چینی کے بحران کے پیش نظر برآمدات پر پابندی

اپ ڈیٹ 08 فروری 2020

ای میل

ملک میں گزشتہ 2 ماہ میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا — فوٹو: کریٹو کامنز
ملک میں گزشتہ 2 ماہ میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا — فوٹو: کریٹو کامنز

اسلام آباد: گزشتہ دو ماہ سے جہاں مقامی مارکیٹوں میں چینی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں وہیں وزیراعظم عمران خان نے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے چینی کی برآمدات پر پابندی اور نجی شعبے کی جانب سے 3 لاکھ ٹن درآمد کرنے کی اجازت دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ادارہ شمارات کے مطابق ملک سے ایک لاکھ 41 ہزار 447 میٹرک ٹن چینی کی برآمد کے بعد وزیر اعظم نے اس کی برآمدات پر پابندی عائد کی۔

سمری کو منظور کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ سفید چینی کو نجی شعبے کی جانب سے بغیر ٹیکسز اور ڈیوٹی کے درآمد کیا جائے گا جبکہ درآمدکنندگان کی وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے کسی قسم کی مالی مدد نہیں کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: چینی مافیا-سیاستدانوں کا گٹھ جوڑ، صارفین اور کسانوں کو دھوکا دینے میں ملوث

تاہم یہاں یہ مدنظر رہے کہ اس فیصلے کا نفاذ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس کے بعد ہوگا جو (ہفتہ) آج یا پیر کے روز منعقد ہوگا۔

ای سی سی کے فیصلے کے بعد وفاقی کابینہ کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ منظوری دی جائے گی۔

واضح رہے کہ چینی کی قیمتیں گزشتہ دو ماہ سے بڑھنا شروع ہوئی تھیں تاہم حکومت نے اس معاملے پر اتنی توجہ نہیں دی تھی جس کی وجہ سے منافع خوروں کو فائدہ پہنچا۔

سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ وزیر اعظم نے ای سی سی میں معاملہ جانے سے قبل ہی سمری کی منظوری دی تاکہ 3 لاکھ 50 ہزار ٹن چینی کی برآمد فوری روکی جاسکے اور 3 لاکھ ٹن چینی نجی شعبے کے ذریعے درآمد کی جاسکے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے دسمبر 2019 کے درمیان پاکستان نے ایک لاکھ 41 ہزار 447 میٹرک ٹن چینی برآمد کی۔

2017-18 کے درمیان چینی کی فی کلو قیمت تقریباً 53 روپے 75 پیسے تھی جبکہ 17-2016 میں 61 روپے 43 پیسے، 16-2015 میں 64 روپے 3 پیسے اور 15-2014 میں 58 روپے 91 پیسے تھی۔

واضح رہے کہ چینی کی قیمت میں ایک روپے فی کلو اضافے کا مطلب صارفین سے 5 ارب 10 کروڑ روپے کا منافع ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ' چینی کی مہنگائی کےذمہ دار شوگر ملز کےمالکان ہیں'

مقامی سطح پر سالانہ چینی کا استعمال 51 لاکھ میٹرک ٹن سے 60 لاکھ میٹرک ٹن تک ہوتا ہے۔

اسٹیک ہولڈرز اور سینیئر حکام کے انٹرویو سے دیگر متعدد مسائل بھی سامنے آئے جن کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کو 8 سال بعد چینی درآمد کرنی پڑ سکتی ہے۔

گزشتہ 3 ہفتوں میں چینی کی قیمت عالمی منڈی میں 418 ڈالر سے 350 ڈالر فی ٹن رہی جو ظاہر کرتی ہے کہ اگر حکومت تمام ڈیوٹی اور ٹیکسز اس کی درآمد پر سے ہٹادے تو کراچی پورٹ پر چینی کی قیمت 85 روپے فی کلو ہوگی جبکہ اس کی ملک کے دیگر حصوں میں ترسیل (ٹرانسپورٹیشن) کی لاگت اس میں الگ سے شامل کی جائے گی۔

اسٹیک ہولڈرز اور حکام کے انٹرویو میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ حکومت نے بجٹ میں مقامی چینی کی قیمتوں میں سیلز ٹیکس کو 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کردیا تھا جبکہ سیلز ٹیکس کو واپس لینے سے چینی کی قیمتیں مقامی مارکیٹ میں کم ہوسکتی ہیں تاہم اس تجویز پر حکومت غور نہیں کر رہی۔