ای میل

’ہاں ہاں۔ لال لال خون۔ یہیں تو گر رہا تھا‘


عبیداللہ کیہر


اس سیریز کی بقیہ اقساط۔ پہلی، دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں، چھٹی، ساتویں اور آٹھویں قسط


برساتی نالے کا آسیب

میرا بچپن کراچی کے علاقے قائد آباد میں گزرا ہے۔ ہمارا گھر ریڈیو پاکستان کالونی کے سامنے والی آبادی میں نیشنل ہائی وے کے عین کنارے معروف دواساز کمپنی ایبٹ سے متصل تھا۔

70ء کی دہائی میں یہاں کی آبادی مختصر ہوا کرتی تھی۔ ابّا کی ٹیلرنگ شاپ گھر کے قریب ہی ریڈیو کالونی مین گیٹ کے سامنے ہوتی تھی۔ ہم روزانہ اسی مین گیٹ سے ریڈیو کالونی کے اندر اپنے پرائمری اسکول جاتے تھے۔ میلوں طویل چار دیواری کے اندر اس وسیع و عریض احاطے میں اندر جا بجا ریڈیو نشریات کے اونچے اونچے آہنی ٹرانسمیشن ٹاورز ابھرے ہوئے تھے جو میلوں دُور سے نظر آتے تھے، بلکہ آج بھی اسی طرح نظر آتے ہیں۔

ریڈیو ملازمین کی رہائشی کالونی بھی اسی چار دیواری کے اندر تھی اور اس کے عین وسط میں ہمارے پرائمری اسکول کی خوبصورت عمارت تھی۔ اس اسکول میں ریڈیو ملازمین کے بچے بھی پڑھتے تھے اور باہر سے آنے والوں پر بھی کوئی پابندی نہ تھی۔

ان دنوں کراچی میں بارشیں بہت زیادہ اور بڑی موسلا دھار ہوتی تھیں۔ بارش کے بعد کئی کئی دن نشیبی جگہوں پر پانی کھڑا رہتا تھا۔ ریڈیو کالونی سے برساتی پانی کی نکاسی ایک نالے کے ذریعے ہوتی تھی جو ہماری آبادی کے درمیان میں سے گزرتا ہوا ملیر ندی تک جاتا تھا۔ یہ برساتی نالا عام دنوں میں تو ہمارے گھروں کی نکاسئ آب کا ذریعہ ہوتا تھا، البتہ برسات کے دنوں میں اس میں ریڈیو کالونی سے بہہ کر آنے والا تیز رفتار مٹیالا پانی گرجتا شور مچاتا بہتا تھا۔ ہمارے گھر کی مغربی دیوار اس نالے کے عین اوپر تھی۔ نکاسئ آب چونکہ اسی طرف ہوتا تھا اس لیے ہمارا غسل خانہ اور بیت الخلا بھی اسی دیوار کے ساتھ تھے۔

ریڈیو کالونی قائدآباد
ریڈیو کالونی قائدآباد

ہم 5 بہن بھائی تھے۔ حبیب اللہ ہم میں سب سے چھوٹا تھا۔ امّی ابّا کہیں جاتے تو اسے ساتھ لے کر جاتے اور ہم چاروں گھر پر رہتے تھے۔ ایک مرتبہ یہی ہوا کہ امّی اور ابّا حبیب اللہ کو ساتھ لے کر ہمارے ماموں کے گھر لی مارکیٹ گئے۔ وہاں سے واپسی تک انہیں اتنی دیر ہوگئی کہ قائدآباد آنے والی بس نہ مل سکی۔ چنانچہ مجبوراً انہیں صبح تک وہیں رکنا پڑ گیا۔ ہم چاروں یہاں گھر پر امّاں ابّا کا انتظار کرتے کرتے بالآخر تھک کر سونے لگے۔ اس زمانے میں نہ موبائل فون ہوتا تھا اور نہ ہی ہمارے جیسے گھروں میں عام فون کا کوئی تصور تھا۔ اس لیے اس بات کا تو کوئی امکان ہی نہیں تھا کہ ہمیں کوئی اطلاع ملتی۔ خیر سوتے جاگتے رات گزرنے لگی۔

