوں نے ان سے تمام روابط بھی منقع کردیے ہیں۔

حکومت نے دوسرے ممالک میں رہنے والے افراد سے شادیاں کرنے والی خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ’نان ریزیڈنٹ آف انڈیا‘ (این آر آئی) بل بھی منظور کر رکھا ہے۔

اس بل کے تحت بیرون ممالک میں رہنے والے بھارتی افراد کو انڈیا میں رہنے والی خاتون سے شادی کرنے کے 30 دن بعد اپنی شادی کو رجسٹرڈ کروانا ہوتا ہے۔

قانون کے مطابق بیرون ملک میں رہنے کے باوجود شوہر اپنی اہلیہ کے تمام اخراجات برداشت کرنے سمیت ان سے ہر طرح کے رابطے میں رہنے کا پابند ہے، تاہم انکشاف ہوا ہے کہ ہزاروں بھارتی اس پر عمل نہیں کرتے۔

فون استعمال کرنے والی رینا مہلا کی 24 سال کی عمر میں شادی ہوئی اور ان کے شوبر بھی فرار ہوگئے—فوٹو: رائٹرز
فون استعمال کرنے والی رینا مہلا کی 24 سال کی عمر میں شادی ہوئی اور ان کے شوبر بھی فرار ہوگئے—فوٹو: رائٹرز

رائٹرز کے مطابق شادیاں کرکے اپنی بیویوں کو بھول جانے والے افراد کی شہریت یا ویزا منسوخ کروانے کے لیے متعدد سماجی کارکن خواتین متحرک ہیں اور ایسی کارکن خواتین میں امرت پال کور بھی ہیں۔

امرت پال کور ریاست پنجاب کے شہر چندی گڑھ میں رہتی ہیں اور وہ خود بھی ایسی ہی شادی کا شکار ہیں۔

امرت پال کور نے 2015 میں دوسرے ملک میں رہنے والے بھارتی شخص سے شادی کی تھی جو ان کے ساتھ چند ماہ گزارنے کے بعد ان سے لیے جانے والے بھاری جہیز کو لے کر اچھے کیریئر کے لیے بیرون ملک چلا گیا۔

امرت پال کور نے اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے کے بعد اپنی طرح کی دوسری خواتین کی مدد کرنا شروع کی اور انہوں نے دیگر خواتین کی مدد سے گزشتہ ڈیڑ برس کے دوران بیرون ملک رہنے والے 400 افراد کے پاسپورٹ منسوخ کروائے۔

ستوندر کا شوہر بھی فرار ہوگیا اور اب وہ اپنی طرح کی دوسری خواتین کی مدد کرتی ہیں—فوٹو: رائٹرز
ستوندر کا شوہر بھی فرار ہوگیا اور اب وہ اپنی طرح کی دوسری خواتین کی مدد کرتی ہیں—فوٹو: رائٹرز

خبر رساں ادارے کے مطابق بیرون ملک رہنے والے بھارتی افراد کسی بھی خاتون سے شادی کرنے سے قبل ان سے پہلے فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں اور شادی کے عوض ان سے بھاری جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایسے افراد بھارتی خواتین اور ان کے اہل خانہ کو دھوکا دے کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے یا پھر کیریئر بنانے کے لیے واپس جانے کا کہتے ہیں اور پھر کچھ ہی عرصے بعد اپنی بیویوں سے روابط منعقطع کر لیتے ہیں۔

اس حوالے سے 30 سالہ رینا مہلا نے بتایا کہ انہوں نے بھارت میں ہی پولیس کی نوکری کرنے والے شخص سے 24 سال کی عمر میں شادی کی تھی، تاہم کچھ ہی عرصے بعد ان کے شوہر اچھے کیریئر کے لیے امریکا روانہ ہوگئے۔

شوہروں کے چھوڑ کر جانے کے بعد ہماری حیثیت نہ تو کنواری لڑکی کی ہے، نہ ہی طلاق یافتہ اور بیوہ جیسی، نئی دہلی کی شوالی سمن—فوٹو: رائٹرز
شوہروں کے چھوڑ کر جانے کے بعد ہماری حیثیت نہ تو کنواری لڑکی کی ہے، نہ ہی طلاق یافتہ اور بیوہ جیسی، نئی دہلی کی شوالی سمن—فوٹو: رائٹرز

انہوں نے بتایا کہ امریکا چلے جانے کے بعد شوہر نے انہیں بھلا دیا اور ان سے روابط منقطع کرلیے جس کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا، بھارت اور امریکا کی وزارت خارجہ کو کئی خطوط اور ای میل لکھنے کے بعد اپنے ’فرار‘ شوہر کا سراغ لگایا جو نیو یارک کے نواحی شہر میں عیاشی کی زندگی گزار رہے تھے۔

رینا مہلا کے مطابق انہوں نے اپنے شوہر کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کے لیے دخواست دے دی ہے اور اب ان کے فرار شوہر کا کیس امریکی محکمہ خارجہ کے پاس ہے۔

اسی طرح نیو دہلی سے تعلق رکھنے والی خاتون کا کہنا تھا کہ بیرون ملک رہنے والے بھارتی افراد ہم وطن خواتین سے بھاری جہیز کے عوض محض اس لیے شادیاں کرتے ہیں تاکہ وہ جہیز سے خود کو بیرون ممالک میں سیٹ کر سکیں۔

سماجی کارکن امرت کور پال پاسپورٹ حکام سے مل کر ایسے افراد کی کھوج لگاتی ہیں جو شادیاں کرکے بیرون ملک فرار ہوگئے—فوٹو: رائٹرز
سماجی کارکن امرت کور پال پاسپورٹ حکام سے مل کر ایسے افراد کی کھوج لگاتی ہیں جو شادیاں کرکے بیرون ملک فرار ہوگئے—فوٹو: رائٹرز

بیرون ممالک رہنے والے بھارتی افراد کی جانب سے خواتین سے شادی کرنے اوران کے ساتھ کچھ ہفتے گزارنے کے بعد واپس بیرون ملک چلے جانے کے بعد سالوں تک رابطہ نہ کرنے پر ایسی خواتین کو کئی سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایسی خواتین کو بھارتی سماج میں نہ تو کنواری خاتون کی حیثیت سے مانا جا رہا ہے اور نہ ہی انہیں شادی شدہ، طلاق یافتہ یا بیوہ کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

ایسی خواتین کے مطابق اگر ان کے شوہر ہلاک ہوجائیں تو انہیں کم سے کم ایک بیوہ اور اگر انہیں طلاق مل جائے تو انہیں طلاق یافتہ خواتین کی حیثیت حاصل ہو جائے گی لیکن اب انہیں سماج کسی بھی حیثیت میں قبول کرنے کو تیار نہیں۔

ایسی شادیاں کرنے والی ہزاروں بھارتی خواتین اب جنسی، جذباتی، جسمانی و مالی مسائل کا شکار ہیں اور حکومت انہیں کوئی بھی فوری ریلیف دینے سے قاصر ہے۔

شوہروں کی جانب سے نظر انداز کی جانے والی خواتین کی زیادہ تعداد ریاست پنجاب سے ہے—فوٹو: رائٹرز
شوہروں کی جانب سے نظر انداز کی جانے والی خواتین کی زیادہ تعداد ریاست پنجاب سے ہے—فوٹو: رائٹرز