بچوں کی تربیت میں والد کا کردار اور اس کے اثرات

اپ ڈیٹ 15 اگست 2020

ای میل

والد کا شفقت بھرا نرم رویہ بچوں کی نشو و نما کا اہم ستون ہے—فوٹو: پیرنٹنگ فار برین
والد کا شفقت بھرا نرم رویہ بچوں کی نشو و نما کا اہم ستون ہے—فوٹو: پیرنٹنگ فار برین

'میں اکیلی ہوں، گھر کے کاموں کے لیے بھی اور بچوں کی ہوم اسکولنگ کے لیے بھی،' ایک باہمت خاتون نے جب ہوم اسکولنگ کے حوالے سے مشورے کے لیے رابطہ کیا تو اپنی مشکلات کے حوالے سے بتانے لگیں۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 'مزید یہ کہ اگر گھر کے کام پورے نہ ہوں یا کچھ بھول چوک ہوجائے تو شوہر الگ غصہ ہوجاتے ہیں'، ان سے بات کرنے والی خاتون نے ان سے پوچھا کہ ' کیا آپ گھر میں اکیلی ہوتی ہیں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے؟'

انہوں نے بتایا کہ 'میرے شوہر گھر پر ہی ہوتے اور گھر سے ہی کام کر رہے ہیں'۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ گھر کے کام اور بچوں کی تعلیم و تربیت اکیلے کرنے کی وجہ سے وہ کافی پریشان تھیں کیونکہ ان کے شوہر بچوں کے حوالے سے کسی قسم کی ذمہ داری اٹھانے پر تیار نہیں تھے۔

دیکھا جائے تو تعلیم و تربیت کی بنیادی ذمہ داری ماں کے ہاتھ میں ضرور ہے لیکن باپ کے تعاون اور متحرک کردار کے بغیر بچوں کی بنیادی تربیت ہونا انتہائی دشوار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: والدین کا 'معیاری وقت'بچوں کی بہتر تربیت و نشوونما کی ضمانت

ماہرین بھی مانتے ہیں کہ بچوں کی تربیت میں والد کا کردار اہم ہوتا ہے، تو اس ضمن میں جانتے ہیں کہ والد کے کردار کیا فوائد ہیں اور ان کا کردار کیوں ضروری ہے؟

والد کے متحرک کردار ہونے کے فوائد

حقیقت یہ ہے کہ بچوں کی صحت مند نشوونما اور کامیاب مسقبل میں والد کا کردار کلیدی ہوتا ہے، جن گھروں میں باپ مثبت اور متحرک انداز میں بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں وہاں بچوں کے اندر کئی خصوصیات خود بہ خود پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں، جن میں کچھ درج ذیل ہیں۔

  • بچے پر اعتماد ہوتے ہیں۔

  • پڑھنے لکھنے سمیت سماجی صلاحیتوں میں بہتر ہوتے ہیں۔

  • خود پر قابو پانے کے قابل بن جانتے ہیں، اپنے رویوں سے مسائل پیدا نہیں کرتے۔

  • دوسروں کے معاملات اور مشکلات کے حوالے سے زیادہ حساس یا خیال رکھنے
    والے ہوتے ہیں-

  • منشیات یا دیگر نشوں میں پڑنے کا امکان کم ہوتا ہے۔

  • ذہنی مسائل کے شکار کم ہوتے ہیں۔

  • جنسی بے راہ روی میں پڑنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔

  • کسی قسم کی زیادتی یا نظر انداز کیے جانے کی کیفیت کا شکار ہونے کا
    امکان کم ہوتا ہے۔

یاد رکھیں کہ جہاں والد کا کردار بچے کی بہتر تربیت کے لیے اہم ہوتا ہے، وہیں کئی افراد والد کے کردار کو سمجھنے کے بجائے ان کے کردار کے حوالے سے غلط رائے قائم کر لیتے ہیں اور عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ بچوں کی بہتر تربیت کے لیے والد کو سخت ہونا چاہیے اور اسے اپنے بچوں سے محبت سے کم پیش آنا چاہیے جو کہ غلط ہے۔