یہ سردیوں کے دن تھے۔ باہر نیشنل ہائی وے پر بھی ٹریفک جلد ہی ختم ہوگیا اور ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ ہم تقریباً سب ہی نیند کی آغوش میں تھے کہ اچانک کسی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ پانی گرنے کی آواز ہے۔ پہلے تو میں نے سنی ان سنی کردی ،لیکن پھر غور کیا تو اندازہ ہوا کہ پانی گرنے کی آواز برساتی نالے والی دیوار کی طرف سے آرہی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے کوئی بالٹی سے اپنے جسم پر مگے سے پانی بہا بہا کر نہا رہا ہے۔ میں تو حیران رہ گیا۔

70ء میں اس عمارت کی جگہ ہمارا گھر تھا
70ء میں اس عمارت کی جگہ ہمارا گھر تھا

اس زمانے میں گھروں میں عام طور سے چھتوں پر پانی کی ٹنکیاں نہیں ہوتی تھیں۔ استعمال کا سارا پانی باہر سرکاری نلکوں سے بھر کر لایا جاتا تھا اور بالٹیوں، ڈرموں یا مٹکوں میں ذخیرہ کیا جاتا تھا۔ ہمارے گھر میں بھی یہی صورتحال تھی۔ جب ٹنکیاں نہیں تھیں تو سردیوں میں گیزر کا بھی کوئی تصور نہیں تھا۔ پانی گھی کے استعمال شدہ ٹین کے ڈبے یا کنستر میں گرم کیا جاتا تھا اور اسے ٹھنڈے پانی کے ساتھ بالٹی میں ملا کر نہاتے تھے۔

تو یہ ان سردیوں میں آدھی رات کو کون یوں ٹھنڈے پانی سے نہا رہا ہے؟ میں چونک کر اٹھ بیٹھا۔ اپنے دائیں بائیں دیکھا تو باقی بہن بھائی بھی میرے قریب ہی سو رہے تھے۔ غسل خانے میں سے بدستور پانی کے مگے پر مگا بہنے کی آواز آئے جا رہی تھی۔ اب تو ڈر کے مارے میری گھگھی بندھ گئی۔

’یااللہ یہ کون ہے؟‘، میں نے بغیر آواز نکالے بڑے بھائی عبداللہ کو آہستہ سے ہلایا جلایا۔ 2، 3 مرتبہ ہلانے پر وہ اٹھ بیٹھے اور میری طرف ناراض نظروں سے دیکھ کر بولے ’کیا بات ہے؟‘

میں نے انہیں غسل خانے سے آنے والی پانی گرنے کی آواز کی طرف متوجہ کیا۔ وہ چند لمحے تو میری بات سمجھ ہی نہ پائے، لیکن جب میں نے دوسری چارپائی پر گہری نیند سوتی ہاجرہ باجی اور زینب باجی کی طرف اشارہ کیا تو عبداللہ بھائی کو فوراً ہی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوگیا۔ جب ہم چاروں بہن بھائی یہیں موجود ہیں تو پھر غسل خانے میں یہ کون ہے جو لگاتار پانی بہائے جارہا ہے؟

پھر جتنا پانی بہایا جا رہا تھا اتنا توغسل خانے کی بالٹی میں بھی نہیں ہوتا تھا۔ اب تو ہم دونوں بھائیوں کا ڈر کے مارے بُرا حال ہوگیا۔ عبداللہ بھائی اٹھے اور آہستہ سے بڑی بہن کو جگاکر اس طرف متوجہ کیا۔ اب تو ہم چاروں خوف سے کانپنے لگے۔ پھر ہم دونوں بھائی بھی ان کے قریب جاکر سہمے سہمے سے بیٹھ گئے۔

ریڈیو کالونی میں میرا اسکول
ریڈیو کالونی میں میرا اسکول

اس اسکول میں ریڈیو ملازمین کے بچے بھی پڑھتے تھے اور باہر سے آنے والوں پر بھی کوئی پابندی نہ تھی
اس اسکول میں ریڈیو ملازمین کے بچے بھی پڑھتے تھے اور باہر سے آنے والوں پر بھی کوئی پابندی نہ تھی

