لبنان سے دو ترک پائلٹ اغوا

09 اگست 2013

اغوا کیے گئے ترک پائلٹ کی تصاویر۔ فوٹو اے ایف پی

بیروت: لبنان میں مسلح افراد نے بیروت ایئرپورٹ روڈ پر دو ترک پائلٹوں کو اغوا کر لیا ہے، لبنانی وزیر داخلہ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے۔

اس بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان دونوں پائلٹوں کے اغوا کا تعلق شام میں لبنان کے نو شیعہ زائرین کے اغوا سے ہے جن کے اہلخانہ نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ ان کی رہائی کیلیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے۔

لبنانی وزیر داخلہ مارون چاربل نے اے ایف پی کو بتایا کہ اغوا کی کارروائی رات تین بجے کیا گیا جس میں جس میں ترک ایئرلائن کے عملے کو ایئرپورٹ سے ہوٹل تک لے جانے والی بس کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مسلح افراد نے بس سے دو مسافروں پائلٹ اور اس کے معاون کو اغوا کر لیا۔

لبنانی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے میں چار افراد ملوث ہیں اور انہوں نے بس میں موجود دیگر سات مسافروں کو نشانہ نہیں بنایا۔

ایئرپورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاز کے بقیہ عملے کو جمعہ کی دوپہر فلائٹ کے ذریعے استنبول روانہ کر دیا گیا۔

اس حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور علاقے کی سیکیورٹی بھی سخت کرتے ہوئے کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔

ترکی میں مغوی پائلٹ کا نام مرات اکپینر اور ان کے معاون کا مرات اگکا بتایا گیا ہے۔

ترک ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے بیروت میں ترکی کے سفیر اینان اوزلدز نے بتایا کہ اس معاملے پر انتہائی باریک بینی سے غور کیا جا رہا ہے اور وہ پائلٹوں کو چھڑانے کیلیے لبنانی فوج کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

ترک وزارت داخلہ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق وزیر خارجہ احمت دیوو توگلو نے لبنان کے اسپیکر نبی بیری اور وزیر اعظم نجیب مکاتی کو فون کیا۔

بیری اور مکاتی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترک پائلٹوں کو چھڑانے کیلیے ہر کوشش بروئے کار لائی جائے گی۔

مکاتی نے اے ایف پی کو مذکورہ فون کی تصدیق کرتے ہوئے اغوا کے واقعے کی سختی سے مذمت کی ہے اور کہا کہ ہم اغوا کاروں کی شناخت جاننے کیلیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور پائلٹوں کو چھڑانے کیلیے تمام ممکنہ اقدامات جاری ہیں۔

اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ اغوا کا یہ واقعہ مئی 2012 میں شام میں اغوا ہونے والے 9 لبنانی اہل تشیع کے اغوا سے منسلک ہے جنہیں صوبہ حلب سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ ایران میں زیارت سے واپس آ رہے تھے۔

اس گروہ کی ایک خاتون اور دو مردوں کو رہا کر دیا گیا تھا لیکن نو افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

ابو ابراہیمی نامی شخص نے انہیں اغوا کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور اس نے خود کو شام میں باغیوں کی تنظیم ریبیل فری سیرین آرمی کا ایک رکن ظاہر کیا تھا اور تاہم تنظیم نے اس واقعے میں اپنے کردار سے انکار کر دیا تھا۔

مغوی پائلٹوں کے اہلخانہ نے بیروت میں ترک ایئرلائن کے دفتر کے باہر احتجاج کیا اور اعتراض کیا ہے کہ ترکی شامی باغیوں کا بڑا حامی ہے اور اسے ان کے رشتے داروں کی رہائی کیلیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس سے قبل زائرین کو چھڑانے کیلیے مذاکرات کے متعدد دور ناکام ہو چکے ہیں۔

اغوا کاروں نے ابھی تک کوئی مطالبہ نہیں کیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان مغویوں کا تعلق حزب اللہ سے ہے جو شام میں جاری بغاوت کے دوران شام کے صدر بشارالاسد کا ساتھ دے رہے ہیں۔

دوسری جانب اس سے قبل اغوا ہونے والے لبنانی باشندوں کے اہلخانہ نے جمعے کو اغوا کیے گئے دو پائلٹوں کے اغوا کے واقعے میں کسی بھی قسم کے کردار کی سختی سے تردید کی ہے لیکن ایک مغوی کے رشتے دار نے اس واقعے کو سراہا ہے۔

شام میں اغوا کئے گئے ایک فرد کی بیوی حیات اوالی نے سیٹلائٹ ٹی وی الجدید سے گفتگو میں کہا کہ ہم اصولی طور پر اغوا کے خلاف ہیں لیکن اس مخصوص واقعے میں ہم ان ( اغواکاروں ) کی حمایت کرتے ہیں اور اس عمل میں ملوث افراد کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں