چراغ تلے اندھیرا!

اپ ڈیٹ 22 ستمبر 2020

ای میل

گزشتہ دنوں پاکستان ٹیلی وژن لاہور مرکز، عوامی تنقید کی زد میں آیا، جس کی وجہ سینئر اداکار ’تمغہ حسن کارکردگی’ حاصل کرنے والے فنکار راشد محمود کا وہ بیان تھا، جو ایک مرثیہ پڑھنے کے بعد، معاوضے میں ملنے والا شرمناک حد تک قلیل رقم پر مبنی چیک تھا، جس کو وصول کرنے کے بعد انہوں نے شدید ردِعمل کا مظاہرہ کیا۔ سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا میں اس حوالے سے بہت بات ہوئی اور اس میں پنہاں رویے اور مخصوص سوچ کا محاسبہ بھی کیا گیا۔

پاکستان ٹیلی وژن کے لیے گزشتہ 4، 5 دہائیوں سے کام کرنے والے اس ہنر مند کے معاوضے کی رقم صرف 620 روپے تھی۔ اس توہین آمیز حرکت میں سرکار کے اس نشریاتی ادارے کا اخلاقی منظرنامہ دیکھا جاسکتا ہے۔ بالائے ستم یہ کہ اخلاقی طور پر یہ بات جتنی خراب محسوس ہو رہی ہے، معاملہ اس سے آگے نکل چکا ہے۔ اس طرح کے رویے صرف پی ٹی وی تک محدود نہیں رہے، بلکہ ان کے اثرات نے دیگر سرکاری نشریاتی اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے، جن میں ریڈیو پاکستان اور اس کے ذیلی ادارے شامل ہیں۔

ہم پاکستان کی سرکاری نشریاتی تاریخ پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیں تو واضح دکھائی دیتا ہے کہ پی ٹی وی کی اساس بننے والا ادارہ ریڈیو پاکستان تھا۔ ریڈیو پاکستان نے ایک معاشرے اور کئی نسلوں کی تربیت کی۔ پاکستان ٹیلی وژن کے سنہری دور کی بنیادوں میں اسی قومی نشریاتی ادارے کی تہذیب نے کام کیا تھا۔ ابتدائی دور میں پی ٹی وی کے مستند فنکار اور دیگر ہنرمند ریڈیو پاکستان سے ہی آئے تھے، جس پر ریڈیو والے آج بھی فخر کرتے ہیں، بلکہ پی ٹی وی کا عروج بھی اسی ریڈیو پاکستان کی بدولت تھا، یہ بھی ایک تاریخ ہے۔

لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے ان دونوں اداروں یعنی پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان بشمول دیگر ذیلی اداروں کے معاملات جس طرح دگرگوں ہیں، یہ حالات پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے حالات سے کافی مماثلت رکھتے ہیں۔

پی آئی اے کا کراچی میں جہاز کریش ہونے پر کم از کم یہ تو ہوا کہ اس ادارے کی تباہی پر بحث چل نکلی، لیکن ریڈیو اور ٹیلی وژن میں تہذیب اور تخلیق کی کریش لینڈنگ پر اب تک کسی کی توجہ بھی نہیں ہے۔ ان اداروں کے اخراجات کا اژدھام اور اصولی معاملات ناتواں۔ راشد محمود کے ساتھ ہونے والی یکے بعد دیگرے وارداتوں کے بعد یہاں کی اندورنی اخلاقیات کا درست پتہ ملتا ہے۔

یہ معاملہ صرف لین دین تک ہوتا، تو شاید بات پھر بھی چند دن میں آئی گئی ہوجاتی، لیکن ہم نے اس موقع پر جب راشد محمود صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے ہمیں پی ٹی وی لاہور مرکز کی سفاکیت کی ایک نئی کہانی سنائی۔

وہ بتاتے ہیں ‘جب سوشل میڈیا پر میرے 620 روپے معاوضے والے چیک کا واویلا مچا، تو پی ٹی وی کے مرکزی دفتر، اسلام آباد سے ایم ڈی نے فون کرکے ان سے معذرت کی اور لاہور مرکز کے عملے نے بھی، جن میں جنرل منیجر، پروگرام پروڈیوسر اور دیگر ذمے داران بھی شامل ہیں‘۔

