پی ایس ایل کی وہ 2 ٹیمیں جن میں کچھ کمی سی نظر آئی (تیسری اور آخری قسط)

اپ ڈیٹ 19 فروری 2020

ای میل

پاکستان سپر لیگ میں 2 سب سے بہترین ٹیمیں کونسی ہیں؟ (پہلی قسط)

پی ایس ایل کی وہ 2 ٹیمیں جو کہیں بھی جاسکتی ہیں! (دوسری قسط)


ہر ٹورنامنٹ میں جہاں کچھ ٹیمیں ہر طرح سے مکمل نظر آتی ہیں وہیں کچھ ٹیمیں ادھوری سی محسوس ہوتی ہیں۔

گزشتہ 2 مضامین میں ہم پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی 2 بہترین اور 2 ناقابلِ پیش گو ٹیموں کا جائزہ لے چکے ہیں جبکہ اس تحریر میں ہم پی ایس ایل کی ایسی 2 ٹیموں کا جائزہ لیں گے جن کے لیے بظاہر پلے آف میں جگہ بنانے میں کافی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ میں حیران کن پرفارمنس کے بعد ہی اس ٹورنامنٹ میں کوئی قابلِ قدر پیش رفت دکھا سکیں گی۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پی ایس ایل کی دفاعی چمپئین ہے اور ٹورنامنٹ میں ہمیشہ سے ان کی کارکردگی عمدہ رہی ہے۔ پشاور زلمی، اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی کارکردگی میں بہت تسلسل رہا ہے لیکن پہلی مرتبہ کوئٹہ والے دیگر سے پیچھے دکھائی دے رہے ہیں۔

روزِ اوّل سے اس ٹیم کے کپتان سرفراز احمد رہے ہیں۔ جب انہوں نے کوئٹہ کی قیادت سنبھالی تھی اس وقت وہ پاکستان ٹیم کے نہ صرف کپتان تھے بلکہ قومی ٹیم کو ورلڈ نمبر ون بنانے کا سہرا بھی انہی کے سر سجا تھا۔ تاہم گزشتہ ایک برس کے دوران سرفراز احمد کی کارکردگی کافی مایوس کن رہی ہے۔ ان سے ناصرف قومی ٹیم کی کپتانی چھین لی گئی بلکہ ٹیم میں ان کے لیے اب جگہ بھی نہیں ہے۔ مگر سرفراز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں محفوظ ہیں۔ حال ہی میں ندیم عمر صاحب نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ جب تک سرفراز کرکٹ کھیلتے رہیں گے وہ کوئٹہ کے کپتان رہیں گے۔

تاہم قومی سطح پر خراب پرفارمنس اور فٹنس مسائل کے شکار سرفراز اب گرم پانیوں میں ہیں۔ انہیں اس سپر لیگ میں عمدہ پرفارم کرنا ہے کیونکہ اب وہ یہیں سے قومی ٹیم میں اپنا راستہ بنا سکتے ہیں۔ ٹیم سے ڈراپ ہونے کے بعد انہوں نے اپنی فٹنس تو بہت بہتر کی ہے لیکن پرفارمنس اب بھی معقول درجے کی ہی نظر آتی ہے۔

ایک طرف جہاں انہیں کوئٹہ کی کپتانی کا بوجھ اٹھانا ہے وہیں اپنے ناقدین کو غلط بھی ثابت کرنا ہے۔ دباؤ کے شکار کپتان کوئٹہ کو کیا دے سکتے ہیں یہ دیکھنا بہت دلچسپ ہوگا۔

کوئٹہ کی بیٹنگ

گزشتہ سال کوئٹہ کی جیت میں شین واٹسن کا اہم کردار تھا۔ شین واٹسن ریٹائر ہوچکے ہیں اور مسابقتی کرکٹ کی بات کی جائے تو انہیں آخری بار بنگلہ دیش پریمئیر لیگ میں کھیلتے ہوئے دیکھا گیا جہاں وہ مکمل طور پر ناکام نظر آئے۔ پی ایس ایل میں باؤلنگ کا معیار کہیں زیادہ بہتر ہوتا ہے لہٰذا ان کی کارکردگی کو لے کر سوالیہ نشان تو کھڑا ہوگا جبکہ حالیہ عرصے میں واٹسن باؤلنگ کرتے ہوئے نظر ہی نہیں آئے۔

اگر گلیڈی ایٹرز کی ٹیم میں شامل جیسن رائے کی بات کریں تو وہ ایک باکمال کھلاڑی ہیں۔ حالیہ بگ بیش میں انہوں نے خوب کھیل دکھایا ہے اور ان سے یہاں بھی رنگ جمانے کی توقع کی جاسکتی ہے مگر ڈیرن براوو، سنیل نارائن اور ریلی روسو کی خدمات اس بار کوئٹہ کو دستیاب نہیں ہوں گی، بلاشبہ کوئٹہ کے لیے یہ تینوں بڑے قیمتی کھلاڑی تھے۔

دوسری طرف احمد شہزاد اور عمر اکمل دونوں اس بار بھی کوئٹہ کا حصہ ہیں، ان دونوں کھلاڑیوں کے مسائل کچھ بڑے ہی دلچسپ ہیں۔ ایک پر غیر ذمہ دار ہونے کا الزام لگتا ہے تو دوسرے پر خود غرضی کا۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کوئٹہ کی ٹیم کے بنیادی 3 کھلاڑی اس وقت اپنے کیرئیر کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جی ہاں ہماری مراد سرفراز، احمد اور عمر اکمل سے ہی ہیں۔

کسی بھی بیٹنگ لائن کے لیے یہ صورتحال قطعاً آئیڈیل نہیں ہوتی کیونکہ ایسے ذہنی حالات میں کھلاڑیوں کے لیے ٹیم سے زیادہ اپنی ذات اہم ہوجاتی ہے۔

پی ایس ایل میں شاید کوئٹہ وہ واحد ٹیم ہے جس میں قومی ٹیم میں جگہ براستہ سپر لیگ بنانے کے خواہش مندوں کی اکثریت پائی جاتی ہے اور یہ سب کوئٹہ کے سینئر ارکان بھی ہیں۔ ٹیم کے متبادل وکٹ کیپر اعظم خان چونکہ کوچ معین خان کے بیٹے ہیں اس لیے ان پر سفارشی ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ خرم منظوربھی اسی ٹیم کا حصہ ہیں۔ ان تمام تر کھلاڑیوں کی موجودگی میں اس ٹیم کی بیٹنگ ماضی کے مقابلے میں کافی بجھی سی لگ رہی ہے.

کوئٹہ کی باؤلنگ

لیکن بیٹنگ کے برخلاف کوئٹہ کی باؤلنگ زبردست ہونے والی ہے۔ مستقبل کے 2 باؤلنگ اسٹارز محمد حسنین اور نسیم شاہ اسی ٹیم کا حصہ ہیں۔ حسنین نے یہیں سے قومی ٹیم میں جگہ بنائی تھی جبکہ نسیم شاہ گزشتہ سال ان فٹ تھے لیکن اس بار نا صرف فٹ ہیں بلکہ قومی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بناکر کھیل کے کئی بڑوں کی تعریفیں بھی سمیٹ چکے ہیں. دونوں جینئین فاسٹ باؤلرز ہیں سو کپتان کو کافی آسودگی حاصل ہوگی، البتہ کھلاڑیوں کے تجربے کی کمی اپنی جگہ موجود ہے۔

ٹیمل ملز کو ٹی20 اسپیشلسٹ کہا جاتا ہے۔ وہ پہلے بھی کوئٹہ کے لیے قابلِ قدر کارکردگی پیش کرچکے ہیں اور ان سے اس بار بھی اچھے کھیل کی توقع کی جا رہی ہے، مگر ٹیمل ملز اگست کے بعد سے کھیل کے میدان سے باہر ہیں، اس لیے دیکھنا ہوگا کہ وہ کتنی فارم میں ہیں.

سہیل خان ٹی20 کے لیے ایک عمدہ آپشن ہیں۔ کبھی وہ بہت تیز ہوا کرتے تھے مگر اب ان کی رفتار کافی گرچکی ہے، البتہ ان کی ورائٹیز میں اضافہ ہوا ہے سو ان کی صلاحیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

آسٹریلین آل راؤنڈر بین کٹنگ بھی اس ٹیم کا حصہ ہیں۔ حالیہ بگ بیش میں برسبین ہیٹ کے لیے ان کی بلے بازی پہلے سے زیادہ بہتر نظر آئی۔

ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز—ٹوئٹر
ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز—ٹوئٹر

