لڑاکا طیارہ جے ایف17 تھنڈر کی پہلی کھیپ متعارف

اپ ڈیٹ 28 دسمبر 2019

ای میل

پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس نے ایک مرتبہ پھر قابل ذکر سنگ میل حاصل کرلیا—فوٹو: بشکریہ ریڈیو پاکستان
پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس نے ایک مرتبہ پھر قابل ذکر سنگ میل حاصل کرلیا—فوٹو: بشکریہ ریڈیو پاکستان

اسلام آباد: کامرہ میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس (پی اے سی) نے 8 ڈبل سیٹ والے جے ایف 17 طیارے کی پہلی کھیپ کے آغاز سے ایک اور قابل ذکر سنگ میل حاصل کرلیا۔

اس اہم موقع کی مناسبت سے ائیرکرافٹ مینوفیکچرنگ فیکٹری، کامرہ میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

مزید پڑھیں: جے ایف-17 تھنڈر اور ایف-16 : دونوں میں کیا فرق ہے؟

پاک فضائیہ (پی اے ایف) کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ اس موقع پر منعقدہ تقریب میں چیف آف ایئر اسٹاف ایئرچیف مارشل مجاہد انور خان بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔

علاوہ ازیں چینی سفیر یاؤ جِنگ اور چین کے ایوی ایشن انڈسٹریز کے ایگزیکٹو نائب صدر (اے وی آئی سی) ہاؤ زاؤپنگ نے بھی بطور مہمان خصوصی تقریب میں شرکت کی۔

تقریب کے دوران پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس اور چائنا نیشنل ایرو ٹیکنالوجی امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کارپوریشن (سی اے ٹی آئی سی) نے چینی کمرشل طیاروں کی شراکت پر مبنی پیداوار کے معاہدے پر بھی دستخط کیے۔

اس موقع پر چینی سفیر یاؤ جنگ نے چین اور پاکستان کی دوستی کو اجاگر کرتے ہوئےکہا کہ جے ایف- 17 پاک- چین دوستی اور باہمی تعاون کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فضائیہ کا طیارہ چین کی سرحد کے قریب لاپتہ

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایئر چیف مجاہد انور خان نے 2019 کے پیداواری ہدف کی تکمیل اور 5 ماہ کی ریکارڈ مدت میں پہلے 8 ڈبل سیٹ جے ایف-17 طیارے کی تکمیل پر پی اے سی اور سی اے ٹی آئی سی کو مبارک باد پیش کی۔

ایئر چیف مارشل انور مجاہد خان نے کہا کہ ڈوئل-سیٹ کی سیریل پروڈکشن جے ایف-17 پروگرام کے لیے ایک تاریخی ترقی اور دونوں ممالک کی لازوال دوستی کا حقیقی مظہر ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ جے ایف-17 تھنڈر پاک فضائیہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

مزیدپڑھیں: پاکستان اور چین کے اشتراک سے بننے والا لڑاکا طیارہ جے ایف17 تھنڈر

بعدازاں چیف آف ایئر اسٹاف نے کامرہ میں ایویونکس پروڈکشن فیکٹری میں جے ایف -17 ڈوئل-سیٹ انٹیگریشن فیسیلیٹی کا بھی افتتاح کیا۔

اس سہولت سے پاک فضائیہ جے ایف-17 طیارے کے ساتھ ایونونکس اور جدید ہتھیاروں کے نظام کو مربوط کرسکے گی اور اس سے پی اے ایف کو خود انحصاری اور آپریشنل فوائد بھی فراہم ہوں گے۔


یہ خبر 28 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی