مسلم لیگ (ن) کا پی آئی سی کی بحالی،وزیراعظم کے بھانجے کی گرفتاری کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 14 دسمبر 2019

ای میل

مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزرا پارلیمنٹ میں جھوٹ بولتے ہیں—فائل/فوٹو:اے پی
مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزرا پارلیمنٹ میں جھوٹ بولتے ہیں—فائل/فوٹو:اے پی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) لاہور کو مریضوں کے لیے فوری بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے حسان خان نیازی کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے لاہور کے ہسپتال میں ڈاکٹروں اور وکلا کے درمیان لڑائی کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ وائرس کنٹینر سے نکلا تھا جو اب پورے ملک میں پھیل گیا ہے۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ پی آئی سی کا معاملہ پنجاب حکومت کی ناکامی ہے اور ہسپتال تین دن گزرنے کے باوجود تاحال بند ہے اور حکومت اس کو کھلوانے میں بے بس ہے۔

انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 2014 کے دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دھرنے دیتے وقت یہ لوگ اس طرح کے کاموں پر واہ واہ کرتے تھے مگر آج پی آئی سی واقعے پر مجبور اور لاچار ہیں۔

مزید پڑھیں:وکلا کی ہسپتال پر حملے کی جرأت کیسے ہوئی؟ جسٹس علی باقر نجفی

ان کا کہنا تھا کہ ‘جنہوں نے 2014 میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا تھا اور ڈی چوک پر پولیس کے سرپھوڑے تھے ان سے ہم پوچھ رہے ہیں کہ پنجاب حکومت کہاں تھی جب انہیں آگاہ کیا گیا تھا کہ وکلا ہسپتال کی طرف آرہے ہیں تو اسی وقت تصفیہ کیوں نہیں کروایا گیا’۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ حسان نیازی کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، صرف گھر پر چھاپے مارنے کی خبریں نہ چلوائی جائیں، واقعے میں واضح طور پر ملوث ہونے کے باوجود ان کے خلاف اب تک کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اس ہسپتال میں ملک بھر سے مریض آتے تھے لیکن اس نااہل اور نالائق حکومت کی وجہ سے اب تک بند پڑا ہوا ہے۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ حسان نیازی اسی دن ٹویٹر پر اپنے آپ کی مذمت کررہے تھے اور ایک ویڈیو کو دیکھ کر شرمندگی کا اظہار کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی سی واقعے کے ذمہ داران کو فوری طور پر گرفتار کر کے سزا دی جائے۔

'وزرا پارلیمنٹ میں جھوٹ بولتے ہیں'

مریم اورنگزیب نے کہا کہ قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں تحریری جواب میں لکھا گیا تھا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ (اے سی یو) میں کوئی ریکوری نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ نے آج پارلیمنٹ میں تحریری طور پر بتایا کہ آج تک کوئی ریکوری نہیں ہوئی۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں اللہ تعالی کے ناموں کے نیچے بیٹھ کر وزرا جھوٹ بولتے ہیں، شہباز شریف نے اگر کرپشن کی تو عدالت میں ثبوت دیں اور وہی پارلیمنٹ میں تحریری جواب میں بھی دیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریری جواب میں جو کہا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی وصولی نہیں ہوئی ہے اور یونٹ پر کروڑوں جھونک دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:احتساب عدالت نے شہباز شریف اور اہل خانہ کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دے دیا

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی جائیدایں علیمہ باجی کی جادو کی سلائی مشین اور جہانگیر ترین کی منی لانڈرنگ سے نہیں آئے، ملک میں کاروبار بند ہے اور سوال کرنے پر حکومت جواب دیتی ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے کرپشن کی۔

حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان سے پوچھیں کہ معاشی بدحالی کیوں ہوئی تو ہمیشہ وہی گھسا پٹا جواب سامنے آتا ہے۔

شہباز شریف کے اثاثے منجمد کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 13 اثاثوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا گی ہے جن میں سے تین شہباز شریف نے الیکشن کمیشن میں ظاہر کر رکھے ہیں۔

سپریم کورٹ میں دیے گئے حالیہ ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ شہباز شریف نے پنجاب میں کرپشن کو روکا اور ایک اچھے بچے کا کردار ادا کیا’۔

حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ملک کے سب سے بڑا صوبے میں آج انتظامیہ اور گورننس معطل ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے چور اور ڈاکو کہنے پر معافی مانگی جائے جب حکومت موجود ہے کہ ایک روپیہ بھی وصول نہیں ہوا ہے’۔

سابق وزیر اطلاعات نے کہا کہ ‘ان کا دعویٰ تھا کہ پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان منافع کما رہے ہیں، جواب میں ظاہر ہورہا ہے کہ منافع سے زیادہ اخراجات ہوئے ہیں’۔

'حکومت سے سوالات پوچھتے رہیں گے'

میڈیا سے گفتگو کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر نے بھی پی آئی سی واقعے پر تشویش کا اظہار کیا۔

پی ٹی آئی کے دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘اس طرح کی لاقانونیت، انتہا پسندی اور تشدد ڈی چوک سے پھیلا ہے’۔

یہ بھی پڑھیں:پی آئی سی میں ہنگامہ آرائی: 46 وکلا جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

خرم دستگیر نے کہا کہ ہمارا مطالبہ تین پاکستانیوں کی ہلاکت کے خون کو کس کے ہاتھ پر تلاش کرنے کا ہے، ماڈل ٹاؤن واقعے میں تین انکوائری رپورٹس آئیں اور جے آئی ٹی رپورٹ بھی آ چکی ہے جس کے مطابق مسلم لیگ (ن) پر کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا (کے پی) میں حکومت ہونے کے باوجود دل کے مریضوں کا ایک بھی ہسپتال نہیں بناسکی جہاں مریضوں کو منتقل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس کی وجہ یہ ہے کہ کے پی میں احتساب کمیشن کو ختم کردیا گیا’۔

خرم دستگیر نے کہا کہ حکومت کے پاس کسی سوال کا جواب نہیں ہے ‘لیکن ہم عوام کی جانب سے سوالات کرتے رہیں گے’۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ پاکستان اس وقت بدترین مہنگائی کا شکار ہے اور حکومت عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے کچھ نہیں کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ریاست کو مفلوج کر کے خوش ہے کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ الیکشن کمشن فعال ہو سکے اور کسی امیدوار پر اتفاق رائے ہوسکے۔