سب سے بڑھ کر فواد احمد جیسا تجربہ کار باؤلر اس ٹیم کو میسر ہے۔ فواد نے پچھلے سیزن میں انتہائی نپی تلی باؤلنگ کی تھی اور کوئٹہ کو ٹائٹل جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ویسٹ انڈین آل راؤنڈر کیمو پال بھی کوئٹہ کا حصہ ہیں۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ سہیل تنویر اور انور علی جیسے کھلاڑیوں کو ریلیز کرنے والی ٹیم کو کیمو پال کی آخر کون سی صلاحیت بھا گئی؟ خیر کیمو پال اس بار مکمل ٹورنامنٹ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے لہٰذا ان کی جگہ محنتی اور قابل زاہد محمود کو شامل کیا گیا ہے۔

حیدرآباد کے لیگ اسپنر زاہد محمود کی اس سپر لیگ میں کافی ڈرامائی انداز میں شمولیت ہوئی ہے۔ پہلے ڈرافٹنگ کے موقع پر انہیں کراچی نے سلیکٹ کیا تھا لیکن قواعد کے مسائل کی وجہ سے ان کا نام ڈراپ کرنا پڑا جس کے باعث سندھی دوستوں نے کافی تنقید بھی کی تھی تاہم کوئٹہ کے اسکواڈ میں شامل ہو کر اب وہ پاکستان سپر لیگ کا حصہ بن چکے ہیں۔

آل راؤنڈرز کی قلت

کوئٹہ کی ٹیم میں کوئی آل راؤنڈر ایسا نہیں جسے مکمل آل راؤنڈر قرار دیا جاسکے۔ بین کٹنگ ہوں، کیمو پال یا پھر محمد نواز یہ تمام کھلاڑی تسلسل کے ساتھ عمدہ بلے بازی نہیں کرسکتے۔ شین واٹسن باؤلنگ سے ہاتھ اٹھا چکے اگر کچھ کریں گے تو بھی ان میں اب وہ دم خم باقی نہیں رہا.

ڈیوائن براوو کو ریلیز کرنا بھی کوئٹہ کی ایک غلطی تھی، اب تو وہ قومی ٹیم کے لیے بھی اپنی دستیابی ظاہر کرچکے ہیں۔

کسی ایک یا 2 میچوں میں اچھی بلے بازی کرنے اور مسلسل اسکور بناتے رہنے سے کھیل کے نتائج پر کافی اثر پڑتا ہے۔ لگتا ہے کہ اس سیزن میں کوئٹہ کو اپنے اندر ایک مکمل آل راؤنڈر کی کمی شدت سے محسوس ہوگی۔ سو کُل ملا کر کوئٹہ کی ٹیم میں وہ بجلی نظر نہیں آرہی جو اب تک ان کا خاصہ رہی ہے۔ متعدد باصلاحیت کھلاڑیوں کو ریلیز کرنا کوئٹہ کو کافی مہنگا پڑسکتا ہے۔

ملتان سلطانز

ملتان سلطانز کی ٹیم سب سے نئی ہے۔ اپنے پہلے ہی سیزن میں یہ ٹیم مالی مسائل کا شکار ہوگئی تھی جس کے بعد اس کے معاملات پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے ہاتھ میں لے لیے اور پھر بعد میں اس ٹیم کو نوجوان علی ترین نے ٹیک اوور کیا۔

تاہم یہ ٹیم اب تک فارم حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وسیم اکرم اور شعیب ملک کو جب لایا گیا تو امید پیدا ہوئی تھی کہ یہ ٹیم آگے بڑھے گی تاہم ایسا نہیں ہوسکا۔

پھر بعد میں وسیم اکرم کراچی کو پیارے ہوگئے اور شعیب ملک اپنی کپتانی میں کوئی رنگ نہیں دکھا سکے یوں انہیں بھی ریلیز کردیا گیا، یہ الگ بات ہے کہ گزشتہ سیزن میں وہ اس ٹیم کے سب سے کامیاب بیٹسمین تھے۔ ٹام موڈی جیسا مایہ ناز کھلاڑی ان کا کوچ مقرر ہوا تھا جو اب داغ مفارقت دے چکا ہے اور اس بار اینڈی فلاور جیسے کہنہ مشق کو ہیڈ کوچ بنایا گیا ہے۔

