کیا یہ تجرباتی دوا کووڈ 19 کے علاج کے لیے واقعی موثر ہے؟

29 مارچ 2020

ای میل

— فوٹو بشکریہ ہیلتھ لائن
— فوٹو بشکریہ ہیلتھ لائن

چین کی جانب سے چند روز قبل بتایا گیا تھا کہ جاپان میں انفلوائنزا کی نئی قسم کے لیے استعمال ہونے والی ایک دوا کورونا وائرس پر مؤثر ثابت ہورہی ہے۔

اس موقع پر چین کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ایک عہدیدار زینگ شن من نے بتایا کہ فیویپیراویر (favipiravir) نامی دوا کے اثرات ووہان اور شینزن میں کلینکل ٹرائلز کے دوران حوصلہ افزا رہے ہیں۔

اس دوا کو 340 مریضوں کو استعمال کرایا گیا اور عہدیدار نے بتایا 'یہ بہت زیادہ محفوظ ہونے کے ساتھ علاج میں واضح طور پر مؤثر ثابت ہوئی ہے'۔

اب اس تحقیقی ٹرائل کے نتائج جاری کیے گئے ہیں، جن سے جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ یہ کس حد تک موثر ثابت ہوسکتی ہے۔

شینزن کے تھرڈ پیپلز ہاسپٹل کے نیشنل کلینکل ریسرچ سینٹر فار انفیکشز ڈیزیز کی ٹیم نے نتائج کو جریدے جرنل انجنیئئرنگ میں شائع کرایا۔

فیویپیراویر کا ایک ایچ آئی وی دوا سے موازنہ

چینی سائنسدانوں نے مقالے میں کووڈ 19 کے خلاف موثر اینٹی وائرل ایجنٹس کی ضرورت پر زور دیا، اسی مقصد کے لیے موجودہ اینٹی وائرل ادویات کو استعمال کیا گیا، چاہے وہ اس مقصد کے لیے مناسب ہوتی یا نہیں۔

طبی ماہرین کی جانب سے ماضجی میں ادویات جیسے فیویپیراویر، رباویرن، انٹرفیرون اور لوپینویر کو سارز اور مرس کورونا وائرس کے علاج کے لیے استعمال کیا گیا۔

تاہم محققین کا کہنا تھا کہ ان میں سے کچھ ادویات کی افادیت مشتبہ ہے۔

مگر چینی ہسپتال کے سائنسدانوں نے ماضی کی تحقیقی رپورٹس کا حوالہ دیا جن سے عندیہ ملتا تھا کہ فیویپیراویر نئے کورونا وائرس سے مقابلے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

اس مقصد کے لیے سائنسدانوں نے اس دوا کا استعمال کرایا اور اس کا موازنہ ایک ایچ آئی وی دوا لوپینویر کی افادیت کے ساتھ کیا گیا۔

یہ ایچ آئی وی انفیکشن کے لیے استعمال کی جانے والی دوا 2003 میں سارز وائرس کی وبا کے ممکنہ علاج کے لیے اہم سمجھی گئی تھی۔

فیویپیراویر ممکنہ طور پر نئے کورونا وائرس کے خلاف موثر

اس تحقیق میں فروری کے آغاز میں کووڈ 19 سے متاثر 35 مریضوں کو پہلے دن 1600 ملی گرام فیویپیراویر 2 بار (2 مختلف ڈوز میں) استعمال کرائی گئی جبکہ انٹرفیرون بھی کھلائی گئی

دوسرے دن اور اس کے بعد دن میں 2 بار اس دوا کی مقدار کم کرکے 600 ملی گرام کردی گئی اور انٹرفیرون کا استعمال بھی جاری رہا۔

ایک اور 45 مریضوں کے گروپ کو لوپینویر کا استعمال 14 دن تک 400 ملی گرام ڈوز اور پھر سو ملی گرام روزانہ 2 بار کرایا گیا جس کے ساتھ انٹرفیرون کو دیا گیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ فیویپیراویر کا استعمال جن افراد کو کرایا گیا، ان میں اوسطاً 4 دن میں وائرس کلیئر ہوگیا جبکہ دوسرے گروپ میں ایسا 11 دن میں ہوا۔

