پاکستان کو ادائیگی کے توازن کے بحران سے نکالنے کا کوئی آسان حل نہیں، آئی ایم ایف

15 فروری 2020

ای میل

اکثر مرتبہ ضروری ایڈجسٹمنٹ میں تاخیر کی خواہش موجود ہوتی ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
اکثر مرتبہ ضروری ایڈجسٹمنٹ میں تاخیر کی خواہش موجود ہوتی ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایتھاناسیس اروانائٹس نے کہا ہے کہ پاکستان جییسی ابھرتی ہوئی معیشتوں کو ادائیگی کے توازن کے بحران سے نکالنے کا کوئی جادوئی طریقہ نہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ آف پاکستان(ایس بی پی) میں ابھرتی ہوئی مارکیٹس میں بحران سے نمٹنے سے متعلق سیمینار اور پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ جب دباؤ شدید ہوتے ہیں تو حل آسان نہیں ہوتے‘۔

پاکستان میں 6 ارب ڈالر قرض پروگرام کی نگرانی کرنے والے آئی ایم ایف کےعہدیدار نے کہا کہ آپ کو بڑے سرکاری قرضے سے نکلنے کے راستے پر کوئی خرچہ نہیں ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ چند ممالک بڑے خسارے کو چلانے سے اپنا قرضہ کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف پاکستان کی ’قابل ذکر پیش رفت‘ کا معترف، مذاکرات بے نتیجہ ختم

آئی ایم ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ ’ اکثر مرتبہ ضروری ایڈجسٹمنٹ میں تاخیر کی خواہش موجود ہوتی ہے لیکن تاخیر بحران کو مزید بڑا بنادیتی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ عدم توازن کو کم کرنا مشکل ہے اور اس کی ایک واضح قیمت ہے۔

دوسری جانب سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے میکرو اکنامک انسائٹس کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ثاقب شیرانی نے پاکستان کے لیے ناقص قرضے کے پروگراموں پر آئی ایم ایف پر تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرامز اسٹرکچرل ریفارمز کی اجازت نہیں دیتے، کسی ملک کے ٹیکس نظام کو ٹھیک کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) سے پہلے سال میں 45 فیصد کارکردگی کی توقع رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس میں اصلاحات کی امید نہیں کررہے، یہ تیز رفتاری اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے برابر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بیل آؤٹ پیکج کی دوسری قسط کیلئے آئی ایم ایف وفد سے حکام کی ملاقات

ثاقب شیرانی نے آئی ایم ایف پر ہر چیز کے لیے ایک ہی طریقہ کار اپنانے کا الزام بھی عائد کیا،انہوں نے تجارتی دھچکوں، قرضے بڑھنے اور مانیٹری اوورہینڈ سے ابھرنے والے بحران ہیں، ان مسائل سے ایک ہی طریقے سے نمٹا جاتا ہے جبکہ ان کی نوعیت بہت مختلف ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نجی کمپنیاں ناقص پالیسی فریم ورک کا خمیازہ بھگت رہی ہیں۔

ثاقب شیرانی نے آئی ایم ایف اور حکومت کے دعوے کو مسترد کردیا کہ ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ معاشرے کے تمام حصوں میں یکساں تقسیم ہوتا