مزید پڑھیں: بچوں کی ذہنی صلاحیت و دماغی نشوونما تیز کرنے کے طریقے

اس حوالے سے معاشرے میں والد کے حوالے سے پائی جانے والی کچھ غلط فہمیاں درج ذیل ہیں۔

  • یہ سمجھا جاتا ہے کہ ماں کے ہوتے ہوئے والد کے کردار کی ضرورت نہیں ہوتی یا بچوں کو اسکول بھیجنے کی صورت میں باپ کو متحرک کردار ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔

  • معاشرے میں والد کو سخت گیری کی علامت سمجھا جاتا ہے، یہ بات بری سمجھی جاتی ہے کہ باپ اپنے بچوں سے بہت زیادہ محبت کا اظہار کرے یا گھل مل کر رہے۔

  • یہ سب سے بڑی غلط فہمی ہے کہ والد کا اصل کام صرف بچوں کی مادی ضروریات یا پیسوں سےمتعلق اشیا کی فراہمی ہے، پیسے کی فراہمی کا یہ چکر باپ کو
    بچوں سے دور اور مزید دور کرتا چلا جاتا ہے۔

  • ایک بڑی غلط فہمی یہ ہوتی ہے کہ شیر خوار بچے صرف ماں پر منحصر ہوتے
    ہیں، یہ سوچ، بچوں کو شروع سے ہی باپ سے دور کرتی چلی جاتی ہے۔

  • ہمارے معاشرے میں بڑے ہوتے ہوئے بچے اور باپ کے درمیان دوری کو فطری
    سمجھا جاتا ہے خصوصا لڑکیوں کے حوالے سے حالانکہ لڑکیوں کی بہت سی ذہنی اور جذباتی ضروریات باپ ہی پوری کرسکتا ہے۔

ان غلط فہمیوں کا توڑ یہی ہے کہ معاشرے کی عمومی سوچ پر چلنے کے بجائے والد کے کردار کو گھر اور بچوں کے معاملے میں متحرک کیا جائے اور اس ضمن میں والد کے اپنے بچوں سے تعلق بنانے کے درج ذیل طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خود اعتمادی کیا ہے اور یہ بچوں میں کیسے پیدا کی جائے؟

درج ذیل چھوٹے مگر مؤثر طریقوں سے باپ، اپنے بچوں کے ساتھ تعلق کو خوشگوار، گرم جوش اور گھربھر کے لیے فائدہ مند بنا سکتا ہے۔

  • ہفتے میں کسی ایک دن آپ اپنے بچوں کو کھانا کھلانے کی ذمہ داری قبول کریں۔
  • چھوٹے بچوں کو گود میں یا جھولا دیتے ہوئے سلائیں۔
  • بچوں سے بات کریں، نظمیں گائیں اور ان کے ساتھ ان کے پسند کے کھیل کھیلیں۔
  • گھٹنے چلتے بچوں کو کتابیں پڑھ کر سنائیں۔
  • مختلف گیمز سوچیں اور ان میں بچوں کو مصروف کریں۔
  • بچوں کو نرم دل، خیال رکھنے والا اور ایماندار بن کر دکھائیں اور سکھائیں۔
  • بچوں کے ساتھ کھانا کھائیں۔
  • بچوں سے ان کی روز کی مصروفیات پوچھیں۔
  • ان کے دوستوں سے ملیں، انہیں جانیں اور اچھے دوست بنانے میں رہنمائی کریں۔
  • ان سے مستقبل کے خواب کے بارے میں پوچھیں۔
  • ان کی پسندیدہ نظمیں ان کے ساتھ سنیں۔
  • ٹین ایجر بچوں کی غیر نصابی سرگرمیوں میں شرکت کریں۔
  • ٹین ایجر بچوں کو محبت سے گلے لگائیں۔
  • کثرت سے 'مجھے آپ سے محبت ہے' کہنے کی عادت ڈالیں۔

فرحان ظفر اپلائیڈ سائیکالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ہولڈر ہیں، ساتھ ہی آرگنائزیشن کنسلٹنسی، پرسنل اور پیرنٹس کاؤنسلنگ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ان کے ساتھ [email protected] اور ان کے فیس بک پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