ڈنمارک کی وزیر اعظم کسانوں سے معافی مانگتے وقت رو پڑیں

اپ ڈیٹ 27 نومبر 2020

ای میل

وزیر اعظم میٹے فڈرکسن نے اعتراف کیا کہ حکومتی احکامات درست نہیں تھے—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب
وزیر اعظم میٹے فڈرکسن نے اعتراف کیا کہ حکومتی احکامات درست نہیں تھے—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب

یورپی ملک ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فیڈرکسن کورونا کی وبا کے باعث لاکھوں نیولوں کو مارنے کے حکومتی حکم پر کسانوں اور تاجروں سے معافی مانگتے ہوئے رو پڑیں۔

ڈنمارک کی حکومت نے رواں ماہ کے آغاز میں ہی نیولوں کی افزائش کرنے والے کسانوں اور تاجروں کو انہیں جلد سے جلد مارنے کا حکم دیا تھا۔

حکومت نے نیولوں کو مارنے کا حکم اس وقت دیا تھا جب بعض تحقیقات میں ثابت ہوا تھا کہ وہ ڈنمارک کے نیولوں میں کورونا وائرس منتقل ہوچکا ہے اور وہ نیولے وائرس کو تیزی سے انسانوں میں منتقل کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

ایسی تحقیقات کے بعد ڈنمارک کی حکومت نے نیولوں کی افزائش کرنے والے کسانوں اور تاجروں کو سختی سے تاکید کی تھی کہ انہیں جلد سے جلد ہلاک کرکے تلف کیا جائے۔

حکومتی احکامات کے بعد وہاں کے کسانوں اور تاجروں نے صحت مند نیولوں کو بھی مار دیا تھا تاہم اب وہاں کی وزیر اعظم نے حکومت کے غلط احکامات پر معافی مانگ لی۔

خبر رساں ادارے ایجنسی فرانس پریس (اے ایف پی) کے مطابق ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فیڈرکسن نے نیولوں کی افزائش کرنے والے ایک فارم ہاؤس کے دورے کے دوران معافی مانگتے ہوئے رو پڑیں۔

وزیر اعظم میٹے فیڈرکسن نے فارم ہاؤس کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ حکومت کی جانب سے نیولوں کو مارنے کے احکامات درست نہیں تھے۔

میڈیا سے بات کرنے کے دوران میٹے فیڈرکسن متعدد بار خاموش ہوگئیں اور انہوں نے اپنے آنسوں پونچھے۔

وزیر اعظم معافی مانگنے کے دوران جذباتی ہوکر متعدد بار خاموش ہوگئیں—فوٹو: رائٹرز
وزیر اعظم معافی مانگنے کے دوران جذباتی ہوکر متعدد بار خاموش ہوگئیں—فوٹو: رائٹرز

کسانوں اور تاجروں سے معافی مانگتے ہوئے میٹے فیڈرکسن نے کہا کہ ڈنمارک کے کسانوں اور تاجروں کی کئی نسلیں یہ کام کرتے گزریں اور ان کے پاس اچھا تجربہ بھی ہے، تاہم حکومت نے انہیں زندگی کی جمع پونجی یعنی تیار نیولوں کو مارنے کا حکم دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ احکامات نیولوں سے کورونا کے پھیلنے کی باتیں سامنے آنے کے بعد دیے گیے تھے، تاہم وہ لاکھوں کی تعداد میں نیولوں کی ہلاکت پر آبدیدہ ہوگئیں۔

حکومت کی جانب سے مستند تحقیقات کے بغیر نیولوں کو مارنے کے احکامات دیے جانے کے بعد حکومت کو اپوزیشن کے سخت احتجاج کا بھی سامنا کرنا پڑا اور حزب اختلاف نے وزیر اعظم میٹے فیڈرکسن کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اسی حوالے سے خبر رساں ادارے رائٹرز نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ایسے احکامات مستند تحقیقات کے بغیر دیے جانے پر وہاں کے وزیر زراعت کو بھی استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

ڈنمارک کو نیولوں کی افزائش کے بڑے ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو دنیا کے متعدد ممالک کو نیولے فروخت کرتا ہے۔

حکومت نے نومبر کے آغاز میں بتایا تھا کہ ملک میں ڈیڑھ کروڑ نیولے موجود ہیں، جنہیں حذف کردیا جائے گا، ساتھ ہی حکومت نے ایسی تجویز بھی دی تھی کہ ممکنہ طور 2020 تک ان کی افزائش پر بھی پابندی عائد کی جائے تاہم تاحال ایسی پابندی نہیں لگائی گئیں۔

نیولوں کی افزائش کرنے والے تاجروں اور کسانوں کی تنظیم کے سربراہ کے مطابق ان کی انڈسٹری ملک بھر میں 6 ہزار لوگوں کو روزگار دیتی ہے اور سالانہ حکومت کو اربوں ڈالرز کا فائدہ بھی دیتی ہے تاہم اب ان کی انڈسٹری ختم ہوچکی ہے۔

خیال رہے کہ نیولے چوہوں کی طرح دکھانے والے جاندار ہیں اور ان کی متعدد اقسام ہوتی ہیں، یورپین نیولوں کی بہترین قسم ڈنمارک میں ہی پائی جاتی ہے۔