راشد محمود صاحب پی ٹی وی کی دعوت پر وہاں دوبارہ گئے، بات چیت ہوئی اور معاملہ ختم ہوگیا اور ان کو 9600 کا ایک نیا چیک بھی جاری کردیا گیا۔ ایک سینئر فنکار کے ساتھ اس توہین آمیز رویے کو پی ٹی وی کی انتظامیہ کی طرف سے تکنیکی غلطی کہا گیا، لیکن جو لوگ پی ٹی وی یا ریڈیو پاکستان کے ساتھ کام کرتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اس طرح کی غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی، کیونکہ وہاں ہر چیز ایک باقاعدہ سرکاری آرڈر نکلنے کے بعد طے ہوتی ہے۔ خیر وہ جب پی ٹی وی اس نیت سے پہنچے کہ معاملہ رفع دفع کیا جائے تو اس موقع پر ان سے کہا گیا کہ وہ ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کروا دیں تاکہ بات ختم ہوجائے۔

راشد محمود کو دیا جانے والا نیا چیک
راشد محمود کو دیا جانے والا نیا چیک

پی ٹی وی لاہور مرکز کے ہی ملازمین نے اپنے پاس ان کا 6، 7 منٹ کے دورانیہ کا ایک ویڈیو کلپ ریکارڈ کیا، جس میں راشد محمود نے سب کو معاف کرنے کی بات تو کی، لیکن اس رویے سے پہنچنے والی اذیت کو بھی بیان کیا، یعنی انہوں نے اس ویڈیو کلپ میں یہ بھی کہا ’میں نے تو ان کو معاف کردیا، لیکن جو تکلیف مجھے اس عمل سے پہنچی ہے، میرے اندر کا انسان اس کو بھلانے کے لیے آمادہ نہیں ہے، وغیرہ وغیرہ‘۔

وہ اپنے احساسات کو بیان کر رہے تھے تاکہ مداحوں تک اپنی بات پوری طرح پہنچا سکیں، کیونکہ جس ادارے کے ساتھ اتنے عرصے تک کام کیا، وہاں عمر کے اس حصے میں، اس طرح کا رویہ اختیار کیا جائے تو فنکار کو بھی دکھ ہوتا ہے، جو راشد محمود صاحب کو ہوا۔ ویسے بھی یہ ایک دن کا قصہ نہیں ہے، سرکاری اداروں میں اس طرح کے رویوں کی پوری ایک تاریخ ہے۔

ابھی حال ہی میں معروف گلوکار علی ظفر نے اسی طرز کے واقعہ کے بارے میں اپنا ایک مشاہدہ بیان کیا کہ انہوں نے بھی اتفاق سے پی ٹی وی میں ایک سینئر فنکار کو اپنے معاوضے کی ادائیگی کے لیے منت سماجت کرتے دیکھا۔ یہ ہے وہ پوری فضا، جس کے زیرِ اثر سرکاری نشریاتی ادارے چل رہے ہیں، تو پھر وہاں ڈراما تو ترکی کا ہی چلے گا۔

سوشل میڈیا نے اس طرح کے معاملات میں کافی تعمیری کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے وگرنہ ماضی میں کسی طرح کا استحصال ہوتا تو اس پر خاموشی کا پردہ پڑا رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب اگر مین اسٹریم میڈیا نہ بھی بولے تو سوشل میڈیا ایسے موضوعات پر اپنا پریشر بناتا ہے، سرکاری اداروں کے ’سجن بے پرواہ‘ مزاج پر سوشل میڈیا نے کاری ضرب لگائی ہے۔ اب وہ دن لد گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ سرکاری اداروں کو چاہیے کہ موجودہ وقت کے تقاضوں کو سمجھیں اور کاغذی کاروائیوں سے باہر نکلیں اور خود کو ڈیجیٹل کریں اور استحصالی رویوں کو ترک کریں ورنہ پی آئی اے بالکل سامنے کی مثال ہے کہ کیا حشر ہوسکتا ہے ۔

