کووڈ 19 کے مریضوں کیلئے تجرباتی بلڈ پلازما تھراپی میں مزید پیشرفت

اپ ڈیٹ 28 مارچ 2020

ای میل

ووہان میں کووڈ 19 کے شکار اور پھر صحت ہونے والے ایک ڈاکٹر اپنے خون کے پلازما کا عطیہ کررہے ہیں  — اے پی فوٹو
ووہان میں کووڈ 19 کے شکار اور پھر صحت ہونے والے ایک ڈاکٹر اپنے خون کے پلازما کا عطیہ کررہے ہیں — اے پی فوٹو

نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے سنگین کیسز کے علاج کے لیے ایک نئی رپورٹ سے مثبت پیشرفت کی توقع پیدا ہوئی ہے۔

ماہرین کافی عرصے سے اس بیماری سے صحت یاب ہونے والے افراد کے خون سے زیادہ بیمار افراد کے علاج کے دہائیوں پرانے طریقے کو آزمانے پر زور دے رہے ہیں۔

اب ایک نئی تحقیق میں اس طریقہ کار کے ابتدائی نتائج سامنے آئے ہیں جو بہت حوصلہ افزا ہیں۔

جمعے کو طبی جریدے جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع تحقیق میں چین کے ہسپتال میں قریب المرگ مریضوں پر اس طریقہ کار کے استعمال کے بارے میں بتایا گیا۔

کووڈ 19 کے ان مریضوں کو تجرباتی بلڈ پلازما ٹرانسفیوژن کا تجربہ کیا گیا اور ان کی حالت میں کافی حد تک بہتری دیکھی گئی۔

اگرچہ یہ تحقیق محدود اور بہت چھوٹے پیمانے پر ہوئی اور حتمی طور پر کچھ طے کرنا مشکل ہے مگر نتائج سے اس طریقہ کار کی افادیت کے خیال کو مزید تقویت ملتی ہے۔

امریکا میں اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ریاست نیویارک میں رواں ہفتے اس پلازما ٹرانسفیوژن کو سنگین کیسز کے لیے آزمانے کا اعلان کیا گیا۔

چین کے شینزن ہاسپٹل میں اس تحقیق کے لیے ڈاکٹروں نے 20 جنوری سے 25 مارچ تک 36 سے 73 سال کے 5 مریضوں پر بلڈپلازما استعمال کیا۔

ان مریضوں کو یہ پلازما ہسپتال میں داخل ہونے کے 10 سے 22 دن کے دوران دیا گیا۔

پلازما ٹرانسفیوژن کے بعد 3 دن کے اندر 5 میں سے 4 مریضوں کا جسمانی درجہ حرارت معمول پر آگیا، 5 میں 4 مریضوں میں 12 دن کے اندر سانس کی شدید تکلیف بھی ختم ہوگئی۔

جمعے کو شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا کہ 3 مریضوں کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا جبکہ 2 کی حالت مستحکم تھی، مگر فی الحال انہیں وینٹی لیٹر کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔

اس تحقیق پر دیگر طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ محدود تھی، جبکہ ان مریضوں کو تجرباتی اینٹی وائرل ادویات اور اسٹرائیڈز بھی استعمال کرائے جارہے تھے، جس سے بھی پلازما ٹرانسفیوژن کی افادیت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔

مگر تحقیق میں شامل چینی سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ نتائئج سے پلازما تھراپی کے لیے صحت یاب افراد کے اینٹی باڈیز کے استعمال کے امکان پر روشنی ڈالی گئی جو کہ زیادہ بیمار افراد کو وائرس سے نجات دلانے کے ساتھ ان کی حالت بہتر بناسکتا ہے۔

اس قسم کا طریقہ کار 2002 سارس وائرس کی وبا اور 2009 میں سوائن فلو کی وبا کے دوران بھی استعمال کیا گیا تھا۔

اس نئی تحقیق میں کووڈ 19 کے صحت یاد افراد سے خون کے عطیات حاصل کرکے یہ تجرباتی طریقہ کار آزمایا گیا تھا اور ان کے خون سے حاصل پلازما حاصل کرکے اسی روز سنگین حد تک بیمار مریضوں میں منتقل کیا گیا۔

