’سال 18-2017 میں غفلت کے باعث 423 ارب روپے کا نقصان ہوا‘

20 فروری 2020

ای میل

پینے کے صاف پانی کے لیے مختص 12 ارب 50 کروڑ روپے بھی استعمال میں نہیں لائے گئے تھے— فائل فوٹو: رائٹرز
پینے کے صاف پانی کے لیے مختص 12 ارب 50 کروڑ روپے بھی استعمال میں نہیں لائے گئے تھے— فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: وزارت خزانہ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سال 18-2017 کے درمیان متعلقہ وزارتوں کی جانب سے خرچ نہ ہونے والی رقم بروقت واپس نہ کرنے کے باعث 4 سو 23 ارب روپے ضائع ہوگئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی اے سی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری خزانہ نوید کامران بلوچ نے کہا کہ ضائع ہونے والی رقم کا بڑا حصہ 2 سو 66 ارب 30 کروڑ روپے کے ترقیاتی بجٹ، 53 ارب روپے کرنٹ اور 92 ارب روپے چارجڈ بجٹ پر مشتمل تھے۔

ترقیاتی بجٹ کا تعلق وفاقی پبلک سیکٹر ترقیاتی پروگرامز، صوبوں کو ترقیاتی قرضے اور گرانٹس اور دیگر ترقیاتی اخراجات سے ہے جبکہ کرنٹ بجٹ سود کی ادائیگی، پنشن، دفاعی خدمات، گرانٹس اور منتقلیوں، سبسڈیز اور سول حکومت چلانے کے لیے ہے۔

اس کے علاوہ چارجڈ اخراجات پارلیمنٹ میں جمع نہیں کروائے گئے۔

وزارت خزانہ کی بریفنگ کے مطابق پینے کے صاف پانی کے لیے مختص 12 ارب 50 کروڑ روپے بھی استعمال میں نہیں لائے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو ادائیگی کے توازن کے بحران سے نکالنے کا کوئی آسان حل نہیں، آئی ایم ایف

نوید کامران بلوچ نے کہا کہ رواں سال کے لیے ریونیو ہدف میں 7 سو ارب سے 8 سو ارب روپے کمی ہوگی لیکن امید کا اظہار کیا کہ سال کی آخری سہ ماہی میں صورتحال میں تھوڑی بہتری آسکتی ہے۔

پی اے سی اراکین سردار ایاز صادق اور خواجہ آصف نے سیکریٹری خزانہ کے دعوے کو مسترد کردیا اور کہا کہ سال کی آخری سہ ماہی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ریونیو وصولی بہتر بنانے کے لیے تاجروں کو پیشگی ٹیکس ادا کرنے کا کہا تھا۔

سیکریٹری خزانہ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو اس حوالے سے چیئرمین ایف بی آر سے بریفنگ لینے کی تجویز دی۔

اسی طرح جب کمیٹی نے مانیٹری پالیسی اور شرح سود سے متعلق پوچھا تو نوید کامران بلوچ نے کہا کہ اس معاملے پر بریفنگ کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر یا ڈپٹی گورنر سے بریفنگ دینے کا کہا جانا چاہیے۔

بعدازاں پی اے سی نے آئندہ ماہ ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے عہدیداران کو اجلاس میں بلانے کا فیصلہ کرلیا۔

نوید کامران بلوچ نے کہا کہ 29 کھرب روپے قرض کے لیے مختص کیے گئے تھے جس کے باعث ترقیاتی منصوبوں کے لیے تھوڑی گنجائش موجود تھی۔

آڈیٹر جنرل کے دائرہ اختیار میں توسیع

چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رانا تنویر حسین نے غور و فکر کے بعد آخر کار فیصلہ سنایا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے پی جی) پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کرسکتے ہیں۔

تاہم پی ای سی نے اے جی پی کے دائرہ اختیار کو چیلنج کردیا تھا کہ کونسل کے قانون کے تحت وہ اپنے اکاؤنٹس چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم سے آڈٹ کرواسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی اشیا خورونوش میں ملاوٹ کےخلاف نیشنل ایکشن پلان مرتب کرنے کی ہدایت

پی ای سی نے زور دیا چونکہ انہوں نے کبھی سرکاری خزانے سے کوئی گرانٹ نہیں لی لہذا وہ اے جی پی کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔

پاکستان انجینئرنگ کونسل کے لیگل ایڈوائزر نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل (2) 170 کے تحت اے جی پی کو وزارتوں، ڈویژنز اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ماتحت کام کرنے والے خودمختار اداروں کے آڈٹ کا اختیار حاصل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ای سی کو پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعے قائم کیا گیا تھا اور یہ پارلیمنٹ کے کنٹرول میں آتا ہے اس لیے آڈیٹر جنرل کے پاس اس کے اکاؤنٹس کے آڈٹ کا اختیار نہیں۔

دوسری جانب آڈیٹر جنرل جاوید جہانگیر نے کہا کہ آئین نے آڈیٹر جنرل کے دفتر کو کارپوریٹ اداروں کے ساتھ ساتھ خود مختار اداروں کے آڈٹ کا اختیار بھی دیا تھا۔