بہرحال راشد محمود پی ٹی وی میں اپنی ویڈیو ریکارڈ کروا کے گھر چلے آئے، جس میں انہوں نے سب کو معاف کرکے معاملہ ختم کرتے ہوئے اپنے جذبات کا احوال بھی بیان کیا اور جس اذیت سے گزرے، اس پر بات کی۔ یہ سب کرنے کے بعد وہ پی ٹی وی سے نکل کر گھر تک پہنچے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے وہاں سے جاتے ہی پی ٹی وی لاہور مرکز نے اس ویڈیو بیان میں سے اپنی مرضی اور مفاد کے جملے کانٹ چھانٹ کر باقی ویڈیو غائب کردی۔

اس ایڈٹ شدہ ویڈیو کلپ کو اپنے مرکزی دفتر اسلام آباد بھیج دیا اور سوشل میڈیا پر بھی اپ لوڈ کردیا۔ اس پر راشد محمود کا مؤقف یہ ہے کہ ‘میں نے مکمل حوالوں اور گزشتہ ویڈیو کلپ کے تناظر میں پوری طرح بات کی تھی، اس عمل سے وہ بات مداحوں تک نہ پہنچ سکی اور میرا امیج خراب کیا گیا‘۔

اس مجوزہ ویڈیو کلپ سے عوام کو تاثر یہ ملا کہ راشد محمود پہلی ویڈیو میں کچھ کہہ رہے تھے اور اب فوری طور پر ہی بالکل متضاد بات کررہے ہیں، اگر وہ پورا ویڈیو کلپ جاری کیا جاتا، تو کسی غلط فہمی کی گنجائش نہ رہتی۔

راشد صاحب کہتے ہیں کہ ‘میں نے اس سلسلے میں بہت ذہنی کوفت اٹھائی ہے، پی ٹی وی والوں نے میرے ساتھ ویڈیو کلپ کے معاملے پر بھی ہیرا پھیری کرکے یہ ثابت کردیا کہ ان کی اخلاقیات کیا ہیں۔ ایسے کیسے ممکن ہے، جہاں ہر کام کی لکھت پڑھت کا ریکارڈ ہو، وہاں کسی سینئر فنکار کو اتنی قلیل رقم بطور معاوضہ دی جائے‘۔ راشد محمود کے مطابق، انہوں نے تو زندگی میں کئی مرتبہ پی ٹی وی کے لیے مختلف پروموشنز اور دیگر کئی طرح کے کاموں کے لیے بغیر معاوضہ کے بھی اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ اس مرثیہ کو پڑھنے کے بھی پیسے نہ دیتے، انہوں نے تو کوئی تقاضا بھی نہیں کیا تھا، لیکن جو رقم مرثیہ پڑھنے پر ان کو دی گئی، وہ اس صنف سخن اور ان کی فنی ریاضت کی بے توقیری کے مترادف تھی۔

راشد محمود نے ہم سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ‘جو بھی دل میں تھا وہ میں نے سب کہہ دیا۔ میں نے ریڈیو پاکستان کے لیے بھی کام کیا ہے، وہاں ہمیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا چیک ملتا ہے اور تاخیر سے ادائیگی کی جاتی ہے۔ ہمارے جیسے فنکاروں کے لیے ان سرکاری نشریاتی اداروں میں معمولی رقم بطور معاوضہ دی جاتی ہے، مگر یہیں منظورِ نظر افراد کو لاکھوں روپے معاوضے کے طور پر بانٹ دیے جاتے ہیں۔ یہ کھلا تضاد ہے اور ان رویوں پر بات کرنے کی ضرورت ہے اور مجھے خوشی ہے کہ میرے چاہنے والوں نے اور آپ جیسے صحافی دوستوں نے میری اذیت کو محسوس کیا ہے‘۔

راشد محمود راقم سے کہنے لگے کہ ‘آپ کا بھی چونکہ ریڈیو پاکستان سے واسطہ ہے، تو اس لیے آپ کو میری بات زیادہ بہتر طور پر سمجھ آرہی ہے‘۔

یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اپنے کیرئیر کی ابتدا ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز سے ہی کی تھی، کراچی شہر سے ان کی بڑی خوشگوار یادیں وابستہ ہیں۔ مزید کہنے لگے کہ ‘افسوس ہوتا ہے کہ یہ ادارے جو کبھی معاشرے کی تربیت کا مرکز ہوا کرتے تھے، جن کے ڈرامے دنیا بھر میں اپنی ثقافت کا تعارف ہوتے تھے، وہ اب غیر ملکی ڈراموں کے محتاج ہیں۔ پس ثابت ہوا، ہم ثقافتی طور پر ناکام ہوچکے ہیں‘۔

