پاکستان ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کی درخواست کرے گا

26 جولائ 2013

ای میل

ان کی گرفتاری کے فوراً بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حق میں پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے احتجاج شروع کردیا جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ فائل تصویر
ان کی گرفتاری کے فوراً بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حق میں پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے احتجاج شروع کردیا جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ فائل تصویر

اسلام آباد: پاکستان اگلے ماہ واشنگٹن سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان کے حوالے کرنے کی باقاعدہ درخواست کرے گا۔

ڈاکٹر عافیہ پر اب سے پانچ برس قبل افغانستان کی بگرام ایئربیس اور پر امریکی فوجیوں پر حملے اور القاعدہ سے تعلقات کے الزامات ہیں۔

ان پر اقدامِ قتل، مسلح حملوں اور اسلحہ اُٹھانے کے الزامات پر مین ہیٹن کے فیڈرل جج نے انہیں 23 ستمبر 2010 کو 86 سال کی سزا سنائی تھی۔

ڈاکٹر عافیہ کی گرفتاری کے بعد ملک میں مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ پاکستان مسلم لیگ نون ( پی ایم ایل این) اور پاکستان تحریکِ انصاف ( پی ٹی آئی) اور دیگر جماعتوں نے بھی احتجاج کیا تھا اور انہوں نے عافیہ پاکستان واپس لانے پر زور دیا تھا۔

ایک سینیئر آفیشل نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ اگلی میٹنگ میں وفاقی کابینہ ان تمام تجاویز پر عمل کرنے کیلئے تیار ہے۔ اپنی رپورٹ مرتب کرتے وقت ماہرین نے سفارتی، انسانی، سیاسی اور قانونی پہلوؤں پر بین الاقوامی کنوینشنز اور معاہدوں کا حوالہ بھی دیا ہے۔

لیکن رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ امریکہ سے عافیہ کو لانا خود امریکی قوانین کے تحت ہی ممکن ہے۔ رپورٹ میں یہ تجویز بھی شامل نہیں کہ ڈاکٹر عافیہ کے بدلے پاکستان میں سی آئی اے کے مددگار ڈاکٹر شکیل آفریدی اور اہم طالبان رہنماؤں کو امریکہ کے حوالے کیا جائے گا۔

چوہدری نثار علی خان نے وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالتے ہی اعلٰ عہدے داروں کو لاگو ہونے والی عالمی کنونشنز کی روشنی میں ایک رپورٹ مرتب کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے اظہار یک جہتی کے لیے ملاقات بھی کی تھی ۔

ان حکام نے مزید بتایا کہ پاکستانی حکومت عافیہ کی حوالگی کے لئے کم از کم دو کنوینشنز کے تحت اپنا کیس پیش کرے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ نے چونکہ کسی تیسرے ملک میں مبینہ طور پر جرم کیا ہے لہذا، کچھ قانونی پیچیدگیاں ان کی کی امریکا سے پاکستان واپسی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ اگر امریکا پاکستان کے نقطہ نظر کو تسلیم کرنے کو تیار ہو جائے تو حوالگی سے متعلق تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان عمر حمید نے تصدیق کی ہے کہ وفاقی کایبنہ میں غور اور منظور کرنے کے لیے تجاویز پر مبنی رپورٹ مرتب کر لی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس رپورٹ میں معاملے کے قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ بھی موجود ہے۔

شہزاد رضا فری لانس کام کرتے ہیں۔ ان کا ٹوئٹر ہینڈل @shahz79 ہے۔