الوداع عمر گل: گل ڈوزر کے کیریئر کے یادگار ترین لمحات

19 اکتوبر 2020

ای میل

عمر گل نے ٹی20 انٹرنیشنل کی باؤلرز رینکنگ میں 857 پوائنٹس حاصل کیے تھے، اور آج تک کوئی بھی ٹی20 باؤلر اس مقام پر فائز نہیں ہوسکا۔—فوٹو: اے ایف پی
عمر گل نے ٹی20 انٹرنیشنل کی باؤلرز رینکنگ میں 857 پوائنٹس حاصل کیے تھے، اور آج تک کوئی بھی ٹی20 باؤلر اس مقام پر فائز نہیں ہوسکا۔—فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کے پاس ٹی20 فارمیٹ میں سب سے زیادہ عرصے یعنی 824 دن تک ورلڈ نمبر وَن رہنے اور تاریخ میں سب سے زیادہ ریٹنگ 286 حاصل کرنے سمیت کئی ریکارڈز ہیں۔

ٹی20 فارمیٹ کے انٹرنیشنل ہونے کے ساتھ ہی پاکستان کی عالمی بالادستی کا آغاز ہوگیا تھا اور اس کی بنیاد جن چند کھلاڑیوں نے رکھی تھی، ان میں سے ایک عمر گل تھے۔ وہی عمر گل کہ جنہوں نے چند دن پہلے تمام طرز کی کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا۔

اس وقت جب وسیم اکرم اور وقار یونس پر مشتمل تاریخ کی بہترین باؤلنگ جوڑی دنیائے کرکٹ کو خیرباد کہہ چکی تھی، آہستہ آہستہ شعیب اختر کا سحر بھی ٹوٹ چکا تھا، یہاں تک کہ محمد آصف اور محمد عامر جیسے پائے کے باؤلرز بھی اپنی ناقابلِ معافی لغزش کے ساتھ قومی کرکٹ سے باہر ہوگئے تھے، تب صرف ہی عمر گل تھے جنہوں نے ہر قدم پر اپنی کارکردگی کے ذریعے خود کو منوایا۔

اپنے عروج کے زمانے میں ٹی20 فارمیٹ میں عمر گل سے بہتر باؤلر کوئی نہیں تھا اور نہ ہی ان کے بعد کوئی ایسا باؤلر آیا ہے کہ جس نے اتنے تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھائی ہو اور حریف کھلاڑیوں پر اپنی دہشت بٹھائی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ باؤلرز کی ٹی20 کی انفرادی رینکنگ میں جس مقام تک عمر گل پہنچے، آج تک کوئی دوسرا باؤلر نہیں پہنچ پایا۔

گل نے اپنے عروج کے زمانے میں ٹی20 انٹرنیشنل کی باؤلرز رینکنگ میں 857 پوائنٹس حاصل کیے تھے، اور آج تک کوئی بھی ورلڈ نمبر وَن ٹی20 باؤلر اس مقام پر فائز نہیں ہوسکا۔

عمر گل نے اپنے 13 سالہ انٹرنیشنل کیریئر میں 60 ٹی20 میچوں کے علاوہ 130 ون ڈے اور 47 ٹیسٹ میچ بھی کھیلے جن میں انہوں نے مجموعی طور پر 427 وکٹیں حاصل کیں۔ ان میں سب سے شاندار ٹی20 اعداد و شمار ہی ہیں کہ جن میں عمر گل نے 17 سے بھی کم کے اوسط کے ساتھ 85 وکٹیں حاصل کیں۔

ان کی بہترین باؤلنگ 6 رنز دے کر 5 وکٹیں تھی اور یہ پہلا موقع تھا کہ ٹی20 انٹرنیشنل میں کسی باؤلر نے 5 وکٹیں حاصل کیں اور عمر گل تاریخ کے پہلے باؤلر بن گئے کہ جس نے تینوں فارمیٹس یعنی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک اننگ میں 5 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو عمر گل سے کوئی نہیں چھین سکتا۔

بہرحال، یہ میچ بھی کوئی معمولی مقابلہ نہیں تھا۔ یہ 2009ء میں سب سے بڑے ٹورنامنٹ یعنی ٹی20 ورلڈ کپ کا اہم ترین میچ تھا۔ پاکستان کے لیے نیوزی لینڈ کو شکست دینا بہت ضروری تھا تاکہ وہ سیمی فائنل تک پہنچنے کا راستہ آسان کرپائے۔ تب عمر گل نے اپنے 3 اوورز میں صرف 6 رنز دے کر نیوزی لینڈ کے 5 بیٹسمین ٹھکانے لگا دیے۔ شاہد آفریدی کے کیچ سے لے کر کائل ملز کے صفر تک آؤٹ ہونے تک، عمر گل کے اس اسپیل کی ایک، ایک گیند دیکھنے کے قابل ہے۔

