ای میل

کیا آپ جانتے ہیں گوگل پر ہر سیکنڈ کتنی سرچز ہوتی ہیں؟

کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ دنیا کی سب سے مقبول ترین ویب سائٹ کونسی ہے؟

درحقیقت اس سوال کا جواب بہت آسان ہے اور وہ ہے گوگل ڈاٹ کام، کیونکہ اس کے بغیر انٹرنیٹ صارفین کا گزارا ممکن نہیں۔

مزید پڑھیں : دنیا کے انتہائی دولت مند مگر کفایت شعار لوگ

اب کسی کو انٹرنیٹ پر کچھ جاننا ہو تو سب سے پہلے کس کا خیال ذہن میں آتا ہے؟ یقیناً گوگل کا ہی۔

اور دنیا کا مقبول ترین سرچ انجن آج اپنی 22 ویں سالگرہ منارہا ہے، جس کا ڈوڈل بھی جاری کیا گیا ہے۔

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

ویسے یہ کمپنی 2006 سے سرچ انجن کی سالگرہ 27 ستمبر کو منارہی ہے مگر اس سے پہلے یہ مختلف تاریخوں میں بھی سالگرہ مناچکی ہے۔

گوگل نے 2013 میں اپنی سالگرہ کے حوالے سے الجھن کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کئی مختلف تاریخوں پر سالگرہ منا چکا ہے مگر اب وہ 27 ستمبر پر ٹکا ہوا ہے۔

کمپنی نے یہ تاریخ ممکنہ طور پر اس لیے منتخب کی ہے کیونکہ پہلا برتھ ڈے ڈوڈل 2002 میں اسی تاریخ کو استعمال کیا گیا تھا، جبکہ اسی تاریخ کو 1998 میں گوگل کا ویب پیج ہر ایک کے لیے متعارف کرایا گیا۔

گوگل کی سالگرہ کے مختلف ڈوڈلز، فوٹو بشکریہ گوگل
گوگل کی سالگرہ کے مختلف ڈوڈلز، فوٹو بشکریہ گوگل

اس سے بھی زیادہ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ گوگل ڈوڈل بذات خود گوگل سے زیادہ پرانا ہے کیونکہ پہلا ڈوڈل ویب سائٹ کی تیکنیکی تشکیل سے پہلے یعنی 30 اگست 1998 کو تیار کیا گیا تھا۔

آج الٹے، سیدھے، غلط اسپیلنگ اور ادھورے جملے لکھنے کے باوجود دنیا کے راز اور معلومات ہمیں پہنچانے والے گوگل سرچ انجن سب سے پہلے 1998 میں سامنے آیا۔

اس زمانے میں گوگل کے بانی لیری پیج اور سرگئی برن امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم تھے، جب وہ پہلی بار ایک سرچ انجن کے آئیڈیا کے ساتھ سامنے آئے۔

تاہم ان طالبعلموں کا یہ خیال اس وقت مارکیٹ میں موجود دیگر سرچ انجنز سے مختلف تھا، یہ سرچ انجن صرف کی ورڈز ہی نہیں بلکہ ویب پیجز کے لنکس میں سرچ کی جانے والی چیز اور نمبر کا تجزیہ بھی کرسکتا تھا۔

گوگل کے دونوں بانی اس کے پہلے آفس میں جو ایک گیراج میں کھولا گیا — فوٹو بشکریہ گوگل
گوگل کے دونوں بانی اس کے پہلے آفس میں جو ایک گیراج میں کھولا گیا — فوٹو بشکریہ گوگل

اس زمانے میں روزانہ پانچ لاکھ ویب سرچز ہوتی تھیں اور اب صرف ہر سیکنڈ میں اوسطاً 63 ہزار، ہر منٹ 28 لاکھ، ہر گھنٹے 22 کروڑ 80 لاکھ، ہر دن 5 ارب 60 کروڑ سے زائد بار اور سال بھر میں 2 ہزار ارب بار گوگل پر کچھ نہ کچھ سرچ کیا جاتا ہے (یہ اوسط تعداد ہے جس میں کمی بیشی کا امکان ہے)، جس میں سے بھی 16 سے 20 فیصد سرچز ایسی ہوتی ہیں، جنھیں پہلے کبھی سرچ نہیں کیا گیا ہوتا۔

ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ 1999 میں گوگل کو 5 کروڑ ویب پیجز کے انڈیکس کو بنانے میں ایک ماہ لگا تھا اور 2012 میں یہی ٹاسک ایک منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل کیا گیا، اسی طرح ایک سنگل گوگل سرچ کے دوران ایک ہزار کمپیوٹرز استعمال ہوتے ہیں جو صارف کو 0.2 سیکنڈز میں کوئی نہ کوئی جواب فراہم کرتے ہیں۔