اسی طرح فیویپیراویر گروپ کے 91 فیصد سے زائد مریضوں کے پھیپھڑوں کی حالت میں بہتری دیکھنے میں آئی جبکہ دوسرے گروپ میں یہ شرح 63 فیصد کے قریب تھی۔

محققین کا کہنا تھا کہ ان اعدادوشمار سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دوا وائرس کی صفائی تیزی سے کرتی ہے، بہت کم مضر اثرات اب تک دریافت ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک کنٹرول تحقیق تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فیویپیراویر کووڈ 19 کے لیے ایک بہتر علاج ثابت ہوسکتی ہے۔

نتائج کس حد تک قابل اعتبار ہیں؟

طبی ماہرین کے مطابق چونکہ یہ تحقیق بہت محدود پیمانے پر ہوئی جس کے نتائج حوصلہ بخش ضرور ہیں مگر اس حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ دونوں گروپس میں شامل مریضوں کی عمروں میں کافی فرق تھا جبکہ چند دیگر عناصر پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، اس حوالے سے زیادہ بہتر ٹرائلز ضروری ہیں، جس کے بعد ہی عام مریضوں کے لیے اس دوا کو استعمال کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔

کہیں اور بھی اس کو استعمال کیا جارہا ہے؟

جاپان میں بھی ڈاکٹروں کی جانب سے اس دوا کو کورونا وائرس کے معمولی سے معتدل علامات والے مریضوں پر ہونے والے کلینیکل ٹرائلز کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور ان کو توقع ہے کہ اس کے استعمال سے مریضوں میں وائرس کی نشوونما کی روک تھام ممکن ہے۔

مگر جاپانی وزارت صحت کے ذرائع نے کہا ہے کہ یہ دوا سنگین علامات والے مریضوں کے لیے ممکنہ طور پر زیادہ مؤثر نہیں کیونکہ ایسے مریضوں پر اس کا اثر دیکھنے میں نہیں آیا جن میں یہ وائرس زیادہ پھیل چکا تھا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ اس سے ہٹ کر جن مریضوں میں ایچ آئی وی انفیکشن کے لیے استعمال ہونے والے ادویات کے امتزاج کو استعمال کیا گیا، ان کے ساتھ بھی سنگین کیسز میں یہی مسئلہ دیکھنے میں آیا۔

اس نئی دوا کو نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والے بیماری کووڈ 19 کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کے لیے حکومتی اجازت کی ضرورت ہوگی کیونکہ یہ بنیادی طور پر فلو کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھی۔

جاپانی وزارت صحت کے ایک عہدیدار نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس دوا کی کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے استعمال کرنے کی منظوری مئی تک دی جاسکتی ہے، تاہم کلینیکل تحقیق کے نتائج میں تاخیر ہوئی تو منظوری کے عمل میں بھی تاخیر ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ فی الحال کووڈ 19 کا علاج موجود نہیں بلکہ اس کی علامات کا علاج ان کی نوعیت دیکھتے ہوئے مختلف ادویات سے کیا جاتا ہے اور عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ 97 فیصد مریض ریکور بھی کرلیتے ہیں۔

اس کے لیے مختلف ممالک میں ویکسین کی تیاری پر کام ہورہا ہے جبکہ امریکا میں ویکسین کی انسانوں پر آزمائش شروع ہوچکی ہے مگر کسی ویکسین کی عام دستیابی میں ایک سے ڈیڑھ سال کا عرصہ درکار ہوگا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1562 ہوگئی ہے۔

کورونا کیسز کے سب سے زیادہ کیس صوبہ پنجاب میں 570 رپورٹ ہوئے جب کہ سندھ 502 کیسز کے ساتھ دوسرے، خیبرپختونخوا 188 کے ساتھ تیسرے اور بلوچستان 141 کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے، گلگت بلتستان میں 116 جبکہ اسلام آباد میں 43 اور آزاد کشمیر میں 2 کیسز سامنے آئے ہیں۔

اب تک 15 مریض جاں بحق جبکہ 28 صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 6 لاکھ 65 ہزار سے زائد ہوچکی ہے جبکہ 31 ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