نیند ہماری آنکھوں سے اڑ چکی تھی۔ خدا جانے کب تک غسل خانے سے طرح طرح کی آوازیں آتی رہیں اور پھر یکایک خاموشی چھا گئی۔ لیکن ہم چاروں بچے اسی طرح خوفزدہ ایک دوسرے سے لگ کر بیٹھے رہے۔ حتیٰ کہ مساجد سے فجر کی اذانیں بلند ہونا شروع ہوگئیں۔ کچھ دیر میں سورج طلوع ہوا اور اجالا پھیلنے لگا۔ روشنی پھیلنے سے ہمارا خوف کچھ کم ہوا تو ہم چاروں اٹھے اور جاکر آہستہ سے غسل خانے کا دروازہ کھول کر دیکھا۔ لیکن یہ کیا؟ یہاں تو پانی بہنے کے کوئی آثار ہی نہیں تھے۔ بالٹی اسی طرح لبالب بھری ہوئی تھی جیسی رات کو چھوڑی گئی تھی اور غسل خانے کا فرش ایسے خشک ہو رہا تھا جیسے یہاں کئی دنوں سے کوئی چھینٹا بھی نہ گرا ہو۔ ہم ششدر ہوکر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ اگر یہاں رات بھر کوئی نہیں آیا تھا تو پھر وہ پانی بہانے کی آوازیں کیسی تھیں؟

ویران کالج کا خونی بوڑھا

ہمارے دوست ہیں احمد انصاری۔ ’حلقۂ یاراں‘ کے نام سے کراچی کے ایک معروف اخبار میں بہت دلفریب کالم لکھتے ہیں اور اپنے اسی عنوان کی مناسبت سے یاروں کے یار بھی ہیں۔

احمد بھائی کا بچپن، لڑکپن اور جوانی کراچی کے مرکز برنس روڈ کے قریب اردو بازار سے متصل محلے رتن تلاؤ کے گلی کوچوں میں گزرا ہے۔ جہاں ہر طرف کاغذ کی مہک، علم و ادب کی خوشبو اور چھاپہ خانوں کی کھٹاکھٹ سمائی رہتی ہے۔

کراچی کا یہ بازارِ کتب 1955ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس وقت اس کے اطراف میں کراچی کے کئی معروف اور تاریخی تعلیمی ادارے واقع تھے، بلکہ اب بھی ہیں۔ ان میں ڈی جے کالج، سندھ مدرسۃ الاسلام، ڈاؤ میڈیکل کالج، اردو آرٹس کالج، ایس ایم لاء کالج، این ای ڈی کالج، سینٹ پیٹرک کالج، سینٹ جوزف کالج، گورنمنٹ ویمن کالج، این جے وی اسکول، ماما پارسی اسکول اور بی وی ایس اسکول جیسے بلند پایہ تعلیمی ادارے شامل ہیں جو آج بھی اردو بازار کے اردگرد چند کلومیٹر کے دائرے میں موجود ہیں۔

اردو بازار کراچی
اردو بازار کراچی

آج بھی نہ صرف ان اداروں کے طلبہ و طالبات اسی اردو بازار سے اپنی کتابیں اور اسٹیشنری کا سامان خریدتے ہیں، بلکہ تمام ادبی و غیر نصابی کتب کا مرکز بھی یہی بازار ہے۔ تو اسی اردو بازار کی قربت میں رہنے والے ہمارے احمد بھائی کے ساتھ ایک مرتبہ ایک ایسا عجیب اور خوفناک واقعہ پیش آیا کہ جس کی وہ خود بھی آج تک کوئی توجیہہ نہیں کر پائے ہیں۔ وہ کیا واقعہ تھا، انہی کی زبانی سنئے:

’یہ 80ء کی دہائی کا قصہ ہے۔ میں سیکنڈری اسکول کا طالب علم تھا۔ رمضان کا مہینہ تھا اور گرمیوں کے دن۔ اسکول میں گرمیوں کی چھٹیاں چل رہی تھیں اس لیے آزادی و عیاشی کے دن تھے۔ ہمارا معمول یہ تھا کہ روز سحری کے وقت اٹھتے اور پھر روزہ رکھ کر سب دوست اپنے اپنے گھروں سے نکل کر نماز پڑھنے جامع مسجد رتن تلاؤ پہنچ جاتے۔ نماز پڑھ کر سب مسجد کے باہر جمع ہوتے اور پھر سب مل کر سورج طلوع ہونے سے پہلے پہلے فریئر روڈ (شارع لیاقت) سے اردو بازار کی طرف آنے والی چوڑی سڑک پر پہنچ جاتے۔

