کورونا کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل 5ویں ماہ سرپلس

اپ ڈیٹ 22 دسمبر 2020

ای میل

پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ لگاتار پانچویں مہینے سرپلس میں رہنے کے بعد 44کروڑ 70 لاکھ ڈالر پر پہنچ گیا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ لگاتار پانچویں مہینے سرپلس میں رہنے کے بعد 44کروڑ 70 لاکھ ڈالر پر پہنچ گیا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے منگل کو جاری کردہ اعدادوشمار میں بتایا کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ لگاتار پانچویں مہینے سرپلس میں رہنے کے بعد 44 کروڑ 70 لاکھ ڈالر پر پہنچ گیا ہے جہاں گزشتہ سال اسی عرصے میں 32 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اسٹیٹ بینک انتظامیہ کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا گیا کہ پچھلے پانچ سالوں کے برعکس رواں مالی سال 21 میں موجودہ تجارتی توازن میں بہتری اور ترسیل زر میں مسلسل اضافے کی وجہ سے موجودہ کھاتا سرپلس رہا ہے۔

مزید پڑھیں: کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 77.92 فیصد کمی، 2 ارب 96 کروڑ 66 لاکھ ڈالرز رہ گیا

بینک نے مزید کہا کہ نومبر 2020 میں برآمدات اور درآمد دونوں میں اضافہ ہوا جو بیرونی طلب اور گھریلو معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی عکاسی کرتی ہیں۔

مجموعی بنیاد پر جولائی سے نومبر کے عرصے کے دوران مجموعی کرنٹ کھاتے بڑھ کر ریکارڈ 1.64 ارب ڈالر پر پہنچ گیا جہاں گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران 1.745 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا تھا۔

جائزے کے تحت پانچ ماہ کے دوران ترسیلات زر کی شرح 27 فیصد اضافے کے بعد 11.77 ارب ڈالر ہو گئی کیونکہ کووڈ-19 کے باعث سفری پابندیوں کی وجہ سے قانونی ذرائع سے رقم کے بہاؤ میں اضافہ ہوا۔

سرکاری بینک نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اندرون ملک رقم کے بہاؤ کی بدولت نومبر 2020 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، اس وقت 13 ارب ڈالر کے ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 'اس وقت ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ 792 ارب ڈالر سرپلس ہوچکا ہے'

اس ترقی پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کووڈ-19 کے باوجود پاکستان کی معیشت میں نمایاں بدلاؤ آیا ہے۔

دریں اثنا فارچون سیکیورٹیز کے واجد رضوی نے کہا کہ پاکستان کے بیرونی حصے نے مالی سال 21 میں کورونا کی وبا کے باوجود بحران کا مقابلہ کرتے ہوئے مسلسل پانچویں مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس دکھایا۔

انہوں نے کہا کہ سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ تجارتی فرق میں 33 کروڑ 80 ڈالر (ماہانہ بنیادوں پر 22 فیصد اضافہ) کے باوجود سرپلس میں اضافہ ہوا، توقع ہے کہ خوراک، ٹیکسٹائل، مشینری اور آٹو درآمدات میں اضافے سے تجارتی فرق میں مزید وسعت آئے گی۔

تاہم موجودہ مالی سال کی تاریخی کارکردگی کی بدولت اگر تجارتی فرق یکدم بڑھ بھی جاتا ہے تو غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے موجود ہوں گے۔