راشد محمود کی گفتگو پاکستان ٹیلی وژن، لاہور مرکز کے اخلاقی دیوالیے اور زبوں حالی کا پتہ دیتی ہے۔ ایک شخص نے معاف کردیا لیکن یہ پھر بھی اس سے ہاتھ کرنے سے باز نہ آئے۔ ان سرکاری اداروں میں ابتری کی چند جھلکیاں اور دکھاتا ہوں۔ بقول قابل اجمیری،

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

ریڈیو پاکستان سے اپنا کیرئیر شروع کرنے والے، بی بی سی اردو سروس کے معروف سابق براڈکاسٹر اور دانشور جناب ’رضاعلی عابدی’ کی رواں برس جنوری میں روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی تحریر کا ایک اقتباس کچھ یوں ہے۔ ‘جن لوگوں نے ریڈیو کے اچھے زمانے دیکھے ہیں، انہیں میرا مشورہ ہے کہ ریڈیو پاکستان کی موجودہ نشر گاہ نہ دیکھنے جائیں‘۔

صرف یہی نہیں، وہ اپنی تحریر میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ‘وہ بات پرانی نہیں ہوئی، جب حکام اسلام آباد میں ریڈیو پاکستان کی مرکزی عمارت کرائے پر چڑھانے چلے تھے‘۔

اسی طرح پاکستان کے معروف صحافی اور محقق ‘اختر بلوچ’ نے اپنی ایک تحریر ’بیچارہ ریڈیو’ رقم کی، جس میں جمیل زبیری اور برہان الدین حسن کی ریڈیو پاکستان پر لکھی گئی کتب سے بھی استفادہ کیا۔ وہ بتاتے ہیں ‘ریڈیو پاکستان اپنے آغاز سے لے کر اب تک حکومتی ترجمان کے فرائض انجام دے رہا ہے، گوکہ ریڈیو کی ابتدا میں زیڈ اے بخاری اور ان جیسے دانشوروں نے ریڈیو کو عوامی بنانے کی بھرپور کوشش کی اور کسی حد تک اس میں کامیاب بھی رہے، لیکن آہستہ آہستہ ریڈیو کو چلانے والے افسران کا انتخاب حکمرانوں کی پسند اور ناپسند سے ہونے لگا اور وہ کسی بھی پُراعتماد، روشن خیال اور پڑھے لکھے شخص کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ زیڈ اے بخاری اس حوالے سے پہلا شکار بنے‘۔

گھر کی گواہی کے طور پر اب میں اپنے کچھ تجربات آپ سے شیئر کرتا ہوں۔ اس بات کا اعتراف نہ کرنا تو ناانصافی ہوگی کہ میری فنی زندگی میں ریڈیو پاکستان اور ایف ایم 101 کا مرکزی کردار رہا۔ کچھ عرصہ ریڈیو پاکستان کے ہی ایک اور ذیلی ادارے ایف ایم 94 دھنک کی ٹیم کا بھی حصہ رہا۔ کل ملا کر ریڈیو سے میری وابستگی لگ بھگ ایک دہائی کے عرصے پر محیط ہے، جس میں مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میں نے بطور صحافی یہاں بہت سارے اتار چڑھاؤ بھی دیکھے۔ ایک آدھ مرتبہ اس پر لکھا بھی، لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔

مثال کے طور پر ریڈیو پاکستان ہو یا اس کے دیگر ایف ایم چینلز، ایک بات بالکل صاف ہے کہ ایک عام سامع کے طور پر میں بھی سنوں تو نشریات کا تکنیکی معیار دیگر نجی ریڈیو چینلز کے معاملے میں کم ہے۔ غالب خیال ہے کہ کراچی میں شدید بارشوں کے بعد کچھ تکنیکی مرمت کا کام کیا گیا ہے، شاید اب نشریات واضح سنائی دیتی ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے تک، جب میں ریڈیو پاکستان، کراچی مرکز کے ذیلی ایف ایم 94 دھنک کا حصہ تھا، اس کی نشریات میرے اپنے گھر کلفٹن تک میں سنائی نہیں دیتی تھیں۔ بہت سارے معاملات ہیں، تھوڑے کو بہت جانیے۔