’یہ ہمارا اسپورٹس ٹائم تھا۔ لیکن ہم یہاں نہ کرکٹ کھیلتے، نہ فٹبال اور نہ ہاکی، بلکہ فرسبی Frisbee کھیلتے تھے۔ فرسبی پلاسٹک کی ایک فٹ بھر چوڑی گہری پلیٹ ہوتی تھی جسے اس کا کھلا منہ نیچے کی طرف رکھ کر ہاتھ کی پوری طاقت سے لہراتے ہوئے فضا میں اچھالا جاتا تو فضا میں دُور دُور تک اڑن طشتری بن کر تیرتی چلی جاتی۔ ایک طرف سے اس طشتری کو اڑانے اور دوسری طرف اسے کیچ کرنے کے لیے 2 ٹیمیں تشکیل دی جاتیں اور مقابلہ شروع ہوجاتا۔ صبح سویرے کا سہانا وقت، کراچی کی ٹھنڈی خوشگوار ہوا اور دن بھر ٹریفک کی ماری سڑک پر ایک پُرسکون اور دل خوش کن خاموشی، لیکن ہمارے پہنچتے ہی کم از کم خاموشی تو اس سڑک سے رخصت ہوجاتی تھی۔ فرسبی فضا میں شَق شَق لہراتی ہوئی اڑنے لگتی اور اسے پھینکنے اور کیچ کرنے والوں کا والہانہ اور بے باکانہ شور اردو بازار کی گلیوں میں گونجنے لگتا۔ سورج طلوع ہونے تک یہ رونق میلہ لگا رہتا اورجب خوب پسینہ بہا کر سارے لڑکے اپنے گھروں کو لوٹتے تو پھر ظہر کی نماز تک خوب گہری نیند سو تے رہتے۔

’ایک دن ہم سب اسی طرح اسی سڑک پر جمع تھے اور فرسبی کی اڑانیں اڑا رہے تھے۔ فریئر روڈ سے اردو بازار تک جانے والی اس سڑک کے ایک طرف تو 3، 4 منزلہ عمارتیں ہیں اور دوسری طرف گرلز کالج ہے۔ گرلز کالج کی بلند دیوار فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ اردو بازار تک چلی گئی ہے۔ ہم میں سے کبھی کوئی جوش میں آکر فرسبی کو کچھ زیادہ ہی زور سے اچھال دیتا تو وہ بلندی پر اڑتی اڑتی یا تو کسی فلیٹ کی گیلری میں جا گرتی، یا پھر گرلز کالج کی دیوار کے اوپر سے اڑتی ہوئی اندر احاطے میں کہیں لینڈ کرجاتی۔ اس بھٹکی ہوئی فرسبی کو واپس لانا بھی ایک اہم مشغلہ ہوتا تھا۔ خصوصاً جب یہ گرلز کالج کے احاطے میں جاکر گرتی تو سب سے پھرتیلا لڑکا دوڑتا ہوا جاتا اور بندر کی طرح دیوار سے چمٹ کر اسے پھلانگتا ہوا اندر کالج میں کود جاتا، فرسبی کو اٹھا کر وہیں سے لہرا کر سڑک کی طرف اچھال دیتا اور چند لمحوں میں دوبارہ دیوار پھلانگ کر واپس سڑک پر پہنچ جاتا۔

اردو بازار کی ایک قدیم عمارت
اردو بازار کی ایک قدیم عمارت

’ایک دن ہم اسی طرح کھیل رہے تھے کہ فرسبی اڑتی ہوئی گرلز کالج کے اندر چلی گئی۔ ہم جس جگہ کھیلتے تھے اس کے ساتھ چار دیواری کے اندر کالج کا ویران حصہ تھا جہاں کوئی تعمیرات نہیں تھیں بلکہ خودرو جھاڑ جھنکار تھا۔ عام طور پر ہماری فرسبی انہی جھاڑیوں کے اندر جاکر گرتی تھی اور ہم دیوار پھلانگ کر اسے اٹھا لاتے تھے۔ میں چونکہ دبلا پتلا اور پھرتیلا تھا اس لیے ایسے وقت سب دوست عام طور سے میری طرف ہی دیکھتے تھے۔