تو آئیے ہم جائزہ لیتے ہیں کہ ٹیم کیسی ہے۔

ملتان کی بیٹنگ

ملتان کی بیٹنگ لائن بڑی ہی دلچسپ ہے، سب سے پہلے شان مسعود کا ذکر کرتے ہیں۔ شان بہترین ٹیسٹ کھلاڑی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ایک روزہ ڈومیسٹک میں بھی انہوں نے خوب کارکردگی دکھائی ہے تاہم ٹی20 میں ان کی شمولیت سمجھ سے بالاتر ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ وہ اس بار ملتان کی کپتانی بھی کر رہے ہیں۔ اگرچہ شان مسعود کپتان اچھے ثابت ہوسکتے ہیں لیکن کرکٹ میں نان پلیئنگ کپتان کا کوئی تصور نہیں ملتا ہے۔

حالیہ نیشنل ٹی20 ٹورنامنٹ میں بھی شان مسعود جنوبی پنجاب کے کپتان تھے اور انہوں نے 5 میچوں میں صرف 36 رنز بنائے تھے جبکہ اسٹرائیک ریٹ بھی 85 کے قریب رہا، لہٰذا اب تک کے اعداد و شمار کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ملتان 10 کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ کاش شان مسعود ہمیں جھٹلا سکیں۔

ٹی20 اسپیشلسٹ ریلی روسو اس ٹیم کی لائف لائن ہیں۔ وہ اپنی قومی کرکٹ سے دستبردار ہوچکے ہیں اور پورے سال لیگ کرکٹ ہی کھیلتے اور خوب رنگ جماتے ہیں۔ امید ہے کہ ہر قسم کے حالات میں ڈٹ کر کھڑے ہونے والے روسو ملتان کا نام اونچا کریں گے۔

جیمز ونس کا معاملہ بڑا دلچسپ ہے۔ انگلینڈ نے انہیں بار بار موقعے دیے لیکن وہ زیادہ چل نہیں سکے۔ بلاشبہ وہ بہت خوبصورت شاٹس کھیلتے ہیں لیکن اس خاصیت سے بڑھ کر ٹیم کو رنز چاہیے ہوتے ہیں، اس لیے یہ امید ہی کی جاسکتی ہے کہ وہ حالیہ سپر لیگ میں اپنے نقوش چھوڑیں گے۔

ٹیم میں شامل ذیشان اشرف دنیائے کرکٹ کے لیے ایک بالکل نیا نام ہے۔ اس سال سیکنڈ ڈویژن ٹی20 ٹورنامنٹ میں انہوں نے بہت ہی عمدہ بلے بازی کی تھی۔ بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے ذیشان کو مستقبل کا ایک بڑا بلے باز مانا جارہا ہے لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ بڑے مقابلوں کا دباؤ برداشت کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں؟

خوشدل شاہ نے حالیہ دنوں میں پاکستان ٹیم میں جگہ بنائی ہے۔ اس بار ملتان کے مڈل آرڈر کا بار وہی اٹھائیں گے۔ خوشدل ایک خوشنما بلے باز ہیں اور بڑے شاٹس لگانے کا مادہ رکھتے ہیں۔ خوشدل پشاور زلمی کے لیے بھی کھیل چکے ہیں۔ تاہم انہیں اب تک مناسب مواقع نہیں مل سکے۔ امید ہے کہ اس بار انہیں تسلسل سے اور مناسب مواقع دستیاب ہوں گے اور خوشدل ان سے فائدہ بھی اٹھا سکیں گے۔

برطانوی وائن میڈسن کو ویسٹ انڈیز کے فیبئین ایلن کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ میڈسن جنوبی افریقہ کے ان کھلاڑیوں میں شمار کیے جاتے ہیں جنہیں برطانیہ کی چکاچوند نے ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور وہ مستقل طور پر کاؤنٹی کرکٹ سے منسلک ہوگئے۔ میڈسن کی بلے بازی اچھی رہی ہے۔ ماضی میں پشاور زلمی بھی انہیں منتخب کرچکے ہیں۔

اس وقت ملتان کا سب سے بڑا نام شاہد آفریدی ہے۔ پاکستان کرکٹ کی حالیہ تاریخ میں ان جیسی شہرت کسی کسی کو ہی نصیب ہوئی ہے۔ گوکہ لالا آفریدی میں اب وہ دم خم نہیں رہا لیکن پھر بھی وہ اپنی ٹیم کو فتح دلانے کی صلاحیت اب بھی رکھتے ہیں۔