یہ سب جوں کا توں ہے اور شاید ایسے ہی رہے گا۔ ان سرکاری اداروں کو اشتہاروں کی ضرورت تو ہے نہیں، پھر جو مستقل ملازمین ہیں، ان کے حالات پر ان سب باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا، کیونکہ ان کو اپنی تنخواہ برابر ہر طرح کے حالات میں ملتی رہتی ہے۔ ریڈیو پر کوئی مالی افتاد آجائے تو جز وقتی یا کانٹریکٹ پر کام کرنے والا تکنیکی عملہ یا پھر ہم جیسے لوگ، جو بطور میزبان ریڈیو کے لیے پروگرام تیار کرتے ہیں، وہی متاثر ہوتے ہیں اور مستقل ملازم کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی پروگرام کو تیار کرنا ہو، تو اس کی تخلیق سے عمل درآمد تک زیادہ کام وہی کرتا ہے، جو مستقل ملازم نہیں ہے۔ کیا کیا بیان کیا جائے، اندرونی حالات بیان کرنے کو ایک الگ دفترِ تحریر کھولا جاسکتا ہے۔

اس منظرنامے کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ گزشتہ ایک، 2 سال سے ریڈیو پاکستان اور اس کے ذیلی اداروں میں کام کرنے والے وہ افراد، جو ریڈیو کے مستقل ملازمین نہیں ہیں، ان کی تنخواہیں یا میزبانوں کو معاوضے کے طور پر دیے جانے والے معمولی رقم کے چیک بھی مہینوں کی تاخیر سے آتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں، نہ ہی کوئی بتانے والا ہے، اندھیر نگری چوپٹ راج ہے۔

یہ ذہن میں رہے کہ یہ رقوم راشد محمود کے قلیل معاوضے کی مانند ہوتی ہیں۔ ریڈیو میں مجھے بھی معاشی استحصال کا سامنا کرنا پڑا، جس کو کچھ عرصہ برداشت کیا، پھر خاموشی سے الگ ہوگیا۔ راشد محمود نے پی ٹی وی میں جس طرح منظورِ نظر افراد کو نوازنے والی بات کی، ریڈیو میں وہ بات میری آنکھوں دیکھی ہے۔

ہمیں کئی مہینوں میں جاکر ایک چیک ملتا، پھر وہ بھی کیش ہونا بند ہوگیا۔ یہ ذہن میں رہے کہ ریڈیو پاکستان کا ادارہ، چیک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا اور اس کو کیش کرنے والا ادارہ نیشنل بینک آف پاکستان اور چیک کیش نہ ہو، کیسی عجب بات ہے اور ناقابلِ یقین بھی، اسی لیے یہاں میرے پاس موجودہ 2 میں سے ایک چیک اور اس کی تفصیل کی تصاویر دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے وہ بے حس رویہ ہے، جس پر راشد محمود بھی چیخ پڑے۔ کسی نے ہم سے نہیں پوچھا کہ کیا ہوا اور اگر ہم نے کسی کو بتا بھی دیا، تو کہا گیا، دیکھتے ہیں اور پھر کوئی خبر نہیں آج تک۔

وہ چیک جو کبھی کیش نہیں ہوسکا
وہ چیک جو کبھی کیش نہیں ہوسکا

چیک کا پچھلا حصہ
چیک کا پچھلا حصہ

میری ریڈیو کے ادارے سے ایک جذباتی وابستگی ہے، جو ہمیشہ رہے گی۔ اس لیے انتہائی مودبانہ طور پر اپنی مشفق پروگرام پروڈیوسر سے عذر تراش کرکے ریڈیو سے گھر کی راہ لی، کیونکہ معمولی رقم کا چیک تو برداشت ہوجاتا ہے، مگر معمولی رویے برداشت نہیں ہوتے اور ایسے رویے معمول بن جائیں تو پھر وہ بالکل ناقابلِ برداشت ہوجاتے ہیں۔