اگر یہ طریقہ کار بڑے ہیمانے پر موثر ثابت ہوا تو اس کے لیے بڑا چیلنج صحت یاب افراد سے خون کے عطیات کا حصول ہوگا۔

ابھی رواں ہفتے امریکا کی واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں بھی کہا گیا تھا کہ کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے افراد کا خون سنگین حد تک بیمار مریضوں کے علاج بلکہ دیگر کو اس کا شکار ہونے سے بچا سکے گا۔

اس طریقہ کار کو 1918 کے اسپینش فلو کی وبا کے دوران ویکسین یا اینٹی وائرل ادویات کی دستیابی سے پہلے استعمال کیا گیا تھا۔

اس طریقہ کار میں اس حقیقت کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ صحت مند مریضوں کے خون میں ایسے طاقتور اینٹی باڈیز ہوتے ہیں جو وائرس کو لڑنے کی تربیت رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس وقت نئے نوول کورونا وائرس کا کوئی علاج موجود نہیں جبکہ ویکسین کی دستیابی اس سال کے آخر یا اگلے سال کی پہلی ششماہی تک ممکن نظر نہیں آتی۔

واشنگٹن یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر جیفری ہینڈرسن کے مطابق 'حال ہی میں صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے حاصل کیے گیے سیرم کا استعمال بہت پرانی سوچ محسوس ہوتی ہے، مگر تاریخی طور پر یہ کارآمد طریقہ ہے'۔

انہوں نے مزید کہا 'اسے استعمال کرکے ہم وائرس انفیکشن جیسے خسرہ، پولیو اور انفلوئنزا کی روک تھام اور علاج میں کامیاب رہے، مگر جب ایک بار ویکسین تیار ہوگئی تو یہ تیکنیک فراموش کردی گئی'۔

ان کا کہنا تھا 'جب تک کووڈ 19 کے حوالے سے مخصوص ادویات اور ویکسین تیار کریں گے، یہ طریقہ کار اس وقت تک زندگیاں بچانے میں مدد دے سکے گا'۔

اسپینش فلو کی عالمی وبا کے دوران ڈاکٹروں کے پاس کوئی علاج موجود نہیں تھا تو انہوں نے صحت یاب ہونے والے مریضوں کا بلڈ سیرم استعمال کرکے متعدد افراد کو صحت یابی میں مدد دی۔

بلڈ پلازما اور سیرم خون کے شفاف سیال پر مشتمل ہوتے ہیں اور دونوں اینٹی باڈیز سے لیس ہوتے ہہیں، مگر پلازما میں چند ایسے دیگر مددگار پروٹینز بھی ہوتے ہیں جو سیرم میں نہیں ہوتے۔

واشنگٹن یونیورسٹی سے قبل جونز ہوپکنز یونیورسٹی اور مایو کلینک بھی کووڈ 19 کے حوالے سے اس طریقہ کار پر ٹرائل شروع کیے تھے۔

ان کی جانب سے امریکا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو 18 مارچ کو سفارشات جمع کرائی گئی تھیں اور وہ انسانوں پر اس کی آزمائش کے لیے اجازت کے منتظر ہیں۔

ڈاکٹر جیفری اینڈرسن نے بتایا کہ یہ ایسا قدم ہے جس پر فوری عمل کرنے کی ضرورت ہے، یہ ادویات کی تیاری سے زیادہ تیز ہے کیونکہ اس کے لیے بس پلازما کے عطیے اور پیوندکاری کی ضرورت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا 'جیسے ہی کوئی فرد کووڈ 19 سے صحت یاب ہوکر ہمارے ارگرد گھومے گا، تو وہ ہمارے کے لیے ممکنہ ڈونر ہوگا اور ہم بلڈبینک سسٹم کو پلازما کے حصول کے لیے استعمال کرکے اسے ضرورت مند مریضوں میں تقسیم کیا جاسکے گا، اگر یہ طریقہ کارآمد ہوا، یہ اس وبا کے ابتدائی مرحلے میں لائف لائن فراہم کرسکے گا'۔

تحقیقی ٹیم اب صحت مند مریضوں سے خون کے عطیے کی درخواست کرنے والے ہیں، جس میں سے ہلازما کو الگ کیا جائے گا اور زہریلے مواد اور وائرس کی اسکریننگ کے بعد اسے بیمار افراد میں منتقل کیا جائے گا۔