’چنانچہ اس دن بھی میں ہی دیوار کی طرف لپکا اور جلدی سے اوپر چڑھ کر دوسری طرف چھلانگ لگا دی۔ اس وقت سورج ابھی پوری طرح طلوع تو نہیں ہوا تھا لیکن ہلکی ہلکی روشنی ہر طرف پھیل گئی تھی۔ کالج کے ویران میدان میں پستہ قد جھاڑیاں تھیں جن میں پڑی شوخ رنگ فرسبی اکثر ہمیں دُور سے ہی نظر آجاتی تھی۔ اس دن بھی میدان میں کودتے ہی میں نے لاپرواہی سے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی، لیکن فرسبی کہیں نظر نہیں آئی۔ میں تھوڑا مزید آگے بڑھ کر جھاڑیوں کے بیچ میں اِدھر اُدھر نظر مارنے لگا۔ ابھی میں دائیں بائیں دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک مجھے قریب ہی کہیں سے تیز تیز قدموں کی چاپ اور کپڑوں کی سرسراہٹ سنائی دی۔ میں حیران ہوا کہ کالج تو بند ہے، پھر یہ آوازیں کہاں سے آرہی ہیں؟ چونک کر اِدھر اُدھر دیکھا تو اچانک دائیں طرف والی جھاڑیوں کے اختتام پر ایک سیاہ لباس بوڑھے شخص پر نظر پڑی، جو درختوں کی اوٹ سے نکل کر تیزی سے میری طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے تیور مجھے بالکل بھی دوستانہ نہیں لگے، بلکہ یوں لگا جیسے وہ مجھے مارنے کو آرہا ہے۔ میں گھبرا گیا۔ اچانک مجھے نظر آیا کے اس کے ہاتھوں میں کوئی چیز ہے۔ وہ کچھ اور قریب ہوا تو میں نے دیکھا کہ اس کے ہاتھوں میں سفید رنگ کا ایک خون آلود کپڑا ہے۔ وہ میری طرف بڑھتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی پوری طاقت سے اس خون آلود کپڑے کو بھینچتا بھی جا رہا ہے۔ بھینچنے کی وجہ سے کپڑے میں سے سرخ سرخ خون تیزی سے نچڑتا ہوا میدان میں گرتا جا رہا ہے اور وہ اس خون کی ایک لکیر اپنے پیچھے چھوڑتا ہوا جارحانہ انداز سے میری طرف لپک رہا ہے۔ ساتھ ساتھ وہ کچھ بڑبڑا بھی رہا تھا۔

’مجھے یوں لگا جیسے وہ مجھے گالیاں دے رہا ہو۔ اس کی خونخوار سرخ سرخ آنکھیں، اس کا جارحانہ انداز اور اس کے ہاتھوں سے ٹپکتا خون دیکھ کر میرے تو اوسان ہی خطا ہوگئے۔ میں ایک چیخ کے ساتھ واپس پلٹا، بیرونی دیوار تک دوڑتا ہوا آیا اور بندر کی سی تیزی سے دیوار کو پھلانگتا ہوا دوسری طرف کود گیا جہاں میرے دوست کھڑے میرا انتظار کر رہے تھے۔ ان لوگوں نے میری چیخ سن لی تھی اس لیے سب دیوار کے قریب آگئے تھے اور دیوار پھلانگ کر اندر آنے کو ہی تھے کہ میں واپس پہنچ گیا۔ مجھے خوفزدہ دیکھ کر سب 'کیا ہوا، کیا ہوا' کرنے لگے۔ میرے یہ بتانے پر کہ اندر ایک سیاہ پوش خوفناک بڈھا ہے جو اپنے ہاتھوں میں پکڑے کپڑے سے خون ٹپکاتا ہوا مجھے مارنے کو دوڑا ہے، تو وہ سارے بھی چونکے اور اسی وقت سب دیوار پر چڑھ کر کالج کے اندر کود گئے۔ میں ان کے ساتھ دوبارہ کودا۔ اندر آکر سب جھاڑیوں اور درختوں میں پھیل گئے۔

ویمن کالج نزد اردو بازار
ویمن کالج نزد اردو بازار

'کون ہے بے؟ کہاں ہے اوئے؟', سب زور زور سے للکارنے لگے۔

’لیکن حیرت انگیز طور پر اس وقت وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ نہ درختوں میں، نہ جھاڑیوں میں۔ حالانکہ ابھی چند لمحے پہلے ہی وہ خونخوار بڈھا یہیں میری طرف لپکا تھا۔ لیکن وہ اتنی جلدی کیسے غائب ہوسکتا تھا؟ فرسبی تو ایک طرف گری ہوئی سب کو نظر آگئی لیکن یہاں ہمارے علاوہ کوئی ذی روح نہیں تھا۔