اور ہاں گوگل نام درحقیقت ایک ریاضی کی اصطلاح گوگول سے لیا گیا، جس میں 1 کے ساتھ 100 صفر لگائے جاتے ہیں۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

مگر اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اس سرچ انجن کا اصل نام نہیں، درحقیقت لیری پیج اور سرگئی برن نے پہلے اسے بیک رب کا نام دیا تھا۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اگرچہ انٹرنیٹ کے 70 فیصد صارفین گوگل کروم براؤزر استعمال کرتے ہیں اور انہیں گوگل ڈاٹ کام ٹائپ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی مگر اس کمپنی نے اس سے ملتے جلتے تمام تمام جیسے Gooogle.com، Gogle.com اور دیگر ڈومینز کو خرید رکھا ہے، اور ہاں گوگل 466453.com کا بھی مالک ہے۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اس سب کے باوجود ایک شخص نے ایک منٹ کے لیے گوگل کو آن لائن خرید لیا اور ایسا ہوا بھی گوگل کی غلطی کی وجہ سے۔

مزید پڑھیں : 'جب ایک شخص گوگل کا مالک بن گیا'

ایسا دلچسپ واقعہ گوگل کے ایک سابق عہدیدار سان مے ویڈ کے ساتھ پیش آیا جنھوں نے گوگل ڈاٹ کام کو خرید لیا مگر ان کی ملکیت کا دورانیہ صرف ایک منٹ رہا۔

سان مے ویڈ کے مطابق وہ گوگل کی ویب سائٹ ڈومینز خریدنے کی سائٹ کا جائزہ لے رہے تھے جب انہوں نے نوٹس کیا کہ گوگل ڈاٹ کام بھی خریداری کے لیے دستیاب ہے۔ اور سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ دنیا کی سب سے زیادہ ٹریفک والی اس ڈومین کی قیمت تھی صرف 12 ڈالرز۔ گوگل کی جانب سے خریداری کرنے پر انہیں سائٹ کی اندرونی معلومات پر مبنی ای میلز بھی موصول ہوئی اور حیرت انگیز طور پر انہیں پورے ایک منٹ تک ویب ماسٹر کنٹرولز تک رسائی بھی حاصل رہی۔

اے ایف پی فائل فوٹو
اے ایف پی فائل فوٹو

تاہم گوگل پر ان کی حکمرانی ایک منٹ تک ہی رہی جس کے بعد گوگل ڈومینز نے خریداری کا عمل منسوخ کرتے ہوئے سان مے ویڈ کو ان کے 12 ڈالرز واپس کردیئے۔

اب دو طالبعلموں کا پیش کردہ گوگل سرچ انجن انٹرنیٹ پر راج کررہا ہے اور یہ کمپنی سیکڑوں ارب ڈالرز کی مالک بن چکی ہے، 2010 سے یہ اوسطاً ہر ہفتے ایک نئی کمپنی خرید رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : گوگل سرچ میں چھپی یہ خفیہ ٹرکس جانتے ہیں؟

ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ گوگل سرچ پیج پر جو آئی ایم فیلنگ لکی کا جو بٹن موجود تھا، اس کے باعث کمپنی کو ہر سال 11 کروڑ ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑتا تھا کیونکہ اس پر کلک کرنے پر سرچ انجن تمام اشتہارات کو بائی پاس کرکے ٹاپ سرچ کو فوراً دکھاتا تھا، جس کے بعد گوگل انسٹنٹ ٹیکنالوجی کو متعارف کراکے اس بٹن میں سے اشتہارات نہ دکھانے کے آپشن کو ختم کردیا۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اینڈرائیڈ، یوٹیوب، جی میل، کروم اور ایسی ہی لاتعداد سروسز گوگل کے پاس ہیں جن کی بدولت یہ لگ بھگ دنیا بھر تک رسائی رکھتی ہے، جبکہ اس کی بنیاد رکھنے والے لیری پیج 69 ارب جبکہ سرگئی برن 67 ارب ڈالرز سے زائد کے مالک بن چکے ہیں۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

ویسے یہ دونوں گوگل کو ایک آن لائن کمپنی ایکسائٹ کو 1999 میں 10 لاکھ ڈالرز عوض فروخت کرنے کے خواہشمند تھے مگر ایکسائٹ کے سی ای او نے اس پیشکش کو مسترد کردیا، آج گوگل (جس کی مرکزی کمپنی کو الفابیٹ کا نام دے دیا گیا ہے) کی مالیت 980 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے۔

ویسے 1998 میں جب گوگل کو متعارف کرایا گیا تھا تو اس کا پیج کچھ ایسے تھا اور آپ چاہیں تو اس کا تجربہ آج بھی google in 1998 سرچ کرکے کرسکتے ہیں۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