ٹیم ملتان سلطانز—ٹوئٹر
ٹیم ملتان سلطانز—ٹوئٹر

معین علی کی صلاحیتوں سے دنیا واقف ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ سیریز میں عمدہ کارکردگی دکھانے والے معین علی سے اگر ملتان والے کام لے سکے تو وہ ٹیم کو بہت آگے لے جاسکتے ہیں۔ معین علی کے ساتھ ساتھ روی بوپارہ بھی ملتان ٹیم کا حصہ ہیں، مگر اب ان میں وہ بات نہیں رہی۔ مجموعی طور پر دیکھیں تو ملتان کی بیٹنگ مِلی جُلی ہے۔ اِسے مناسب تو کہہ سکتے ہیں لیکن بہت زیادہ قابلِ اعتبار نہیں کہا جاسکتا۔ اس ٹیم میں سوائے روسو کے کوئی ایسا نام نہیں جو سب کو یکجا کرتے ہوئے آگے بڑھا سکتا ہو۔

ملتان کی باؤلنگ

ٹیم میں باؤلنگ کا محاذ محمد عرفان اور جنید خان نے سنبھالا ہوا ہے۔ 37 سالہ عرفان کی فٹنس تو جوانی میں اتنی اچھی نہیں تھی لیکن اس وقت ان کی باؤلنگ میں رفتار اور مخالف ٹیم کے بلے بازوں کو ڈرانے اور دبانے کی صلاحیت ضرور تھی۔ حالیہ دورہ آسٹریلیا میں انہیں حیران کن طور پر منتخب کیا گیا تھا مگر وہ اپنی کارکردگی سے اس فیصلے کو ٹھیک ثابت نہیں کرسکے، لہٰذا اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ملتان کے لیے وہ کیا کچھ کرسکتے ہیں؟

جنید خان کسی دور میں وسیم اکرم کی یاد تازہ کرتے تھے پھر ان کے گھٹنے کا آپریشن ہوا اور پرانا جنید کہیں کھو سا گیا۔ وہ قومی ٹیم میں اپنی جگہ تو کھو بیٹھے ہیں مگر ان کی باؤلنگ اچھی رہی ہے۔

ملتان کو عمران طاہر کی صورت میں محدود اوورز کا سپر اسٹار دستیاب ہے۔ بلاشبہ عمران طاہر ٹی20 میں بہترین آپشن ہیں۔ اگرچہ ان کی عمر 40 برس ہے لیکن ان کی کارکردگی اور ان کا جوش اب بھی کسی نوجوان سے کم نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران نے اکیلے اتنی زیادہ ٹیموں کے لیے کرکٹ کھیل رکھی ہے جتنی شاید ملتان سلطان کے تمام باؤلرز نے مل کر بھی نہیں کھیلی ہو۔

عثمان قادر بھی اس ٹیم کا حصہ ہیں۔ وہ محترم عبدالقادر کے بیٹے ہیں اور قادر عمران طاہر کے استاد تھے سو امید ہے عمران طاہر اپنے استاد کے بیٹے کو کرکٹ کے اچھے گُر سکھائیں گے۔

علی شفیق اور محمد الیاس کی صورت میں 2 ابھرتے ہوئے نوجوان فاسٹ باؤلرز بھی ملتان کے پاس ہیں۔ ملتان کے لیے شاید سب سے اچھی خبر یہ ہو کہ ٹی20 کے بہترین بباؤلرز میں شمار ہونے والے سہیل تنویر بھی اس مرتبہ ان کے ساتھ ہیں۔ سہیل تنویر بوقتِ ضرورت اچھی بلے بازی بھی کرسکتے ہیں۔ اس ٹیم کے آل راؤںڈرز بھی مناسب درجے کے ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ملتان کی ٹیم ایک معقول ٹیم نظر آتی ہے لیکن پی ایس ایل جیتنے کے لیے انہیں بہت زیادہ محنت کرنا ہوگی۔ جہاں ایک طرف میدان میں دستیاب ٹیلنٹ انہیں امتحان میں ڈال سکتا ہے وہیں دوسری طرف منیجمنٹ کی سطح پر بھی مسائل درپیش آسکتے ہیں۔ ٹیم منیجمنٹ بالکل نئی ہے۔ کھلاڑیوں اور کوچز کا آپسی تال مال کافی اہمیت رکھتا ہے۔ فرنچائز کرکٹ میں مالکان کی حد سے زیادہ دلچسپی بھی بعض اوقات مسائل کا باعث بنتی ہے۔