عمر گل کی عظمت کی دلیل کے لیے پہلے 2 ٹی20 ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ہی کافی ہیں۔ گوکہ 2007ء کے ٹی20 ورلڈ کپ کا اختتام پاکستان کے لیے انتہائی مایوس کن انداز میں ہوا کہ فائنل میں بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن ٹورنامنٹ میں عمر گل نمایاں ترین باؤلر تھے۔ انہوں نے 7 میچوں میں سب سے زیادہ 13 وکٹیں حاصل کیں جبکہ 2009ء میں جب پاکستان نے فائنل جیتا اور ٹی20 ورلڈ کپ اٹھایا، تب بھی عمر گل 13 وکٹوں کے ساتھ سب سے زیادہ زیادہ شکار کرنے والے باؤلر تھے۔

پاکستان کے لیے 2010ء کا ٹی20 ورلڈ کپ مایوس کن ثابت ہوا تھا۔ سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف 191 رنز بنانے کے باوجود ہار نصیب ہوئی اور اس شکست کا باعث تھی مائیکل ہسی کی وہ اننگ، جسے بلاشبہ ٹی20 تاریخ کی عظیم ترین اننگز میں شمار کیا جانا چاہیے۔ ہسی نے صرف 24 گیندوں پر 60 رنز بنا کر مسلسل تیسرا فائنل کھیلنے کا پاکستانی خواب چکنا چور کردیا۔ اس کی ایک وجہ عمر گل کی عدم موجودگی ہی تھی اور یہ بات کچھ ہی مہینوں میں ثابت بھی ہوگئی۔

ٹی20 ورلڈ کپ 2010ء سے باہر ہونے کے صرف 2 مہینے بعد انگلینڈ میں پاک-آسٹریلیا سیریز کھیلی گئی۔ پہلے ٹی20 میں آسٹریلیا کو جیتنے کے لیے 168 رنز کا ہدف ملا تھا اور اسے آخری 3 اوورز میں 35 رنز کی ضرورت تھی۔ مائیکل ہسی ایک مرتبہ پھر کریز پر موجود تھے اور پچھلے مقابلے کی ایک، ایک گیند سب کے ذہن میں گھوم رہی تھی۔

آسٹریلیا کو 3 اوورز میں 35 رنز درکار تھے اور وہ باآسانی جیت سکتا تھا کیونکہ مائیکل ہسی کھڑے تھے۔ اس اوور میں ہسی کا سامنا جیسے ہی گل سے ہوا، ان کا چراغ گل ہوگیا۔ ایک ناقابلِ یقین اِن سوئنگنگ گیند دنیا کے بہترین بیٹسمین کا لیگ اسٹمپ اڑا لے گئی۔ اسے ہم ٹی20 کی تاریخ کی بہترین گیند قرار دے سکتے ہیں کیونکہ ہسی اس وقت اپنے عروج پر تھے، اور عمر گل کا ان کو یوں چاروں خانے چت کرنا کمال تھا۔ تبھی کمنٹیٹر ناصر حسین نے کہا تھا کہ اگر عمر گل اس سیمی فائنل میں ہوتے تو نتیجہ مختلف ہوتا۔

ٹی20 تاریخ کے چند بہترین اسپیلز میں عمر گل کا ایک اور کارنامہ 2013ء میں سامنے آیا۔ یہ پاکستان کے دورۂ جنوبی افریقہ کا دوسرا ٹی20 میچ تھا جس میں پاکستان کے 195 رنز کے تعاقب میں جنوبی افریقہ صرف 4 اوورز میں 48 رنز بنا چکا تھا۔ تب گل کے صرف ایک اوور نے ہی میچ کا رُخ ایسا پلٹا کہ جنوبی افریقہ صرف 100 رنز پر ڈھیر ہوگیا۔ عمر گل نے اس میچ میں 2.2 اوورز میں صرف 6 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔

عمر گل نے اپنے ون ڈے کیریئر کی بہترین باؤلنگ پاکستان کرکٹ کے مایوس ترین وقت میں کی۔ 2010ء کا دورۂ انگلینڈ پاکستان کرکٹ کی تاریخ پر ایک سیاہ دھبہ ہے، جس میں اسپاٹ فکسنگ جیسا اسکینڈل سامنے آیا تھا۔ لارڈز ٹیسٹ میں پاکستانی کپتان سمیت 3 کھلاڑیوں کے دھر لیے جانے کے بعد ون ڈے سیریز بھی کھیلنا تھی جو انتہائی بدمزہ انداز میں ہوئی۔

سیریز منسوخ کرنے کے کئی مطالبات ہوئے لیکن غالباً براڈ کاسٹرز کے دباؤ اور مالی نقصان کے خدشے کی وجہ سے بادل نخواستہ ون ڈے میچ کھیلے گئے۔ پاکستان کو ابتدائی 2 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور صورت حال 'مارو یا مرجاؤ' والی ہوگئی تھی۔ بس اس وقت عمر گل نے اپنے کیریئر کی بہترین باؤلنگ سے پاکستان کو ایسی کامیابی دلائی، جو حوصلہ بڑھانے کے لیے بہت ضروری تھی۔ پاکستان 241 رنز کا دفاع کر رہا تھا جب گل نے صرف 42 رنز دے کر انگلینڈ کے 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، کچھ اس طرح:

گوکہ عمر گل کا ٹیسٹ کیریئر اتنا طویل نہیں ہوسکا، لیکن اس فارمیٹ میں لاہور کا قذافی اسٹیڈیم ان کے لیے بہت ہی بابرکت ثابت ہوا۔ ٹیسٹ میں عمر گل کی تینوں بہترین پرفارمنس اسی میدان پر تھیں۔ پہلے سری لنکا کے خلاف 6 وکٹیں اور پھر ویسٹ انڈیز اور بھارت کے خلاف اننگ میں 5، 5 وکٹوں کے کارنامے۔ لیکن ان میں سب سے یادگار بھارت کے خلاف وہ اسپیل ہے جس میں عمر گل نے 31 رنز دے کر 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جن میں وریندر سہواگ، سچن ٹنڈولکر، وی وی ایس لکشمن اور راہول ڈریوڈ جیسے عظیم بیٹسمین کی وکٹیں بھی شامل تھیں۔ پاکستان نے بعد میں اس ٹیسٹ میں 9 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی اور گل مین آف دی میچ قرار پائے۔

ویسے عمر گل کی ایک خفیہ طاقت ان کی دھواں دار بیٹنگ کی صلاحیت بھی تھی، جی ہاں! انہوں نے چند مشکل ترین میچوں میں پاکستان کو اپنی بیٹنگ سے ناقابلِ یقین کامیابیاں بھی دلوائی ہیں، جیسا کہ 2012ء میں ورلڈ ٹی20 میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے جانے والے میچ میں جب پاکستان صرف 76 رنز پر 7 وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا، تب عمر گل نویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے۔ جنوبی افریقہ کو یقین تھا کہ اب 5 اوورز میں 58 رنز کوئی نہیں بنا پائے گا، اور باؤلر جیکس کیلس کے چہرے پر موجود مسکراہٹ کچھ ہی دیر میں اس وقت ختم ہوگئی جب انہیں عمر گل کے ہاتھوں ایک نہیں، بلکہ 2 مسلسل چھکے کھانے پڑے۔ اگلے اوور میں گل نے ایلبی مورکل کو بھی ایک چھکا اور ایک چوکا رسید کیا اور پاکستان کے لیے معاملہ کہیں آسان بنا دیا۔

اب مایوس ہونے کی باری جنوبی افریقہ کی تھی کہ جسے 3 اوورز میں صرف 22 رنز کا دفاع کرنا تھا۔ عمر گل صرف 17 گیندوں پر 32 رنز بناکر اپنے حصے کا کام کر گئے اور پاکستان نے میچ آخری اوور میں عمر اکمل کے شاندار چھکے اور سعید اجمل کے چوکے کے ساتھ جیتا۔

پاکستان کرکٹ میں خیبر پختونخوا سے فاسٹ باؤلرز آتے ہی رہتے ہیں اور ہر وقت کوئی نہ کوئی ایسا باؤلر موجود رہتا ہے جو پاکستان کی فاسٹ باؤلنگ روایات کو برقرار رکھتا ہے۔ عمر گل بھی انہی مشعل برداروں میں سے ایک تھے۔ عمر گل کا راستہ بار بار انجریز نے روکا، ورنہ ہم انہیں اس سے بھی بلند مقام پر دیکھتے۔