نظام کو بچانے کی خاطر اداروں کے مابین مذاکرات ناگزیر کیوں؟

21 اکتوبر 2020

ای میل

آج لڑائی دو بدو ہے، براہِ راست ہے۔ اب نہ کوئی ذکر خلائی مخلوق کا ہے اور نہ سادہ لباس فرشتوں کا، نہ ہی سنگینوں یا قلم کی سازش کا ہے۔ سیاسی اور غیر سیاسی لڑائی کے القابات بدل رہے ہیں۔ میاں صاحب نے ان کو براہِ راست للکارا جنہیں ڈی چوک کی تحریک میں وہ خلائی مخلوق کہہ کر مخاطب کر رہے تھے۔

بلاول بھٹو، جنہوں نے پہلے میاں صاحب کے بیانیے پر افسوس کا اظہار کیا اور براہِ راست ناموں کے ذکر سے اجتناب کرنے کا کہا، لیکن اب وہ بھی براہِ راست نام لے رہے تھے۔

نواز شریف کی تقریر کے بعد جب ایسا لگا کہ صورتحال شاید براہِ راست تصادم کی طرف جارہی ہے تو تمام قائدین نے اپنے آپ کو دُور کرنے کی کوشش کی مگر گزشتہ 48 گھنٹوں کی ریاستی بے چینی نے اپوزیشن کی دُوریوں کو ختم کردیا اور سب کو نواز شریف کے بیانئے پر متحد ہونے پر مجبور کردیا ہے۔

بلاول بولے اور خوب بولے۔ ادارے سب کے ہیں، سیاسی ایشوز ہوسکتے ہیں، مگر ریڈ لائن کراس نہیں ہونی چاہیے۔ بلاول بھٹو نے فوج کے سربراہ کو مخاطب کرکے نوٹس لینے کو کہا۔ ریاست بدلاؤ کے اس پہلو میں جو پس پردہ ہے، وہی اب سر آئینہ ہے۔ آئی جی سندھ رات گئے اغوا ہوئے۔ یہ اقدام غیر سیاسی کرداروں کی نگرانی میں ہوا اور ڈنکے کی چوٹ پر ہوا۔ آئی جی اور 10 سے زائد ڈی آئی جیز اور 58 افسران نے دباؤ کا ذکر کیا اور چھٹی پر جانے کی درخواست دی۔ گویا ہتک آمیزی پر خودداری کا مظاہرہ ہوا اور ڈنکے کی چوٹ پر ہوا۔

یہ معمولی واقعہ نہیں کیونکہ بیورو کریسی پہلی بار جبر کے سامنے سینہ سپر ہوئی، مگر سیاست کے بدلتے اطوار میں پولیس کا یہ مؤقف ان سیاستدانوں کے لیے بھی باعث فکر ہے، جو دباؤ میں آئیں تو بلوچستان حکومت کو چلتا کردیں۔ ‘مفاہمت’ پر آئیں، تو سینیٹ میں خفیہ ہاتھ سے کام دکھا دیں۔ دھرنوں کے جال میں پھنس جائیں، تو سہولت کار کی دہائیاں دیں یا پھر پرویز رشید، مشاہد اللہ اور طارق فاطمی کے استعفوں میں اپنی جان بچائیں۔

کیپٹن صفدر کی غیر ضروری گرفتاری نے سب کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ حساس اداروں کو اپنی بے گناہی ثابت کرنی ہے۔ سندھ حکومت کو نئے سرے سے اپنے اختیار کا تعین کرنا ہے۔ وزیرِ اعلی ایک مبہم سی پریس کانفرنس کرکے ہرگز بری الزمہ نہیں ہوسکتے۔ باقی جہاں تک مسلم لیگ (ن) کا معاملہ رہا تو اب ان پر بوجھ زیادہ ہے کیونکہ سیاست میں مداخلت کا بیانیہ ان کا ہے اور وہ براہِ راست ٹریلر دیکھ چکے ہیں۔

اعلیٰ ظرفی کا معیار تو یہ ہے کہ کوئی کام میں مداخلت کرے تو کام بند کرو اور گھر چلے جاؤ۔ حالات میں 180 ڈگڑی کا بدلاؤ یہاں بھی خوب ہے کہ آرمی چیف کی جانب سے کراچی واقعے کا نوٹس لینے کے بعد آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام نے چھٹی پر جانے کا فیصلہ مؤخر کردیا۔ پہلے فرائض منصبی میں خلل ڈالے جانے پر آئی جی صاحب نے رخصت کی درخواست دی، اور پھر قومی مفاد میں آرمی چیف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ڈیوٹی پر واپس بھی آگئے۔ یوں سندھ پولیس کی تکریم بحال ہوئی اور ادارے کا وقار بھی سلامت رہا، اور ووٹ کو عزت دینے کا منظر بھی خوب تھا جب بلاول بھٹو نے ملک کے چیف ایگزیکٹو کے بجائے تحقیقات کے لیے فوج کے سربراہ سے درخواست کی۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے پلیٹ فارم پر شانہ بشانہ کھڑے ہونے والوں میں ایک جماعت کا فوج پر اعتماد نہیں اور وہ بات کرنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت فوج کے سربراہ سے مدد مانگ رہی ہے، یعنی یہاں جس کی پگڑی کو جوتے کی نوک پر ہوا میں اچھالا گیا ہے وہ ہمارا نظام ہے۔

بدقسمتی سے ہر ادارے نے نظام کا گریبان چاک کرنے میں اپنا حصہ برابر ڈالا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر ادارہ دوسرے ادارے سے دست و گریبان ہے۔ یہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ ریاست کے امور چلانے کا فارمولا یہ ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کا کام جماعت کے چیئرمین بلاول بھٹو کرتے ہیں۔ پکڑ دھکڑ کا کام پولیس کے بجائے سیکٹر انچارج کرتے ہیں۔ سربراہِ مملکت کا کام فوج کے سربراہ کرتے ہیں۔

آج ایک بار پھر قومی مذاکرات کی بازگشت ہے، اداروں کے مابین براہِ راست محاز آرائی اور سونے پہ سہاگہ حکومت کی غلط ترجیہات، بیڈ گورننس اور بحران در بحران کی کیفیت میں مبتلا ریاست، اس لیے قومی مذاکرات آج ناگزیر ہیں۔

2018ء میں اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ کے ڈیموکریسی انڈیکس نے پاکستان میں جمہوریت کو رینک کیا اور کہا گیا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار میں جمہوریت بہتر رہی۔ رضا ربانی ریاستی اداروں کے مابین جامع مذاکرات کی نہ صرف تجویز دے چکے ہیں بلکہ ادارہ جاتی مذاکرات سے متعلق 60 صفحات پر مشتمل دستاویزات بھی سینیٹ کے سامنے رکھ چکے ہیں۔

اب ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ کن اہم قومی اور ملکی ترقی کے معاملات پر سیاست کرنے سے گریز کیا جائے۔ اہل سیاست کو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا مداوا کرنے کی ضرورت ہے۔ پارلیمان کو توڑنے، معطل کرنے اور بحال کرنے کو خود اہل پارلیمان نے قبول کیا سو اب اس دو بدو لڑائی میں اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جانے کی بازگشت ہو، اداروں کے مابین مذاکرات ناگزیر ہیں۔