’ابے کہاں تھا تمہارا وہ خونی بڈھا؟‘، ایک دوست میری طرف دیکھ کر بولا۔

’ابے بھائی یہیں تو تھا ابھی ابھی‘، میں نے جھاڑیوں میں ایک طرف اشارہ کیا۔

’یہاں؟‘، سب اس طرف دیکھنے لگے۔

’تم تو کہہ رہے تھے کہ اس کے ہاتھ میں پکڑے کپڑے سے بہت خون گر رہا تھا؟‘، ایک دوست بولا۔

’ہاں ہاں۔ لال لال خون۔ یہیں تو گر رہا تھا‘، میں بولا۔

’تو کدھر ہے بھیا وہ خون؟‘، وہ اس جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میری طرف عجیب نظروں سے دیکھنے لگا۔

’ہاں بھئی۔ کہاں ہیں لال لال خون کے نشان؟‘، باقی لڑکے بھی مجھے گھورنے لگے۔

’اب تو میں بہت گڑبڑایا۔ مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہوا ہے۔ ابھی چند منٹ پہلے ہی تو میں نے اپنی کھلی آنکھوں سے اس خونخوار بڈھے کو دیکھا تھا جو کپڑے سے خون نچوڑتے ہوئے تیزی سے میری طرف لپک رہا تھا اور اس کے پیچھے گاڑھے گاڑھے خونی چھینٹوں کی ایک لکیر بنتی چلی آرہی تھی۔ لیکن اب یہاں نہ تو وہ بڈھا تھا اور نہ ہی کہیں خون کا کوئی قطرہ۔ یااللہ وہ سب کیا تھا؟

’لڑکوں نے فرسبی اٹھائی اور آپس میں کھسر پھسر کرتے ہوئے واپس دیوار پھاندنے لگے۔ میں بھی عجب متذبذب سا ان کے پیچھے پیچھے دیوار کود آیا۔ مجھے اس انہونے واقعے کے بیان پر کچھ شرمندہ سا ہونا چاہیے تھا، لیکن مجھے خود پر پورا یقین تھا کہ میں نے وہاں وہ منظر دیکھا ہے۔ پھر آخر وہ سب کہاں گیا؟ اب مجھے کچھ خوف محسوس ہوا۔ کیا وہ کوئی آسیب تھا؟ جن بھوت تھا؟ یا کوئی بدروح تھی؟ خدا جانے کیا تھا۔

’ابے میں گھر جارہا ہوں‘، میں نے دوستوں سے کہا۔

’کیوں؟ ڈر گئے ہو کیا؟‘، ایک بڑی عمر کا دوست میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔

’ہاں یار، مجھے ڈر لگ رہا ہے‘، میں بولا۔

’چلو ہم تمہیں گھر چھوڑ کر آتے ہیں۔ تم آیت الکرسی پڑھو اور یہ واقعہ اپنے ذہن سے نکال دو‘، وہ بولا۔

’وہ سب میرے ساتھ گھر چلنے لگے۔ میں زیرِ لب آیت الکرسی کا ورد کرنے لگا۔ خوف تو کم ہوگیا لیکن میں اس خوفناک بوڑھے کا اپنی طرف لپکنے والا منظر اپنے ذہن سے نہیں جھٹک پایا۔ اگلے چند دن میرے دوستوں میں اور محلے والوں میں میرے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے کا تذکرہ ہوتا رہا، پھر بات آئی گئی ہوگئی۔ لیکن میں اس واقعے کو کبھی نہ بھلا سکا۔ آج اس بات کو تقریباً 40 سال ہوگئے ہیں۔ ویمن کالج اپنی جگہ اسی طرح قائم ہے اور اس کی دیوار بھی اپنی جگہ اسی طرح کھڑی ہے۔ لیکن میری نظر آج بھی جب اس دیوار پر پڑتی ہے تو مجھے وہ خوفناک بوڑھا ضرور یاد آجاتا ہے۔

(جاری ہے)



عبیداللہ کیہر پیشے کے لحاظ سے میکینیکل انجینیئر، مگر ساتھ ہی سیاح، سفرنامہ نگار، پروفیشنل فوٹوگرافر اور ڈاکومنٹری فلم میکر ہیں۔ آپ کی اب تک 7 کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ آبائی تعلق سندھ کے شہر جیکب آباد سے ہے۔ عمر کا غالب حصہ کراچی میں گزارا اور اب اسلام آباد میں رہتے ہیں.