مجھے جو آخری چیک موصول ہوا، وہ میں نہیں لینا چاہتا تھا، لیکن اپنی مشفق پروگرام پروڈیوسر، جنہوں نے اپنے تئیں کافی حد تک ہمارے مسائل اپنے طور پر حل کرنے کی کوشش کی بھی، لیکن بے سود۔ ہم نے احترام کے تقاضے نبھاتے ہوئے وہ آخری چیک لے تو لیا، لیکن اس کو وصول کرتے وقت پیشگی بتا بھی دیا تھا کہ یہ کیش نہیں ہوگا۔ بینک میں جمع کروانے کے بعد، عین امیدوں کے مطابق ایسا ہی ہوا۔ میں اب یہی سوچ رہا تھا کہ ان چیکس کا کیا کروں تو بالکل انہی دنوں میں، جب میں یہ بات سوچ رہا تھا، تو راشد محمود کا پی ٹی وی کا چیک اور اس کی ساری داستان سامنے آگئی۔

نیشل بینک کی وہ رسید جو اوپر دیے گئے چیک کے بارے میں بتارہی ہے کہ وہ کیش نہیں ہوسکتا
نیشل بینک کی وہ رسید جو اوپر دیے گئے چیک کے بارے میں بتارہی ہے کہ وہ کیش نہیں ہوسکتا

راشد محمود نے کہہ دیا، آئندہ زندگی میں وہ کبھی پی ٹی وی کے لیے کام نہیں کریں گے۔ میرے جیسے عام سے براڈ کاسٹر نے بھی گھر کی راہ لی اور خاموشی اختیار کرلی، لیکن سیکڑوں ہزاروں جز وقتی طور پر کام کرنے والے افراد، جن کی معاشی مجبوریوں اور خاندانوں کی کفالت نے ان کے قدم، ان سرکاری اداروں میں روک رکھے ہیں، وہ ان تمام مصائب کو خاموشی سے جھیل رہے ہیں۔ یہ تحریر انہی کے حق میں لکھی ہے، مجھے سرکاری ریڈیو میں آئندہ داخلہ نہ بھی ملے، تو خیر ہے۔ سرکاری اداروں میں رجسٹروں میں ہر سرگرمی کی انٹری لکھنے والے یہ نہیں جانتے کہ وقت کی تاریخ کا بھی اپنا ایک رجسٹر ہوتا ہے۔

راشد محمود نے متعدد بار مجھ سے گفتگو میں اور اپنے بیانات میں بھی کہا کہ ‘وہ پی ٹی وی سے ملنے والے دونوں چیکس فریم کروا کے اپنے گھر میں لگائیں گے‘۔ یہی ان کے احتجاج کی انتہا ہے۔ میرے پاس بھی ریڈیو پاکستان کے ذیلی ادارے کے دیے ہوئے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 2 چیکس ہیں، جن کو کیش کرنے سے نیشنل بینک آف پاکستان نے منع کردیا۔ میں نے بھی اب یہ ارادہ کرلیا ہے کہ ان دونوں کو راشد صاحب کی تقلید میں فریم کروا لوں گا۔ دکھ یہ نہیں کہ چیک کیش نہیں ہوئے، بلکہ اس بات کا ہے کہ کسی نے پلٹ کر نہیں پوچھا کہ اتنی خالص محنت کی کمائی جو انتہائی قلیل ہے، وہ بھی مل پائی کہ نہیں، رویہ معمولی اور غیر معمولی چیز میں فرق کرتا ہے۔

ریڈیو کے اندر سے تو کوئی بولنے والا نہیں، اس لیے میں نے سوچا کہ وہ جز وقتی ملازمین، جن کے آج بھی چیک تاخیر سے جاری کیے جارہے ہوں گے، ان کے لیے ریڈیو کی دنیا سے میں ہی آواز بلند کروں، جس طرح پی ٹی وی کے جہاں سے راشد محمود نے صدائے احتجاج بلند کی۔ میں راشد محمود کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے پی ٹی وی کے ان بے شمار اور مجبور فنکاروں کو اخلاقی سہارا دیا اور مجھے تحریک دی، ورنہ اکثریت کی طرح میں بھی مجبور یا منافق بن کر خاموش رہتا۔

ہمارے بچپن میں خوشیوں اور تخلیق کے رنگ بھرنے والے پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو پاکستان کے سنہرے ماضی کے واپس لوٹ آنے کی خواہش اور امید کرتا ہوں کیونکہ امید ہی پر تو دنیا قائم ہے۔